وہ شام ذرا سی گہری تھی


منصور مہدی
"ثمینہ اس وقت شاعری کی اس منزل پر ہیں کہ جہاں آدمی مدتوں کی صحرا نوردی کے بعد پہنچتا ہے۔ وہ نظم اور غزل دونوں میں اتنی خوب صورت شاعری کر رہی ہیں کہ آج انگلیوں پر گنے جانے والے گنتی کے شاعروں میں ان کا شمار ہوتا ہے”۔ یہ الفاظ جناب احمد فراز کے ہیں جو ثمینہ راجہ کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے انھوں نے کہے۔ ایک جگہ پر احمد فراز کہتے ہیں کہ” شاعری بہت مشکل چیز ہے اور بہت آسان بھی۔ آسان اس لیے ہے کہ آپ کو ہر طرف بے شمار شاعر نظر آئیں گے مگر مشکل اس وقت ہو جاتی ہے جب اتنی بڑی تعداد میں لکھنے والی مخلوق موجود ہو اور اس میں اپنا ایک الگ تشخص اور قد وقامت قائم کیا جائے اور اس میںثمینہ کو نہ صرف کامیابی ہوئی ہے بلکہ وہ ان سب سے آگے نظر آتی ہیں”۔ایک اور جگہ پر احمد فراز کہتے ہیں کہ”شاعری کے علاوہ ان میں ایک اور وصف بھی ہے کہ وہ کئی ادبی رسائل کی مدیر ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ ان ہی کی وجہ سے ان رسائل کا وقار بلند ہوا ہے”۔
ثمینہ راجہ پاکستان کی معروف شاعرہ، ماہر تعلیم، صحافی اور براڈ کاسٹر ہیں اور 11ستمبر1961کو رحیم یار خان میں پیدا ہوئی۔ انھوں نے پنجاب یونیورسٹی سے اردو ادب میں ماسٹر کیا ۔جبکہ1973سے باقاعدہ شاعری کرنی شروع کی۔ ان کی شاعری کی اب تک12سے زائد کتب شائع ہو چکی ہیں۔
1995میں پاکستان ٹیلی ویژن پر آل پاکستان مشاعرہ کا انعقاد کرانا شروع کیا۔بعد میں پی ٹی وی پر” اردو ادب میں عورت کا کردار "نامی پروگرام شروع کیا۔ 1998نیشنل بک فاﺅنڈیشن کے زیر اہتمام شائع ہونے والے ماہنامے ” کتاب” کی ایڈیٹر مقرر ہوئی۔ اسی برس ماہانہ” اسرار "کی بھی مدیر اعلیٰ مقرر ہوئی۔
ثمینہ کے بارے میں احمد ندیم قاسمی کا کہنا ہے کہ "ثمینہ راجہ شاعری کے جملہ محاسن سے پوری طرح آگاہ ہیں اور حیرت انگیز طور پر ان پر ان کی پوری گرفت بھی ہے۔ وہ شعراءکی اس مختصر ترین تعداد رکھتی ہیں جو فن پر پورا عبور رکھتی ہے۔جہاں تک شعری موضوعات کا تعلق ہے ان کی شاعری میں ذات کے ساتھ ساتھ پوری کائنات کے رنگ بکھرے ہوئے ہیں۔ جن پر محبت کا جگمگاتا ہوا رنگ غالب ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ وہ خود اپنی شاعری کی نقاد ہیں اور ضرورت سے زیادہ آواز بلند نہیں کرتیں۔اوزان و بحور پر مکمل گرفت، خوب صورت ترین آہنگ، شدید حساسیت اور جدید حسیت ان کی شاعری کے نمایاں اوصاف ہیں۔ یہی سبب ہے کہ ان کی تمام تر تخلیقات جادو کا سا اثر رکھتی ہیں اور ان میں روح عصر کی دھڑکن صاف طور پر سنائی دیتی ہے”۔

ثمینہ راجہ کی تخلیقات
ہویدا1995 ، شہر صبا1997،اور وصال1998 ، خواب نئے 1998 ، باغ شب1999 ، بازدید2000 ، ہفت آسماں2001 ، پری خانہ2002 ، عدن کے راستے2003 ، دل لیلہ2004 ، عشق آباد2006 ، ہجر نامہ 2008 میں شائع ہوئیں۔
اس کے علاوہ دو قلیات اور ایک اپنی کی شاعری کی منتخب کردہ نظموں اور غزلوں کا مجموعہ” قطعہ خواب” 2004، "کتاب جان” 2005اور” وہ شام ذرا سی گہری تھی” 2005میں شائع ہوئیں۔

ثمینہ راجہ کے اقتباسات

میں یہ نہیں بتانا چاہتی کہ کوئی شخص شاعر کیسے ہو جاتا ہے۔ میں تو بس یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کبھی تم نے گرمیوں کی دوپہروں میں آسمان کا رنگ دیکھا اور فاختہ کی لمبی، نڈھال آواز سنی ہے۔۔۔ گھو گھو۔۔۔ گھو۔ خزاں کی سہ پہروں میں، جنگلوں میں سنسناتی ہواو¿ں کو محسوس کیا اور درختوں کی کراہیں سنیں۔ سرما کی گہری سیاہ غم ناک شامیں، گھر کے پچھلے باغ میں تنہا بیٹھ کر گزار دیں۔ رات کے پہلے پہر، ڈار سے بچھڑ جانے والی کونج کی چیخ سنی ہے۔
آخری پہر کبھی چونک کر جاگے اور اپنے سر پر کسی نادیدہ پرندے (یا فرشتے کے پروں کی پھڑپھڑاہٹ محسوس کی ہے۔ صبح ِ کاذب کے وقت، فلک پر ایک نقرئی غبار دیکھا ہے۔ صبح ِ صادق کے وقت، چڑیوں کی حمد کے ساتھ، ملحقہ مسجد سے ابھرتی ” فاتحہ” یا ”الرحمٰن ” سنی ہے؟۔ اگر نہیں۔ تو تم مجھے کبھی نہیں جان سکتے۔
زندگی کے سفر کے دوران، بہت سی خواہشیں اور آرزوئیں پچھلی منزلوں پر رہ جاتی ہیں یا کھو جاتی ہیں۔ افسوس، زندگی کا راستہ ہمیشہ عمودی ہوتا ہے۔ اگر یہ دائرے میں سفر کرتی تو شاید کبھی نہ کبھی، کوئی نہ کوئی اپنی کسی گمشدہ خواہش یا بھولی بسری آرزو کو پانے میں کامیاب ہو جاتا۔ تب شاید عمر کی رائگانی کا اتنا ملال نہ ہوتا۔ شاید پھر پلٹ کر دیکھنے کی تمناہی نہ ہوتی۔ اور شاید پلٹ کر دیکھنے پر لوگ پتھر نہ ہوتے۔ لیکن اب تو قانون بھی موجود ہے اور مجھے سزا کا بخوبی اندازہ بھی ہے
مگر شاعری جو میری شریانوں میں سنسناتی ہے۔ میرے دل میں دھڑکتی ہے۔ مسکراتی ہے اور میرے کانون میں مسلسل سرگوشیاں کرتی ہے۔ کہ آرزو کا پھول جو میرے ہاتھ سے چھوٹ کر ایک جلتے ہوئے راستے پر گر گیا تھا مجھے واپس جا کر مرجھانے سے پہلے اسے اٹھانا ہے۔ کہ برسوں پہلے پتھر پر جو ایک فیصلہ لکھا گیا تھا مجھے اس کو منسوخ کرنا ہے۔ کہ میری پشت پر محض چند قدم کی دوری پر تقدیر خندہ زن ہے۔ مجھے ایک بار پلٹ کر اس پر ہنسنا ہے۔ کہ مجھے سنگ زاد ہونے سے پہلے ایک جراتِ باز دید کرنی ہے۔

منتخب شاعری

ازل سے ، ساتھ کوئی راز آشنا تو نہیں
یہ میرا دل کسی شاہد کا آئنہ تو نہیں

ہر ایک سانس کے ساتھ ایک آہ گونجتی ہے
نفس نفس میں کسی درد کی ثنا تو نہیں

کسی کے خواب کی تعبیر تو نہیں ہیں ہم
وہ خواب اور کسی خواب سے بنا تو نہیں

جو کاٹ آئے ہیں ، دکھ کا عجیب جنگل تھا
جو آنے والا ہے ، پہلے سے بھی گھنا تو نہیں

صدائے انجم و مہتاب پر بھی دل خاموش
یہ خاکداں کی کشش ہے ، مری انا تو نہیں

یہ شش جہات ہیں اور ان کے بعد ہے اک ذات
اس آئنے میں پھر اپنا ہی سامنا تو نہیں ؟

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب پھول چنیں گے کیا چمن سے
تو مجھ سے خفا، میں اپنے من سے

وہ وقت کہ پہلی بار دل نے
دیکھا تھا تجھے بڑی لگن سے

جب چاند کی اشرفی گری تھی
اک رات کی طشتری میں چَھن سے

چہرے پہ مرے جو روشنی تھی
تھی تیری نگاہ کی کرن سے

خوشبو مجھے آ رہی تھی تیری
اپنے ہی لباس اور تن سے

رہتے تھے ہم ایک دوسرے میں
سرشار سے اور مگن مگن سے

یہ زندگی اب گزر رہی ہے
کن زرد اداسیوں کے بن سے

کیا عشق تھا، جس کے قصّے اب تک
دہراتے ہیں لوگ اک جلن سے

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s