اسامہ بن لادن کی زندگی پر ایک نظر


منصور مہدی

تاریخ پیدائش: 10 مارچ 1957
تاریخ وفات: 2مئی2011
نام والد : محمدبن عوض بن لادن
نام والدہ: حمیدہ العطاس عرف عالیہ غانم جو شام کی رہنے والی تھی اور1956میں ان کی شادی محمدبن عوض بن لادن سے ہوئی جن کی یہ دسویں شادی تھی۔ جبکہ محمدبن عوض بن لادن نے کل 22شادیاں کی جن سے54بچے تھے۔لیکن وہ ایک وقت میں چار ہی بیویاں اپنے پاس رکھتے تھے جبکہ باقی کو طلاق دے دیتے تھے۔
جائے پیدائش: ریاض، سعودیہ عرب
تنظیم: القائدہ
وجہ شہرت: امریکہ مخالف جہادی کاروائیاں
مکمل نام: اسامہ بن محمد بن عوض بن لادن

اسامہ بن لادن کا خاندان
بیویاں: 5 عدد
پہلی شادی17سال کی عمر میں1974میںاپنے ماموں کی 14سالہ بیٹی نجوہ غانم سے ہوئی جس کو2001میں طلاق ہوئی۔ 1983میں خدیجہ شریف نامی عورت سے دوسری شادی کی اور1990میں طلاق دے دی۔1985میںخاہرہ نامی اور1987میںسیہام نامی عورتوں سے شادی کی۔2000میں امل السدہ نامی عورت سے پانچویں شادی ہوئی۔
بچے : 24سے26۔ آخری بچہ2001میں پیدا ہوا۔
اسامہ بن لادن 10 مارچ 1957 کو سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق سعودی عرب کے مشہور رئیس خاندان لادن فیملی سے تھا۔ اسامہ بن لادن محمد بن عوض بن لادن کے صاحبزادے تھے جو شاہ فیصل کے خاص دوستوں میں شمار کئے جاتے تھے۔ لادن کا کاروبار پورے مشرق وسطہ میں پھیلا ہوا ہے۔ ان کی تعمیراتی کمپنی نے شاہ فیصل اور شاہ فہد کے ادوار میں مسجد الحرام اور مسجد نبوی کی تعمیر کا کام کیا تھا۔ ان دونوں منصوبوںمیںاسامہ بن لادن نے ذاتی طور پر دلچسپی لی تھی اور مختلف توسیعی منصوبے اپنی نگرانی میں مکمل کرائے تھے۔ اسامہ کے بقول انکے والد نے امام مہدی علیہ اسلام کی مدد کے لیے کروڑوں ڈالر کا ایک فنڈ قائم کیا تھا۔ اور وہ ساری زندگی امام مہدی کا انتظام کرتے رہے۔ ایک انٹرویو میں اسامہ بن لادن نے اپنے والد کے بارے بتاتے ہوئے کہا تھاکہ "شاہ فیصل دو ہی شخص کی موت پر روئے تھے، ان دو میں سے ایک میرے والد محمد بن لادن تھے اور دوسرے وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو تھے۔
اسامہ بن لادن نے اپتدائی تعلیم(1968 – 1976) ریاض کے التاغر ماڈل سکول سے حاصل کی۔ بعض ازاں انہوں نے 1979میںریاض کی کنگ عبد العزیز یونیورسٹی سے ایم بی اے اور1981میں سول انیجنئرنگ کی ڈگری حاصل کی۔ اس دوران ان کی ملاقات شدت پسند اور سخت گیر سمجھے جانے والے طالب علموں اور اساتذہ سے ہوئی جس سے طالب علمی کے زمانے ہی میں ہی ان کے نظریات میں تبدیلی آنی شروع ہوگئی۔
اسامہ کو مذہبی رجحان انکے والد محمد ان لادن سے وراثت میں ملا تھا۔ اسامہ بن لادن اور ان کا خاندان سعودی عرب کے عام لوگوں کی طرح امام احمد بن حمبل کا مقلد اور شیخ عبدل وہاب نجدی کے اجتہاد کا حامی تھا۔ شروع میں انہوں نے ایک عرب شہزادے کی سی زندگی گزاری مگر وقت کے ساتھ ھاتھ انکے اندر تبدیلیاں آئیں۔ 1979 میں افغانستان پر سوویت یونیں کی جارحیت کی خبر انہوں نے ریڈیو ہر سنی۔ ابتدا میں انہوں نے افغان مجاہدین کی مالی معاونت کی مگر کچھ عرصے بعد وہ خود اپنی تمام دولت اور اثاثوں کے ساتھ میدان میں اتر آئے۔ اسامہ بن لادن نے شیخ عبداللہ عظائم اور دیگر عرب مجاہدین کے ساتھ ملکر سوویت فوجوں سے جنگ کی۔1984میں اسامہ نے مکتبہ الخدمت کے نام سے ایک رفاعی تنظیم بنائی جبکہ اگست1988میں القاعدہ کی بنیاد ڈالی۔
روس کی شکست کے بعد جب افغانستان میںمجاہدین کی قیادت اقتدار کے حصول کے لیے آپس میں جھگڑ پڑی تو اسامہ بن لادن سعودی عرب واپس چلے گئے۔
1990میں جب صدام حسین نے کویت پر حملہ کر کے اس پر قبضہ کر لیا تو جہاں دنیا کے اکثر ممالک نے عراق کے اقدام کو کھلی جارحیت قرار دیا وہاں عرب ممالک عراق کے اس قدم کو مستقبل میں اپنی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھنے لگے۔ اس موقع پر جب امریکہ نے عراق پر حملہ کیا سعودی عرب نے امریکہ کا بھرپور ساتھ دیا ۔ شاہ فہد کی دعوت پر امریکہ کی تین لاکھ کے قریب فوجیں سعودی عرب پہنچ گئی جن میں سے ایک بڑی تعداد آجتک وہاں موجود ہے۔
امریکی فوجوں کی آمد پر اسامہ بن لادن پر زور مخالفت کی اور شاہ فہد کو یہ پیش کش کی عراق کے خطرات سے نمٹنے کیلیے ایک اسلامی فورس تشکیل دی جائے اور امید دلائی کہ وہ اس کام کے لیے اپنا اثر و رسوخ بھی استعمال کریں گے تاہم شاہ فہد نے اسامہ کے مشورے کو یکسر نظر انداز کرکر امریکیوں کو خوش آمدید کہا۔
جس کے نتیجے میں شاہی خاندان اور اسامہ کے درمیان تلخی پیدا ہوگئی اور آخرکار 1992میں اسامہ بن لادن کو اپنا ملک چھوڑ کر سوڈان جانا پڑا۔ اسامہ بن لادن نے سوڈان میں بیٹھ کر مقدس سرزمین پر ناپاک امریکی وجود کے خلاف عرب نوجوانوں میں ایک تحریک پیدا کی اور اس کے ساتھ دنیا بھر میں جاری دیگر اسلامی تحریکوں سے رابطے قائم کئے۔ اسی دوران اسامہ بن لادن نے دنیا بھر میں امریکی مفادات پر حملوں کا مشہور فتوی بھی جاری کردیا۔اس فتوی کے چھ ماہ بعد کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر حملے کیے گئے جس میں ڈھائی سو کے قریب افراد مارے گئے۔ ان حملوں کا شبہ اسامہ بن دلان اور ان کے سولہ ساتھیوں پر ظاہر کیاگیا۔
1994میں شاہ فہد نے اسامہ بن لادن کی سعودی شہریت ختم کر دی۔
سوڈان کے شہر خرطوم میں اسامہ نے رہائش اختیار کر لی اور نہ صرف سعودی عرب میں امریکی فوجوں کی مخالفت کرتے رہے بلکہ دنیا بھر کے مجاہدین سے رابطے شروع کر دیے۔ جس پر سعودی عرب، مصر اور امریکی اعتراض کے سبب اسامہ کو سوڈان بھی چھوڑنا پڑا۔
مئی1996میں اسامہ بن لادن اپنے ایک پرائیویٹ چارٹر جہاز کے ذریعے افغانستان پہنچے جہاں طالبان کے امیر ملا عمر کی جانب سے انھیں سرکاری پناہ دے دی گئی۔ اسامہ بن لادن نے افغانستان کے مانوس ماحول میں بیٹھ کر اپنی تنظیم القائدہ کی ازسر نو تنظیم کی اور دنیا بھر میں امریکی مفادات کو نشانہ بنانے کی کاروائیاں تیز کردیں۔ اسامہ بن لادن نے اپنے جہادی کیمپس زیادہ تر جلال آباد سے قریب تورا بورا میں قائم کئے۔ 1997 میں امریکی صدر بل کلنٹن نے اسامہ بن لادن کی حوالگی کے لیے طالبان پر دباﺅ ڈالا مگر طالبان نے اپنے مہمان کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ جسکے بعد طالبان اور امریکہ میں تلخی کافی بڑھ گئی۔ 1998میں امریکہ نے کروز میزئل سے افغانستان پر حملہ کیا اور دعوی کیا کہ حملے میں اسامہ بن لادن کے جہادی کیمپ کو نشانہ بنایا گیا ہے اور حملوں کا مقصد اسامہ بن لادن کی زندگی کو ختم کرنا تھا۔ اس حملے کے بعد اسامہ بن لادن کو دنیا میں ایک نئی شناخت ملی اور ان کی تنظیم پوری دنیا میں امریکی عزائم اور جارحیت کے سامنے واحد مدمقابل کے طور پر سامنے آئی۔ ان حملوں کے بعد اسامہ بن لادن روپوش ہوگئے اور عوامی اجتماعات میں شرکت سے اجتناب برتنا شروع کردیا۔
2001میں اسامہ بن لادن کا آخری انٹرویوپاکستان کے صحافی حامد میر نے کیا جبکہ2004میں ان کا دنیا سے آخری رابطہ امریکی انتخابات کے دورانایک وڈیو ٹیپ کے ذریعے ہوا۔
امریکی حکومت نے 11 اکتوبر2001 کو امریکی شہروں نیو یارک اورواشنگٹن میں ہونے والی دہشت گردی کی کاروائیوں کا الزام بھی اسامہ بن لادن پر لگایا اور 7اکتوبر2001میں افغانستان پر حملہ کر دیا۔
2001 میں امریکی حملے کے بعد سے اسامہ بن لادن کے بارے میں متضاد اطلاعات ہر وقت گردش میں رہیں۔ کبھی کہا جاتا کہ اسامہ بن لادن امریکی فوجیوں کے گھیرے میں آگئے ہیں تو کبھی یہ مشہور ہوجاتا ہے کہ اسامہ بن لادن انتقال کرگئے ہیں۔ اسامہ بن لادن کی بیماری کی خبریں بھی آتی رہیں اور کچھ کے خیال میں اسامہ 2001 میں تورا بورا پر امریکی حملے کے نتیجے میں جاں بحق ہوگئے تھے اور ان لوگوں کے مطابق اسامہ کے بعد کے تمام پیغامات جعلی تھے۔
امریکہ نے ان کی گرفتاری یا ہلاکت پر ان پر پچاس ملین ڈالر انعام کا اعلان کیا۔
یکم او دو مئی2011 کی شب پاکستان کے علاقے ایبٹ آباد میں امریکی اسپیشل فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے۔

Advertisements

اسامہ بن لادن کی زندگی پر ایک نظر” پر ایک خیال

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s