چاچا کرکٹ


منصور مہدی

پاکستان کرکٹ کا کوئی بھی اہم مقابلہ ہو ٹیلی ویڑن کی سکرین پر سبزہلالی پرچم کے لباس میں ملبوس ایک سفید داڑھی والا شخص جوشیلے اور منفرد انداز میں پاکستانی ٹیم کا حوصلہ بڑہانے میں مگن نظر آتا ہے۔دنیا کے کونے کونے میں پاکستان کرکٹ کے ترانے گاتا یہ شخص آج کرکٹ کی دنیا میں پاکستان کی پہچان بن چکا ہے اور لوگ کھلاڑیوں سے زیادہ اس کو عزت دیتے ہیں۔اب تو وہ اشتہاری فلموں میں بھی کام کرتا نظر آتا ہے۔نام تو اس کا عبدالجلیل ہے، پر دنیائے کرکٹ میں وہ چاچا کرکٹ کے نام سے پہنچانا جاتا ہے۔
عبدالجلیل عرف چاچا کرکٹ اکتوبر1947 کو شہر اقبال سیالکوٹ میں پیدا ہوئے ۔چاچا کرکٹ نے اسلامیہ ہائی سکول سیالکوٹ سے میٹرک تک تعلیم حاصل کی ۔ 1973میں روزگار کی غرض سے دوبئی چلے گئے ۔
1980کی دہائی سے شارجہ میں شروع ہونے والے کرکٹ میچ ان کی دلچسپی کا باعث بن گئے۔1986میں کھیلے گئے ایک میچ میں جاوید میاں داد کے چھکے نے انھیں کرکٹ کے عشق میں مبتلا کر دیا۔اس کے بعد سے شارجہ میں ہونے والے ہرمیچ میں یہ نظر آنے لگے۔ بعد میں انہوں نے اپنا کام چھوڑ کر باقاعدگی سے پاکستان کے میچوں میں جانا شروع کر دیا اور اب دنیا کے کسی بھی ملک میں ہونے والے کرکٹ میچ میں موجود ہوتے ہیں۔ اور پوری دنیا میں عزت کی نظر سے دیکھے جاتے ہیں۔
روزنامہ نئی بات کے سنڈے میگزین سے گفتگو کرتے ہوئے چاچا کرکٹ اپنے بچپن کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ بچپن میں میری تربیت میری والدہ نے کی تھی۔ جب میں دو سال کا تھا تو میرے والد اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ سکول دور میں بڑا شرارتی ہوا کرتا تھا۔ ایک بار ماسٹر جی نے شرارتیں کرنے پر اتنا مارا کہ میں بےہوش ہو کر زمین پر گر گیا۔ جس پر ماسٹر صاحب نے پھر مجھے اپنے پلے سے مٹھائی کھلائی اور آئندہ کبھی مجھے نہیں مارا۔ چاچا کرکٹ کہتے ہیں کہ اس پر میرے ماسٹر صاحب نے میرا نام ہی “جیلا بیہوش“ رکھ دیا اور میں پورے سکول میں اس نام سے مشہور ہوگیا۔اپنی تعلیم کے حوالے سے بھی کوئی بات نہیں چھپاتے۔ وہ بتلاتے ہیں کہ میں میٹرک میں تین مرتبہ فیل ہوا اور بڑی مشکل سے میٹرک پاس کی۔
کرکٹ کے شوق کے حوالے سے چاچا کرکٹ کا کہنا ہے کہ ویسے تو بچپن سے ہی کرکٹ سے لگاﺅ تھا۔ کلب لیول تک کرکٹ کھیلی اور سیالکوٹ میںقائم چوہدری کرکٹ کلب کے بھی روح رواں رہے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ سیالکوٹ میںچوہدری خاندان کا اپنا کھیل کا میدان تھا۔جہاں پہلی (سیمنٹ) پختہ وکٹ بنانے کا اعزاز بھی ہمیں حاصل ہے۔
انھوں نے بتایا کہ پاکستان اور انگلستان کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان لاہور میںکھیلا جانے والا میچ میں نے بچپن میں دیکھا تھا۔جبکہ شارجہ کپ شروع ہوا میں اس وقت ابو ظہبی میں کام کرتا تھا۔ چنانچہ شارجہ میں کھیلے جانے والا ہر میچ میںنے دیکھا۔
جب ان سے پوچھا کہ چاچا کرکٹ کیسے بنے تو کہنے لگے کہ سکول د ور میں ایک دوست جس کا نام حفیظ حکیم تھا وہ سکول کی سالانہ کھیلوں میں آ کر تماشائیوں کو ہنسایا کرتا تھا۔ مجھے اسکا یہ طریقہ بہت پسند تھا اسلئے جب میں نے کرکٹ میدانوں کا رخ کیا تو اسکے انداز کو ہی سامنے رکھا۔ان کا کہنا ہے کہ میدان میں جتنا زیادہ رش اور شور ہوتا ہے میں اتنا ہی محظوظ ہوتا ہوں۔ بلکہ جتنا زیادہ ہجوم ہوتا ہے اتنا ہی لطف بڑھتا ہے۔
چاچا کرکٹ سے پوچھا جب آپ تمام میچوں میں نظر آتے ہیں تو گھر والوں کو وقت کیسے دیتے ہو۔ تو کہنے لگے کہ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ ہر کامیاب آدمی کے پیچھے ایک عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ یہ مثل مجھ پر بھی صادق آتی ہے۔ میری بیوی میری سب سے بڑی سپورٹر ہے۔ گھر کا خرچ اللہ تعالٰی چلا رہا ہے بیٹے کما رہے ہیں اور کچھ میں بھی کما لیتا ہوں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ مجھے ماہانہ 20ہزار روپے وظیفہ دیتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اب میرا مشن صرف یہی ہے کہ کرکٹ کے میدان میں پاکستان کا نام روشن ہو اور ہر میچ میں شریک ہو سکوں۔ انھوں نے کہا کہ اس غرض سے میں نے اپنی ساری جائیداد بیچ دی ہے اور اب کرایے کے مکان میں رہتا ہوں۔ چاچا کرکٹ کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود لوگ بڑے بڑے محلوں میں رہنے والوں سے زیادہ عزت دیتے ہیں، پیدل چلتا ہوں لیکن قوم گاڑی والوں سے زیادہ مجھے سلام کرتی ہے۔
ہاں البتہ انھیں کچھ دوستوں سے شکایت ہے ۔ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ میں ابوظہبی میں ملازمت کرتا تھا کہ کچھ نے مجھے وہاں سے بلوالیا اور کہا یہاں آ جاﺅں پی آئی اے میں نوکری بھی ملے گی اور پیپسی والوں سے وظیفہ ملا کرے گا لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوا۔ جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی انھی وظیفے میں اضافہ کیا ہے وگرنہ دس ہزار دیا کرتا تھا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے سفری سہولت کے لیے درخواست دی تھی مگر وہ آجتک مجھے کوئی آسانی میسر نہیں ہوئی جس وجہ سے کئی مقامات پر میچ دیکھنے نہ جا سکا۔ جبکہ پی آئی اے کو بھی کہا کہ مجھے سال میں کم از کم میچوں میں ٹکٹ دے اور ریلوے میرا سفر مفت کر دے مگر کہیں سے بھی کوئی آسائش نہیں ملی۔
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کون سے کھلاڑی آپ کو زیادہ عزت دیتے ہیں تو کہنے لگے کہ ویسے تو پاکستان کرکٹ ٹیم کے تمام کھلاڑی ہی مجھ سے پیار کرتے ہیں اور میں جہاں بھی گیا وہاں عزت ملی لیکن کرکٹ میدان میں عمران خان، وسیم اکرم ، انضمام اور گھر میں آپ کی چاچی نے زیادہ عزت دی۔
چاچا کہنے پر آپ کو کبھی غصہ آیا تو ہنستے ہوئے کہنے لگے ویسے تو اب میں چاچا تایا کی عمر کا ہی ہو۔ اس لئے کبھی برا نہیں لگا۔ بلکہ مجھے تصویر پاکستان، سفیر پاکستان، چا چا کرکٹ جیسے خطابات سن کر خوشی ہوتی ہے۔ میں نے کرکٹ اور پاکستان کے ساتھ سچی محبت کی ہے۔ رانجھے کو اتنی محبت ہیر سے نہیں تھی جتنی مجھے پاکستان کرکٹ سے ہے۔اللہ تعالٰی ہمارے حکمرانوں اور کھلاڑیوں کو بھی اس سبز ہلالی پرچم سے محبت کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔
چاچا کرکٹ میچوں میں ہونے والے جوئے سے بہت پریشان ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ہماری قوم اور ملک کی بدنامی کا باعث ہے۔ کروڑوں روپے حاصل کرنے والے کھلاڑی لالچ میں آ کر یہ کام کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ ابھی حال ہی میں جو لندن میں کھلاڑیوں کو سزائے ہوئی ہیں وہ بہت شرمندگی کا باعث ہیں۔ انھوں نے جو سنگین غلطی کی اس سے ملک کا نام بدنام ہوا، قومی کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے جو غلطی کی اس کا اعتراف بھی کیا اور انہیں اس غلطی کی سزا بھی ملی جو میرا خیال ہے کافی ہے، اگر یہ واقعہ پاکستان میں پیش آتا تو شاید ایسا نہ ہوتا۔چاچا کرکٹ نے کہاکہ ہر کھلاڑی اور ہر پاکستانی کو اس واقعہ سے عبرت حاصل کرنی چاہیے اورمیرا ہر پاکستانی کو یہ پیغام ہے کہ خدا کے لئے کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے پاکستان کا نام بدنام ہو۔اس کے علاوہ لاہور میں سری لنکا کرکٹ ٹیم پر حملہ کرنے والوں نے پاکستان کرکٹ کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ماضی کی یادوں کے حوالے سے چاچا کرکٹ بتلاتے ہیںکہ شمیم آرا کی فلمیں بہت شوق سے دیکھتا رہا ہوں جبکہ ادکاروں میں محمد علی میرے آئیڈیل ہیرو تھے۔
پاکستانی سیاست پر بات کرتے ہوئے محسوس ہوا کہ وہ یہاں کی سیاست اور سیاستدانوں سے زیادہ مطمئین نہیں ہیں۔ کہتے ہیں کہ میں نے تقریبا سب سیاست دانوں سے ملا ہوں مگر کوئی بھی مجھے متاثر نہیں کر سکا ۔ قائد اعظم کے بعد اب عمران خان ایک ایسے سیاست دان ہیں جو میرے آئیڈیل ہیں اور وہی یہاں انقلاب لائے گے جیسا انھوں نے کرکٹ کے میدان مین انقلاب برپا کیا اتھا۔
کرکٹ کے میدان میں لگائے جانے والے نعروں کے حوالے سے بتلاتے ہیں کہ یہ سب نعرے میرے اپنے بنائے ہوئے ہیں جو میں تماشاہیوں اور کھلاڑیوں میں جوش پیدا کرنے کے لیے لگاتا ہوں۔ جیسے باولنگ اتے غور کرو جلدی جلدی آوٹ کرو۔ وقت کی یہ مجبوری ہے چوکا بہت ضروری ہے۔ وقت کی یہ مجبوری ہے چھکا بہت ضروری ہے۔ بچے شرارت کے طور پر یہ نعرہ بھی لگا دیتے ہیں کہ وقت کی یہ مجبوری ہے چاچی بہت ضروری ہے“۔
اپنی زندگی کا مقصد حیات بتلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ اب میری زندگی کے تین مقصد ہیں۔ اچھا انسان بن کر پاکستان کا نام روشن کرنا۔ فلاح و بہبود کے کام کرنا۔ لوگوں کو خوشیاں دینا۔
حکومت سے کوئی مطالبہ ہے ؟ تو کہنے لگے وہی پرانا مطالبہ کہ میرا پی آئی اے اور ریل کا سفرفری کر دیا جائے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s