ڈاکٹر عافیہ


ڈاکٹر عافیہ کا فیصلہ امریکی تعصب کی واضع مثال
امریکہ کا عدالتی نظام برطانیہ کا بنایا ہوا ہے جو کالے لوگوں کوسزا دینے کیلئے ہے


منصور مہدی

23ستمبر2010کوامریکی عدالت نے پاکستانی نڑاد ڈاکٹر عافیہ ک مجموعی طور پر86سال قید کی سزا سنائی ہے۔ یہ سزا7مقدمات میں سنائی گئی۔سزا سنائے جانے کے وقت کمرہ عدالت میں ایک شخص نے شیم شیم کے نعرے لگائے جسے جج نے کمرہ عدالت سے نکالنے کا حکم دیا۔عدالت کی جانب سے سزا سنانے سے قبل ڈاکٹر عافیہ نے عدالت میں بیان دیتے ہو ئے کہا کہ دنیا میں کہیں بھی ان کے حووالے سے خون کی ہولی نہ کھیلی جائے اور کسی قسم کا کئی نقصان نہ پہنچایا جائے ، پہلے صورت حال کی تصدیق کر لی جائے اور اپنے رد عمل کا اظہار کیا جائے ،انہوں نے کہا کہ مجھ پر جیل میں تشدد کئے جانے میں صداقت نہیں ہے، انہوں نے کہا میں امریکا یا اسرائیل کے خلاف نہیں ہوں۔عدالت میں ڈاکٹر عافیہ پر اعتماد اور مطمئن نظر آئیں اپنے اطمنان اور سکون کے حوالے سے ڈاکٹر عافیہ کا کہنا تھا کہ میری زندگی کا فیصلہ اللہ کی جانب سے ہے۔

ڈاکٹر عافیہ پر کیا الزامات تھے اور کیا امریکی عدالت نے مقدمے کی سماعت اور فیصلے میںانصاف سے کام لیا؟ یہ باتیں زیر بحث لانے سے پہلے ڈاکٹر عافیہ کی زندگی پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے ۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کراچی کے ایک متموّل مذہبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔انکے والد کا نام محمد اور ماں کانام عصمت ہے۔عافیہ کے والد چونکہ ڈاکٹر تھے چنانچہ ان کی خواہش تھی کہ بیٹی بھی ڈاکٹر بنے لہذا نہوں نے بیٹی کی تعلیم و تربیت پر خاص توجہ دی۔ 90ءکی دہائی میںعافیہ اپنے بڑے بھائی کے ساتھ امریکہ چلی گئی جہاں سے انھوں نے Cognitive Neuroscienceکی ڈگری حاصل کی۔ عافیہ شروع ہی سے اپنے نظریات میں شدید مذہبی واقع ہوئی تھی۔اگرچہ یہ ایسی کوئی معیو ب بات نہیں ہے لیکن اصل خرابیتب سے پیدا ہوئی جب انھوں نے بوسٹن میںرہتے ہوئے افغانستان،بوسنیا اور چیچنیا کی مظلوم حاملہ عورتوں کی امداد کے لئے ایک چندہ مہم شروع کی اگرچہ یہ بھی غلط کام نہیں تھالیکن چندہ اکٹھا کرنے والی جن تنظیموں کے ساتھ مل کرعافیہ نے یہ کام شروع کیا ،ان میں سے ایک تنظیم کی شاخ نیروبی میں تھی جس کا نام ”مرسی انٹرنیشنل ریلیف ایجنسی” تھا اورجس کا تعلق مبینہ طور پر 1998 میں مشرقی افریقہ میں امریکی سفارت خانے میں ہونے والے بم دھماکوں سے تھا۔بعدمیں اس تنظیم سمیت تین اور چندہ اکٹھا کرنے والی تنظیموں پر امریکہ نے القاعدہ سے تعلق کے الزام میں پابندی لگا دی تھی۔
1995میں عافیہ صدیقی کی شادی کراچی کے ایک ڈاکٹر امجد خان سے ہوگئی اورشادی کے ایک سال بعد ان کا پہلا بیٹا احمد پیدا ہوا۔عافیہ کی طرح ڈاکٹر امجد بھی مذہب سے لگاﺅ رکھتے تھے لیکن شادی کے تھوڑے ہی عرصے بعد ڈاکٹر امجد کو احساس ہوا کہ ان کی بیوی ان کی امید سے کہیں زیادہ مذہبی رجحانات کی حامل ہیں۔ بقول ڈاکٹر امجد کے عافیہ نے کئی مرتبہ اس خواہش کا اظہار کیا کہ ان دونوں کوبوسنیا یا افغانستان جا کرجہادکرنا چاہئے لیکن وہ راضی نہیں ہوا۔پھر 9 / 11کا سانحہ ہوگیا جس کے نتیجے میں دہشت گردی کی جنگ شروع ہو گئی جو ابھی بھی جاری ہے ۔ مئی 2002 میں عافیہ اور ان کے خاوند ڈاکٹر امجد سے پہلی بار ایف بی آئی نے پوچھ گچھ کی کیونکہ بقول امریکی حکام کے انھوں نے انٹرنیٹ کے ذریعے کچھ ”غیر معمولی”چیزیں خریدیںتھی جیسے رات کے اندھیرے میں دیکھنے کی عینک ،بلٹ پروف جیکٹ اور لگ بھگ 45کے قریب مختلف موضوعات خصوصاً عسکری موضوع پر مبنی کتابیں خریدی۔یہ خریداری دس ہزار ڈالر کی تھی ۔ عافیہ اور ان کے شوہر نے ایف بی آئی کو یہ کہہ کر مطمئن کر دیا کہ یہ چیزیں انہوںنے شکار اور کیمپنگ وغیرہ کے لئے خریدی ہیں۔اس واقعہ کے بعد ان کی خانگی زندگی میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئیں۔چند ماہ بعد دونوں میاں بیوی پاکستان آ گئے اور پھر اسی برس اگست میں دونوں میں علیحدگی ہو گئی ۔طلاق کے دو ہفتے بعد ان کا تیسرا بیٹا سلیمان پیدا ہوا۔25دسمبر 2002 کو عافیہ صدیقی نے اپنے تینوں بچوں (بشمول تین ماہ کے سلیمان)کو اپنی ماں کے پاس چھوڑ کر دوبارہ امریکہ چلی گئی۔10روز پر مشتمل اس دورے کے دوران عافیہ نے ایک اور ایسا کام کیا جو تا حال ان پر ثابت تونہیں کیا جا سکا لیکن ایف بی آئی ان کے پیچھے پھر سے لگ گئی۔ عافیہ پر الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے امریکہ میں ماجد خان (القاعدہ کا مبینہ کارکن جس کے بارے میں بعد میں ایف بی آئی کا کہنا تھا کہ اس نے بالٹی مور میں پٹرول پمپ اڑانے کا منصوبہ بنایا تھا)کے نام کا ایک پوسٹ بکس کھولا تھا تاکہ ماجد خان کا امریکہ میں داخلہ آسان بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر عافیہ کی زندگی کی کہانی میں ایک اور موڑ اس وقت آیا جب عافیہ نے اپنی طلاق کے چھ ماہ بعد خالد شیخ محمد کے بھتیجے عمّار ال بلوچی سے شادی کر لی۔ خالدشیخ محمد کے بارے کہا جاتا ہے کہ وہ مبینہ طور پر 9/11واقعہ کا ماسٹر مائینڈ ہے، اگرچہ ڈاکٹر عافیہ کے اہلخانہ اس شادی کی تردید کرتے ہیںلیکنایف بی آئی نے اس حوالے سے جو رپورٹ عدالت میں پیش کی، اس کے مطابق عافیہ نے اس شادی کو تسلیم کیا ہے۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ کہ وہ دونوں زیادہ عرصہ تک ایک ساتھ نہیں رہے کیونکہ مارچ 2003 میں ایف ابی آئی نے ایک اعلان جاری کیا جس میں یہ کہا گیا کہ ڈاکٹر عافیہ اور ان کا سابقہ خاوند ڈاکٹر امجد خان انہیں مطلوب ہیں۔اس کے چند ہفتوں بعد عافیہ اپنے تینوں بچوں، احمد، مریم اور سلیمان کے ساتھ اچانک غائب ہو گئیں۔ان کے اہلخانہ کا کہنا ہے کہ وہ اسلام آباد جانے کا کہہ کرٹیکسی میں بیٹھ کرکراچی ائرپورٹ پر گئی اور راستے میں ہی غائب ہو گئیںجبکہدوسری طرف ایف بی آئی نے ان کے سابقہ خاوند ڈاکٹرامجد خان سے ایک مرتبہ پھر پوچھ گچھ کیاور بعد میں چھوڑ دیا۔
ڈاکٹر عافیہ کے منظرنامے سے غائب ہونے کے بعد مختلف قسم کی قیاس آرائیاں شروع ہو گئیں۔ ایک طرف امریکی حکومت نے اپنے اٹارنی جنرل جان ایشکرافٹ کے ذریعے عافیہ صدیقی کو القاعدہ کی خطرناک مفرور ملزم قرار دے دیا جبکہ دوسری طرف عافیہ کے اہلخانہ نے کہا کہ پاکستان کی خفیہ ایجنسییوں نے عافیہ کو پکڑ کر امریکہ کے حوالے کر دیا اور عافیہ2003 سے 2008 تک افغانستان میں واقع امریکی بگرام جیل میںزیرِحراست رہی اور انہیں مظالم کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے برعکس امریکی سفیر این پیٹرسن کا کہنا ہے کہ عافیہ جولائی 2008 سے پہلے کبھی امریکی تحویل میں نہیں رہی۔
اس کیس میں مزید ایسے کردار ہیں کہ جن کے بیانات سے ڈاکٹر عافیہ کی زندگی کے بارے ابہام پیدا ہو جاتا ہے۔ ان میں ایک تو ان کی بہن فوزیہ صدیقی ہیں۔جب ایک ٹی وی پروگرام میں ان سے پوچھا گیا کہ عافیہ 2003 میں کہاں غائب ہو گئی تھیں تو ان کا جواب تھا ”میں آگاہ نہیں ہوں”۔اسی طرح جب ایک برطانوی صحافی نے ان سے یہی سوال کیا تو ان کا جواب تھا ”ایسا نہیں ہے کہ ہم جانتے نہیں ہیں ،اصل میں ہم جاننا چاہتے ہی نہیں ہیں۔اس سارے کیس میںایک اور اہم کردار ڈاکٹر عافیہ کا گیارہسال کا بیٹا احمد ہے جو اسی گھر میںاپنی خالہ فوزیہ کے ساتھ رہ رہا ہے لیکن اسے میڈیا سے کبھی بھی بات کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ۔اس حوالے سے فوزیہ صدیقی کا کہنا ہے کہ ”درحقیقت یہ اس ڈیل کا حصہ ہے جس کے تحت انہوں نے احمد کو ہمارے حوالے کیا تھا۔ جب ان سے پوچھا کہ ”انہوں” سے کون مراد ہے ؟ تو فوزیہ نے ایک بار پھر مبہم جواب دیا ”وہ نیٹ ورک،جنہوںنے اسے یہاں پہنچایا۔’ پھر اپریل 2010 میں ڈاکٹر عافیہ کی گیارہ سالہ بیٹی مریم جو عافیہ کے ساتھ لاپتہ ہوئی تھی کو نامعلوم افراد کراچی میں عافیہ کی بہن فوزیہ صدیقی کے گھر چھوڑ گئے ۔ اسے بھی کبھی میڈیا کے سامنے نہیں آنے دیا گیا۔
جب کہ اس کہانی کے ایک اور کردار ڈاکٹر امجد کا بیان ہے کہ جنہوں نے میڈیا کے سامنے بتایا کہ عافیہ بگرام جیل میں کبھی بھی زیرِ حراست نہیں رہی بلکہ وہ پانچ برس تک پاکستان میںہی اپنے تینوں بچوں کے ساتھ روپوش رہیں۔ ڈاکٹر امجد کا کہنا ہے کہ اپریل 2003 میں اس نے عافیہ کو اسلام آباد کی ایک فلائٹ سے اترتے ہوئے دیکھا تھااور اس کے دو برس بعد اس نے عافیہ کو کراچی میںدیکھا جب وہ ٹریفک جام میں پھنسی ہوئی تھی۔وہ اس لئے خاموش رہا کیونکہ اسے خدشہ تھا کہ اس کے بولنے سے اس کے بچوں کی زندگی خطرے میں پڑ سکتی ہے جو عافیہ کی تحویل میں تھے۔اس کہانی کے ایک اور اہم کردار ڈاکٹرعافیہ صدیقی کے چچا شمس الحسن فاروقی ہیں جو اسلام آباد میں ماہرِ ارضیات ہیں۔ا±ن کا کہنا ہے کہ ان کی اپنی بھتیجی ڈاکٹرعافیہ سے جنوری 2008 میں ملاقات ہوئی تھی ،یعنی یہ ملاقات افغانستان میں عافیہ کی گرفتاری سے فقط چھ ماہ قبل ہوئی تھی۔عافیہ اس وقت برقعہ پہنے ہوئے تھی اور اس نے انہیں بتایا تھا کہ وہ 2003 سے امریکی اور پاکستانی ایجنسیوں کی تحویل میں تھیلیکن اب انہوں نے اسے چھوڑ دیا ہے لیکن وہ تاحال اس پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ا±ن کی یہ خواہش ہے کہ وہ القاعدہ میں داخل ہو کر امریکہ کے لئے کام کرے۔ فاروقی صاحب کے مطابق عافیہ خوفزدہ تھی اور اس نے اپنے چچا کی منتیں کیں کہ کسی طرح اسے افغانستان میں طالبان کے پاس بھیج دیا جائے ، کیونکہ وہ طالبان کے پاس زیادہ محفوظ رہے گی۔
بعدازاں ڈاکٹرعافیہ افغانستان کیسے پہنچی ،وہ وہاںخود گئی یا انھیں گرفتار کر کے انھیں وہاں پہنچایا گیا ،یہ اور ایسے ان گنت سوالات کا جواب شائد کبھی بھی سامنے نہ آ سکے ۔ تاہم اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ڈاکٹر عافیہ دنیا کی واحد سپرپاور امریکہ کے انسانیت سوز مظالم کے سامنے ڈٹی رہی ہے۔ شاید کبھی فریب کے دھندلکے سے اصل حقائقدریافت ہو جائیں۔
پھر 26اگست2008کو ایک عالمی نشریاتی ادارے نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا کہ ڈاکٹر عافیہ بگرام ائر بیس میں قید ہیں اور حقوق انسانی کی ایک تنظیم نے لاپتہ پاکستانی ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی افغانستان کے ایک امریکی فوجی مرکز میں ممکنہ موجودگی کی تحقیقات کرنے کے لئے اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے۔ایشیائی ہیومن رائٹس کمیشن نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ پانچ سال قبل اپنے بچوں سمیت کراچی سے لاپتہ ہونے والی ڈاکٹر عافیہ صدیقی، جنہوں نے امریکہ میں ڈاکٹری کی تربیت حاصل کی تھی اب بگرام میں واقعہ امریکی جیل میں قید ہیں اور وہاں واحد خاتون قیدی ہونے کی وجہ سے اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اس بات کی تصدیق کیج پرزنرز کی پروڈیوسر ایوان ریڈلی نےبھی گوانتاناموبے کے سابق قیدی معظم بیگ کے ہمراہ لندن میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کی۔ ایوان ریڈلی نے کہا کہ قیدی نمبر 650 کے راز سے پردہ اٹھانے اور اصل حقائق جاننے کے لئے ایک ڈاکومنٹری کی تیاری کے دوران ایک انٹرویو میں بن یامین نے بتایا کہ انہیں سو فیصد یقین ہے کہ بگرام میں 2004 میں قید کے دوران انہوں نے جس قیدی خاتون کو دیکھا تھا وہ ڈاکٹر عافیہ ہی ہیں۔ وہی قیدی نمبر 650 ہیں جنہیں امریکی فوجی حکام” جنگجو گرے لیڈی” کے نام سے پکارتے تھے رہے ہیں۔ قیدی نمبر 650کے بارے میں ڈاکومنٹری کی تیاری کے لئے غزنی کے اس جیل میں گئیں جہاں ڈاکٹر عافیہ پر گولیاں چلائی گئی تھیں وہاں عینی شاہدین اور گوانتاناموبے اور بگرام کے سابق قیدیوں سے بات چیت سے اس بات کی تصدیق ہوئی ہے کہ قیدی نمبر 650 کوئی اور نہیں بلکہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی ہیں۔ پنٹاگون اور امریکی فوجی حکام ماضی میں کسی قیدی نمبر 650 کی موجودگی کی تردید کرتے رہے ہیں البتہ برطانوی پارلیمنٹ کے ممبر لارڈ نذیر احمد کی جانب سے امریکی حکام کو لکھے ایک خط کے جواب میں انہوں نے صرف اتنی بات تسلیم کی کہ 650 نمبر نامی قیدی خاتون اب اپنے ملک واپس جا چکی ہے۔
ایوان ریڈلی کا کہنا ہے کہ غزنی میڈیا سنٹر، گورنر اور دیگر ذرائع سے حاصل ہونے والے شواہد ، بیانات اور حقائق کی روشنی میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی پر امریکی حکام کا یہ الزام کہ انہوں نے امریکی فوجیوں پر حملہ کیا درست نہیں کیونکہ غزنی کے ٹیررازم شعبے کے سربراہ عبدالقدیر اور دیگر عینی شاہدین نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کسی ایسے حملے میں ملوث ہیں۔ کیونکہ گوانتاناموبے اور بگرام میں قید انتہائی طاقتور قیدیوں نے بھی کبھی امریکی فوجیوں پر حملے کی جرآت نہیں کی تو ایک دھان پان سی عورت کس طرح کر سکتی ہے؟۔ انہوں نے بتایا کہ امریکی فوجیوں نے کسی بات پر ڈاکٹر عافیہ پر ایک سے زائد مرتبہ گولیاں چلائیں اور پھر مرنے کے لئے اسی حالت میں چھوڑ دیا تھا۔
امریکی حکام کی طرف سے ڈاکٹر عافیہ پر جو الزامات لگائے گئے ان کے مطابق ڈاکٹر عافیہ نہ صرف وار کرائمز میں ملوث رہیں بلکہ خودکش حملے، القاعدہ کے ساتھی ہونے سمیت مختلف اوقات میں ان کا ساتھ دینے یا ان کیلئے سہولت مہیا کرنے کرنے کے علاوہ14جولائی2008کو افغانستان کے صوبے غزنی میں گرفتار ہونے کے بعد دوران قیدبگرام میں امریکی فوج پر 3اگست 2008ایم فور رائفل سے مبینہ فائرنگ کرنے الزامات شامل ہیں۔انہی الزامات کے تحت ان پر امریکی عدالت میں مقدمہ چلایا گیا اور سزا دی گئی۔ امریکی حکام کے مطابق گرفتاری کے وقت ان کے ساتھ ایک بچہ بھی تھا جبکہ افغان پولیس نے ان کے قبضہ سے کیمیکل ہتھیار بنانے کی دستاویزات اور لکویڈ سے بھری بوتلیں بر آمد کی تھیں۔
ڈاکٹر عافیہ پر لگایا گیا آخری الزام3اگست2008کو امریکی فوجیوں پر فائرنگ کرنے کا الزام ہے جبکہ ڈاکٹر عافیہ کو پہلی بار6اگست2008کو نیویارک کی عدالت میں پیش کیا گیا۔ یعنی آخری الزام کے ٹھیک تین دن بعد ۔ جب ڈاکٹر عافیہ کو نیویارک کی ایک عدالت یونائٹیڈ سٹیٹس کورٹ ساﺅتھ ڈسٹرکٹ کے جج ایلس کے روبرو پیش کیا گیا تو انھوں نے استغاثہ سے کہا کہ ’اتنی جلدی تو آدمی (نیویارک میں) برانکس سے مینہٹن نہیں پہنچ پاتا جتنے وقت میں آپ لوگ ملزمہ کو افغانستان سے نیویارک لے آئے ہیں۔ جج ایلس نے ڈاکٹر عافیہ کیخلاف گواہیاں لانے کیلیے امریکی حکومت کو دس دن کی مہلت دیتے ہوئے مدعاعیلہ پر واضح کیا کہ 19 اگست کو اس مقدمے کی ابتدائی سماعت ہوگی جبکہ11اگست کودرخواست ضمانت کی سماعت کرے گی کیونکہ6اگست کو ہی ڈاکٹر عافیہ کی وکیل الزبتھ فنکنے درخواست ضمانت دائر کر دی تھی۔ اگلی تاریخ پر عدالت نے ڈاکٹر عافیہ درخواست ضمانت خارج کر دی البتہ مقدمے کی سماعت کیلئے جیوری کا چناﺅ ہوا اور سماعت جاری رہی جو بالآخر 23ستمبر2010کو فیصلہ ہو گیا۔
اس سزا کے خلاف نہ صرف ڈاکٹر عافیہ کے خاندان نے احتجاج کیابلکہ پاکستان بھر احتجاجی مظاہرے کیے گئے جو ابھی بھی جاری ہیں۔ ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے چئیرمین اقبال حیدر کا کہنا ہے امریکہ سے پہلے ہی انصاف کی توقع نہیں تھی ۔ ہائیکورٹ کے سینئر وکیل سید محمد ثقلین جعفری اور سابق وزیر قانون ڈاکٹر خالد رانجھا ایڈووکیٹ کے مطابق امریکہ کا جیوری سسٹم اصل میں بادشاہ کے تسلط کے خلاف برطانوی اختراع ہے اس کے تحت جیوری میں بالکل عام قسم کے لوگ بیٹھتے ہیں جنہیں قانون یا قانون پر عمل درآمد جیسے قوانین سے کوئی علم ہونا ضروری نہیں ہوتا۔ یہ لوگ اپنی سمجھ بوجھ سے فیصلے کرتے ہیں جو عموماً تعصب پر مبنی ہوتے ہیں اور وہاں کے وکیل اس بات کو بخوبی جانتے ہیں ۔ امریکی جیوری سسٹم میں غیر جانبداری نہیں ہوتی بلکہ اس سسٹم میں بنیادی چیز تعصب ہوتا ہے۔ ثقلین جعفری کا کہنا ہے کہ کچھ عرصہ قبل ان کی ملاقات امریکہ کے جیوری سسٹم کے ایک جج سے ہوئی تھے جس سے اس سسٹم کے حوالے سے بات ہوئی تو اس نے بھی اس بات کو تسلیم کیا کہ امریکہ کا عدالتی نظام برطانیہ کا بنایا ہوا ہے جو کالے لوگوں سزا دینے کیلئے ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کے خلاف فیصلہ امریکیوں کے اسلام کے خلاف تعصب کا عکاس ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عافیہ کے کیس کو میں نے تقریباً تمام پڑھا ہے۔ اس کے خلاف لگائے الزامات بیشتر مفروضوں پر مبنی ہیں جبکہ آخری الزام امریکی فوجیوں پر فائرنگ کا ہے کہ جس میں کوئی امریکی فوجی زخمی بھی نہیں ہوا اور نہ ہی کوئی ایسی شہادت عدالت میں پیش کی گئی کہ عافیہ نے ایم فور رائفل کس فوجی سے اور کس طرح چھین لی۔ اور پھر اس فوجی کے خلاف امریکی حکام نے کیا کاروائی کی کہ جس کی غفلت سے سرکاری رائفل کسی قیدی کے ہاتھوں چھین لی گئی ہو۔ انھوں نے کہا کسی بھی مرحلے پر امریکی استغاثہ ڈاکٹر عافیہ پر لگائے گئے اپنے الزامات ثابت نہیں کر سکا لیکن اس کے باوجود اسے سزا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ جیوری نے یہ فیصلہ صرف اور صرف تعصب کی بنا پر دیا ہے۔

Published

2010/10/04

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s