کرنل معمر قذافی


منصور مہدی

تنازعات اور تضادات سے بھرپور زندگی گزارنے والے لیبیا کے راہنماکرنل معمر قذافی طویل ترین عرصے تک برسراقتدار رہنے والے عرب رہنما تھے۔41 برس پہلے ایک نوجوان فوجی افسر کی حیثیت سے حکومت پر قبضہ کر کے لیبیا کے حکمران بنے۔
قذافی اوائل جوانی سے ہی عرب قوم پرستی کے پیروکار اور مصری رہنما جمال عبدالناصر کے شیدائی تھے۔ 1956 کے نہر سوئز کے بحران کے دوران مغرب اور اسرائیل کے خلاف ہونے والے مظاہروں میں بھی وہ پیش پیش رہے تھے۔
معمر قذافی 7جون 1942 کولیبیا کے شہر سِرت کے نزدیک ایک صحرائی علاقے میں پیدا ہوئے۔
1965میں آپ نے بن غازی ملٹری یونیورسٹی اکیڈمی میں داخلہ لیا اور 1966سے 1969تک اعلیٰ فوجی تعلیم کی غرض سے برطانیہ کی رائل ملٹری اکیڈمی میں تعلیم حاصل کی اور اسی سال واپس وطن آگئے۔
1969میںجب قذافی ابھی جونئیر افسر ہی تھے تو اپنے دیگر ساتھی فوجی افسروں کا ساتھ مل کر فری آفیسرز موومنٹ چلائی اور لیبیا کے شاہ ادریس کے خلاف بغاوت کر دی اور بغیر خون بہائے اقتدار پر قبضہ کر لیا۔
کامیاب بغاوت کے بعد قذافی ریولیوشنری کمانڈ کونسل کے چیئرمین اور لیبین آرمی کے چیف آف دی آرمد فورسز منتخب ہوئے اور لیبیا کو عرب ریپبلک لیبیا کا نام دیا۔
اقتدار پر قابض ہونے کے بعدقذافی نے لیبیا میں اپنے منفرد طریق حکومت کو متعارف کرایا۔ معمر قذافی کا سیاسی فلسفہ اس لئے بھی منفرد تھا کہ وہ ان کا خود ساختہ تھا اور دنیا میں رائج کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام سے الگ تھا۔ اس کو دنیا میں تیسری عالمی تھیوری کے طور پر دیکھا گیا۔ یہ طریق و انداز حکمرانی عرب نیشنل ازم اور سوشل ازم کا ملغوبہ تھا۔ عرب قوم پرستی کے اس سرپرست کو اپنے ابتدائی دور میں اسی وجہ سے مقبولیت بھی حاصل ہوئی۔ جبکہ ملک میں اسلامی اقدار کے خلاف سرگرمیوں کو بند کر دیا گیا، شراب اور جوئے پر پابندی لگا دی گئی۔ 1977 میں جماہریہ کے نام سے ایک ایسا نظام بنایا جس میں بظاہر اختیارات عوام پر مشتمل ہزاروں پیپلز کمیٹیوں کے ہاتھ میں تھے لیکن عملا ماہرین کے مطابق کرنل قذافی ہی تمام اختیارات کا سرچشمہ تھے۔
قذافی کے اپنے خظے کے ممالک میں بڑا اثر و رسوخ بھی تھا اور تیل پیدا کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک میں بھی کرنل نے اپنے کافی حمایتی پیدا کر لئے تھے جس کی وجہ سے70 کی دہائی میں تیل کی پیداوار میں کمی کر کے امریکہ و یورپ کو توانائی کے بحران کا بھی شکار کر دیا تھا۔
کرنل قذافی 70 کی دہائی سے ہی عرب قوم پرستی کے علمبردار رہے اور انہوں نے لیبیا کو اس وقت کے مصری ، شامی اور اردنی رہنماﺅں کے ساتھ کئی معاہدوں میں بھی منسلک کیا۔ 1988 میں جب لاکربی میں جہاز کو تباہ کرنے کا الزام لیبیا کے باشندوں پر لگا اور قذافی نے ان کو عالمی عدالت کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تو اقوام متحدہ کی جانب سے لیبیا پر معاشی پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ تو عرب ملکوں نے اس موقع پر لیبیا کی حمایت سے گریز کیا جس کی وجہ سے قذافی عرب قوم پرستی کے سحر سے نکل آئے اور انہوں نے افریقی اقوام کا بلاک تشکیل دینے کی کوششیں شروع کر دیں ۔
کرنل معمر قذافی دنیا بھر میں مختلف آزادی کیتنظیموں کے بھی پشت پناہ اور مددگار رہے جن میں تنظیم آزادی فلسطین ، آئرش ریپبلکن آرمی اور افریقہ کے کئیتنظیمیں شامل ہیں۔ اپنے انداز حکمرانی کی وجہ سے مغربی طاقتیں قذافی کو عالمی امن کیلئے خطرہ سمجھتیتھیں اور اقوام متحدہ نے 1979 سے لے کر 2006 تک لیبا کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کئے رکھا جو دہشتگردی کو اسپانسرز کر رہے تھے۔ 1986 میں بھی اقوام متحدہ کی افواج نے برلن دھماکوں کے رد عمل میں کرنل قذافی کی رہائش گاہ اور لیبیا کے ایک بڑے علاقے پر بمباری کی تھی جس میں کرنل قذافی کی لے پالک بیٹی ہلاک ہوگئی تھی۔
2003 میں عراق میں صدام حکومت کے سقوط کے بعد کرنل معمر قذافی نے اپنی عالمی تنہائی ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور لاکربی واقعے کا مقدمہ اسکاٹ لینڈ کے قانون کے تحت ہالینڈ میں چلوانے پر رضامندی ظاہر کی۔ برطانیہ کے ساتھ ایک سمجھوتے کے تحت انہوں نے اپنے خفیہ ادارے کے ایک سابق اہلکار عبدالباسط المگراہی کو بھی ہالینڈ کے حوالے کر دیا۔ عدالت نے اس مقدمہ میں المگراہی کو مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید سنائی جبکہ لیبیا نے لاکربی واقعے میں مرنے والوں کے ورثا کو ہرجانے کے طور پر کئی ارب ڈالر بھی ادا کیے۔ چند ماہ بعد ہی کرنل معمر قذافی نے لیبیا کے جوہری اور کیمیائی ہتھیاروں کے پروگرام کو ختم کرنے کا اعلان کیا جس کے بعد مغرب نے ان کو قبول کرنے کا اعلان کیاتو اقوام متحدہ نے لیبیا پر سے پابندیاں ہٹا دیں
2011 کے آغاز میں بادشاہی نظام، آمریتوں اورانکے پیدا کردہ لوگوں کے اقتصادی مسائل کیخلاف تیونس سے شروع ہو کر مصر اور دیگر عرب ریاستوں تک پھیلنے والی عوامی تحریک جب مارچ میں لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی کے اقتدار کے ساتھ ٹکرائی تو اس تحریک کو سخت ریاستی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا اور یہ تحریک ریاستی طاقت کے آگے عملاً بے بس نظر آنے لگی۔ لیکن امریکہ اور دوسرے نیٹو ممالک نے اقوام متحدہ کی حمائت سے لیبیا پر چڑھائی کردی اور باغیوں کو عسکری امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خود بھی فضائی حملے شروع کردئیے۔
30 اپریل2011کو باب العزیزیہ کمپاونڈ پر نیٹو کے فضائی حملے میں قذافی کے سب سے چھوٹے بیٹے اور ایک نواسی اور دوپوتے مارے گئے تھے۔
29اگست کو کرنل قذافی کی اہلیہ صفیہ ،بیٹی عائشہ اور دوبیٹے ہنیبعل اور محمد سرحد عبور کرکے پڑوسی ملک الجزائر چلے گئے تھے۔عائشہ قذافی نے الجزائر کے ایک سرحدی قصبے میں آمد کے چند گھنٹے کے بعد بچی کو جنم دیا تھا۔ اس سے پہلے ان کے تین بچے تھے۔ان میں سے ایک بیٹی اپنے ماموں کے ساتھ طرابلس میں باب العزیزیہ پرنیٹو کے مزکورہ فضائی حملے میں ماری گئی تھی۔
دنیا کی تاریخ میں شاہی خاندانوں سے باہر کسی ملک پر طویل ترین حکمرانی کرنےوالے لیبیا کے صدر کرنل معمر قذافی آخر کار 17اکتوبر 2011کو امریکی حمایت یافتہ باغیوںکے ہاتھوں شہید ہو گئے ۔ اس طرح انہوں نے لیبین باغیوں کی حکومت مخالف تحریک کو امریکہ اور دیگر نیٹو ممالک کی حمائت اور عسکری کمک حاصل ہونے پر لیبین قوم کے ساتھ کیا گیا یہ عہد نبھا کر دکھا دیا کہ وہ جان دیدیں گے مگر اپنی سرزمین چھوڑ کر کہیں نہیں جائیں گے۔
۔۔۔۔۔
قذافی کا خاندان
1970میں صفیہ فرکاش نامی خاتون سے شادی کے بعد جو پیشے کے لحاظ سے ایک نرس تھیں، قذافی کے سات بچے ہیں۔ قذافی کی یہ دوسری شادی تھی۔ اس سے پہلے بہت کم عرصہ برقرار رہنے والی ان کی شادی سے ان کا ایک اور بیٹا بھی ہے۔
محمد قذافی: معمر قذافی کی پہلی شادی سے ان کے سب سے بڑے بیٹے محمد قذافی 1970 میں پیدا ہوئے۔تعلیم کے لحاظ سے کمپیوٹر سائنسدان ہیں
سیف الاسلام قذافی: قذافی کے دوسرے بیٹے سیف السلام 1972 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے معیشت اور فن تعمیر کی تعلیم طرابلس، ویانا اور لندن سے حاصل کی۔
السعدی قذافی: قذافی کے یہ بیٹے سن 1973 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے لیبیا کی عسکری اکیڈمی سے تربیت حاصل کی اور اپنے والد کی طرح کرنل کے عہدے پر فائز رہے ۔
معتصم باللہ قذافی : سن 1975 میں پیدا ہونے والے قذافی کے اس بیٹے نے لیبیا اور مصر سے عسکری تربیت حاصل کی۔ اپنے والد سے اختلاف کے بعد عارضی طور پر مصر منتقل ہو گئے تھے تاہم کچھ عرصہ بعد انہیں لبیا واپس آنے کی اجازت دے دی گئی۔اور17اکتوبر کو اپنے والد کے ہمراہ باغیوں کے ہاتھوں مارے گئے۔
عائشہ قذافی: معمر قذافی کی اکلوتی صاحبزادی عائشہ 1976 میں پیدا ہوئیں۔ تعلیم انہوں نے طرابلس اور پیرس سے حاصل کی۔ پیشے کے اعتبار سے وہ وکیل ہیں اور سابق عراقی صدر صدام حسین کی گرفتاری کے بعد ان کا دفاع کرنے والے وکیلوں کے گروپ میں بھی شامل تھیں۔ سن 2006 میں ان کی شادہ ہو گئی۔
ھنیبال قذافی : 1977میں پیدا ہونے والے قذافی کے صاحبزادے لیبیا کی عسکری اکیڈمی سے گریجویٹ ہیں۔
سیف العرب: قذافی کے ان صاحبزادے کے بارے میں زیادہ معلومات منظر عام پر نہیں ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق انہوں نے جرمنی کے شہر میونخ سے تعلم حاصل کی ہے۔
خامِس قدافی:میڈیا رپورٹس کے مطابق طرابلس میں قذافی کے گھر پر ہونے والے فضائی حملے میں جان بحق ہونے والے قذافی کے یہ سب سے چھوٹے بیٹے تھے اور زندگی بھر عوام کی نظروں سے دور رہے۔ روس سے انہوں نے عسکری تربیت حاصل کر رکھی تھی۔
میلاد ابوضتایہ قذافی: بنیادی طور پر یہ قذافی کے بھانجے ہیں تاہم ان کو قذافی نے گود لے لیا تھا۔ ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے 1986 میں امریکہ کی جانب سے طرابلس پر کی جانے والی بمباری کے دوران قذافی کی جان بچائی تھی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s