زہریلا پانی


منصور مہدی

لاہور میں زہریلے پانی کی صفائی کے سرکاری منصوبے کے ساتھ کیا ہوا؟ اور کون ہے جو زہر بیچ کر چاندی کما رہا رہے۔۔

ٹھیکیداروں سے پنجاب حکومت کی لڑائی کی وجہ سے واسا شہریوں کو پینے کا صاف پانی مہیا کرنے میں ناکام ہو گیا اور جولائی 2011ءمیں لاہور ہائی کورٹ میں لاہور شہر کی ہر یونین کونسل میں فلٹریشن پلانٹ لگانے کی یقین دہانی کرانے کے باوجود عمل درآمد نہ ہو سکا۔ اس طرح نہ صرف پنجاب حکومت کی طرف سے واسا کو اس مقصد کے لیے دی جانے والی 42 ملین روپے کی رقم ضائع ہو گئی بلکہ واسا کی طرف سے خریدے گئے فلٹریشن پلانٹ بھی ناکارہ ہو گئے۔ جبکہ واسا کے بیشتر ٹیوب ویلوں سے تاحال سنکھیا کی آمیزش بھی ختم نہ کی جا سکی۔ علاوہ ازیں غیر قانونی اور مضر صحت بوتل میں بند پانی فروخت کرنے والوں کے خلاف بھی مقدمات درج نہ ہو سکے اور زیر زمین پینے کے پانی کے زنگ آلود پائپ بھی تبدیل نہ کیے جا سکے۔
لاہور ہائی کورٹ نے گزشتہ برس لاہور کے شہریوں کو سنکھیا ملے پانی کی فراہمی کی خبر شائع ہونے پر از خود نوٹس پر جب ایم ڈی واسا اور پنجاب حکومت کو طلب کیا تو ایم ڈی واسا نے عدالت میں بتلایا کہ لاہور کی ہر یونین کونسل میں نصب کرنے کے لیے 150 فلٹریشن پلانٹ چین سے درآمد کیے جا چکے ہیں اور ان کی جلد ہی تنصیب کر دی جائے گی جبکہ ان کی تنصیب پر اٹھنے والے اخراجات کی مد میں پنجاب حکومت نے بھی 42 ملین روپے واسا کو دے دیے تھے مگر ایک سال گزرنے کے باوجود تمام یونین کونسلوں میں پینے کے پانی کو صاف کرنے والے فلٹریشن پلانٹ نصب نہ ہو سکے۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران یہ بات بھی عدالت کے علم میں آئی کہ لاہور میں واسا کے 392 ٹیوب ویلوں میں سے 253 ٹیوب ویلوں میں سنکھیا (آرسینک) کی آمیزش پائی گئی، جس کو پینے سے شہری متعدد امراض میں مبتلا ہونے لگے۔
پینے کے پانی میں مضر صحت اجزا کی آمیزش کے حوالے سے نہ صرف لاہور ہائی کورٹ بلکہ دیگر صوبائی عدالتوں اور سپریم کورٹ میں بھی متعدد مقدمات زیر سماعت رہ چکے ہیں۔ ان تمام مقدمات میں متعلقہ ادارے ہر مرتبہ یہ یقین دہانی کرواتے ہیں کہ تمام مسائل جلد ہی ختم ہو جائیں گے۔ لیکن ایسا لگتا ہے کہ مقدمے کا فیصلہ ہونے کے بعد بھی عملی اقدامات نہیں کیے جاتے۔
اس مقدمے کی سماعت سے پہلے لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس ثاقب نثار کی عدالت میں بھی ایک مقدمہ زیر سماعت رہا جس میں بتلایا گیا کہ صرف پنجاب میں بوتل میں بند پانی فروخت ہونے والے 64 مختلف برانڈز کی تقریباً 30 کمپنیوں میں سے صرف 10 کمپنیاں بنیادی لائسنس کے تقاضے پورے کر رہی ہیں۔ جبکہ بیشتر کمپنیوں نے یا تو لائسنس ہی نہیں لیے ہوئے یا پھر ان کے لائسنس ختم ہو چکے تھے لیکن انہوں نے اس کی تجدید ہی نہیں کروائی۔ اس مقدمے کی سماعت کے دوران وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے ادارے پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی لاہور آفس کی جانب سے اپریل 2010ءمیں اپنے جواب میں کہا گیا کہ محکمہ نے ہیڈ آفس کراچی کو ان 34کمپنیوں کے خلاف فوجداری مقدمات قائم کرنے کے لیے اجازت طلب کی ہے اور اجازت ملتے ہی ان کمپنیوں کے خلاف مقدمات درج کروا دیے جائیں گے۔ مگر دو سال گزرنے کے بعد بھی یہ مقدمات درج نہ ہو سکے۔
ایک اور مقدمہ سپریم کورٹ میں بھی زیر سماعت رہا جس کا فیصلہ 31 دسمبر2008ءکو ہوا تھا جس میں عدالتِ عالیہ نے پاکستان ریلویز اور کلاسک نیڈز پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کے مابین6.35 ملین روپے کی مالیت پر مشتمل بوتلوں میں بند صاف پانی کی فروخت کے معاہدے کو عوامی مفاد میں کالعدم قرار دے دیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے سے قبل پاکستان ریلویز اور کلاسیک پاکستانی نیڈز پرائیویٹ لمیٹڈ کے مابین معاہدے کی رُو سے کوئی اور کمپنی پاکستان ریلویز کے روٹس اور سٹیشنوں پر بوتلوں میں بند صاف پانی فروخت نہیں کرسکتی تھی۔ پانی کی فروخت پر اجارہ داری کی حامل مذکورہ کمپنی کی طرف سے فروخت ہونے والے پانی کے معیار کے حوالے سے عوامی شکایات کا تسلسل یقینی طور پر اس فیصلے کی بنیاد بنا تھا۔ پانی کے معیار کی جانچ پڑتال کرانے کے بعد فاضل عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا تھا کہ کلاسیک نیڈز پاکستان نہ صرف بلاشرکتِ غیرے اپنے برانڈ نیسلے پیور لائف کی ڈسٹری بیوشن کمپنی ہے بلکہ اس برانڈ کو تیار کرنے والی کمپنی بھی یہی ہے، اس کمپنی کے ساتھ معاہدہ منسوخ کر کے نئی کمپنی کے ساتھ معاہدہ کیا جائے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے پر توثیقی حکم نامے میں یہ بھی لکھا گیا کہ کلاسیک نیڈز پاکستان پرائیویٹ لمیٹڈ کی طرف سے فراہم کیا جانے والا برانڈ نیسلے پیور لائف مضرِ صحت ہونے کے سبب ناقابلِ استعمال ہے۔
عوامی مفاد میں کیے جانے والے اس عدالتی فیصلے کی روداد کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ پاکستان کونسل آف سائنٹفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (PCSIR) نے دونوں کمپنیوں (نیسلے اور کلاسیک) کی طرف سے فروخت ہونے والے بوتلوں میں بند پانی کو صاف اورپینے کے قابل قرار دیا تھا لیکن نیشنل ہیلتھ سنٹر اسلام آباد کی طرف سے پیش ہونے والی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ دراصل دونوں مذکورہ کمپنیوں کے پانی میں مضرِ صحت اجزا موجود ہیں، فرق صرف یہ ہے کہ نیسلے پیور لائف برانڈ انسانی صحت کے لیے نسبتاً کم خطرناک ہے جبکہ کلاسیک برانڈ زیادہ خطرناک ہے۔ اس رپورٹ کے بعد سپریم کورٹ آف پاکستان کے جسٹس خلیل الرحمن رمدے اور جسٹس فلک شیر نے اپنے مشترکہ فیصلے میں قرار دیا کہ یہ دونوں کمپنیاں اپنے صارفین کو زہریلا پانی فراہم کرنے کی مرتکب ہورہی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان اداروں کا پانی مارکیٹ میں فروخت ہوتا رہا۔
2009ءمیں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس خواجہ محمد شریف نے پانی کے حوالے سے شائع ہونے والی ایک خبر پر نوٹس لیتے ہوئے مقدمے کی سماعت کی تو عدالت کے علم میں آیا کہ 2008ءمیں ملک بھر سے پانی کے 357 نمونے اکٹھے کیے گئے، جن میں سے صرف 45 نمونوں کا پانی پینے کے قابل قرار دیا گیا جبکہ 312 نمونوں سے حاصل ہونے والا پانی مضر صحت ثابت ہوا۔68 فیصد نمونوں میں بیکٹیریا کی شرح خطرناک حد تک زیادہ تھی، 24 فیصد میں آرسینک کی شرح، 13 فیصد میں نائٹریٹ جبکہ 5 فیصد نمونوں میں فلورائیڈ کی شرح پینے کے پانی کے معیار سے کئی گنا زیادہ ثابت ہوئی۔
2000ءسے 2010ءتک ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے ملک بھر کی ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ میں 40 کے قریب ایسے مقدمات زیر سماعت رہے جن میں پینے کے پانی میں آلودگی کا مسئلہ بھی اٹھایا گیا اور عدالتوں کو بتایا گیا کہ پانی میں آلودگی کا سب سے بڑا سبب صنعتی فضلے اور آلودہ پانی کا نہروں اور دریاﺅں میں بہانا ہے، جس کے نتیجے میں اسہال، ہیضہ، یرقان اور ٹائیفائیڈ جیسی بیماریاں پھیل رہی ہیں۔ عدالت میں بتایا گیا کہ پاکستان میںصرف دو فیصد کے قریب صنعتی فضلہ اور آلودہ پانی سائنسی بنیادوں پر ٹھکانے لگایا جاتا ہے جبکہ روزانہ چھ ہزار ملین گیلن سے زائد آلودہ پانی اور صنعتی فضلہ دریاﺅں اور نہروں میں گرادیا جاتا ہے جس میں سے بیشتر زیر زمین جا کر صاف پانی کو آلودہ کر دیتا ہے۔ ان مقدمات کی سماعت کے دوران بھی متعلقہ اداروں نے عدالتوں کو یقین دہانی کروائی کہ تمام صنعتی یونٹوں کو اس بات کا پابند کر دیا جائے گا کہ وہ آلودہ پانی مت پھینکیں اور آلودہ پانی کو جدید پلانٹوں سے صاف کر کے بہائیں۔ مگر ایسا بھی نہ ہو سکا۔
2007ءمیں لاہور ہائی کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت میں بتلایا گیا کہ کیمیائی کھادیں اور زرعی ادویات کے استعمال میں اضافہ بھی زیر زمین پانی کی آلودگی میں اضافے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پانی کے نمونوں کے تجزیوں سے یہ بات ثابت ہوئی کہ پانی میں زرعی دواﺅں کے اجزا کی شرح عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت (ایف اے او) کی طرف سے مقررہ معیار کی حد سے کئی گنا زیادہ ہے۔
2010ءمیں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ خواجہ محمد شریف کی عدالت میں زیر سماعت مقدمے میں بتلایا گیا کہ پاکستان کے شہروں میں سالانہ 20 لاکھ ٹن گندا پانی پیدا ہوتا ہے جس کا 50 فیصد پانی کے زیر زمین ذخائر میں شامل ہو رہا ہے۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ اِن واٹر ریسورسز (پی سی آر ڈبلیو آر) کی رپورٹ 2008ءکے مطابق ملک کے 23 بڑے شہروں میں پانی کی آلودگی جانچنے کے نمونوں میں سے صرف 13 فیصد پانی کے نمونے پینے کے لیے محفوظ پائے گئے جبکہ باقی کا تمام پانی مضر صحت پایا گیا۔ پلاننگ کمیشن کی رپورٹ کے مطابق ملک میں 65 فیصد سے زائد آبادی کو پینے کے صاف پانی تک رسائی ہے جبکہ دنیا میں یہ شرح 84 فیصد ہے۔
اسی مقدمے کی سماعت کے دوران یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ پاکستان میں 50 فیصد سے زائد کمپنیاں غیر معیاری، مضرِ صحت اور آلودہ پانی فروخت کر رہی ہیں۔ پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کے نمائندے کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ پانی کے معیار کو جانچنے کے موجودہ نظام میں ہم صرف کسی کمپنی کو بلیک لسٹ کر سکتے ہیں لیکن وہی کمپنیاں ہر سال برانڈ بدل کر واپس آ جاتی ہیں اور کئی کمپنیوں کے مالکان نے پانی کی سپلائی کے لیے ایک سے زائد برانڈ بھی رجسٹرڈ کروا رکھے ہیں۔ پاکستان سٹینڈرڈ اینڈ کوالٹی کنٹرول اتھارٹی کی ویب سائٹ کے مطابق اس وقت (2012ئ) ملک میں 190 کمپنیوں نے بوتلوں میں پانی فروخت کرنے کے لائسنس لیے ہوئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق آلودہ پانی کے استعمال کی وجہ سے دنیا میں سالانہ 15 لاکھ سے زائد بچے (اوسطاً روزانہ 4100) ہلاک ہو جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں بچوں کی 60 فیصد اموات کی وجہ آلودہ پانی ہے۔ عالمی ادارہ اطفال کے مطابق پاکستان کے ہسپتالوں کے 20 سے 40 فیصد بستر پانی کی آلودگی کے باعث ہونے والی بیماریوں کے مریضوں کے زیر استعمال رہتے ہیں۔ ورلڈ واٹر فورم کے مطابق ملک میں ایک سال تک کے بچوں کی 60 فیصد اموات کی وجہ پانی کی آلودگی ہے۔ منسٹری آف انوائرنمنٹ کی ”کلین ڈرنکنگ واٹر پالیسی 2009ئ“ کے مطابق ملک میں غیر معیاری پانی اور سینی ٹیشن سے متعلقہ ہونے والی بیماریوں کے باعث معیشت کو سالانہ 112 ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے، یومیہ 30 کروڑ روپے پانی کے باعث ہونے والی بیماریوں کی نذر ہو رہے ہیں۔ ان اخراجات میں سے 55 سے 80 ارب صرف ڈائریا سے متعلقہ بیماریوں کی وجہ سے ضائع ہو رہے ہیں۔
منسٹری آف انوائرنمنٹ پاکستان میں کم از کم 62 فیصد کے قریب شہری اور 84 فیصد کے قریب دیہاتی آبادی پینے کے صاف پانی کی سہولت سے یکسر محروم ہے اور ناقص پانی کے استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں کی شرح میں ہر سال کئی گنا اضافہ ہو رہا ہے۔ کنزیومر رائٹس کمیشن آف پاکستان (سی آر سی پی) کے مطابق پاکستان میں ہر پانچواں بچہ پانی کی وجہ سے پیدا ہونے والے امراض میں مبتلا ہے۔ یونیسف کی طرف سے جاری کیے گئے ایک جائزے کے مطابق پاکستان میں ہسپتالوں میں داخل مریضوں میں سے 20 سے 40 فیصد آلودہ پانی کی وجہ سے پیدا ہونے والی بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے سالانہ 33 فیصد اموات واقع ہوتی ہیں۔
پانی کے ذرائع پر تحقیقات کرنے والے سرکاری ادارے ’پی سی آر ڈبلیو آر‘ کا کہنا ہے کہ پاکستان کا شمار دنیا کے ان 17 ممالک میں ہوتا ہے جہاں پانی کی دستیابی ناکافی ہے۔ جبکہ ماحولیاتی تبدیلیوں اور آبادی میں تیزی سے ہونے والے اضافے کے باعث آنے والے برسوں میں صورت حال مزید خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ پاکستان میں اس وقت فی کس پانی کی دستیابی 1,000 کیوبک میٹر ہے۔ جس طرح ہماری آبادی بڑھ رہی ہے 2025ءمیں فی کس پانی کی دستیابی کم ہو کر 800 کیوبک میٹر رہ جائے گی۔ یہ ایک بہت بڑا المیہ ہو گا، خوراک کا مسئلہ ہو گا، صنعتوں اور پینے کے پانی کا مسئلہ ہو گا۔
میو ہسپتال کے ڈاکٹر غلام فرید کا کہنا ہے کہ پانی کا رنگ، اس کا ذائقہ اور اس کی بُو انتہائی اہم ہیں۔ پینے کا پانی شفاف، بے بو، بے رنگ اور بے ذائقہ ہونا چاہیے۔ ہمارے ہاں اکثر پانی کا رنگ گدلا، پیلاہٹ والا یا سنہری مائل ہوتا ہے جس کی وجہ زہریلے کیمیکلز کا پانی میں شامل ہونا ہے جو کہ انسانی جان کے لیے انتہائی مضر ہے۔ گلے سڑے انڈوں کی طرح کی ایک خاص قسم کی سرانڈ ہائیڈروجن سلفائیڈ گیس کی وجہ سے آتی ہے جس کے پینے سے متلی اور قے شروع ہو جاتی ہے۔ پینے کے پانی میں کاپر، آئرن، میگنیز، کلورائیڈ اور زنک کی زیادتی کی وجہ سے بیماریاں پھیلتی ہیں۔ بعض نام نہاد کمپنیاں پیسے کمانے کے لالچ کی وجہ سے آلودہ پانی کی بوتلوں پر بڑے خوبصورت لیبل لگا کر عوامی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں۔ ملک بھر کے 75 فیصد سے زائد لوگ لازماً کسی نہ کسی پیٹ کی بیماری میں مبتلا رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ پاکستان کے بہت سے شہروں، قصبوں اور دیہات میں جہاں سرکاری طور پر صاف اور میٹھے پانی کی سپلائی کا انتظام موجود ہے وہاں اب آبادی میں اضافے کے سبب ناکافی ہو چکا ہے۔ عمومی طور پر واٹر اینڈ سینی ٹیشن کی طرف سے بچھائی گئی پائپ لائن اپنے استعمال کی آخری حد (Expiry) کی مدت سے بھی کئی گنا پرانی ہو چکی ہے۔ پائپ لائنوں میں جگہ جگہ زنگ لگ جانے سے پائپ لائن ٹوٹ پھوٹ کر لیک کر رہی ہے۔ نکاسی آب کی پائپ لائنوں کا حال بھی مختلف نہیں ہے۔ پانی کی فراہمی اور نکاسی کے نظام کی اس خستہ حالی کے سبب سرکاری نلکوں سے بھی غریب عوام کو مضر صحت پانی ملتا ہے۔ گلی محلوں میں قائم چھوٹے چھوٹے کلینکس مضر صحت پانی کے استعمال کے سبب پریشان حال مریضوں سے ہر روز بھرے نظر آتے ہیں جبکہ ہسپتالوں میں 24 گھنٹے پانی کی کمی، امراضِ معدہ اور ہیپاٹائٹس کے شکار مریضوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔
جب واسا حکام سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ حکومت پنجاب نے نہ صرف لاہور بلکہ دیگر شہروں میں پینے کا پانی صاف کرنے کی غرض سے جو منصوبہ بنایا تھا وہ سارا منصوبہ حکومت کا ٹھیکیدار سے تنازع شروع ہونے کی وجہ سے ادھورا ہی رہ گیا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s