مال مویشی


دیہی علاقوں میں خواتین مال مویشیوں کو چرانے کے علاوہ ان کی خدمت پر مامور ہوتی ہیں ان خواتین کی حوصلہ افزائی کیلئے کوئی منصوبہ ابھی تک سامنے نہیں آیا؟

original_Cattleمنصور مہدی
شعبہ لائیوسٹاک زراعت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ لائیو سٹاک کا ملکی ترقی میں نمایاں کردارہے،زرعی پیداوار میں اس کاحصہ55.1فیصد جبکہ جی ڈی پی میں11.5فیصد ہے۔ جبکہ قومی ذرائع مبادلہ میں اس کا حصہ 10فیصد ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان کی رپورٹ کے مطابق دیہی آبادی کے تقریباً3 کروڑ 50 لاکھ سے لیکر چار کروڑ افراد کاانحصار لائیو سٹاک کے شعبہ پر ہے۔
جانوروں سے ہمیں اچھے معیار کے حیوانی لحمیات‘ دودھ ‘ گوشت‘ کھالیں اور اون وغیرہ حاصل ہوتی ہے۔ مال برادری اور دوسری زرعی سرگرمیوں کے علاوہ جانوروں کا گوبرزمین کی زرخیزی اور پیداوار بڑھانے کیلئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔
ایک اندازے کے مطابق ہمارے ملک میں جانوروں کی تعداد 135ملین کے قریب ہے۔ دودھ کی پیداوار کے لحاظ سے پاکستان کا شمار دنیا کے چوتھے بڑھے ملک کے طور پر کیا جاتا ہے۔ جبکہ دودھ دینے والے جانوروں کی تعداد 50ملین سے زائد ہے جن سے سالانہ دودھ کی پیداوار 45 بلین لیٹر لی جاتی ہے۔
دودھ کی بہترین پیداوار دینے والے ممالک میں پہلے نمبر بھارت، دوسرے چین اور تیسرے امریکہ ہے۔پاکستان میں جن جانوروں سے دودھ حاصل کیا جاتا ہے ان میں گائیں، بھینسیں، بھیڑیں، بکریاں اور اونٹ شامل ہیں۔ پاکستان میں دودھ دینے جانوروں کی نہ صرف ایک بڑی تعداد موجود ہے بلکہ ان کی پرورش اور خوراک کے لیے بڑی بڑی چراہ گاہیں بھی موجود ہیں ۔ جہاں پر موجودہ تعداد سے کئی گنا زائد جانور اور پالے جا سکتے ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں بڑھتی ہوئی آبادی ،شہروں میں منتقلی کے رجحان اورفی کس آمدنی میں اضافہ کی وجہ سے لائیو سٹاک مصنوعات کی مانگ میںمسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔چنانچہ لائیوسٹاک کے شعبے کو ترقی دے کر نہ صرف لائیو سٹاک مصنوعات کی طلب پوری ہو سکتی ہے اورمعیشت کو مستحکم بنایا جاسکتا ہے بلکہ غربت اور بیروزگاری کا بھی خاتمہ کیا جاسکتا ہے ۔
پاکستان کی معاشی ترقی میں لائیو سٹاک کی بہت اہمیت ہے اور زراعت کے ساتھ یہ واحد شعبہ ہے جسے ترقی دے کر نوجوانوں کو دیہاتوں میں ہی مقبول نفع بخش کا روبار فراہم کیاجاسکتا ہے اور شہروں کی طرف نقل مکانی کو کنٹرول کیاجاسکتا ہے ۔
لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ واحد ایسا شعبہ ہے جس کی ترقی سے براہ راست ملکی ترقی وابستہ ہے لہذا وفاقی اور صوبائی سطح پر اس شعبے میںمزید ترقی کی ضرورت ہے۔ وفاقی وزارت لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ کا کہنا ہے کہ زرعی شعبہ کی ویلیوایڈڈ پیداوار میں اضافہ کیلئے اب نجی شعبہ کی زیادہ سے زیادہ شرکت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ ملکی غذائی ضروریات کو پورا کیاجاسکے اور اضافی مصنوعات کو برآمد کرکے زرمبادلہ کمایا جاسکے۔
وفاقی وزارت کی رپورٹ کے مطابق لائیو سٹاک کے شعبہ کی پیداوار میں اضافہ کیلئے رواں مالی سال میں 7 مختلف منصوبوں پر 8 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کئے جا رہے ہیں جس سے دودھ اور گوشت کی پیداوار میں اضافہ اور بہتر سہولتوں کی فراہمی میں اضافہ کے علاوہ لائیوسٹاک اورپولٹری کی بیماریوں پر کنٹرول کے منصوبے شامل ہیں جبکہ جانوروں کی بیماریوں کے علاج اور تحفظ کیلئے لائیو سٹاک فارمرز کو ان کے فارم پر سہولتوں کی فراہمی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں جس سے لائیو سٹاک کے شعبہ کی پیداوار میں اضافہ کرکے ملکی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے علاوہ لائیو سٹاک کی برآمدات میں بھی اضافہ کیا جائے گا جس سے دیہی علاقے کے عوام کی آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ کے علاوہ ملکی معیشت مستحکم ہوگی۔
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں اس شعبے کی اہمیت اور بھی مسلمہ ہے۔کیونکہ یہاں کا زیادہ تر حصہ پہاڑوں پر مشتمل ہے جو مال مویشی پالنے کیلئے انتہائی موزوں تصور کیا جاتا ہے۔صوبہ خیبر پختونخوا کے وزیر لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ حاجی ہدایت اللہ خان کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت لائیو سٹاک و ڈیری ڈویلپمنٹ کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے موثر اقدامات کر رہی ہے جن کیلئے تمام تر بنیادی وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ محکمہ لائیو سٹاک ریسرچ اینڈ ڈیویلپمنٹ صوبے کے مختلف علاقوں میں زمینداروں اورمویشی پال لوگوں کو اینیمل ہسبینڈری ایکسٹینشن کی تربیت دے رہا ہے جو دیہاتوں اور قبائلی علاقوں میں مویشی پال لوگوں کیلئے انتہائی فائدہ مند ہے۔ صوبائی وزیر لائیو سٹاک نے کہا کہ پرسکون اور خوشحال زندگی کیلئے امن اور خوراک دونوں چیزوں کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ لائیو سٹاک کو ترقی دے کر نہ صرف ہم غربت اور منگائی سے نجات حاصل کر سکتے ہیں بلکہ اس سے زرعی خود کفالت اور زر مبادلہ کے ذرائع بھی پیدا کئے جا سکتے ہیں۔حکومت ان دونوں شعبوں کو درپیش چیلنجوں سے نمٹنے اور اس کی ترقی کیلئے خاطر خواہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔
اکنامک سروے آف پاکستان کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ لائیو سٹاک ایک ایسا ہمہ گیر شعبہ ہے جس سے ہماری روزمرہ کی ضروریات پوری کی جا سکتی ہیں۔ موجودہ دور میں ہر طرف سے غربت اور مہنگائی کی باتیں ہوتی ہیں اسلئے اگر ہم زراعت اور لائیو سٹاک کے شعبوں کو صحیح معنوں میں ترقی دیں تو ہمیں کئی مسائل سے نجات مل سکتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق صوبہ خیبر پختونخواہ میں 2010-11میںصوبے میں اس حوالے سے جو منصوبے شروع کیے گئے تھے ان میں صوبہ کے دور دراز علاقوں میں وٹرنری ہسپتالوں کا قیام اور تعمیر نو، پشاور، مردان اور ڈی آئی خان میں ڈیری کالونیوں کا قیام، لوئیر دیر میں آچی گائے کی نسل کا تحفظ اور ترقی، ہزارہ ڈویڑن میں پولٹری ریسرچ انسٹی ٹیویٹ کا قیام، کوہاٹ میں بھیڑ بکریوں کے بارانی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا قیام، خیبر پختونخوا میں دودھ اور گوشت کی پیداوار بڑھانے کا پائلٹ پراجیکٹ، جانوروں کی تولیدی صلاحیت میں اضافہ کرنا، ویرالوجی سنٹر کا قیام، لائیو سٹاک ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ سٹیشن کا لوئیر دیر میں قیام اور بھیڑ بکریوں کے افزائش نسل کیلئے تحقیقاتی سنٹر چار باغ سوات کا منصوبہ شامل تھے۔
جبکہ رواں مالی سال 2011-12 میں بھی متعدد اہم منصوبے جاری ہے جن میں غذائی اجزاءکو جدید طریقوں سے تجزیہ کرنے اور گوشت، دودھ میں ادویاتی اثرات کے معائنے کے پراجیکٹ کا بنیادی مقصد غذائی اجزاءکو بہتر طریقے سے بذریعہ تحقیق جانوروں کی خوراک میں شامل کرکے اس کی افادیت کو استعمال میں لانا ہے۔کیونکہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں بہت سے ایسے غذائی اجزاء پائے جاتے ہیں جن کا تجزیہ کرکے ان کو برائے حیوانی خوراک استعمال کیا جا سکتا ہے۔جس سے جانوروں کی خوراک پر نسبتاً کم خرچا آئے گا اور جانور کو متوازن خوراک بھی دستیاب ہوگی جن سے جانوروں کی پیداواری صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ لیا جا سکتا ہے۔
پنجاب میں لائیو سٹاک اور ڈیری ڈویلپمنٹ کے حوالے صوبائی وزیر ملک احمد علی کا کہنا ہے کہ پنجاب کی سالانہ کارکردگی انتہائی عمدہ اور دوسرے صوبوں سے منفرد رہی ہے۔ پنجاب کی حکومت کی طرف سے رواں مالی سال میں اس شعبہ کی ترقی کے لئے 327 کروڑ روپے کی خطیر رقم فراہم کی گئی۔ بچھڑے پالنے کے لئے محکمہ لائیو سٹاک اور ڈیری ڈویلپمنٹ نے متعدد مراکز قائم کرکے چاروں سیمن پروڈکشن یونٹوں میں بنیادی سہولیات بھی فراہم کرا دی ہیں۔ سیمن کی پورے صوبہ پنجاب میں جانوروں کے تولیدی مراکز میںفراہمی بہتر بنا دی گئی ہے۔شعبہ تولید کے تحت16 لاکھ92 ہزار مویشیوں کی تولید کی گئی۔
صوبائی وزیر کا کہنا ہے کہپنجاب لائیو سٹاک اینڈ ڈیری ڈویلپمنٹ بورڈ پنجاب حکومت نے پبلک پرائیویٹ سیکٹر میں اسی لئے قائم کیا ہے تاکہ اس مفید منصوبے کو کوئی بھی حکومت بند نہ کرسکے اور آزادی کے ساتھ یہ ادارہ کام کرسکے۔اس ادارے کے تحت لائیو سٹاک کے شعبہ میں جو منصوبے شروع کئے گئے ہیں ان کی وجہ سے پنجاب نہ صرف لائیو سٹاک کے شعبہ میں خودکفیل ہوجائے گا بلکہ چھوٹے بڑے گوشت اور مرغی کی پیداوار بتدریج اتنی بڑھ جائے گی کہ اس کی ایکسپورٹ سے معقول زرمبادلہ بھی کمایا جا سکے گا۔
صوبہ پنجاب کے اٹھارہ اضلاع میں مجموعی طور پر 212 کروڑ روپے کی لاگت سے مویشیوں کو ویٹرنری کوڈین کے لئے بھی منصوبہ شروع کردیا گیاہے۔ چنانچہ اس اہم ترین ترقیاتی منصوبے کے تحت68 تحصیل ہیڈ کوارٹرز میں ویٹرنری ہسپتال اپ گریڈ کئے جارہے ہیں۔ اب تک پندرہ تحصیل ہیڈ کورارٹرز میں یہ ہسپتال اپ گریڈ کئے جاچکے ہیں۔ 18 موبائل ویٹرنری ڈسپنسریاں بھی قائم کردی گئی ہیں جبکہ 381 سول ویٹرنری ڈسپنسریاں اب یونین کونسل کی سطح پر بھی قائم کی گئی ہیں۔ پچھلے مالی سال کے اختتام پر ٹیکنیکل سٹاف کو 1066 موٹر سائیکلیں فراہم کی گئیں،1 کروڑ30 لاکھ25 ہزار چھوٹے بڑے جانوروں کا علاج معالجہ کیاگیا۔ اس ایک سال کے دوران3 کروڑ48 لاکھ جانورو ںکوویکسین بھی مہیا کی گئی جبکہ دس نئی تشخیصی لیبارٹریاں بھی قائم کردی گئی ہیں۔ اس متذکرہ عرصے میں8 لاکھ10 ہزار بھیڑ بکریاں بھی رجسٹرڈ کی گئیں بلکہ3 کروڑ 34 لاکھ72 ہزار مرغیوں کو بھی ویکسین دی گئی۔
پنجاب میں لائیو سٹاک اور ڈیری ڈویلپمنٹ کی ترقی کے لیے نہ صرف پنجاب حکومت اپنے طور پر اقدامات کر رہی ہے بلکہ ایران، جرمنی اور جاپان کے علاوہ دیگر ممالک کی مدد سے بھی بیشتر منصوبے شروع کر رکھے ہیں۔ جن میں گذشتہ برس لاہور میں ملتان روڈ پر ایران کی مدد سے جدید طرز کا سلاٹر ہاﺅس کا قیام اور رائے ونڈ روڈ پر ڈیری کی مصنوعات کو محفوظ اور پیک کرنے کا جدید پلانٹ کی تنصیب شامل ہے۔ یہ منصوبہ زرعی و معاشی لحاظ اور پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ اس اہم منصوبے کی تکمیل سے نہ صرف شہریوں کو حفظان صحت کے اصولوں کے مطابق بہترین گوشت میسر آئے گا بلکہ پنجاب سے ایران اور دیگر ممالک کو گوشت برآمد کر کے بھاری زرمبادلہ بھی کمایا جا سکے گا۔

original_Cattle1

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s