عدالت عالیہ کی کہانی قاصد کی زبانی


پولیس عام لوگ تو کیا ججوں کو بھی روکنے سے نہیں چونکتی

منصور مہدی
دنیا نے انسانوں کو عام آدمی اور خاص آدمی میں تقسیم کیا ہوا ہے۔ دنیا کے نزدیک خاص لوگ صرف وہی ہوتے ہیں جو مال و دولت رکھتے ہوں ۔ اعلیٰ گاڑیوںمیں سفر کرتے ہوں اور عالیشان مکانات میںرہتے ہوں۔ جبکہ عام آدمی غریب غربااور کمزور انسانوں کو کہا جاتا ہے۔ لیکن ان عام اور خاص آدمیوں کے علاوہ انسانوں کی ایک اور قسم ہے اور وہ ہے اچھا آدمی۔ اچھا آدمی کے لیے نہ تو مال و دولت کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ صاحب اختیار ہونا ضروری ہے۔ اور نہ ہی کمزور ی اور غربت اسے اچھا آدمی بنانے میں رکاوٹ بنتی ہے۔
علی رحمان بھی ایک اچھے آدمی ہےں۔ جو لاہور ہائی کورٹ میں درجہ چہارم کے ملازم ہیں اور بطور قاصدکام کرتے ہیں۔علی رحمان نے حال ہی میں ایک کتاب لکھی ہے جو شائع ہو چکی ہے۔ کتاب کانام ہے ”عدالت عالیہ کے قاصد کی کہانی“
اس کتاب میں انھوں نے اگرچہ اپنی کہانی بھی بیان کرتے ہیں لیکن اصل میں یہ کتاب لاہور ہائی کورٹ کی کہانی ہے۔ عدالت میں زیر سماعت اہم مقدمات کی کہانی ہے۔ ججوں کی ذاتی خوبیوں اور ان کے عدالتی رویوں کی کہانی ہے۔ اس کتاب کو پڑھ کر پتہ چلتا ہے کہ 1974میں لاہور ہوئی کورٹ کیسا تھا اور وقت کے ساتھ ساتھ اس میں کیا تبدلیاں آئی اور کس قسم کے افراد منصف کی سیٹ پر بیٹھ کر فیصلے کرتے رہے۔ 1974اور2012کی عدلیہ میں کیا فرق آیا۔ کتاب کا پیش لفظ جسٹس (ر) کے ایم صمدانی نے لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں "کہ علی رحمان نے علم کی کم مائیگی کے باوجود جس خلوص کے ساتھ واقعات من و عن کتاب میں درج کیے ہیں وہ ان کا ہی حق ہے۔ کتاب میں جو روانی ہے اس کا جواب کم ہی ملتا ہے۔ ایک بار کتاب اٹھا لو تو رکھنے کو جی نہیں چاہتا”۔
جسٹس منصور علی شاہ کتاب کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ” علی رحمان کی سرگزشت عدالت عالیہ کی سرگزشت ہے۔ یوں تو لاہور ہائی کورٹ پر بہت سی کتابیں لکھی جا چکی ہیں مگر ایک قاصد کی نظر سے عدالت عالیہ کیسی معلوم ہوتی ہے ، یہ ایک منفرد اور نیا رخ ہے، یہ کتاب سادہ اور دلکش ہونے کے ساتھ ساتھ معنی خیز اور سبق آموز بھی ہے”۔
اورنٹیل کالج پنجاب یونیورسٹی کے استاد معین نظامی لکھتے ہیں کہ” میں یقین سے نہیں کہہ سکتا کہ دنیا میں اعلیٰ عدلیہ سے وابستہ کسی قاصد نے اپنی یادداشتیں لکھی ہیں یا نہیں ؟ اگر کسی نے لکھی ہیں تو علی رحمان کی طرح نہیں لکھی ہوں گی، علی رحمان کی یہ داستان حیات اخلاص و صداقت کا دل کش نمونہ ہے”۔
علی رحمان 1951میں مانسہرہ کے ایک گاﺅں الیاس میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد بھیڑ بکریاں چراتے تھے اور بچپن میں یہ بھی اس کام میں اپنے والد کا ہاتھ بٹاتے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس دور میں پڑھائی وغیرہ اتنی عام نہیں تھی کیونکہ نہ تو ہر علاقے میںسکول و کالج ہوتے تھے اور نہ ہی علم حاصل کرنے کالوگوں میں کوئی زیادہ شعور ہوتا تھا۔
چنانچہ علی رحمان نے قریبی قصبے کے سکول سے پانچ جماعتیں پاس کیں جو ان کے گاﺅں سے گیارہ کلو میٹر دور تھا۔ ایک دن ان کے ایک عزیز انھیں لاہور لے آئے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ وہ دور تھا کہ جب ہمارے علاقے مانسہرہ کے مقابلے میں لاہور دوبئی کی حیثیت رکھتا تھا اور وہاں کے لوگ روزگار حاصل کرنے کے لیے لاہور آتے تھے۔
علی رحمان لاہور آگیا اور گڑھی شاہو میں40روپے ماہوار پر ملازم ہو گئے پھر لنڈے بازار میں ملازمت کی اور بعد میں شوبرا ہوٹل میں ملازم ہو گئے۔
1971میں مشرقی پاکستان جب بنگلہ دیش بن گیا تو بہت سے پاکستانی بنگلہ دیش سے آئے جن میں ایک محمود الحسن تھے جنہیں ایک ملازم کی ضرورت تھی چنانچہ شوبرا ہوٹل سے ان کے گھر شفٹ ہو گیا۔محمود الحسن لاہور کے ڈپٹی کمشنر بھی رہے۔
وہ کہنے لگے کہ ایک دن جب میں 17سال کا تھا تو گاﺅں سے والد نے بلایاجب میں وہاں گیا تو پتہ چلا کہ والدین نے عزیزوں میں ہی میری شادی طے کر دی ہے اس وقت میری بیوی کی عمر 12سال تھی۔ شادی کے بعد میں دوبارہ لاہور آگیا ۔ ابھی میں لاہور آیا تھا کہ پتہ چلا کہ لاہور ہائی کورٹ میں اس کے وقت کے جسٹس کے ایم صمدانی کو ایک چپڑاسی کی ضرورت ہے۔ چنانچہ میں 24اکتوبر 1974کولاہور ہائی کورٹ میں ملازم ہو گیا۔
انھوں نے اب تک متعدد ججوں کے ساتھ کام کیا ہے۔ جن میں کے ایم صمدانی کے علاوہ جسٹس منصور علی شاہ، جسٹس سردار محمد اقبال ، جسٹس افضل لون، جسٹس میاں اللہ نواز، جسٹس جواد ایس خواجہ، جسٹس مولوی انوار الحق، جسٹس مظہر حسین منہاس شامل ہیں۔
انھوں نے ہائی کورٹ میں اہم مقدمات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ایک کیس تاج کمپنی لاہور کا تھا کہ جن کے متاثرین کی بے بسی کو دیکھ کر ہر کوئی رو پڑتا تھا۔ تاج کمپنی نے جو قرآن پاک شائع کرتی تھی نے عوام اپنی ساکھ کی بدولت سودی کاروبار شروع کر دیا جس میں غریب اور ریٹائرڈ ملازمین نے اپنی رقم لگا دی مگر بعد میں کمپنی والوں نے طے شدہ منافع دینے سے انکار کر دیاتو یہ کیس ہائی کورٹ میں آ گیا۔ علی رحمان کا کہنا ہے کہ یہ بھی ان چند کیسوں میں سے ایک ہے کہ جس کا آج تک حتمی فیصلہ نہیں ہو سکا۔
علی رحمان نے بتایا کہ ایک اور اہم کیس ہے جسے میں آج تک نہیں بھلا سکا۔ وہ ہے ذولفقار علی بھٹو صاحب کا کیس۔ علی رحمان نے بتایا کہ ذولفقار علی بھٹو کی جب ضمانت جسٹس کے ایم صمدانی نے منظور کی اس وقت میں عدالت میں موجود تھا۔ جب جسٹس کے ایم صمدانی نے بھٹو صاحب کی ضمانت لی تو انھیں جج کے عہدے سے ہٹا کر سیکرٹری قانون بنا دیا۔ علی رحمان کہتا ہے کہ آج بھی مجھے وہ منظر ویسا ہی نظر آتا ہے کہ جب ذولفقار علی بھٹو کا مقدمہ زیر سماعت ہوتا تو بے نظیر بھٹو آکر ہائی کورٹ کے برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھ جاتی۔وہ کہنے لگے کہ اب بھی جب میں اس برآمدے کے پاس سے گزر تا ہوں تو وہ منظر آنکھوں کے سامنے آ جاتا ہے۔
علی رحمان نہ صرف ہائی کورٹ کے ججوں میں مقبول ہیں بلکہ وکلاءمیں بھی شہرت رکھتے ہیں۔شاہد اکرام صدیقی ایڈووکیٹ لکھتے ہیں کہ” علی رحمان بظاہر لاہور ہائی کورٹ کا ایک قاصد ہے لیکن اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں لمحہ بھر کے لیے کبھی کوتاہی نہیں کی۔وہ لکھتے ہیں کہ جب علی رحمان نے مجھے بتایا تو میں نے دل میں سوچا کہ علی رحمان ایک قاصد کیا کتاب لکھے گا لیکن جب کتاب کا مسودہ میرے ہاتھ میں آیا تو میں نے اسے تین بار پڑھا ۔ کتاب پڑھنے کے بعد مجھے یقین آیا کہ علم و ذہانت ڈگریوں کی محتاج نہیں ہے”۔
انھوں نے کتاب لکھنے کے حوالے سے بتایا کہ وہ اگرچہ پانچ جماعت پاس ہیں مگر شروع سے ہی پڑھے لکھے لوگوں کی صحبت نے انھیں پڑھائی کے قریب رکھا۔ خصوصا جب ہائی کورٹ میں ملازمت شروع کی تو یہاں سب ہی صاحب علم لوگ تھے۔جب وکیل اپنی تیاری کر کے عدالتوں میں پیش ہوتے تو علمی قابلیت جہاں دیگر لوگوں کو متاثر کرتی وہاں میں بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اور پھر کچھ ججوں کی علمی قابلیت اپنی مثال آپ تھی۔ چنانچہ ایسے افراد کے پاس رہنے سے مجھے بھی دوبارہ لکھنے پڑھنے کا شوق پیدا ہو گیا۔ چنانچہ میں نے ایک مضمون لکھ کر نوائے وقت کو بھیجا۔ تاریخ اور سن تو مجھے یاد نہیں البتہ جب وہ مضمون شائع ہوا تو مجھے بہت خوشی ہوئی۔ اسی طرح میں نے پھر مزید مضمون بھی لکھنے شروع کر دیے۔
ایسے ہی ایک دن بات ہے کہ اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب لکھنے کا خیال پیدا ہوا تو میں نے اس کا تذکرہ اپنے ایک دو قریبی دوستوں سے کیا پہلے تو انھوں کوئی اہمیت نہ دی۔ لیکن ایک دن اس حوالے سے جسٹس منصور علی شاہ صاحب سے بات ہوئی تو انھوں نے میری بہت حوصلہ آفزائی کی اور کہا کہ علی رحمان تم کتاب لکھ سکتے ہو۔ سچی بات تو یہی ہے کہ جج صاحب کی دلائی گئی ہمت نے ہی آخر کار میری کتاب مکمل کروائی۔
مجھے جب بھی فرصت ملتی ، میں اپنی یادداشتیں لکھنے بیٹھ جاتا۔اس کتاب کی تیاری میں میرے تمام جج صاحبان اور وکلاءصاحبان کی حوصلہ افزائی شامل ہے۔
علی رحمان کو شعر و شاعری اور موسیقی سے تو کوئی شغف نہیں لیکن ملکی سیاست پر ان کی نظر ہوتی ہے۔اس حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی تاریخ میں قائد اعظم محمد علی جناح کے بعد اگر پاکستان میں کوئی عوامی لیڈر گزرا ہے تو وہ ذولفقار علی بھٹو تھے جبکہ آج کے دور میں ایک ہی عوامی لیڈر ہے اور وہ عمران خان ہیں۔
علی رحمان سے ملنے کے لیے جب راقم لاہور ہائی کورٹ گیااور ان کے بارے میں جب ایک دو افراد سے استفسار کیا تو معلوم ہوا کہ علی رحمان کو عدالت عالیہ میں ججوں ، وکلاءسمیت تمام عملہ جانتا ہے۔ علی رحمان کو اگر لاہور ہائی کورٹ کی انسائیکلو پیڈیا کہا جائے تو یہ غلط نہیں ہوگا۔ علی رحمان گذشتہ 37برس سے ہائی کورٹ سے منسلک ہے۔ اسے معلوم ہے کہ عدالتوں میں فیصلے کیسے ہوتے ہیں اور ان کی تاخیر کے لیے کیا کیا حربے استعمال کیے جاتے ہیں۔کس جج میں کون سی خوبیاں تھیں اور کون سا جج اپنے منصب کی ادائیگی میں انصاف کرتا تھا۔ عوام کو انصاف لینے کے لیے کن کن اور صبر آزما مرحلوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ سرکاری محکمے عوام کو کیسے بے وقوف بناتے ہیں اور پولیس عام لوگوں سے کیسا رویہ رکھتی ہے۔ علی رحمان کا کہنا ہے کہ عام عوام تو کچھ بھی نہیں پولیس تو ججوں کو بھی روکنے سے نہیں چونکتی۔

عدالت عالیہ کی کہانی قاصد کی زبانی” پر ایک خیال

  1. بابا جی آپ عمران خان کو واحد لیڈر کہہ رھے۔حالیہ مھنگائی میں عمران خان حکومت کے حق مین چپ کیوں ھے ۔ روڈ پر کیوں نھین آیا مھنگائی کے خلاف سونامی کدھر گھس گیا ۔۔۔ بابا جی لگتا ھے آپ کا بجلی کا بل اور پیڑول ابھی سرکاری کھاتے سے آتا ھے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s