فوجی کا بیٹا پاکستان میں آکر نائی بن گیا


منصور مہدی

بظاہر تو عام آدمی عام ہی ہوتا ہے مگر یہ اپنے کام کے حوالے سے کسی خاص آدمی سے کم نہیں ہوتا۔ اس کی کوئی خاص خصوصیت ہی اس کی پہچان ہوتی ہے۔ عام آدمی ہمیں اپنے چاروں جانب نظر آتے ہیں۔ ان میں کوئی موچی ہے تو کوئی نائی، کوئی مزدور ہے تو کوئی نان بائی۔ یہ لوگ اگرچہ معاشرے میں کوئی اہم مقام نہیں رکھتے مگر ان کے بغیر خاص لوگوں کی زندگی بھی اجیرن ہو جاتی ہے۔

آج ہم آپ کی ملاقات ایک ایسے کردار سے کرواتے ہیں جسے حجام یا نائی کہا جاتا ہے ۔ جو بال کاٹنے اور شیو کرنے کے علاوہ بچوں کے ختنے بھی کرتا ہے اور تقریبات پرپر دیگیں بھی پکاتا ہے ۔ جبکہ ہمارے دیہات میں یہ ہر فن مولا سمجھا جاتا ہے اور کسی بھی گاﺅں کی سماجی زندگی میں خصوصی کرادار ادا کرتا ہے ۔لوگوں کی حجامت کرنے کے علاوہبچے کی پیدائش پر مبارک دینا اور گاﺅں کے لوگوں کو بچے کے والدین کی طرف سے مٹھائی تقسیم کرنا، بچے کی ٹنڈ کرنا، کسی کے ہاں فو تیتگی پر مردے کو نہلانا، شادی بیاہ پر کھانے پکانا اور اس نوعیت کے دیگر کام کرتا ہے۔
ہمارے آج کے مہمان ہیں ارشاد بھائی ۔ نام تو ان کا محمد ارشاد ہے مگر لوگ انھیں ارشاد بھائی کے نام سے پکارتے ہیں۔ یہ آجکل بھاٹی گیٹ کے اندر حجام کی دکان کرتے ہیں۔
ارشاد بھائی کا خاندان بھارت کے شہر ممبی سے 1952میں پاکستان آیا تو اس وقت ارشاد کی عمر5سال تھی۔ ان کے خاندان میں والد، والدہ، خالہ اور دو بھائی تھے۔ یہ جب لاہور پہنچے تو بیرون ٹیکسالی گیٹ کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج کے ہوسٹل میں ان کی فیملی کو رہنے کے لئے ایک کمرہ ملا، جہاں پہلے ہی بہت سے مہاجر خاندان آباد تھے۔ ارشاد کے والد برٹش انڈیا آرمی میں سپاہی تھے جنہوں نے یہاں آکر محنت مزدوری شروع کر دی۔ ارشاد جب10 برس کے ہوئے تو ایک روز ان کے والد مزدوری کے لئے گئے تو پھر کبھی واپس نہ آئے۔ ارشاد کا کہنا ہے انھیں کیا ہوا ، کہاں گئے اور ان کے ساتھ کیا بیتی، ہمیں اس کا آج تک پتہ نہیں چل سکا۔
ارشاد کا کہنا ہے کہ اس واقعہ سے قبل میرے والد نے میری خالہ کی شادی لاہور ہی کے ایک حجام خاندان کے لڑکے سے کر دی جن کی دکان رنگ محل میں تھی۔ والد کی گمشدگی کے بعد والدہ اور چار بہن بھائیوں کی کفالت میرے کاندھوں پر آن پڑی اورجب گھر میںنوبت فاقوں تک پہنچی تو میری والدہ نے مجھے خالہ کے سسر کی دکان پر بھیجنا شروع کر دیا۔ وہاں میں نے شیو اور حجامت کرنے کا کام سیکھا اور چند ہی ماہ کے اندر میں نے اس کام میں مہارت حاصل کر لی۔ ارشاد کا کہنا ہے کہ اس وقت مجھے دو آنے مزدوری ملتی تھی کیونکہ تب شیو کا ریٹ ایک آنہ تھا اور بالوں کی کٹائی کا ریٹ 2آنے تھا۔ارشاد نے بتایا کہ اس وقت صرف انگریزی کٹنگ کا ہی رواج تھا جس کو فوجی کٹ بھی کہا جاتا ہے۔
ارشاد کا کہنا ہے کہ کوئی3/4سال بعد میری مزدوری 6آنے تک پہنچ گئی۔ پھر کچھ ہی عرصے بعد ایک روپیہ روز ہوگئی جو میں اپنی والدہ کو لا کر دے دیا کرتا جن میں سے وہ روزمرہ اخرجات کے بعد 2/3آنے بچا لیا کرتی تھیں۔
20سال کی عمر میں رنگ محل میں ہی میں ایک دکان کرایہ پر لے لی اور اپنا کام شروع کر دیا۔ ارشاد کا کہنا ہے کہ جب میں نے یہ اپنا کام شروع کیا تو اس وقت شیو کا ریٹ 3آنے اور بالوں کی کٹائی کا ریٹ 6آنے تھا۔ لیکن اسوقت کراچی میں ریٹ بہت زیادہ تھے۔ وہاں کے بارے میں سنا کرتے تھے کہ وہاں صاحب لوگ شیو کا ایک روپیہ بھی دے دیتے ہیں اور بالوں کی کٹائی کا 5روپے بھی دے دیتے ہیں۔ چنانچہ کراچی جانے کا پروگرام بنا کر والدہ سے اجازت سے لی اور کراچی چلا گیا ۔وہاں تقریباً20سال کام کیا۔
ارشاد بھائی اگرچہ سکول کالج سے پڑھے لکھے نہیں لیکن بڑے باذوق اور پڑھے ہوئے انسان ہیں۔ کہتے ہیں کہ کراچی میں بڑی اچھی زندگی گزر رہی تھی اور روزانہ نہیں تو ہفتے میں 3/4بار سنیما میں فلم ضرور دیکھتا۔ اور جہاں کئی صبحیہ خانم یا نیئر سلطانہ کی فلم ہوتی تو وہ مہنگے داموں ٹکٹ خرید کر بھی دیکھتا۔ ارشاد کا کہنا ہے اس وقت کراچی میں سنیما کا ٹکٹ 6آنے سے ایک روپیہ تک ہوتا تھا۔ ارشاد بھائی کا کہنا ہے کہ میں کراچی میں زیادہ تر پیدل ہی سفر کرتا ایک تو اس سے پیسوں کی بچت ہوتی تھی اور دوسرے کراچی کو خوب دیکھنے کا موقع ملتا۔
ارشاد بتلاتے ہیں کہ ایک روز میں کلفٹن کی طرف سے نٹی جٹی پل کی طرف جا رہا تھا جب 70کلفٹن سے تھوڑی دور پہنچا تو دیکھا کہ وہاں ایک جلوس جا رہا تھا اور وہاں بہت رش تھا۔ جب قریب پہنچا تو پتہ چلا کہ بھتو صاحب کا جلوس ہے ، بھٹو صاحب کے بارے میں بہت کچھ سنا ہوا تھا لیکن کبھی انھیں دیکھنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ چنانچہ جلوس کے ساتھ ہی چل پڑا ۔ ارشاد کا کہنا ہے کہ میں آہستہ آہستہ بھٹو صاحب کے قریب پہنچ گیا اور جب میں نے انھیں قریب سے دیکھا اور ان کی تقریر سنی تو میں اسی وقت سے ان کا شیدائی ہو گیا اور آج تک ان کا شیدائی ہوں۔
ارشاد بڑی سلجھی ہوئی باتیں کرتا ہے کہتا ہے کہ دکان پر طرح طرح کے لوگ آتے ہیں ، ان کی سیاست کے علاوہ ادب اور دیگر موضاعات پر گفتگو سنا کرتے تھے اور خود بھی اس بحث میں حصہ لیا کرتے تھے۔
بھاٹی گیٹ جہاں پر آجکل ان کی دکان ہیں کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ پرانے شہر کا بھاٹی دروازہ روز اول سے ہی علمی و ادبی اور فنون لطیفہ کا مرکز رہا ہے۔ بھاٹی دروازے کے اندر داخل ہوں تو چہار جانب آپ کو لاہور کی ثقافت اور قدیم تہذیب کی چند جھلکیاں آج بھی نظر آتی ہیں۔بل کھاتی نیم روشن گلیاں، شکستہ جھروکے اور پرانی وضع قطع کے دروازے اپنے شاندار ماضی کی یاد دلاتے ہیں۔ بھاٹی دروازے کو فنون لطیفہ اور علمی و ادبی سرگرمیوں کے حوالے سے امتیازی حیثیت حاصل ہے۔ حکیم احمد شجاع نے بھاٹی دروازے کے علاقے میں ہونے والی ادبی و ثقافتی سرگرمیوںکو مدنظر رکھتے ہوئے اسے لاہور کا چیلسی قرار دیا تھا۔
ارشاد بھائی شاعروں میں قتل شفائی کے شیدائی ہیں۔ اور اکثر یہ گنگناتے رہتے ہیں۔  رابطہ لاکھ سہی قافلہءسالار کے ساتھ   ہم کو چلنا ہے مگر وقت کی رفتار کے ساتھ
جبکہ نورجہاں کے بھی بہت چاہنے والے ہیں اور اب اس عمر میں بھی نورجہاں کے گانوں کی کیسٹیں اکثر بازار میں ڈھونڈتے یا لوگوں سے مانگتے نظر آتے ہیں۔ نورجہاں کے حوالے سے ارشاد کا کہنا ہے کہ میڈم سے بہترین گانے والا میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا’ جتنے اچھے اور خوبصورت انداز میں میڈم نور جہاں نے گانے گائے ہیں اس کے مقابلے میں ان کا کوئی ثانی نہیں وہ حقیقتاً موسیقی کی ملکہ تھیں۔نورجہاں کی آواز کی معصومیت، سوز اور اونچے سروں میں اس کی گونج ایسی خصوصیات ہیں کہ ہندوستان اور پاکستان میں کوئی گلوکار ان کی نقل نہیں کرسکا۔  ”کی دم دا بھروسہ یار ،  دم آوے نہ آوے”
ارشاد بھائی نے اپنے عشق اور محبت کے حوالے سے بھی ہمیں کچھ باتیں بتائی مگر ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ جناب یہ نہ شائع کر دینا یہ نہ ہو اس عمر میں بیوی گھر سے نکال باہر کرے۔ ہم نے ان سے پوچھا کہ اس عشق کا انجام کیا ہوا تو کہنے لگے وہی جوہوتاہے ۔ہمارے اصرار پر انھوں نے ایک شعر سنایا اور کہا کہ اس سے اندازہ لگا لو۔۔۔۔۔
ان لبوں نے نہ کی مسیحائی   ہم نے سوسو طرح سے مر دیکھا
لیکن ارشاد بھائی اب لاہوریوں سے کچھ نالاں نظر آتے ہیں کہتے ہیں کہ جب کبھی میں اپنے بچپن پر نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے لاہوریوں میںپیار ،محبت ،خلوص،مروت ،ایثار اور قربانی کے جذبات نظر آتے تھے ۔ لیکن اب وقت کے ساتھ ساتھ صنعتی ترقی کے ساتھ لاہوریے بھی خود غرضی ،منافقت ،فریب اوردھوکہ دینے والی مشین کاایک کل پرزہ بن گئے ہیں۔ پہلے کسی ایک فرد کی موت پرپوری گلی کے افراد سوگ مناتے تھے اور اب ہمسایہ کی موت کا پتہ بھی نہیں چلتا۔پہلےکم آبادی اور زیادہ وسائل کی بدولت ہر شخص مطمین اور مسرور رہتا تھااور ایک دوسرے کے کام کرنے میں خوشی محسوس کرتا تھا لیکن اب زیادہ آبادی اور کم وسائل کی وجہ سے ہر شخص ان دوسرے سے نالاں نظر آتا ہے۔
ارشاد کی 1974میں شادی ہوئی اور اس کے تین بیٹے ہیں۔ ان کے بارے میں ان کا کہنا ہے میں نے بڑے بیٹے کو اپنا یہی کام سکھانے کی کوشش کی مگر اس کا دل نہیں لگا اور چند ہی ماہ بعد اس نے سکرین پرنٹنگ کا کام سیکھنا شروع کر دیااور 20برس کی عمر میں اس نے اپنا کام شروع کر دیا اور آج اللہ کا شکر ہے کہ اس کا اپنا کاربار ہے ۔ اس نے اپنے چھوٹے بھائی کو بھی اپنے اس کام میں شریک کر لیا ہے اور دونوں بھائی اس کام سے خوب خوش ہیں اور خوب کما رہے ہیں، ارشاد کے بیٹوں کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ہمارے والد کی جدوجہد سے ملا ہے جنہوں نے اپنا پیٹ پال کر ہماری تربیت کی اور ہماری ضرورتوں کا خیال رکھا ہے۔ ارشاد کا تیسرا اور سب سے بڑا بیٹا شادی شدہ ہے اور کمپیوٹر کے کاروبار سے منسلک ہے۔
ارشاد نے بتایا کہ اگرچہ دکان پر اب میں نے کاریگر رکھے ہوئے ہیں مگر پھر میں اکثر جاتا ہوں اور کام کرتا ہوں۔انھوں نے بتایا کہ اب میری عمر 70برس کے قریب ہے اور کبھی میں اپنے ماضی پر نظر ڈالتا ہوں تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہ سب کل کی باتیں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ میری زندگی بچپن سے ہی بڑے نشیب و فراز سے گزری ہے مگر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اگر اللہ پربھروسہ رکھ کر نیک نیتی اور مستقل مزاجی سے کام کیا جائے تو کوئی مشکل مشکل نہیں رہتی
۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s