مالی ۔۔۔ باغ کا نگہبان


منصور مہدی

بظاہر تو عام آدمی عام ہی ہوتا ہے مگر یہ اپنے کام کے حوالے سے کسی خاص آدمی سے کم نہیں ہوتا۔ اس کی کوئی خاص خصوصیت ہی اس کی پہچان ہوتی ہے۔ عام آدمی ہمیں اپنے چاروں جانب نظر آتے ہیں۔ ان میں کوئی موچی ہے تو کوئی نائی، کوئی مزدور ہے تو کوئی نان بائی۔ یہ لوگ اگرچہ معاشرے میں کوئی اہم مقام نہیں رکھتے مگر ان کے بغیر خاص لوگوں کی زندگی بھی اجیرن ہو جاتی ہے۔
آج ہم آپ کی ایک مالی سے ملاقات کرواتے ہیں۔ مالی کی اہمیت کیا ہے ؟ اسے سب جانتے ہیں کہ مالی نہ صرف گھروں میںپھول پودے لگاتا ہے بلکہ باغوں ، پارکوں، گرین بیلٹ کی خوبصورتی بھی اسی کی مرہون منت ہے۔
مالی محمد امین نے اپنی زندگی کے واقعات بتلاتے ہوئے کہتے ہیں کہ میں نے آج سے ٹھیک35برس پہلے ایک غریب گھرانے میں آنکھ کھولی،ہوش سنبھالتے ہی اپنے والدین کو محنت مشقت کرتے دیکھا،باپ مزدوری کرتا تھا اور ماں سارادن گھر کے کام کرنے کے ساتھ ساتھ بھینس اور بکری کو چارہ بھی ڈالتی اور ان کی صفائی کا خیال رکھتی۔بھینس اور بکری کے دودھ کو فروخت کر کے تھوڑی بہت اضافی آمدنی ہوجایا کرتی تھی۔
محمد امین نے بتایا کہ ملتان روڈ پر پتوکی سے 22کلومیٹر دور بولا گڑھی نامی میرا گاﺅں ہے جہاں میرا پچپن گزرا۔ ہم کل پانچ بہن بھائی تھے ان میں میں میرا نمبر چوتھاہے ۔ میرے والد کی آمدنی کے ذرئع محدود تھے اور کنبہ بڑا۔بڑا کھینچ تان کر گزارا ہوتا تھا محنت ومشقت کی وجہ سے والد اور والدہ کے ہاتھوںپر ہمیشہ میں نے چھالے پڑے دیکھے۔
امین کا کہنا ہے کہ اگرچہ میری والدہ کی دو ایکٹر زمین بھی تھی مگر وہ بنجر تھی کیونکہ ہمارا گاﺅں ٹیل پر واقع ہے جس وجہ سے زراعت کیلئے پانی نہیں ملتا تھا۔ جب کبھی بارش ہوتی تو علاقے میںہریالی آجاتی اور جانوروں کیلئے چارہ کاشت کر لیا جاتا۔ امین کا کہنا ہے کہ ہمارے علاقے میں بچھوﺅں اور سانپوں کی بھی بھرمار تھی۔جو کچے مکان کے کمرے،صحن اور باورچی خانے میں دوڑتے پھرتے تھے درجنوں سانپ تو میں نے خود مارے۔میری والدہ کوکئی بار سانپ نے ڈسا۔مگرہرباراللہ تعالیٰ نے انہیں نئی زندگی دی۔
امین نے بتایاہمارا ایک چھوٹا سا کچا مکان تھا جس کے واحد کمرے میں سردیوں کے موسم میں کنبے کے تمام7افراد سویا کرتے تھے یہ کچا مکان اب بھی اس حالت میں موجود ہے اور میری بوڑھی ماں اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں۔وہ اب بھی وہاں رہتی ہے۔وہ کہتی ہیں کہ اسے دیہات کے ماحول سے دورلے جایا گیا تو وہ بیما ر ہوجائے گی۔
مالی محمد امین بتلاتا کہ بچپن سے چونکہ غربت کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا تو پڑھائی کا کوئی سوال ہی نہیں چنانچہ بچپن سے ہی کبھی والد اور کبھی والدہ کے کاموں میں ہاتھ بٹاتا۔ امین نے اپنی یادداشت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب میں دس برس کا تھا تو مجھے میرے والد نے چچا کے واپس قریبی گاﺅں بھیج دیا۔ میرے چچا مالی تھے اور ایک نرسری میں ملازمت کرتے تھے۔ پہلے ہی روز چچا نے میرے ہاتھ میں کھرپا پکڑا دیا اور ایک کیاری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس میں سے خود رو جڑی بوٹیوں کو نکالنے کیلئے کہا۔ اس کیاری میں چچا نے رات کی رانی کے پودے لگائے تھے اور یہ پودے ابھی چھوٹے تھے۔ مگر میں نے غلطی سے خودرو بوٹیوں کے ساتھ ہی کئی پودے بھی اکھاڑ دیے۔ جب میرے چچا نے یہ منظر دیکھا تو انھوں نے مجھے بہت مارا ۔ امین کہتے ہیں کہ یہ مار ہی میری عملی زندگی کی شروعات بن گئی۔
امین کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی زندگی کے 15سال اسی نرسری میں گزار دیے ۔ میں ہر ہفتے اپنی ماں کو ملنے اپنے گاﺅں جاتا رہا کہ ایک دن گاﺅں سے ماں کا بلاوا آیا ،جب گھر پہنچا تو دیکھا خالہ آئی ہوئی ہے۔ میرے جاتے ہی ماں نے میری بلائے لینی شروع کر دی کہ اسی دوران میری چھوٹی بہن ایک پیالے میں مٹھائی لے کر آگئی تو میں فوراً سمجھ گیا کہ خالہ کس مقصد سے گھر آئی ہے۔
امین نے بتایا کہ میری خالہ زاد سے شادی ہوگئی ۔ کچھ دن تو سکون سے گزرے مگر اب میری پریشانی بڑھ گئی کیونکہ پہلے ہی نرسری سے اتنی تنخواہ ملتی کہ جس سے میں روٹی کھاتا اور تھوڑے پیسے جو بچتے وہ ماں کو بھیج دیتا۔ اب گھر میں ایک اور فرد کا اضافہ ہو گیا جس کی مکمل ذمہ داری میری ہی تھی۔
امین نے کہا کہ میں کئی مرتبہ اپنے دوستوںکے ہمراہ لاہور آیا تھا مگر شہر کے حوالے سے کوئی نہ تو معلومات تھی اور نہ ہی یہاں کی زندگی کے ڈھنگ سے واقفیت تھی۔
گرمیوں کی ایک دوپہر تھی کہ ماں نے پیغام بھیجا کہ تم باپ بن گئے ہو۔ سن کر مجھے خوشی بھی ہوئی مگر پریشانی میں بھی اضافہ ہوگیا کہ اب میرے گھر میں ایک فرد کا اور اضافہ ہو گیا۔ وسائل وہی تھے مگر مسائل بڑھتے گئے چنانچہ ایک دن میںچچا کے گاﺅں نرسری پر جانے کی بجائے ملتان روڈ پر آیا اور ایک بس میں بیٹھ کر لاہور چلا آیااور چوک یتیم خانے پر اتر گیا اور پیدل ایک طرف چل پڑا۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ میں کدھر جا رہا ہوںاور کیا کروں گا۔
پھر وہاں سے لوگوں سے پوچھ کر پیدل چوبرجی کی طرف چل پڑا کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ مزدور پیشہ میرے جیسے لوگ رات کو وہی سوتے تھے۔ جب رات ہوئی تو میںبھی وہی سو گیا۔ یہ لاہور میں میری پہلی رات تھی۔ اگلے روز جب اٹھا تو وہاں موجود دیگر مزدوروں کے ساتھ فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا کہ مجھے بھی کوئی مزدوری مل جائے مگر اس دن مجھے کوئی مزدوری نہیں ملی۔ مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ دوسرے دن ایک زیر تعمیر مکان میں اینٹیں ڈھونے کی مزدوری مل گئی۔شام کو مجھے کام سے صرف 100 روپے ملے۔ جس کی خوشی بھی تھی اور غم بھی کہ ان میں کیسے گزر بسر ہو گئی ۔ ضروری تو نہیں پورے ماہ کے تیس دن مجھے مزدوری ملے۔
امین کا کہنا ہے کہ یہ میری زندگی کے مشکل ترین دن تھے اور میں نے تین سال اسی میں گزار دیے۔ اس دوران میرے دو بچے ہو گئے ۔اس نے بتایا کہ روزانہ مزدوری نہ ملتی تو کھانے کو بھی نہ ملتا۔ جس کا حل ہمارے جیسے مزدوروں نے یہ نکالا ہوا تھا کہ رات کو کبھی داتا صاحب اور کبھی شاہ جمال اور کبھی کسی اور دربار پر چلے جاتے جہاں ہمیں لنگر مل جاتا۔
امیں نے بتایا کہ ایک جمعرات کو میں سمن آباد پکی ٹھٹھی میں ایک دربار پر گیا تو دیکھا وہاں پر دربار میں بہت پھول پودے لگے ہوئے تھے اور ایک بوڑھا ملنگ ان کیاریوں میں گوڈی کر رہا تھا۔ میں سلام کر کے ان کے پاس بیٹھ گیا اور ان سے کھرپا لیکر کیاریاں سنوانے کو کہا۔ پہلے تو انھوں نے میری طرف دیکھا مگر پھر مجھے کھرپا پکڑا کر دوسرے کام میں مصروف ہو گئے۔
پودوں کی دیکھ بھال کا کام تو میں پندرہ برس سے کر رہا تھا چنانچہ میں نے دیکھتے ہی دیکھتے دربار کی تمام کیاریاں بہترین انداز میں ٹھیک کر دی۔ جب بزرگ ملنگ نے کیاریوں کو دیکھا تو بہت خوش ہوا۔ مجھے بھی لنگر کی چائے پلائی اور مجھ سے باتیں کرنے لگے اور میرے بارے میں پوچھنے لگے میں نے انھیں اپنے بارے میں بتایا۔
میری شہری زندگی کا سن کر انھوں نے کہا کہ بےوقوف جب تو مالی تھا تو تو نے اینٹیں ڈھونے کا کام کیوں کرنے لگا۔ تجھے تو مالی کا کام ہی کرنا چاہیے تھا۔
مجھے ان کی باتیں بہت پسند آئیں اور میں اگلے ہی روز واپس گاﺅں چلا گیا اور دو تین دن وہاں گزار کر اپنے باغبانی کے اوزار لیکر واپس لاہور آگیااور سیدھا دربار پر پہنچ گیا۔ اگلے روز بزرگ ملنگ مجھے اقبال ٹاﺅن کے علاقے میں لے گیا جہاں بڑے مکانات تھے اور ہر گھر میں لان بنے ہوئے جبکہ گھر کے باہر بھی پھول پودے اپنا رنگ دکھا رہے تھے۔ بوڑھے ملنگ کی وساطت سے مجھے ایک گھر میں فوری طور پر ان کا لان درست کرنے اور پودوں میں گوڈی وغیرہ کرنے کا کام مل گیا ۔ جب میں نے اپنا کام مکمل کیا تو گھر والوں نے مجھے سو روپے دیے۔ جسے دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ سارا دن اینٹیں ڈھونے سے جتنے پیسے ملتے تھے اتنے صرف دو گھنٹے کام کر کے مل گئے۔
امین نے بتایا کہ یہ دن میری زندگی کا ایک اہم دن تھا ، اب مجھے اپنی منزل نظر آرہی تھی اور محسوس ہو رہا تھا کہ اب میں اپنی ماں کے ساتھ ساتھ اپنی بیوی اور اپنے بچوں کی ضروریات بھی اچھے طریقے سے ادا کر سکوں گا۔
امین نے بتایا کہ کچھ ہی عرصے بعد میں اقبال ٹاﺅن سے نکل کر ٹھوکر کی طرف چلا آیا کہ جہاں جوہر ٹاﺅن، کینال ویو جیسی بڑی آبادیاں تھی جن کے مکانات میں بڑے بڑے لان بنے ہوئے تھے۔ چنانچہ میں نے وہاں پر اپنے کام کو شروع کیا۔
امیں کا کہنا ہے کہ اب مجھے لاہور میں مالی کا کام کرتے ہوئے بھی تقریباً دس سال ہوچکے ہیں اور میں اپنی محنت سے اتنے پیسے کما لیتا ہوں کہ جس سے میرے خاندان کی گزر بسر آسانی سے ہو رہی ہے۔ امین نے کہا کہ ایک سال قبل جب میری والدہ فوت گئی تو میں اپنے بیوی بچوں کو بھی یہاں لے آیا۔ یہی اسی سوسائٹی میں ایک گھر کے سرونٹ کوارٹر میں رہتا ہوں ۔ ان کا کام کرنے کے علاقے دیگر مکانوں میں کام کرتا ہوں۔
امین کو سیاست پر بولنے کا بھی بہت شوق ہے۔ وہ سیاسی لوگوں کی تقریریں سنتا ہے اور ان پر بحث بھی کرتا ہے۔ وہ حکومت سے بہت شاقی ہے کہ مہنگائی تو مسلسل بڑھ رہی ہے مگر غریب لوگوں کے دکھوں کا مداوا کرنے کا کوئی نہیں سوچتا۔
اب امین کا ایک بیٹا ادریس تیسرے جماعت میں پڑھتا ہے اور جبکہ چھوٹی بیٹی پہلی جماعت میں۔ امین کی اب ایک ہی خواہش ہے کہ کسی طرح وہ اپنے بچوں کو تعلیم دلانے میں کامیاب ہو جائے۔ اس کا کہنا ہے کہ اب تعلیم بہت ضروری ہے اور جس نے اپنے بچوں کو تعلیم نہیں دلوائی اس نے اپنے بچوں کیلئے کچھ بھی نہیں کیا۔

مالی ۔۔۔ باغ کا نگہبان” پر ایک خیال

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s