غربت کی انتہا


گدا گری پیشہ بن گیا
بھکاریوں میںخانہ بدوشوں کے علاوہ ، افغان، تاجک، خسرے اور جرائم پیشہ بھی شامل ہیں
ایک علاقے کا گداگر دوسرے علاقے میں جاکر نہیں مانگ سکتا جبکہ بھکاریوں کے اڈے لاکھوں روپے ٹھیکے پر بکتے ہیں ۔

منصور مہدی
 خانہ بدوش قبائل کی ہزاروں عورتوں اور بچوں نے بھکاریوں کے روپ میں شہر بھر کو یرغمال بنالیا۔ اِن پر جدید دنیا کی طرف سے تعلیم ، سماجی اور معاشی خوشحالی کے دروازے بند ہونے کے بعد انھوں نے اپنی بھوک کو مٹانے کے لئے گداگری کا پیشہ اپنا لیا جبکہ شہر کے پوش علاقوں کی مارکیٹوں ،پلازوں اور شاہراہوں کو آپس میں تقسیم کرنے کے بعد افغانی اور تاجکستانی پیشہ ور گداگروں کے علاوہ خسروں نے شہر کے پوش علاقوں میں بھیک منگوانا شروع کر دی۔اِس کے علاوہ گداگروں کے روپ میں جیبیں کاٹنے ، چوری اور منشیات فروشی کرنے والے جرائم پیشہ افراد پیشہ ور خواتین کی شمولیت نے شہریوں کا جینا حرام کر دیا۔ عرصہ 30/35برس قبل تک لاہور میں گداگروں کی تعداد بہت کم تھی مگر تیزی سے بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ ا±سی نسبت سے معاشی وسائل میں اضافہ نہ ہو سکنے کی وجہ سے غربت میں اضافہ ہو گیا اور بتدریج گداگروں کی تعداد بڑھنے لگی۔بھکاریوںکی تعداد میں زیادہ اضافہ ا±س وقت ہوا جب اِن میں قدیم روایات اور فنون لطیفہ کے محافظ پکھی واس یعنی خانہ بدوش قبائل کے ہزاروں افراد بھی شامل ہو گئے جب اِن کی خالص موسیقی ، دستکاری ، گھوگو گھوڑے، ناٹک ،پتلی تماشہ، بندر ،ریچھ اور سانپ کے تماشے کی بجائے شہری لوگوں نے جدید سائینسی تفریحات میں دلچسپی لینی شروع کر دی اور جدید دنیا کے نئے ضابطوں کی وجہ سے ا±ن کی روزی کے دروزے بند ہوگئے۔جب وسائل کی کمی اور دیگر علوم و ہنر سے بیگانی کے سبب اِن کے گھروں کے چولہے بجھ گئے اور نوبت فاقوں تک پہنچنے لگی تو بھیک مانگنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان بھر میں متعدد پکھی واس قبائل آباد ہیں جن میں جوگی ،کنگرے ،قلندر اورللی شامل ہیں ۔ان قبائل کے افراد جن کی تعداد پاکستان میں لاکھوں میں شمار ہوتی ہے اس خطے میں ہزاروں برس سے آباد چلے آ رہے ہیں یہ شہری آبادیوں سے باہر کپڑے ،سرکنڈوں اور بانس کی جھونپڑیوں میں رہتے ہیں۔ ان کی اپنی اپنی روایات،رسم ورواج اور طور طریقے ہیں۔یہ روزی کے لئے دور دراز کے علاقوں میں سفر کرتے رہتے تھے مگر اب اکثر ان لوگوں نے شہروں کے قریب مستقل ٹھکانے قائم کئے ہوئے ہیں۔لاہور کے تمام بیرونی علاقوں جیسے محمود بوٹی بند روڈ شفیق آباد بند روڈ ،جی ٹی روڈ پرخشک برساتی نالوں کے نیچے،شیخوپورہ روڈ، موٹر وے اور سبزازار کی درمیانی پٹی ،ملتان روڈ ، قصور روڈ اور شرقپور روڈ پر جا بجا رہتے ہیں جہاں سے صبح سویرے ان کی خواتین اور بچے جتھوں کی صورت میں لاہور پر یلغار کرکے مارکیٹوں ،ہسپتالوں ،عدالتوں، مزاروں اور پلازوں کے آگے پھیل جاتے ہیں اور سارا دن اور رات تک بھیک مانگنے کے بعد اپنے ٹھکانوں پر واپس چلے جاتے ہیں جبکہ ان بچوں کے والدین بھی ان کے قریب ہی بیٹھے ان کی نگرانی کرتے رہتے ہیں۔افغانستان میں جاری جنگ کی وجہ سے افغانستان اور تاجکستان کے سرحدی علاقوں سے پیشہ ور گداگر بھی ہزاروں کی تعداد میں آئے ہوئے ہیں اگرچہ ان لوگوں کو شروع میں یہاں پر اجنبی ہونے اور اردو یا پنجابی زبان سے نابلد ہونے کی وجہ سے مشکلات پیش آئیں مگر لاہور میں چوکیداری نطام سے منسلک افغان افراد کی مددسے بڑے بڑے پلازوں اور اہم شاہراہوں پر بھیک مانگنی شروع کردی۔لبرٹی مارکیٹ ،مال روڈ ،کیمپس ،گارڈن ٹاﺅن ، فیروز پور روڈ اور دیگر علاقوں میں سفید رنگ کے بچے اور پھول دار رنگ برنگے کپڑوں میں ملبوس خواتین میں سے اکثریت افغانی اور تاجکستانی پیشہ ور گداگروں کی ہے۔
معاشرے میں خاموشی سے پنپنے والی اس لعنت کی مختلف شکلیں ہیںاور اب گداگر مافیا ایک پورا نیٹ ورک بن چکا ہے جس نے نہ صرف لاہور کو مختلف حصوں میں تقسیم کیا ہوا ہے بلکہ مختلف کمیٹیاں بھی تشکیل دی ہوئیں ہیں جوگداگری کے مختلف شعبوں کو ڈیل کر تی ہیں ہر علاقے کا ایک ٹھیکیدارہوتا ہے جو تھامبو کہلاتا ہے ہر تھامبو کے نیچے پچاس سے لیکر پانچ سو تک گداگر ہوتے ہیں اور ایک علاقے کا گداگر دوسرے علاقے میں جاکر نہیں مانگ سکتا اور اگر کوئی غلطی سے دوسرے علاقے میں چلا جائے تو اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور مختلف علاقے مخصوص دنوں اور تہواروں کئے موقع پر لاکھوں روپے ٹھیکے پر بکتے ہیں ۔
ان گداگروں میں بہت سے جرائم پیشہ افراد بھی شامل ہیں ۔ بھکاری عورتوں کے ذریعے نہ صرف منشیات کا گھناوناکاروبار ہوتا ہے بلکہ جسم فروشی کا کام بھی ہوتا ہے ۔جبکہ اب گداگر ما فیا انہی بھکاری عورتوںاور بچوں سے گھروں میں بھیک منگوا کر گھروں کے اندرونی حالات اور محل وقوع معلوم کر کے گھروں میں چوری اورڈکیتی کی وارداتیں کر وا رہا ہے مزید سڑکوں کے چوراہوں کے اشارو ں پر بھیک مانگنے والے عورتوں اور بچوں کے یہی گروہ کھڑی ہوئی گاڑیوں میں سے موقع پاکر موبائیل اور دیگر قیمتی اشیاءاٹھا کر بھا گ جاتے ہیںیہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اس مافیا کے لوگ گھروں سے بھاگے ہوئے بچوں کو پکڑ کر انہیں ذہنی اور جسمانی طور پر معذور کر دیتے ہیں اورزبر دستی ان سے بھیک منگوائی جاتی ہے اور یہ بچے اس قدر خوفزدہ ہوتے ہیں کہ یہ اپنے سرغنہ کا کسی بھی صورت کوئی اتہ پتہ نہیں بتاتے اس صورتحال میں شہر بھر میں جرائم کا گراف تیزی سے بڑھ رہاہے جبکہ حکومت گداگری جیسی لعنت اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کو حل کرنے کے لئے کوئی عملی اقدامات نہ کر سکی۔
گداگری ایک معاشرتی، نفسیاتی اور معاشی طور پر ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔ جس کا ہمیں انفرادی اور اجتماعی طور پر سامنا ہے۔ گداگروں کے نفسیاتی مشاہدے بتاتے ہیں کہ ایسے لوگ ذہنی دباو¿ کا شکار ہو تے ہیں اور ان میں خود داری کی انتہائی کمی ہوتی ہے۔ اور ان میں سے اکثر کا خیال یہ ہوتا ہے کہ گداگری بذات خود کمائی کا ایک آسان طریقہ ہے۔ اور یہ لوگ گدا گری کو ضرورت سے آگے بڑھ کر پیشے کے طور پر اپنا لیتے ہیں اور یوں قابل رحم حالت میں زندگی گزار تے ہیں۔ معاشتی نقطہ نگاہ سے گداگر ان لوگوں کی آمدن پر بوجھ ہیں جو معاشرے میں باوقار زندگی گزارنے کے لیے محنت مزدوری سے روزی کما تے ہیں چونکہ گداگر کسی بھی پیداواری کام میں حصہ نہیں لیتے اور عام افراد سے لے کر حکومت کی سطح تک وسائل پر بوجھ بنے ہوئے ہیں۔ معاشی اور معاشرتی طور پر گداگری کی وجوہات کچھ بھی ہوں گداگری ایک لعنت ہے جو معاشرے کو پستی و ذلت کا شکار کر تی ہے۔ جس سے عزت نفس اور محنت کی عظمت کے تمام خیالات و نظریات بری طرح متاثر ہوتے ہیں۔ گداگر چونکہ اپنی ظاہری حالت خراب رکھتے ہیں اور صفائی ستھرائی کا اکثر اہتمام نہیں کرتے جس کی وجہ سے وہ خطرناک بیماریوں کا شکا ر ہو کر اپنے آس پاس بسنے والے دوسرے لوگوں کو بھی متاثر کرتے ہیں۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان کے سات بڑے شہروں میں کل آبادی کا 0.3فیصد افراد جبکہ شہر کراچی میں ہر 100میں سے ایک شخص نے رضا کارانہ طور پر یہ تسلیم کیا ہے کہ وہ باقاعدہ گداگری کے پیشے سے منسلک ہے۔ سروے میں اس بات کا خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے۔ سروے میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ بھکاریوں میں تقریباً نصف افراد مردوں کی ہے جبکہ چھوٹے بچوں اور عورتوں کی تعداد برابر ہے۔ ان اعداد و شمار کے مطابق پیشے کے طور پر خود تسلیم کرنے والے ان گداگروں میں سے تقریباً 65 فی صد ایسے تھے جو عام کام کرنے کے قابل تھے۔ لیکن انھوں نے گداگری کو اپنا رکھا ہے۔
غربت، افلاس، بےروزگاری، بیماری، ذہنی و جسمانی معذوری، قدرتی آفات اور جنگیں عام طور پر گداگری کا باعث ثابت ہوتی ہیں۔ کچھ لوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ غربت گداگری کی بنیادی وجہ ہے اور اگر گداگری کو ختم کرنا ہے تو غربت کو ختم کرنا ہوگا۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ تمام گداگرغریب نہیں ہیں اور نہ ہی تمام غریب گداگر ہیں یوں گداگری اور غربت ایک دوسرے کے قریب ہونے کے باوجود دو الگ مسائل ہیں جن کا حل بھی مختلف ہے۔
آغا خان فاو¿نڈیشن کے مطابق پاکستان میں لوگ سالانہ ستر ارب روپے سے زائد مالیت کی خیرات، زکوٰة، صدقہ یا فطرانہ ادا کرتے ہیں۔ غیرسرکاری فلاحی اداروں اور تنظیموں کے مطابق اب خیرات کی سالانہ قومی مالیت ایک سو پچاس ارب روپے ہے جس کا نوے فیصد زکوٰة کی شکل میں ادا کیا جاتا ہے۔ اگر کسی طریقے سے پاکستان کے مخیر حضرات اور خواتین کی اس نیکی اور انسان نوازی کے جذبات کو مناسب اور موزوں طریقے سے استعمال کرنے کا انتظام ہو سکے تو ملک اور قوم کے چند بنیادی مسائل کو حل کرنے میں بہت حد تک کامیابی ہو سکتی ہے۔ ایک سو پچاس ارب روپے کی سالانہ خیرات میں سے اگر پچاس ارب روپے بھی مناسب اور موزوں اجتماعی مفاد میں خرچ کرنے کے لئے بچائے جا سکیں تو صحت اور تعلیم کے بہت سے منصوبے تکمیل پا سکتے ہیں۔ ایک اور اندازے کے تحت دکھی انسانیت کی خدمت کے لئے دی جانے والی خیرات کا ظاہری حصہ، پوشیدہ حصے سے کم ہے۔ لاتعداد لوگ خاموشی سے کسی کو بتائے بغیر خیرات، زکوٰة، فطرانہ اور صدقہ ادا کر دیتے ہیں اور اس کی مالیت اور قدر بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس ظاہری اور پوشیدہ خیرات کی مالیت سالانہ دو سو سے تین سو ارب روپے سے کم نہیں ہو گی۔ یہ ضرورت بہت شدت کے ساتھ محسوس کی جانی چاہئے کہ ملک کے تمام غیر سرکاری فلاحی ادارے اور رفاہی تنظیمیں گداگری اور بھیک کی لعنت کے خلاف تحریک چلائیں اور کوشش کریں کہ دکھی انسانیت کی مدد کے لئے دی جانے والی رقم دکھی انسانیت کی مدد کے لئے ہی استعمال ہو۔
شرقپور روڈ پر تقریباً 20کلو میٹر کے فاصلے پر 150برس سے زائد عرصے سے مقیم جوگی قبیلے کے نمبردار نیاز محمد نے بتایا کہ ہم یہاں پر اپنے آباﺅ اجداد سے رہتے چلے آرہے ہیں یہاں پر 120سے زائد پکھیاں ہیں۔ پہلے ہمارے قبیلے کے افراد سانپ کا تماشہ کر کے روزی کمایا کرتے تھے جبکہ بعض سنیاسی کا کام کرتے تھے اور اپنے بچوں کی روزی کمایا کرتے تھے اور ہماری عورتیں اپنی پکھیوں(گھروں) میں رہا کرتی تھیں۔ہم اپنی روزی کمانے کے لئے روزانہ لاہور اور اس کے قرب جوار میں چلے جاتے تھے۔سانپوں کے تماشے میں بڑے اور بچے دلچسپی لیا کرتے تھے۔شہری علاقوں سے ہمیں پیسے ملتے اور دیہاتی علاقوں سے مختلف اجناس ملتے جس سے ہمارا گزربسر ہو جا تا تھا مگر اب نہ تو شہر کے لوگ ہمارے سانپوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور نہ ہی دیہاتی افراد ہم سے علاج معالجے کے لئے کوئی جڑی بوٹی خریدتے ہیں جبکہ ہمارے پاس نہ تو کوئی رہائش ہے اور نہ ہی لباس ہے، تعلیم نام کی کوئی چیز نہیں اور ہنر ہمیں کوئی آتا نہیں جس وجہ سے آہستہ آ ہستہ ہماری روزی بند ہوگئی جبکہ ہمارے ہر خاندان میں 8,8اور 10,10بچے ہیں جن کا پیٹ بھرنے کے لئے آخر کار گداگری شروع کر دی۔
ایوان عدل لاہور میں تین چھوٹے چھوٹے بچوں کے ہمراہ بھیک مانگتی رضیہ بی بی نے بتایا کہ میرا تعلق پکھی واس قبیلے کنگرے سے ہے۔ عرصہ تقریباً 10/15سال قبل ہمارا خاندان مٹی کے گھوگوگھوڑے اور دیگر کھلونے اور سرکنڈوں کے پنکھے اور چھاج بناتے تھے اور شہر شہر گاﺅں گاﺅں ان کو فروخت کر کے رزق کماتے تھے مگر اب شہر والوں اور گاﺅں والوں نے ہمارے ہاتھ کی بنی ہوئیں چیزوں کو خریدنا بند کر دیا جس کے نتیجے میں ہم بے روز گار ہوگئے۔رضیہ نے بتایا کہ میرے 7بچے ہیں اور میرا شوہر نشہ کرتا ہے لہذا اب میں بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے مانگتی ہوں۔ اس نے ایک سوال پر بتایا کہ مجھے بھی اس بات کا شوق ہے کہ میرے بچے بھی تعلیم حاصل کریں اور ہمیں بھی روزگار ملے اور ہمیں ہر ایک کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانا پڑے۔
چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئربیورو کے ڈائریکٹر پروگرام زبیر احمد شادکا اس حوالے سے کہنا ہے کہ انھوں نے گداگر بچوں اور ان کے خاندانوں کیلئے کئی پروگرام شروع کر رکھے ہیں۔ ایسے بچوں کو نہ صرف خوراک اور رہائش کی سہولت دی جاتی ہے بلکہ صحت کے حوالے سے بھی ان کی دیکھ بھال کی جاتی ہے۔ ان کوعام تعلیم کے ساتھ فنی تعلیم دی جاتی ہے جبکہ ان کے والدین کی مالی امداد کے ساتھ میئکرو فنانس سکیم کے تحت چھوٹے کاروبار کیلئے قرضہ بھی فراہم کیا جارہا ہے۔ جبکہ اس حوالے سے چائلڈ پروٹیکشن کورٹ بھی کام کر رہی ہے۔ لاہور کے علاوہ گوجرانوالہ ، ملتان، فیصل آباد، راولپنڈی، رحیم یار خان اور سیالکوٹ میں بھی آفس کام کر رہے ہیں۔ بچوں کی گداگری کے حوالے سے ہیلپ لائن1121پر اطلاع دی جا سکتی ہے۔

غربت کی انتہا” پر 0 خیالات

  1. پنگ بیک: My Stories » Blog Archive »

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s