ہم جنس پرستی


دنیا کے تمام مذاہب میں برائی والا فعل اب اچھائی میں بدل گیا

منصور مہدی
عیسائیوں کے مذہبی پیشوا پوپ بینیڈکٹ شانزدہم نے ہم جنس شادیوں کی مذمت کی ہے۔انہوں نے یہ بات ویٹیکن کے دورے پر آئے ہوئے امریکی پادریوں سے ایک خطاب کے دواران کہی۔ پوپ نے خبردار کیا کہ ’پراثر سیاسی اور ثقافتی لہریں شادی کی تعریف کو بدلنے کی کوشش کر رہی ہیں ۔ انہوں نے امریکی پادریوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گرجوں میں اس بات پر زور دیں کہ شادی سے پہلے کسی کے ساتھ جنسی تعلقات رکھنا نہ صرف ایک بہت بڑا گناہ ہے بلکہ اس سے معاشرتی استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔
واضح رہے کہ پوپ بینیڈکٹ کے یہ بیانات ایک ایسے وقت آئے ہیں جب امریکی ریاستوں واشنگٹن اور میری لینڈ نے گذشتہ ماہ میں ہم جنس شادیوں کو قانونی طور پر جائز قرار دے دیا ہے۔ جبکہ اس سے پہلے امریکہ کی ریاستوں نیویارک، کنیکٹیکٹ، آئیوا، میساچوئسٹ، نیو ہمشائر اور ورمونٹ میں ہم جنس پرستوں کی شادیاں پہلے ہی قانونی قرار دی جا چکی ہیں۔
ہم جنس پرستی کو فروغ دینے میں اس وقت اور جو ممالک سرگرم ہیں ان میں امریکہ پیش پیش ہے۔ امریکہ کے تحقیقی ادارے بھی اس پر کام کر رہے ہیں اور ہم جنس پرستی کے حق میں مختلف دلائل دے رہے ہیں۔ ایک حالیہ تحقیق میں امریکی تحقیق کاروں کا خیال ہے کہ ہم جنس پرست مردوں کی آپس کی شادیاں صحت مند ماحول پیدا کرنے میں معاون ہوتی ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ شادی کے بندھن میں بندھ جانے والے ہم جنس پرست مرد بیماریوں کا کم شکار ہوتے ہیں۔ کیونکہ قانونی جیون ساتھی مل جانے سے ہم جنس پرست مرد اس اضطراری کیفیت سے نکل آتے ہیں جس کا شکار وہ ہم جنس پرست ہونے اور اپنا ساتھی نہ ملنے کے باعث رہتے تھے ۔
جبکہ بھارتی سپریم کورٹ بھی کچھ اسی قسم کا سوال پوچھتی ہے کہ آخر ہم جنس پرستی غیر فطری عمل کیسے ہے؟ عدالت کا کہنا ہے کہ کیا سروگیٹ مائیں ( کرائے پر مادر رحم دینے والی خواتین) اور ٹیوب کے ذریعے پیدا ہوئے والے بچے بھی فطرت کے خلاف ہیں؟
اس وقت دنیا بھر کے 113ممالک میں ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ جن میںمالی، اردن، کاغستان، ترکی، تاجکستان، کرغزستان، بوسنیا اور آزربائیجان جیسے 9مسلمان ممالک بھی شامل ہیں اور 76ممالک میں غیر قانونی ہے ۔
پاکستان میں بھی اگرچہ ہم جنس پرستی قابل تعزیر جرم ہے لیکن اب کچھ غیر ملکی سفارت کار خصوصاً امریکی سفارت کار ہم جنس پرستی کو پرموٹ کر رہے ہیں۔ امریکی سفارتخانے کے چارج ڈی افیئرز اور سینئر سفارتکار رچرڈ ہوگ لینڈ پاکستانی ہم جنس پرستوں کو یکجا کرنے میں پیش پیش ہیں۔ امریکہ نے تمام ”گیز“ کو مدد کا یقین دلایا ہے۔ ابھی کچھ عرصہ قبل امریکی سفارتخانے میں ہم جنس پرستوں کاایک اجتماع امریکی تنظیم ”گے اینڈ لزبین فارن افیئرز ایجنسی“ کے تعاون اور اشتراک سے ہوا تھا۔ جس میں امریکی ہم جنس پرستوں کے علاوہ پاکستانی ہم جنس پرستوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ ان میں نہ فقط ہم جنس پرستی کا شوق اور شغف رکھنے والے اور رکھنے والیاں موجود تھیں بلکہ ایڈز کی روک تھام کا لباس پہنے ہوئے ہم جنس پرستوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے سرگرم تنظیم گے، لیسبین، ہائی سیکسوڈل اینڈ ٹرانس جینڈر (جی ایل بی ٹی) کے عہدیداروں اور ممبران نے خصوصی حصہ لیا۔ جبکہ دیگر چھوٹی چھوٹی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔
اس اجتماع کی خبر افشاءہوتے ہی پاکستانی معاشرے کے مختلف طبقات کی طرف سے ردعمل دیکھنے میں آیا۔ حسب توقع مذہبی عناصر اس اجتماع کے خلاف پیش پیش رہے۔جبکہ سیاسی وسماجی طبقات نے بھی اپنے محدود انداز میں اس اجتماع کی آڑ میں کی جانے والی اصلی کوششوں کی مذمت کی۔ ایک مذہبی طلباءتنظیم نے اب تک اس موضوع کو اپنے اجتماعات اور احتجاج کا حصہ بنایا ہوا ہے لیکن جس طرح توقع کی جارہی تھی کہ مذہبی طبقہ اس اہم ایشو پر اور وہ بھی امریکی سفارت خانے کے ایماءپر ہونے والی حرکت کے خلاف ملک بھر میں سراپا احتجاج ہوجائے اس توقع کا عشر عشیر بھی پورا نہیں ہوا۔
اس اجتماع میں امریکی سفارتکاروں نے پاکستانی ہم جنس پرستوں کو یقین دلایا کہ وہ کسی بھی حالت میں انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ یاد رہے کہ اس پہلے عراق اور افغانستان میں بھی امریکی سفارتکار ہم جنس پرستوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر چکے ہیں۔
ماہر عمرانیات کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستی کا کوئی ٹھوس جواز نظر نہیں آتا کیونکہ اس کا سب سے بڑا نقصان کسی مذہب یا مسلک کو نہیں بلکہ براہ راست انسانیت کو ہے۔ اگر سارے مرد ہم جنس پرست ہوجائیں یا ساری عورتیں اس شوق کی اسیر ہوجائیں تو انسانیت کی بقاءکا کیا ہوگا؟ اگر نسل انسانی منقطع ہوجائے انسانوں کی پیدائش اور بڑھوتری کا سلسلہ ہی ختم ہوجائے تو کائنات کا وجود ‘ سائنس کی تحقیقات اور ارتقاء‘ اور علو م وفنون کے تمام راستے مسدود ہوکر بالآخر یہ زمین اور کائنات انسانوں کے وجود سے ہی خالی ہوجائے گی۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرسارے مرد‘ اور ساری عورتیں ہم جنس پرست ہوجائیں تو شاید کائنات میں موجود انسان ایک صدی کے اختتام سے پہلے ہی ختم ہوجائیں۔
طبی ماہرین ہم جنس پرستی کو خالصتا نفسیاتی معاملہ قرار دیتے ہیں اور ہم جنس پرستوں کی طرف سے دئیے جانے والے فطرت سے متعلقہ جوازوں کو ماننے کے لیے تیار نہیں اور بتاتے ہیں کہ ہم جنس پرست خواتین حضرات اگرچہ کتنے ہی تعلیم یافتہ اور اعلی اقدار و شعور کے حامل کیوں نہ ہوں لیکن اس معاملے میں وہ نفسیاتی اور جنسی مریض کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا جب انسان ہم جنس پرستی کے اس لطف سے آشنا اور اس علت کے عادی ہوجاتے ہیں تو اسے بعض اوقات فطرت کا لباس پہنانے کی کوشش کرتے ہیں اور بعض اوقات خلقت میں شامل کر لیتے ہیں اور پھر اپنے اس سلسلے کو مستقل اور قائم رکھنے کے لیے قوانین بنوانے کی جدوجہد شروع کردیتے ہیں۔
ہم جنس پرستوں کی عالمی تنظیم International Lesbian, Gay, Bisexual, Trans and Inter-sex Association( آئی ایل جی اے) 1978 میں معرض وجود میں آئی ۔ جس کا بنیادی مقصد دنیا بھر میں بسنے والے ہم جنس پرستوں کے حقوق کا تحفظ کرنا ہے۔ اب یہ تنظیم 110ممالک میں کام کر رہی ہے۔
آئی ایل جی اے کو 2008میںاس وقت شہرت ملی کہ جب اس کی کوششوں سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے پہلی مرتبہ ہم جنس پرستوں کے حقوق کی توثیق کی۔ اس موقع پر گرما گرم بحث ہوئی اعلامیہ کے حق میں 23 جبکہ مخالفت میں 19 ووٹ پڑے۔ اس اعلامیہ کے حق میں امریکہ ، یورپی یونین ، برازیل اور دیگر لاطینی امریکی ممالک نے ووٹ دیا جبکہ روس ، سعودی عرب ، نائجیریا ، پاکستان نے مخالفت کی ہے جبکہ چین اور دیگر ممالک نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا تھا۔ موریطانیہ سمیت کچھ ممالک نے اس قرارداد کو انسانیت کے بنیادی حقوق کو تبد یل کرنے کی کوشش قرار دیا ۔
جن ممالک میں ہم جنس پرستی کی اجازت ہے ان میں سے بیشتر ممالک میں اب اسی موضوع پر فلمیں بھی بن رہی ہیں۔ جیسے اب بھارت میں با لی ووڈبھی ہم جنس تعلقات پر فلمیں بن رہی ہیں۔ جس میں “مامی ” نامی فلم بہت اہم ہے۔دوستانہ ون اور دوستانہ ٹو بھی اسی نوعیت کی فلمیں ہیں۔ اسی طرح ترکی میں فلم Zenne میں ہم جنس پرستی سے متعلق ایک حقیقی واقعے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ یہ واقعہ 2008میں پیش آیا تھا جب 26سالہ طالب علم، احمد یلدز کو استنبول میں اس کے فلیٹ کے باہر اس کے والد نے گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔کیونکہ اس کا والد اپنے بیٹے کو ایک ہم جنس پرست کے طور پر دیکھنا برداشت نہ کر پایا تھا۔اس فلم کو ترکی کے مذہبی حلقوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ان کے مطابق یہ فلم ہم جنس پرستی کی حمایت میں پروپیگنڈا ہے۔جبکہ اس فلم نے پانچ ایوارڈ بھی جیتے ہیں۔ایک ملین ڈالر کی لاگت سے تیار کی گئی اس فلم کی مالی معاونت ہالینڈ کے سفارت خانے نے کی تھی۔
اب تو بھارت میں مرد ہم جنس پرست جریدے ”تفریح“ کی اشاعت شروع ہو چکی ہے ۔یہ میگزین جب مارکیٹ میں آتا ہے تو ہاتھوں ہاتھ بک جاتا ہے۔ اس میگزین کی اشاعت جولائی2011 میں شروع کی گئی تھی۔ جس میں نوجوانوں اور جنسی مسائل سے متعلقہ مضامین کے ساتھ ساتھ انڈرویئر پہنے ہوئے ماڈلز اور جدید کاروں کی تصاویر شائع کی گئیں تھیں۔
ہم جنس پرستی کے حوالے سے برطانیہ میں اپنی نوعیت کے پہلے مقدمے کی سماعت بھی جاری ہے کہ جس میں تین مسلمانوں کو ہم جنس پرستی کے خلاف نفرت پھیلانے کا مجرم قرار دیا گیا ہے۔ان افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے ایسا تحریری مواد تقسیم کیا جس میں کہا گیا تھا کہ معاشرے کو ہم جنس پرست خواتین اور مردوں سے چھٹکارا دلوانے کے لیے سزائے موت جائز ہے۔انہیں اس نئے انگلش قانون کے تحت قصوروار پایا گیا جس میں لوگوں کے جنسی میلان کی بناء پر ان سے نفرت کرنے پر ابھارنا ایک جرم ہے۔
ہم جنس پرستوں کی شادی جائز قرارد دینے اور اس کا قانون بنانے سے برطانوی معاشرتی اخلاقی گراوٹ دن بدن بڑھ رہی ہے اور سرکاری طور پر بتایا گیا کہ اس قانون سے ”استفادہ “کرنے کیلئے رجسٹریشن کرانے والے جوڑوں کی تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ قومی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق برطانوی معاشرے میں جوڑے بننا اور ٹوٹنا معمول بن چکا ہے۔ ان جوڑوں میں ہم جنس پرست مردوں کے ساتھ ساتھ ہم جنس پرست خواتین بھی شامل ہیں۔ برطانیہ نے ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کو باہم ”شادی“ کرنے کا قانون ”سول پارٹنرشپ“دسمبر 2005ءمیں بنایا تھا۔
بہرحال دنیا اب ایک ایسے دورائے پر آ کھڑی ہوئی ہے جہاں کچھ عرصہ پہلے کی برائیاں اچھائیاں بنتی جا رہی ہیں اور اچھائیاں برائیوں میں بدلتی جا رہی ہیں۔ اب یہ دنیا کہاں جا کر رکے گی اس بارے کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

آئی ایل جی اے کی رپورٹ کے مطابق جرمنی میں ہم جنس پرستی کو 1968میں قانونی قرار دیا گیا جبکہ یونان میں 1951،امریکہ 2003، آسٹریلیا اور ہنگری 1962، آئس لینڈ 1940، آئرلینڈ 1993، اٹلی 1890، کوسوو 1994، لٹویا 1992، لیتھونیا 1993، لگسمبرگ 1795، برکینا 2004، چاڈ ، کانگو، آئیوری کاسٹ ،گنی، 1931گبون ، گنی بساﺅ 1993، مڈاگاسکر ، مالی ، نائیجر، روانڈا، جنوبی افریقہ 1998، کمبوڈیا ، چین 1997، مشرقی تیمور 1975، بھارت 2009، انڈونیشیا، اسرائیل 1988، جاپان 1882، اردن 1951، کازکستان 1998، کرغستان 1998، لاﺅس ، منگولیا 1987، نیپال 2007، شمالی کوریا، فلپائن ، جنوبی کوریا، تائیوان 1896، تاجکستان 1998، تھائی لینڈ 1957، ترکی 1858، ویتنام البانیہ فلسطین 1995، انڈورہ ، آرمینیا2003، آسٹریا 1971، آزربائیجان 2000، بلجیم 1795، بوسنیا 1998، بلغاریہ 1968، کروشیا 1977، سائپرس 1998، چیک رپبلک 1962، ڈنمارک 1933، اسٹونیا 1992، فن لینڈ 1971، فرانس 1791، جارجیا 2000، میکوڈینیا 1996، مالٹا 1973، مالدیپ 1995، مناکو1793، مانٹیگرو1977، نیدر لینڈ 1811، ناروے 1972، پولینڈ 1932، پرتگال 1983، رومانیہ 1996، روس 1993، سان مارنیو 1865، سر بیا 1994، سلاوکیہ 1962، سلوانیا1979، سوئٹزرلینڈ 1942، یوکرائن 1991، برطانیہ 1929، ویٹی کن سٹی 1929، ارجنٹائن1887، باہاماس1991، بلوویا1831، برازیل 1831، کوسٹ ریکا1971، چلی 1999، کولمبیا 1981، کیوبا 1979، ایکاڈور1997، سالواڈور ، گوئٹے مالا، ہیٹی، ہنڈراس1899، میکسیکو 1872، نکاراگوا 2008، پاناما 2008، پیراگوئے 1880، پیرو 1836، سورینام 1869 ، اوگرائے 1934، وینزویلا ، فیجی 2010، مارشل آئی لینڈ 2005، نیوزی لینڈ 1986 میں ہم جنس پرستی کو قانونی قرار دے دیا گیا تھا ۔
آئی ایل جی اے کی رپورٹ کے مطابق ایران ، سعودی عرب، ماریطانیہ، یمن ، پاکستان اور سوڈان سمیت 76ممالک میں ہم جنس پرستی پر پابندی ہے اور اس جرم میں سزائے قید سے لے کر سزائے موت تک دی جاتی ہے۔ ان ممالک میں الجیریا، انگولا، بوسٹوانہ ، بورونڈی، کیمرون ، کوموروس، مصر، ایریٹیریا، ایتھوپیا، گیمبیا، گنی، کینیا، لائیبیریا، لیبیا، ملاوی، مراکش، موزمبیق، نائیجریا، سینیگال، سیریا لیون ، صومالیہ، تنزانیہ، یوگنڈا، زمبابوے، افغانستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، برونائی، برما، کویت، لبنان، ملیشیائ، عمان، قطر، سنگاپور، سری لنکا، شام، ترکمانستان، متحدہ عرب امارات، ازبکستان، یمن، برمودہ اور جمیکا وغیرہ شامل ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s