پولٹری کی صنعت


منصور مہدی

پولٹری کی صنعت کسی بھی ملک کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ یہ صنعت جنوبی ایشیا کے ممالک میں دیگر ممالک کی نسبت تیزی سے فروغ پانے والی صنعتوںمیں شمار ہوتی ہے۔ پاکستان میں ٹیکسٹائل کے بعد دوسری بڑی صنعت پولٹری کی ہے جس میں اب تک 300 ارب روپے سے زائد کی سرمایہ کاری سے 28 ہزار سے زائد پولٹری فارم بن چکے ہیں کہ جہاں 32 لاکھ سے زائد مرغیاں پالی جاتی ہیں۔ 23 لاکھ افراد کا براہ راست روزگار پولٹری انڈسٹری سے وابستہ ہے۔ جبکہ درجنوں نئے پراجیکٹ شروع کیے جا رہے ہیں۔
پاکستان میں مرغی کا استعمال فی کس سالانہ 6 کلو جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں 41 کلو اور دیگر ممالک میں 17 کلو ہے۔ 1953ءمیں جب پاکستان میں پٹرول پندرہ پیسے لٹر تھا اس وقت بکرے کا گوشت سوا روپے کلو اور دیسی مرغی کا گوشت چار روپے کلو تھا۔ اس زمانے میں مرغی کھانا امیروں کی شان سمجھی جاتی تھی لیکن ولایتی مرغی نے پروٹین سے بھرپور مرغی کا گوشت سستا ترین کر دیا ۔
پولٹری انڈسٹری سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر میں پولٹری انڈسٹری کا مستقبل بہت روشن ہے۔ دنیا میں اس وقت حلال مصنوعات کا سالانہ کاروبار 632 ارب ڈالر ہے جس میں سے اگر پاکستان ایک فیصد بھی حاصل کر لے تو اس کی سالانہ ایکسپورٹ چھ ارب ڈالر سے بھی زیادہ بڑھ سکتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کے ممالک میں آسٹریلیا کی مصنوعات کی جگہ پاکستانی پولٹری زیادہ پسند کی جا رہی ہیں۔ حکومت حوصلہ افزائی کرے تو ایکسپورٹ میں کافی اضافہ ہو سکتا ہے۔ لیکن آئین میں 18ویں ترمیم سے قبل پولٹری کے لیے امپورٹ کی جانے والی مشینری سیلز ٹیکس اور ڈیوٹی سے مستثنیٰ تھی لیکن جب صوبوں کو محکمے منتقل کیے گئے تو اس رعایت کا خاتمہ کر دیا گیا اور پولٹری کی مشینری پر بھی سولہ فیصد ڈیوٹی عائد کر دی گئی جس کی وجہ سے تیزی سے ترقی کرتی ہوئی پولٹری انڈسٹری کو دھچکا لگا ہے۔
ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے بگڑتے ہوئے تعلقات سے بھی پولٹری کی صنعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کیونکہ پاکستان کی کل پولٹری صنعت کا 80 فیصد انحصار امریکہ سے درآمد شدہ chicken flocks پر ہے۔ جبکہ انڈسٹری سے متعلقہ مشینری اور ویکسین بھی امریکہ سے ہی درآمد کی جاتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کی طرف سے نیٹو سپلائی بند کرنے کے جواب میں امریکہ نے بھی پاکستان پر پابندیاں لگائیں تو ان کی زد میں پولٹری کی صنعت آنے سے یہ ختم ہو کر رہ جائے گی۔
امریکہ سے درآمد شدہ چکن بے بی 38سے 40دنوں میں جوان ہو کر کھانے کے قابل ہو جاتے ہیں جبکہ پاکستان میں تیار کردہ چکن (دیسی مرغی) بے بی کی قسم ایک سال میں تیار ہوتی ہے۔ اگرچہ اسلام آباد کے علاقے چک شہزاد میں 1600ایکٹر رقبے پر پھیلے ”نیشنل ایگری کلچرل ریسرچ کونسل ( نارک) سنٹر میںاپنا parent flock بنانے کے تجربات ہو رہے ہیں مگر وہ امریکی flock سے بہت پیچھے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے اس انڈسٹری میں ابھی مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ اگر حکومت کے ساتھ پرائیویٹ سیکٹر کے افراد اور ادارے بھی ریسرچ سنٹر کے قیام میں سرمایہ کاری تو پاکستانی سائنسدان بھی parent flock تیار کر سکتے ہیں۔ اسی طرح ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے بھی پاکستان میں کوئی ادارہ موجود نہیں ہے۔ پرائیویٹ سیکٹر کی ان دو شعبوں میں شمولیت سے پاکستان کی پولٹری کی صنعت میں انقلاب آ سکتا ہے۔ اور یورپی یونین میں پولٹری مصنوعات کی بڑھتی ہوئی مانگ کو پورا کرنے کے لیے یہ آسانی سے ایکسپورٹ ہو سکتی ہیں اور پاکستان بڑی مقدار میں زرمبادلہ کما سکتا ہے ۔ ویسے بھی یورپی یونین پولٹری پر اعشاریہ پینتیس فیصد رعایت بھی دیتی ہے۔
پاکستان میں جدید پولٹری کی صنعت کا آغاز 1963ءمیں ہوا تھا۔ پی آئی اے نے اس صنعت میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے 1965ءمیں کراچی میں پہلا جدید ہیچری یونٹ لگایا۔ لیکن اب یہی صنعت ملک کے 24.7 فیصد گوشت کی طلب پوری کر رہی ہے۔ پاکستان میں 300ارب کی سرمایہ کاری میں سے 200ارب روپے کی سرمایہ کاری صرف پنجاب میں کی گئی ہے۔
اینیمل ہسبنڈری کے پروفیسر ڈاکٹر محمد سرورکا کہنا ہے کہ جدید تحقیق سے استفادہ کرکے پولٹری کی صنعت کی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گوشت کے استعمال کی شرح دوسرے ممالک کی نسبت کم ہے اور تقریباً6 کلوگرام گوشت فی کس سالانہ استعمال کیا جاتا ہے، پولٹری کی صنعت میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہیں اور اس صنعت میں سرمایہ کاری سے قابل ذکر منافع کمایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولٹری کی صنعت گوشت کی کل ملکی پیداوار کا چوبیس اعشاریہ سات فیصد فراہم کر رہی ہے۔ اس کے علاوہ یہ انڈوں کے حصول کا بھی ذریعہ ہے۔ ملک میں کھلے پولٹری فارمز کے بجائے کنٹرولڈ فارمز کے فروغ میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اس وقت پنجاب میں تقریباً 6500 سے زائد کنٹرولڈ فارمز کام کر رہے ہیں۔
پاکستان پولٹری ایسوسی ایشن کے کنوینئر شاہنواز جنجوعہ کا پاکستان میں پولٹری کی صنعت کے فروغ کے حوالے سے کہنا ہے کہ ابھی حال ہی میں ہونے والی ایکسپو سینٹر کراچی میں لائیو سٹاک نمائش میں جہاں متعدد جانوروںکی نمائش کی گئی وہاں اس نمائش کے انعقاد کا مقصد لائیو سٹاک، ڈیری، فشریز اور پولٹری کے شعبے کوفروغ دینا بھی تھا جس کی مدد سے ملک میں لائیو سٹاک اور پولٹری کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہوئی اور 25 سرمایہ کار ایک ارب روپے سے زائد کی فوری سرمایہ کاری کے لیے تیار ہوئے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں کی آب و ہوا مرغ بانی کے علاوہ شتر مرغ کی افزائش کے لیے بھی انتہائی موزوں ہے۔ جبکہ رواں برس کے شروع میں18 مالیاتی اداروں اورحکومتی محکموں کے مابین مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے جس کے تحت ان اداروں کے مابین ایک مشاورتی گروپ تشکیل دیا جائے گا جو ایگری پروسیسنگ ، مائننگ پروسیسنگ ، لائیو سٹاک ، ڈیری ، فشریز، پولٹری اور حلال انڈسٹری کے غیر روایتی کاروباری شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے کام کرے گا اور سالانہ کم از کم 8 اجلاس منعقد کرکے کام کی رفتار کا جائزہ لے گا۔
پولٹری صنعت میں ہول سیلرز کی یونین کے ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں اگرچہ پولٹری کی صنعت میں بہت تیزی سے ترقی ہوئی لیکن اس کاروبار میں چند بڑے سرمایہ کاروں نے بڑی سرمایہ کاری کے ذریعے اس صنعت پر اپنی اجارہ داری قائم کر لی ہے، جو مرغی کی کل پیداوار سے لے کر اس کی ویکسین اور گوشت کی قیمت کو مقرر کرتے ہیں، جس سے پولٹری انڈسٹری بھی چند ہاتھوں میںسمٹتی جا رہی ہے۔ کیونکہ کپڑے کے بعد یہی پاکستان کی سب سے بڑی اور منفعت بخش صنعت ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے پولٹری صنعت میں بحران پیدا ہو رہا ہے ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت نے کبھی بھی اس شعبے پر توجہ نہ دی۔ نہ ہی کسی حکومت نے انڈسٹری کی بہتری کے لیے کوئی نمایاں اقدامات کیے اور نہ ہی پولٹری پالیسی کا اعلان کیا جاسکا ہے۔ ہول سیلرز کا کہنا ہے کہ پولٹری وہ واحد سیکٹر ہے جس کی قیمت میں اگر اضافہ ہوتا ہے تو کمی بھی کی جاتی ہے جبکہ گائے اور بکرے کے گوشت میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اس کی قیمتیں کم نہیں ہوتیں۔
ہول سیلرز کی یونین کے ذرائع کا کہنا ہے اس کاروبار میں اجارہ داری کے سبب جب مالکان چاہتے ہیں قیمت میں اضافہ کر دیتے ہیں۔ جیسا کہ رواں ماہ کے ابتدائی ہفتے میں کراچی پولٹری مصنوعات کی قیمتوں میں اچانک 40 فیصد اضافہ کردیا گیا۔ کراچی حکومت کے اعداد وشمار کے مطابق دسمبر 2011ءاور جنوری 2012ءکے مہینوں میں پولٹری ریٹ میں مجموعی طور پر 60 فیصد اضافہ کیا گیا جبکہ ایک ہفتے کے دوران 40 فیصد اضافہ ہوا۔ ریٹیل مارکیٹوں میں زندہ مرغی کے گوشت میں بھی 30 روپے اضافہ کردیا گیا ہے جبکہ برائیلر مرغی کے گوشت میں بھی 30 روپے اور لیئر مرغی کے گوشت میں 50 روپے کا اضافہ کردیا گیا ہے۔ دوسری جانب انڈوں کے نرخ میں مزید 20 روپے فی درجن اضافہ کر دیا گیا۔
اینیمل ہسبنڈری کے پروفیسر ڈاکٹر محمد سرورکا کہنا ہے کہ مرغی کے بارے میں سب سے دلچسپ حقیقت یہ ہے کہ آپ اسے پیدا ہونے سے پہلے بھی کھا سکتے ہیں۔ لہٰذا حکومت اور پرائیویٹ سیکٹر کو مل کر اس کی ترقی کے لیے اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ پولٹری کی صنعت کو ابھی ویکسین اور اپنا parent flock تیار کرنے کے لیے ایک بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پولٹری انڈسٹری کے غیر ممالک پر 80 فیصد انحصار کو ختم کرنا ہوگا۔ اور یہ نہ ہو کہ مرغ انڈسٹری بھی اپنے پاﺅں پر کھڑا ہونے سے پہلے ہی کھائی جائے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s