منیر سلیم کنٹری ہیڈ کسب بنک


زندگی میں کامیابی کے لیے ایمانداری، محنت اور تخلیقی سوچ بہت اہمیت رکھتی ہے

منصورمہدی

 میانوالی کے رہنے والے منیر سلیم نے اپنی ابتدائی  تعلیم آبائی شہر سے حاصل کی ۔ پنجاب یونہورسٹی سے کامرس اور لاءمیں گرایجویشن کرنے کے بعد کسے بنک ملازمت کا آغاز کیا۔ آپ نائب صدر اور سینئر نائب صدر جیسے بڑے عہدوں پر فائز رہے،آجکل منیر سلیم (KASB) کسب بنک کے کنٹری ہیڈ ہیں۔نئی بات سنڈے میگزین کے ساتھ ان کی گفتگو قارئین کی خدمت میں ہیش ہے۔راچی زندگی میں کامیابی کے لیے ایمانداری، محنت اور تخلیقی سوچ بہت اہمیت رکھتی ہے۔ بہتر تخلیقی صلاحیت ہمارے کام یا کاروبار اور ہمارے تعلقات میں خوشگوار تبدیلیاں لاتی ہے۔یہ الفاظ ہیں منیر سلیم کے جو کسی بھی کام کی کامیابی کے لیے ایمانداری اور محنت پر یقین رکھتے ہیں۔ایک پاکستانی ہونے کی حیثیت سے انھیں پاکستان کی ترقی پر بہت فخر ہے، ان کا کہنا ہے کہ اب پاکستان میں کیا کچھ نہیں ہے ، اگر ہم 1947پر نظر ڈالیں تو ہمارے پاس کیا تھا کچھ بھی نہیں ، مگر اللہ کی رحمت سے اب پاکستان نے بہت ترقی کی ہے اور یہاں اب سب کچھ ہے ،ہاں اگر کسی چیز کی ابھی کمی ہے تو وہ ملکی سطح پر ایک قیادت کی کمی ہے ۔

1947سے اب تک ملکی ترقی خصوصاً بنکنگ سیکٹر میں کامیابی کے حوالے سے منیر سلیم کا کہنا ہے کہ اگرچہ اس عرصے میں پاکستان کو بہت مشکلات کا بھی سامنا کرنا پڑا، لیکن میں سمجھتا ہوں کہ برا وقت سب پر آتا ہے، لیکن یہی ٹف ٹائم انفرادی طور پر کسی شخص اور اجتماعی طور پر قوموں کو آگے بڑھنے میں مدد دیتا ہے۔ اس سے جدوجہد کا جذبہ پیدا ہوتا ہے۔
منیر سلیم صاحب کسی بھی ادارے میں شخصیات کے کرادر کی اہمیت کو بہت اہم سمجھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ادارے ہمیشہ اپنی لیڈرشپ سے ہی ترقی کی منازل طے کرتے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی ادارے کا سربراہ ہی اچھا نہیں تو اس ادارے نے کیا ترقی کرنی ہے۔ ابھی حال ہی میں دنیا بھر میں مالی بحران آیا ، جس میں کئی چھوٹے اور بڑے بنک بند ہو گئے۔ اے بی این ایمبرو جیسے بنک اور دوبئی کے بنک دیوالیہ ہوگئے۔ متعدد مغربی ممالک نے اپنے بنکنگ نظام کو قائم رکھنے کے لیے اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی اور نئی مالی پالیسیاں بنائی تب جا کر اس بحران میں کچھ کمی آئی مگر اللہ کا شکر ہے کہ پاکستان میں کوئی بھی بنک دیوالیہ نہیں ہوا۔
اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے مرکزی بنک یعنی سٹیٹ بنک آف پاکستان کی کارگردگی کو سراہا اور کہا کہ سٹیٹ بنک کی ری ماڈلنگ میں ڈاکٹر یعقوب علی خان جیسے افراد کی کاوشیں ادارے کو اس مقام پر لائی کہ اس نے اس مالی بحران سے ملکی بنکوں کو بچا لیا اور کسی بھی بنک کے معاملات کو اپنے کنٹرول میں لینے ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ کیونکہ ان کی پالیسیاں، ان کا مانیٹرنگ نظام ایسا ہے کہ جس کی وجہ سے بنکنگ کا شعبہ ترقی کر رہا ہے۔
جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ بنکنگ نظام میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی ترقی نے بہت مثبت اثرات مرتب کیے ہیں۔ ایسے ایسے سافٹ وئیر بن چکے ہیں کہ جس سے پورے ملک کو مانیٹر کیا جا سکتا ہے جبکہ بنکنگ انڈسٹری سے متعلق تعلیمی اداروں کی کارکردگی بھی بنک سیکٹر کی ترقی میں معاون رہی ہے۔ سٹیٹ بنک کی ترقی کے حوالے سے انھوں نے ایک بہت اہم بات کرتے ہوئے کہا کہ وہاں پر ڈاکٹر یعقوب علی خان کے دور سے ہی جو میرٹ پر افراد کی بھرتی کا کام شروع ہوا تھا ، وہ اس کی ترقی میں بہت معاون رہا۔ ویسے بھی کچھ عرصے سے بنکوں نے بھی اپنا نظام اور کاروبار بہتر انداز میں چلایا ہے۔
بنکوں سے قرضہ لے کر کھا جانے والوں کے حوالے سے منیر سلیم کا کہنا ہے کہ ایسے دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں، ایک تو دانستہ دیفالٹر ہوتے ہیں جو کسی بھی بنک سے قرضہ صرف اسی لیے لیتے ہیں کہ انھوں نے واپس نہیں کرنا، اور اس میں سراسر بنک کی کوتاہی شامل ہوتی ہے جبکہ دوسرے وہ غیر دانستہ دیفالٹر جو بنک قرض تو ادا کرنا چاہتے ہیں مگر قدرتی طور پر ایسے حالات بن جاتے ہیں کہ وہ واپس نہیں کر پاتا۔ غیر دانستہ ڈیفالٹر کو اس پریشانی سے نکالنے کے لیے بنک اپنے طور پر بھی کوشش کرتا ہے ، ہم اس کی مدد کرتے ہیں اور اس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہوتے ہیں۔
منیر سلیم کا کہنا ہے کہ حکومت کی متوا زن معاشی اور اقتصادی پا لیسیوں کے باعث پا کستان میں بنکوں اور ما لیاتی اداروں کا مستقبل اچھا نظر آرہا ہے ،کیونکہ جوں جوں افرا ط زر کی شرح میں کمی ہو تی جا ئیگی ،اسی حساب سے ملک میں سر مایہ کاری اور دیگر کاروبار کیلئے بنکوں کے قر ضوں کی شر ح سود میں کمی کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مر تب ہو تے جا ئینگے۔اس سے صنعتی شعبہ کے حا لات بہتر ہوں گے۔
انہوں نے کہا مارک اپ کی شرح میں کمی کے بعد عام صار فین ،صنعت کار اور تاجروں کو کم شرح سود پر قر ضے ملیں گے جس سے معیشت کا پہیہ بھی چلنا شروع ہو جائیگا۔اس ڈویلپمنٹ سے امید ہے کہ ایک دو سال میں بنکوں کے حالات مزید بہترہو جا ئینگے۔ کیو نکہ زیادہ سے زیادہ قرضوں کے اجرا ء سے ان کے منافع میں اضا فہ ہو گا اور وہ اس کے بدلے میں صار فین کو زیادہ سے زیادہ سہو لتیں اور نئی نئی پراڈکٹس دینگے۔
اس کے علاوہ بینکوں کو زرعی شعبہ کی حو صلہ افزائی کیلئے کسا نوں کو سہولتیں فراہم کر نی چا ہئیں۔ انہوں نے کہا اگر ہمارا کسان خو شحال ہو گا تو پا کستان بھی خو شحال ہو گا۔
بنکوں کی بدلتی ہوئی پالیسیوں کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ بنک اب تک انکارپوریٹ سیکٹر میں ہی انوسٹمنٹ کرتا رہا ہے اور اسی سیکٹر میں سب سے زیادہ ڈیفالٹ آتا ہے لیکن اب بنک دیگر شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ابھی حال ہی میں کسب بنک نے نیسلے ، علی اکبر گروپ اور فور برادرز کے ساتھ مل کر زراعت کے شعبے میں سرمایہ کاری کی جس کے یقینا مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور ہو نگے۔
منیر سلیم صاحب کا یقین ہے کہ کسی بھی ملک کی مڈل کلاس اصل میں ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انھوں نے کہا بھارت کی 35سے 40کروڑ کی آبادی مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتی ہے مگر ان کے لیے وہاں کے بنکوں نے ایسی پالیسیاں ترتیب دی ہیں کہ جن کی مدد سے وہ کلاس اب ملکی ترقی میں کردار ادا کر رہی ہے مگر پاکستان مین یہ طبقہ ابھی بہت پیچھے ہے۔ بنکوں کو چاہیے کہ وہ ایسے پروگرام لائے کہ جس سے اس کلاس کو آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ منیر سلیم نے بتایا کہ اب ستیٹ بنک اس حوالے سے اہم پالیسیاں بنا رہا ہے جس کا مستقبل میں ایک اچھا نتیجہ برآمد ہوگا۔
کسب بنک کے حوالے سے انھوں نے بتایا کہ (KASB)کے اے ایس بی بنک کے بانی خادم علی شاہ بخاری تھے جنہوں نے 1958میں اس بنک کی بنیاد دالی۔ نام کی وجہ تسمیہ بتلاتے ہوئے کہا کہ KASB کسب یعنی معاش کا لفظ ان کے مدنظر تھا ویسے ان کے نام کے پہلے حروف سے بھی کسب بنتا تھا۔انھوں نے بتایا کہ کے اے ایس بی مالیاتی خدمات میں ایک طویل تجربے کا حامل ادارہ ہے جو بنیادی طور پر سرمایہ کاری ، تحقیق، بروکریج،اثاثوں کا انتظام اور بینکنگ میں مہارت رکھتا ہے۔جو اپنے صارفین کو مالی امور میںجامع سہولتیں مہیا کرتا ہے۔یہ بنک اب پاکستان کے ہر بڑے شہر میں اپنی برانچ رکھتا ہے۔
منیر سلیم صاحب اتنی اہم ذمہ داریاں ادا کرنے کے باوجود پڑھائی کے لیے بھی وقت نکال لیتے ہیں مگر ان کے پڑھنے کے موضوعات بھی عام لوگوں سے قدرے مختلف ہیں۔ یہ ایسی کتابیں پڑھتے ہیں کہ جن سے انھیں کوئی نئی بات معلوم ہو، اپنے شعبے یا دارے میں مزید ترقی کرنے کی راہ سجھائی دے ، گڈ سے گریٹ بننے کے گر بتلائے گئے ہوں۔ منیر سلیم کا کہنا ہے کہ بڑے لوگوں کی کتابیں اور ان کے تجربات انسان کو آگے بڑھنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔
منیر سلیم کی نظر صرف بنکنگ سسٹم پر ہی نہیں بلکہ وہ پورے ملک پر نظر رکھتے ہیں اور جس شعبے میں ترقی ہو رہی ہے اسے سراہتے ہیں اور جہاں گڑبڑ ہے وہاں کڑھتے ہیں۔ انھیں ریلوے کے بحران پر بہت تشویش ہے، ان کا کہنا ہے کہ اگر ریلوے میں پرائیوٹ سیکٹر کو شامل کر کے اس بحران سے نکالا جا سکتا ہے۔ ریلوے اپنی ٹریک استعمال کرنے کا کرایہ لے اور پرائیویٹ اداروں کو اپنی اپنی گاڑیاں چلانے دے۔ پھر لاہور اور کراچی جیسے چند شہروں پر بوجھ کے بھی خلاف ہیں، ان کا کہنا کہ نئے شہر آباد کرنے چاہیے تاکہ ان شہروں سے بوجھ کم ہو سکے۔
اپنے بارے میں منیر سلیم کا کہنا ہے کہ انھوں نے میانوالی سے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور کامرس میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد کراچی سے بنک ملازمت شروع کی اور 1993میںفیصل آباد آ گیا جہاں سے میرا اصل بنکنگ کیریئر شروع ہوا۔ انھوں نے اب تک تمام اداروں میں ہمیشہ اعلیٰ کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ وہ 1980سے لیکر اب تک لاتعداد اعلیٰ کارکردگی کے سرٹیفیکیٹ حاصل کر چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کے ہر صدر کی طرف سے ان کے کام کر سراہا گیا اور تعریفی اسناد دی گئیں۔
کسب بنک میں کنٹری ہیڈ کی سیٹ پر آنے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بنک کے موجودہ اونر ناصر علی شاہ میرے جاننے والے نہیں تھے مگر انھوں نے مارکیٹ سے میرے کام کی شہرت سنی تھی جس پر انھوں نے مجھے آفر دی۔منیر سلیم نے بتایا کہ میں بھی ناصر علی شاہ صاحب کو نہیں جانتا تھا جب مجھے پتہ چلا کہ پانچ وقت کے نمازی اور تہجد گزار ہیں تو سوچا کہ نوکری تو کرنی ہی ہے کیوں نا کسی پرہیزگار شخص کی نوکری کی جائے۔ انھوں اس سے پہلے اپنے اونر میاں منشا کی صلاحیتوں کو بھی بہت سراہا۔ ان کا کہنا ہے کہ میاں منشا کسی نالائق شخص کے ساتھ کام نہیں کرتے ۔ وہ ہمیشہ میرٹ کو مدنظر رکھتے ہیں۔
چھوٹی گاڑی پر سفر کرنے کو ترجیح دینے والے منیر سلیم ایمانداری اور جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں۔ انھوں نے کہا ایمانداری کسی بھی شخص کو اپنے کام کی معراج پر پہنچا دیتی ہے۔ انھوں نے کہا آج میں جس مقام پر ہوں ، اس میں میرے اللہ کا کرم اور میرے والدین کی دعائیں شامل ہیں۔ انھوں نے اپنی ذاتی زندگی کو شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ میں اپنے کام کو سب کاموں پر ترجیح دیتا ہوں اور اسے عبادت سمجھ کر کرتا ہوں، دوسرے نمبر پر اپنی فیملی اور پھر دوستوں کے لیے وقت نکالتا ہوں۔ منیر سلیم صاحب میں ایک اور بڑی خوبی ہے جو بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے۔ وہ یہ کہ منیر سلیم ہمیشہ اپنے سے چھوٹے ملازمین کا بہت خیال رکھتے ہیں ۔
منیر سلیم صاحب نے آخر میں یہ بھی بتایا کہ وہ بڑے ہو کر کیا بنےں گے یعنی اس شعبہ سے ریٹائر ہوکر وہ کیا کریں گے، تو کہنے لگے وہ صحافت میں آنا چاہتے ہیں اور خصوصاً ٹی وی چینل پر اینکر بنے کا سوچ رہے ہیں۔
انھوں نے دوسروں کے حوالے سے اپنی سوچ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیشہ اچھا سوچو اور دوسروں کی بہتری کے لیے کام کرو جبکہ اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا قانون کا اطلاق بلا امیتاز سب کے لیے ہونا چاہیے اور اس میں کسی امیر یا غریب کا فرق نہیں ہونا چاہیے۔

Published

30-12-2011

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s