اسقاط حمل


منصور مہدی
صوفیہ اپنی بڑی بہن کے ساتھ گذشتہ ایک ہفتے سے شہر کے مختلف ہسپتالوں میں گھوم رہی تھی مگر کسی بھی جگہ سے اس کے پیٹ میں پلنے والے ناجائز بچے کی آمد کو روکنے کی کسی تدبیر کی کوئی امید نہ بندھ سکی ۔ ابھی صوفیہ کی عمر اتنی زیادہ نہیں تھی چنانچہ جس ہسپتال بھی جاتی تو ڈاکٹر کہتے کہ اس کی جان کو خطرہ ہے کیونکہ اب وقت بھی زیادہ ہو گیا ہے۔ دوسرے ڈاکٹر شوہر کو ساتھ لانے کو کہتے جو موجود نہیں تھا۔
ڈاکٹروں کے سوالات پر دونوں بہنیں کوئی مناسب جواب نہ دے پاتی تو ان کی چوری پکڑی جاتی۔ کچھ ہسپتالوں کے ملازمین نے انھیں بلیک میل بھی کرنا چاہا مگر قسمت اچھی تھی کہ ایک نئے چنگل میں پھنسنے سے بچ گئیں۔ مگر وقت تیزی سے گزر رہا تھا اور نئے مہان کو روکنے کا کوئی وسیلہ نہیں بن رہا تھا۔ جس وجہ سے صوفیہ تو پریشان تھی ہی مگر بڑی بہن از حد رنجیدہ اور مایوس تھی ۔
وہ سوچتی تھی کہ شکر ہے سردیوں کے موسم کی وجہ سے صوفیہ نے بڑی سی جرسی سے لی ہوئی ہے جس وجہ سے ابھی اس کا بھانڈہ نہیں پھوٹا مگر کب تک؟۔وہ سوچتی اگر بھائیوں، ماں یا باپ کو پتہ چل گیا تو صوفیہ کی تو جو درگت بنے گی وہ تو بنے مگر بدنامی کتنی ہوگی؟ یہ سوچ کر ہی اس کا سانس رکنے لگتا۔ کیونکہ وہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتی تھی ایک دن صوفیہ یہ دن دکھائے گی۔
صوفیہ ایک شریف گھرانے کی لڑکی تھی مگر جب کالج میں داخل ہوئی تو وہاں اس کی ایک لڑکی سے دوستی ہوگئی۔ صوفیہ کا ان کے گھر آنا جانا شروع ہوگیا ۔ اس دوران صوفیہ کو سہیلی کے بھائی سے محبت ہوگئی۔ یہ محبت اس حد تک بڑھی کہ آج یہ ہسپتالوں کے دھکے کھا رہی ہے۔ مگر کوئی ان کی مدد کرنے کی حامی نہیں بھر رہا تھا۔
صوفیہ کی بہن کو اس کی ایک دوست نے بتایا کہ ایسے کیسز کے لیے ریگل چوک کے پاس ٹیمپل روڈ پر کئی پرائیویٹ کلینک ہیں ۔چنانچہ اگلے ہی دن وہ دونوں وہاں پہنچ گئیں اور ایک کلینک میں لیڈی ڈاکٹر سے ملاقات کی مگر اس ڈاکٹر نے بھی انہیں یہی کہا کہ اب وقت بہت زیادہ ہو چکا ہے لہذا اسقاط کرنا ممکن نہیں ہے۔
وہ دونوں بہت مایوس ہو کر ہسپتال سے باہر آگئےں۔ جونہی وہ باہر آئےں تو کلینک کا ایک ملازم بھی باہر آ گیا اور انھیں کہنے لگا کہ اصل میں ڈاکٹر یہاں اسقاط حمل پر بات نہیں کرنا چاہتی کیونکہ یہ ایک جرم ہے لہذا آپ ان کے گھر چلی جائے جہاں انھوں نے اس مقصد کے لیے ایک کلینک بنایا ہوا ہے اور ساتھ ہی اس نے انھیں ڈاکٹرکا وزٹنگ کارڈ دیا جس پر ان کے گھر کے کلینک کا ایڈریس درج تھا۔ وہ کہنے لگا کہ ڈاکٹر صاحبہ40ہزار روپے لے گی اور ان کا کام ہوجائے گا۔
پاکستان میں بھی اسقاط حمل ایک غیرقانونی فعل ہے اور جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 338کے تحت اس جرم میں 10سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔لیکن ان سب باتوں کے باوجود اسقاط کا عمل جاری ہے۔ پاکستان میں اگرچہ اسقاط حمل (قانونی ، غیر قانونی ) کا کوئی باقاعدہ ریکارڈ نہیں بنایا جاتا مگر ڈاکٹروں کا کہنا ہے ہر سال تقریباً 8لاکھ50ہزار سے زائد خواتین اسقاط حمل کرواتی ہیں ۔ ان میں سے 76فیصد کے قریب شادی شدہ خواتین اور24فیصد کے قریب غیر شادی شدہ لڑکیاں شامل ہوتی ہیں۔
جبکہ ”پاتھ فائینڈر“ نامی ایک بین الاقوامی غیر سرکاری تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہر سال تقریباً پندرہ لاکھ حمل ضائع کرائے جاتے ہیں جو ماو¿ں کی ایک بڑی تعداد کی ہلاکت کا سبب ہے۔”پاتھ فائینڈر“ کے پاکستان میں سربراہ ڈاکٹر فہیم احمد کا کہنا ہے کہ اسقاط حمل کی اتنی زیادہ شرح ہونے کی وجوہات شعور کی کمی کے علاوہ ایک بڑی آبادی کو ضبط حمل کی اشیاءاور ادویات کی عدم دستیابی اورمعاشرے میں خاندانی منصوبہ بندی سے متعلق پائی جانے والی مخالفت ہے۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اسقاط حمل کے دوران ماﺅں کی ہلاکت کے واقعات میں اضافہ ایک تشویش ناک بات ہے۔عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کا کہنا ہے پاکستان میں ہر سال زچگی کے دوران 5لاکھ سے خواتین ہلاک ہوجاتی ہیں جبکہ 30ہزار کے قریب خواتین اسقاط حمل اور اس سے متعلق پیچیدگیوں کے سبب ہلاک ہوجاتی ہیں۔
پاکستان میں ماو¿ں کی بلند شرح اموات کی اہم وجوہات میں خاندانی منصوبہ بندی کے طریقہ کو نہ اپنانا اور غیر محفوظ اسقاط حمل کے طریقے، کم عمری کی شادیاں، زیادہ بچے، حمل اور پیدائش کے وقت طبی سہولتوں کا نہ ملنا، غذائی قلت، غربتتربیت یافتہ دائیوں سمیت علاج معالجے کی سہولیات کا فقدان بھی شامل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اگر مانع حمل کے طریقے اپنا کر خواتین اسقاط حمل سے بچ سکیں تو ان کی شرح اموات میں کم از کم دس فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ خواتین غیر محفوظ طریقوں سے غیر مطلوبہ حمل ختم کرنے کی وجہ سے مہلک انفیکشن کے خطرے میں مبتلا رہتی ہیں اور صحت کے حوالے سے ناقابل تلافی نقصان کا سامنا بھی کرتی ہیں۔ پاکستان میں ڈاکٹروں کی کمی، عطائیوں کی زیادتی، پرانے طریقہ کار پر عمل ، غیر قانونی میٹرنٹی ہومز اور نجی اسپتالوں میں ناقص سہولیات اور غیر تربیت یافتہ عملے کے ہاتھوں کئی خواتین اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہیں۔ جبکہ دائیوں کے طریقوں سے لاتعداد خواتین انتہائی پیچیدہ بیماریوں میں مبتلا ہوجاتی ہیں۔ اس حوالے سے گائنی کی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ غیر محفوظ اسقاط حمل کے ذریعے مائیں فوری پیچیدگیوں، خون کے زیادہ بہہ جانے کے باعث کمزوری کا شکار ہو جاتی ہیں جبکہ طویل المدت اثرات میں گردے کی خرابیاں، بچہ دانی کے ٹیوب کا بند ہو جانا اور ڈپریشن وغیرہ شامل ہیں۔
پاکستان میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم” شرکت گاہ” کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین کے امراض سے متعلق 60 فیصد سے زائد پریکٹیشنرز غیر تربیت یافتہ ہیں۔ جب قانونی علاج کے لیے بھی تربیت یافتہ عملہ ضرورت سے کم ہے، تو اسقاط حمل تو ویسے ہی غیر قانونی ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں محفوظ علاج کی صورت حال کیا ہے۔ اسی وجہ سے کافی مراکز پس پردہ اسقاط حمل کی سہولیات بھی فراہم کرتے ہیں۔“پاکستان میں کئی ایسی خواتین ہیں جو مجبوراً اسقاط حمل کے لیے غیر قانونی اور انتہائی خطرناک طریقوں کا انتخاب کرتی ہیں۔ جس سے ا±ن کی صحت کے لئے خطرہ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔
تنظیم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسقاط حمل ایک غیر قانونی عمل ہے اور اس میں 10سال تک قید کی سزا ہے ۔ تاہم کچھ ایسی صورتیں ہیں کہ جہاں قانون اسقاط کی اجازت دیتا ہے ۔جیسے ماں کی زندگی کو جہاں بچانا مقصود ہو یا پیٹ میں پرورش کرنے والے بچہ کسی بیماری کی وجہ سے ماں کی موت کا باعث بن رہا ہو۔ تاہم زیادتی کی وجہ سے ٹھہرنے والے حمل کے اسقاط کو بھی غیر قانونی قراردیا گیا ہے۔ بیٹیوں کی کثرت سے پیدائش اور الڑا ساﺅنڈ کے ذریعے بیٹی کا انکشاف ہونا بھی اسقاط کی ایک اہم وجہ ہے۔ زیادتی کا شکار اور ایسی خواتین کے جن کے سسرال اور خاند کی طرف سے بیٹی پیدا ہونے پر طلاق کی دھمکی کا سامنا ہو ان کے پاس سوائے اسقاط کے اور کوئی حل نہیں ہوتا۔ چنانچہ وہ ایسے ہی غیر محفوظ طریقوں کا استعمال کرتی ہیں۔ جیسے کہ صوبہ خیبر پختونخواہ کے کئی علاقوں میں ابھی تک جھاڑو کے تنکے اور افیون سے اسقاط حمل کیاجاتاہے۔ جبکہ اسٹیل ہینگر سے بھی کام لیاجاتاہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان میں حاملہ خواتین میں سے ہر چھٹی موت غیر قانونی اسقاط حمل کے نتیجے میں ہوتی ہے۔
ورلڈ پاپولیشن فاو¿نڈیشن پاکستان کی ریسرچ کے مطابق پاکستان میں اسقاطِ حمل کا فیصلہ کسی ایک وجہ سے سامنے نہیں آتا۔ مثلاً پاکستان میں بڑی عمر کی ایسی خواتین جو اپنی مرضی کی تعدادمیں بچے پیدا کرچکی ہیں، مزید بچوں کی پیدائش ان کے معاشی معاملات میں دباو¿ بڑھائے گی، اس لیے اس گروپ کی سب سے زیادہ تعداد اسقاطِ حمل کے لیے رجوع کرتی ہے۔ یہی وہ گروپ ہے جہاں بچے کی جنس پر مبنی معلومات کے بعد اسقاطِ حمل کا فیصلہ کرلیا جاتا ہے۔
پاکستان کے معاشی اور معاشرتی نظام میں موجود ناہمواریوں اور ناانصافیوں کے سبب اسقاط حمل کے حوالے سے عورت تین طبقوں میں تقسیم نظرآتی ہے۔ مقتدر اور مراعات یافتہ طبقے کی خواتین کے لیے عام صحت اور زچگی کے دوران صحت کی سہولیات کی دستیابی کا دنیا کے کسی بھی ملک میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اس طبقے میں روپے پیسے کی فراوانی کے ساتھ ساتھ ان خواتین کے مردوں کا نسبتاًآزاد خیال ہونا کوئی بعید ازقیاس نہیں، اسقاطِ حمل کا فیصلہ عام طور پر باہمی رضا مندی سے کرلیا جاتا ہے( البتہ جاگیرداری روایات کے حامل خاندانوں میں عورتوں کے لیے مسائل کی شدت بالکل غریب عورتوں جیسی ہے)۔ اسقاطِ حمل کے لیے اس طبقے کی خواتین کو انتہائی مہنگے ہسپتالوں میں ماہرترین ڈاکٹروں کی خدمات دستیاب ہیں۔
دوسرے طبقے کی خواتین کو اگرچہ مالی وسائل میں کمی جیسے مسائل کا سامنا نہیں لیکن اس طبقے میں بچہ نہ پیدا کرنے کا فیصلہ یا اسقاطِ حمل بہرحال مرد کی رضا مندی سے مشروط ہے۔ متذکرہ دونوں طبقات میں ایک قابل توجہ قدر مشترک یہ ہے کہ ماورائے قانون ازدواجی تعلقات کے نتیجے میں اس طبقے کی خواتین کے لیے اسقاطِ حمل کے مواقع حاصل کرنا کسی بھی ملک اور کسی بھی دور میں مشکل نہیں رہے۔ چونکہ اس طبقے کی خواتین اپنے ذاتی مالی وسائل کے ذریعے کسی بھی ماہر ڈاکٹر کی خدمات حاصل کرسکتی ہیں۔
تیسرا طبقہ زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح عورتوں کی تولیدی صحت کے حوالے سے بھی انتہائی مظلومیت کی تصویر دکھائی دیتا ہے۔ جہاں غربت بھی ہوتی اور غیرت بھی ہوتی ہیں۔ اس طبقے کی خواتین زندگی انتہائی بے بسی اور بیچارگی کی ہوتی ہے۔ اور سب سے زیادہ اس طبقہ کی عورتیں اس عمل سے گزرتی ہیں۔ جبکہ غربت کی وجہ سے اسی طبقے کی زیادہ عورتیں غیر محفوظ طریقوں کی بھینٹ چڑھتی ہیں۔ حتیٰ کہ اس طبقے میں عورت کو اسقاط کے حوالے سے خود فیصلے کا کوئی اختیار نہیں ہوتا۔سسرال یا شوہر نے جو فیصلہ کردیا بس اسی پر عمل کرنا ہوتا ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اسقاطِ حمل پر پابندی، معاشرتی رسم و رواج اور مردانہ سوچ کے غلبے سمیت معاشی بدحالی کے سبب غریب خاندانوں کی اکثر خواتین غیر ہنرمند اور غیر تعلیم یافتہ نرس اور دایہ کے پاس جاتی ہے جہاں پیسے تو کم خرچ ہوتے ہیں لیکن بدلے میں ماں بننے کی صلاحیت سے محرومی سمیت موت بھی ملتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کا کہنا ہے کہ اگر15سے44 سال تک کی شادی شدہ اور کنواری عورتوں کو ان کے ماہوار محفوظ دنوں کے تعین میں مدد دی جاسکے تو اتفاقیہ حمل یا غیر ضروری حمل کی شرح میں کمی لائی جاسکتی ہے۔ لیکن اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ حمل سے بچاو¿ کے تمام جدید طریقوں اور ادویات کی رسد میں اضافہ کیا جائے۔

اسقاطِ حمل رحم سے جنین (fetus) کے اخراج یا ہٹادینے کے عمل کو کہا جاتا ہے۔ اسقاطِ حمل ادویات یا سرجری کے ذریعے ہوتا ہے ۔ اور ازخود بھی ہوسکتا ہے۔ وقت زیادہ گزرنے پر ماں کی جان جانے کو بھی خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں اسقاطِ حمل کا عمل ہوتا رہا ہے اور آج بھی ہورہا ہے۔ البتہ انسانی تہذیب کے آغاز سے یہ اخلاقی اور قانونی حوالے سے مباحث کی زد میں رہا ہے۔ کبھی اس کی مکمل یا شرائط کے ساتھ اجازت دی گئی اور کبھی ایسا کرنے والوں کو بدترین سزاوں کا سامنا کرنا پڑا۔
انسانی تاریخ میں اب تک کی دریافتوں کے مطابق سب سے قدیم 2,600 قبل مسیح کی ایک چینی تحریر ملی ہے جس میں اسقاطِ حمل کے لئے پینے کی ایک دوا کا ذکر ہے۔ قدیم مصر میں بچوں کی پیدائش کو روکنے کے لیے ادویات بنانے کی نشانیاں تقریباً 1,850سال قبل مسیح کی ہیں۔
قدیم روم اور یونان میں اسقاطِ حمل کو قبول کیا جاتا تھا۔ رومی اور یونانی پیدائش سے پہلے بچے کے زندہ رہنے یا نہ رہنے کے بارے میں زیادہ فکر مند نہیں ہوتے تھے اور اسقاطِ حمل پر اعتراض اس وقت ہوتا تھا جب والد نئے بچے کا شدید خواہش مند ہو۔ارسطو کے مطابق ”جب جوڑوں کے ہاں بچے زیادہ ہوں تو حس اور زندگی کی شروعات سے قبل اسقاطِ حمل ہوجانے دیجئے۔ ان معاملوں میں کسے قانونی حیثیت حاصل ہونی چاہیے اور کسے نہیں، اس کا انحصار حس اور زندگی پر ہے“۔ ابتدائی یونانی فلسفی عموماً ماں کے پیٹ میں موجود بچے میں حس اور زندگی کے آثار کو 40 سے 80 دنوں بعد دیکھتے تھے۔
مغربی تہذیب کے ابتدائی دور میں اگرچہ اسقاطِ حمل کو بری چیز نہیں سمجھا جاتا تھا مگر عیسائیت کے فروغ اور سماج میں اس کے اثرورسوخ میں اضافے کے ساتھ مذہبی پیشواوں کے نقطہ نظر میں سختی آتی گئی۔انگلستان میں قانون سازی کے حوالے سے اسقاطِ حمل کا ذکر سب سے پہلے 13ویں صدی میں ملتا ہے۔یہ قانون چرچ کی اس اجازت کے تحت بنایا گیا تھا جس میں پیٹ میں بچے کی حرکت سے قبل اسقاطِ حمل کو قبول کیا گیا تھا کیونکہ اس وقت چرچ کا خیال تھا کہ حرکت کے بعد جنین میں روح آ جاتی ہے۔
عہدِ وسطیٰ کے یورپ میں تولید پر کنٹرول کے لئے دائیاں اہم کردار ادا کرتی تھی اور اس مقصد کے لئے بنائی گئی ادویات یا طریقہ کار ایک علم کی صورت عورتوں میں نسل درنسل منتقل ہوتا تھا۔ اس دور میں جادوگرنیوں کے خلاف مہم (witch-hunt) جس میں ہزاروں (اور بعض اندازوں کے مطابق لاکھوں) عورتوں کو مارا گیا،کی وجوہ پر مختلف توجیہات بیان کی جاتی ہیں اور تاریخ دانوں میں اس حوالے سے اختلافات موجود ہیں۔ایک نظر یہ یہ ہے کہ ان عورتوں کے پاس، جنہیں جادوگرنیاں قرار دیا جاتا تھا، مانع حمل طریقوں کا خاصا علم ہوتا تھا۔
عورت انسانی تاریخ کی ابتدا سے آج تک ماں بننے یا نہ بننے کا فیصلہ کرتی آئی ہے۔ کبھی چھپ کر اور کبھی کھل کر، اور اس بات کا انحصار معاشرے یا ریاست میں اس عمل کی قبولیت کی شرح پر ہوتا تھا اور ہے۔
اسقاطِ حمل کے معاملے پر انگلستان میں1803میں قانون بنایا گیا، جس کے تحت پیٹ میں بچے کی حرکت کے بعد اسقاطِ حمل کی سزاموت تھی۔ اس سے پہلے کی سزائیں نرم تھیں۔ 1837 میں پیٹ میں حرکت سے قبل اوربعد میں جنین کے اخراج کے عمل کی تفریق کو ختم کرتے ہوئے سزائے موت رکھ دی گئی۔ برطانوی سامراج کے پھیلاو کے ساتھ اسی نوعیت کے قوانین نو آبادیوں میں بھی نافذ ہوئے۔
سوویت یونین پہلا ملک تھا جہاں 1920 میں اسقاطِ حمل کو قانونی طور پر جائز قراردیا گیا۔ البتہ 1936 میں ،جب بیوروکریسی کا اثرورسوخ خاصا بڑھ چکا تھا، جوزف اسٹالن نے لینن کی رہنمائی میں ہونے والی قانون سازی میں بڑی تبدیلیاں کیں اور اسقاطِ حمل پر مختلف پابندیاں لگادی گئیں۔
دوسری جنگ عظیم کے بعد ”سوشلسٹ“ ریاستوں کے قیام اور تحریکِ حقوقِ نسواںکی تحریک کے یورپ اور شمالی امریکہ میں پھیلنے کے بعد ان براعظموں میں اسقاطِ حمل کی اجازت ملنا شروع ہوئی۔حقوقِ نسواں کی اس دور کی تحریک میں اسقاطِ حمل کی اجازت کے سوال کو خاص اہمیت حاصل رہی اور اس نے بہت سی کامیابیاں حاصل کیں۔البتہ یورپ اور شمالی امریکہ میں آج بھی بہت سے ممالک ایسے ہیں جہاں فیصلے کا مکمل اختیار عورت کے پاس نہیں۔

امریکہ ادارہ صحت کے مطابق امریکہ میں ہر سال اسقاط حمل 13لاکھ70ہزار عورتیں کرواتی ہیں جن میں سے 67فیصد عورتیں غیر شادی شدہ ہوتی ہیں ان میں سے پروٹسٹنٹ عقیدے سے تعلق رکھنے والی عورتوں کا تناسب 43فیصد ہے جبکہ کیتھولک سے تعلق رکھنے والی 27فیصد عورتیں شامل ہیں۔
امریکہ میں اتنی بڑی تعداد میں اسقاط کی بنیادی وجہ امریکہ میں زیادتی کے بڑھتے ہوئے جرائم بھی ہیں ایک اندازے کے مطابق ہر دومنٹ بعد امریکہ میں ایک زیادتی کا کیس ہوتا ہے جو سالانہ سات لاکھ75ہزار کے قریب ہوتا ہے۔ امریکہ کی ہر ساتویں عورت زیادتی کا شکار ہوتی ہے ۔ 44 فیصد زیادتی کے جرائم میں عورتوں کی عمر 18 سال جبکہ 15فیصد کیسوں میں لڑکیوں کی عمر 12 سال سے بھی کم ہوتی ہے۔
برطانوی ادارہ صحت کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ میں ہر سال 1,98,000سے زائد اسقاط کے کیسز ہوتے ہیں۔19سال یا س سے زائد خواتین میں ہر ایک ہزار میں 36خواتین اور 18سال سے کم عمر کی ہر ایک ہزار لڑکیوں میں سے 18.6لڑکیاں اسقاط حمل کرواتی ہیں۔ برطانیہ میں ہر سال ناجائز طور پر حاملہ ہونے والی بالغ لڑکیوں کی تعداد39 ہزار ہے جن میں سے 45فیصد ابتدائی ایام میں ہی اسقاط کروالیتی ہیں۔ ان میں 8ہزار ایسی لڑکیاں ہوتی ہیں جن کی عمریں 16سال سے بھی کم ہوتی ہیں۔ صرف شمالی آئرلینڈ میں سالانہ 96 فیصد لڑکیاں بن بیاہی ماں بن جاتی ہیں جو اپنے ان غیر قانونی بچوں کو پالنے لئے وسائل نہیں رکھتیں چنانچہ اسقاط کا سہارا لیتی ہیں۔
برطانیہ میں نوجوان اور کم عمر لڑکیوں میں اسقاط حمل کرانا عام معمول بن گیا ہے۔ ایک برطانوی اخبار کے مطابق برطانیہ میں 2010 میں 38 ہزار 269 کم عمر لڑکوں نے اسقاط حمل کرانے کی درخواستیں دیں جو کم از کم 2 با ر اس عمل سے گزر چکی ہیں۔ اعدادو شمار کے مطابق ان میں دو لڑکیاں 7 ویں بار اسقاط حمل کروا رہی تھیں۔ جبکہ 4 کے لیے چھٹی بار اور 14 لرکیوں کا یہ 5واں بوقع تھا۔ اسی طرح 57 لڑکیاں چوتھی جبکہ 457 لڑکیاں تیسری بار اسقاط حمل کرانا چاہتی تھیں۔ برطانوی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ملک کا سنگین مسلہ ہے کہ کم عمر لڑکیاں لگا تار اسقاط حمل کرا رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ان لڑکیوں کے اسقاط حمل سے نہ سرف امراض کی شرح بڑھ رہی ہیں بلکہ اس سے مستقبل میں بچوں کی پیدائش متاثر ہو سکتی ہے۔
اسقاط حمل سے متعلق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ لڑکیوں کی پیدائش کو کم کرنے کے لیے اسقاط حمل کے زیادہ تر واقعات چین،کوریا،تائیوان، سنگاپور، ملائیشیا، بھارت اور پاکستان کے علاوہ ایشیا اور شمالی افریقہ کے بہت سے ممالک میں ہوتے ہیں۔2006 میں اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں لڑکیوں کی تعداد لڑکوں سے سات کروڑ 90 لاکھ کم ہے جس کی وجہ اسقاطِ حمل اور طفل کشی (infanticide) ہے۔ کئی معاشروں میں لڑکیوں کو لڑکوں کے مقابلے میں کم خوراک دی جاتی ہے اور ان کی مناسب دیکھ بھال نہیں کی جاتی جس سے وہ زیادہ دیر زندہ نہیں رہ پاتیں۔ اسقاطِ حمل کا یہ وہ مکروہ پہلو ہے جس کے خلاف بھارت میں حال ہی میں قانون سازی کی گئی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق ”ہر عورت کو“ جو اسقاط حمل چاہتی ہے، جس قدر ممکن ہو اعلیٰ ترین معیار کی دیکھ بھال لازماً مہیا کی جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ دیکھ بھال کی ہر سطح پر اعلیٰ معیار کو یقینی بنانے کے لیے مربوط طریق کار اپنایا جائے“۔جن ممالک میں اسقاطِ حمل قانوناً جائز ہے وہاں عورتیں جدید طبی سہولیات سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوتی ہیں۔ اگرچہ سرکاری سطح پر مہیا کی جانے والی سہولیات کو اب بھی ناکافی تصور کیا جاتا ہے، مگر عمومی طور پر محفوظ اسقاطِ حمل تک ان کی رسائی کی زیادہ صلاحیت انہیں بعدازاں پیش آنے والی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھتی ہیں۔ غیر محفوظ اسقاطِ حمل زیادہ تر ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے اور اس کی سب سے زیادہ شرح افریقہ، لاطینی امریکہ کے ممالک میں ہے۔ ان سے کچھ ہی نیچے جنوبی اور جنوب مشرقی ایشیا کا نمبر ہے، جبکہ یورپ اور شمالی امریکہ میں غیر محفوظ اسقاطِ حمل کی شرح انتہائی کم ہے۔
2008 میں” غیر محفوظ اسقاط حمل اور اس کے نتائج “ کے عنوان سے شائع ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق دنیا میں ہر سال اندازاً 21 کروڑ عورتیں حاملہ ہوتی ہیں اور ان میں ہر پانچ میں سے ایک اسقاطِ حمل کے عمل سے گزرتی ہے۔ سالانہ چار کروڑ چھ لاکھ اسقاطِ حمل میں سے ایک کروڑ 90 لاکھ غیر محفوظ ہوتے ہیں۔اس تحقیق کے مطابق غیر محفوظ اسقاطِ حمل کی وجہ سے ہر سال تقریباً 6,800 عورتیں مرجاتی ہیں اور 53 لاکھ عارضی یا مستقل معذوری کاشکار ہوتی ہیں۔

اسقاط حمل شرعی نقطہ نظر سے
بچے کی زندگی کا آغاز مرحلہ جنین سے ہوتا ہے اور حمل کے 4 ماہ بعد رحم مادر میں موجود بچے میں روح پھونک دی جاتی ہے۔ حمل کے پہلے 4 ماہ کے دوران کسی معقول وجہ کی بناء پر حمل ضائع کرنا جائز ہے جبکہ 4 ماہ گزرنے کے بعد حمل کو ضائع کرنا بچہ کو قتل کرنے کے مترادف ہے۔
عذر شرعی سے مراد یہ ہے کہ اگر حمل کے 4 ماہ گزرگئے ہوں لیکن حمل برقرار رہنے کی وجہ سے عورت کی ہلاکت یقینی ہو، جس کی ماہر ڈاکٹروں نے تصدیق کردی ہو، تو ایسی صورت میں 4 ماہ کے بعد بھی اسقاط حمل جائز ہے بلکہ عورت کی جان بچانے کے لیے ضروری ہے کیونکہ اِسقاط نہ کرانے کی صورت میں ماں اور بچہ دونوں کی ہلاکت کا خطرہ یقینی ہے۔ پیٹ میں موجود بچے کی نسبت ماں کی جان بچانا زیادہ اہم ہے۔ اس لیے اس صورت میں اسقاط کرانا واجب ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s