اے خدا میں بہت کڑوی ہوں، پر تیری شراب ہوں


منصور مہدی

سارا شگفتہ پاکستانی خواتین شعراءمیں وہ نمائندہ شخصیت تھی کہ جب جنرل ضیا الحق کے دور میں جمہوریت کی بات کرنے والوں کو قید و بند کی صعوبتیں اٹھانا پر رہی تھیں ۔ کوڑے برسائے جا رہے تھے۔ بیشتر شعرائ، دانشور اور صحافی آمر کے خوف سے ملک سے باہر جا چکے تھے مگر سارا وہ خاتون تھی کہ جو آمر کے سامنے حق کے روپ میں کھڑی رہی اور جمہوریت کے لیے نظمیں لکھتی رہیں۔
سارا شگفتہ 1955میں پیدا ہوئی اور صرف 29سال کی عمر میں جب اس کا نوزائیداہ بچہ صرف چند منٹ زندہ رہنے کے بعد فوت ہو گیا تو اندر سے توٹ گئی ۔ اس نے کئی بار مرنے کی کوشش کی مگر ہر بار وہ بچ گئی مگر آخر کار 1984میں اس کے مرنے کی کوشش کامیاب ہو گئی اور وہ اپنے خالق حقیقی کو جاملی۔
سارا شگفتہ کس پائے کی شاعرہ تھی اس کا اندازہ معروف بھارتی ادیبہ امرتا پریتمکی کتاب کے ایک اقتباس سے لگایا جا سکتا ہے۔ یہ کتاب 1994میں امریتہ پریتم نے سارا شگفتہ پر لکھی تھی۔
“صاحباں ت±و نے ب±را کیا۔۔ یہ الفاظ مرزا نے تب کہے تھے، جب ا±س کی صاحباں نے ا±س کا ترکش ا±س سے چ±ھپا کے پیڑ پر رکھ دیا تھا۔ اور آج تڑپ کر یہی الفاظ میں کہہ رہی ہوں۔ جب سارا شگفتہ نے اپنی زندگی کا ترکش جانے آسمان کے کس پیڑ پر رکھ دیا ہے اور خود بھی صاحباں کی طرح مَر گئی ہے اور اپنا مرزا بھی مروا دیا ہے۔ ہر دوست مرزا ہی تو ہوتا ہے۔۔۔ میں کتنے دنوں سے بھری آنکھوں سے سارا کی وہ کتاب ہاتھوں میں لئے ہوئے ہوں جو میں نے ہی شایع کی تھی، اور احساس ہوتا ہے کہ سارا کی نظموں کو چ±ھو کر کہیں سے میں اس کے بدن کو چ±ھو سکتی ہوں۔
کم بخت کہا کرتی تھی، ” اے خ±دا ! مَیں بہت کڑوی ہوں ، پر تیری شراب ہوں۔۔۔ ” اور میں ا±س کی نظموں کو اور ا±س کے خطوط کو پڑھتے پڑھتے خدا کی شراب کا ایک ایک گھونٹ پی رہی ہوں۔۔
یہ زمین وہ زمین نہیں تھی جہاں وہ اپنا ایک گھر تعمیر کر لیتی ، اور اسی لئے ا±س نے گھر کی جگہ ایک قبر تعمیر کر لی۔ لیکن کہنا چاہتی ہوں کہ سارا قبر بن سکتی ہے قبر کی خاموشی نہیں بن سکتی۔ دل والے لوگ جب بھی اس کی قبر کے پاس جائیں گے۔ ا±ن کے کانوں میں سارا کی آواز سنائی دے گی۔
” میں تلاوت کے لئے انسانی صحیفہ چاہتی ہوں۔”
وہ تو ضمیر سے زیادہ جاگ چ±کی تھی۔۔۔۔۔
اِس دنیا میں جس کے پاس بھی ضمیر ہے ، ا±س کے ضمیر کے کان ضرور ہوں گے۔ اور وہ ہمیشہ ا±س کی آواز س±ن پائیں گے کہ میں تلاوت کے لئے انسانی صحیفہ چاہتی ہوں۔۔۔ میں نہیں جانتی یہ انسانی صحیفہ کب لکھا جائے گا ، پَر یہ ضرور جانتی ہوں کہ اگر آج کا اتہاس خاموش ہے تو آنے والے کل کا اتہاس ضرور گواہی دے گا کہ انسانی صحیفہ لکھنے کا الہام صرف سارا کو ہوا تھا۔۔
اتہاس گواہی دے گا کہ سارا خود ا±س انسانی صحیفہ کی پہلی آیت تھی۔۔ اور آج دنیا کے ہم سب ادیبوں کے سامنے وہ ک±ورے کاغذ بچھا گئی ہے کہ جس کے پاس سچ مچ کے قلم ہیں ، ا±نہیں انسانی صحیفہ کی اگلی آیتیں لکھنی ہوں گی۔۔
اچانک دیکھتی ہوں — میری کھڑکی پاس ک±چھ چڑیاں چہچہا رہی ہیں اور چونک جاتی ہوں۔ ارے ! آج تو سارا کا جنم دن ہے۔۔جب ا±س سے ملاقات ہوئی تھی تو اپنے جنم دن کی بات کرتے ہوئے ا±س نے کہا تھا — پنچھیوں کا چہچہانا ہی میرا جنم دن ہے۔۔
سارا ! دیکھ ! امروز نے ہمارے گھر کے آنگن کی سب سے بڑی دیوار پر چڑیوں کے سات گھونسلے بنا دئے ہیں۔۔ اور اب وہاں چڑیاں دانا کھانے بھی آتی ہیں اور لکڑی کے چھوٹے چھوٹے سفید گھونسلوں میں تنکے رکھتی ہوئیں جب وہ چھوٹے چھوٹے پنکھوں سے ا±ڑتی ، کھیلتی اور چہچہاتی ہیں — تو کائنات میں یہ آواز گونج جاتی ہے کہ آج سارا کا جنم دن ہے۔۔۔۔
میں د±نیا والوں کی بات نہیں کرتی ، ا±ن کے ہاتھوں میں تو جانے کس کس طرح کے ہتھیار رہتے ہیں۔ میں صرف پنچھیوں کی بات کرتی ہوں ، اور ا±ن کی جن کے انسانی جسموں میں پنچھی ر±وح ہوتی ہے اور جب تک وہ سب اس زمین پر رہیں گے ، سارا کا جنم دن رہے گا۔۔
کم بَخت نے خود ہی کہا تھا ، ” میں نے پگڈنڈیوں کا پیرہن پہن لیا ہے۔” لیکن اب کس سے پ±وچھوں کہ ا±س نے یہ پیرہن کیوں بدل لیا ہے ؟ جانتی ہوں کہ زمین کی پگڈنڈیوں کا پیرہن بہت کانٹے دار تھا اور ا±س نے آسمان کی پگڈنڈیوں کا پیرہن پہن لیا لیکن۔۔ اور اِس لیکن کے آگے کوئی لفظ نہیں ہے ، صرف آنکھ کے آنسو ہیں۔۔

سارا کی شاعری کے حوالے سے دیگر پاکستانی شعرا کا کہنا ہے کہ “پاکستان میں شاعرات شاعری کے میدان میں شعری معیار و مقدار کے اعتبار سے شاعروں سے کہیں آگے نکل گئی ہیں، جس کی مِثال دنیا کے کسی اور ملک میں کسی بھی عہد کے حوالے سے نہیں ملے گی۔ اِن شاعرات میں جو جدید تر شاعری سے متعلق ہیں، سارا شگفتہ ، عذرا عباس ، کشور ناہید، نسرین انجم بھٹی، انوپا ، تنویر انجم ، شائستہ حبیب زیادہ ن±مایاں ہیں لیکن سارا شگفتہ اِن سب میں سرِفہرست ہے۔
سارا جس قسم کی شاعری کرتی تھی اس ارفع سطح کی شاعری مغرب میں بھی نہیں ہو ئی۔ یہ شاعری ہر چند کہ بیشتر موجودہ جدید تر شعری روایت کی صورت مربوط نہیں ، لیکن اثر انگیزی میں اپنا جواب نہیں رکھتی، اور اعلٰی سطح کی مربوط شاعری کو بھی کہیں پیچھے چھوڑ جاتی ہے، اور یہ بھی کہ جدید تر شاعری نے غالب کے پوئٹک بَیریئر کو کراس کرتے ہوئے نئی شعری روایت کو جنم دیا ہے، جو اِس صدی کا قابل ِقدر کارنامہ ہے اور سارا شگفتہ اِس کی بہترین مثال۔
2010میں بھارت میں معروف ڈرامہ نگار مہیش داتانی نے ایک ڈرامہ بھی پلے کیا جو نئی دلی کے علاوہ ممبیٰ میں بھی دکھایا گیا ۔

سارا شگفتہ کی شاعری سے منتخب کلام

چیونٹی بھر آٹا

ہم کس د±کھ سے اپنے مکان فرخت کرتے ہیں
اور ب±ھوک کے لئے چیونٹی بھر آٹا خریدتے ہیں
ہمیں بند کمروں میں کیوں پرو دیا گیا ہے
ایک دن کی عمر والے تو ابھی دروازہ تاک رہے ہیں۔۔۔
چال لہو کی بوند بوند مانگ رہی ہے
کسی کو چ±رانا ہو تو سب سے پہلے ا±س کے قدم چ±راو¿۔۔۔۔
تم چیتھڑے پر بیٹھے زبان پہ پھول ہو
اور آواز کو رسی کور
انسان کا پیالہ سمندر کے پیالے سے مٹی نکالتا ہے
مٹی کے سانپ بناتا ہے اور ب±ھوک پالتا ہے
تنکے جب شعاعوں کی پیاس نہ ب±جھا سکے تو آگ لگی
میں نے آگ کو دھویا اور د±ھوپ کو س±کھایا
سورج جو دن کا سینہ جلا رہا تھا
آسمانی رنگ سے بھر دیا
اب آسمان کی جگہ کورا کاغذ بچھا دیا گیا
لوگ موسم سے دھوکا کھانے لگے
پھر ایک آدمی کو توڑ کر میں نے س±ورج بنایا
لوگوں کی پوریں کنویں میں بھر دیں
اور آسمان کو دھاگہ کیا
کائنات کو نئی کروٹ نصیب ہوئی
لوگوں نے اینٹوں کے مکان بنانا چھوڑ دئے
آنکھوں کی زبان درازی رنگ لائی
اب ایک قدم پہ دن اور ایک قدم پہ رات ہوتی
حال جراتِ گذشتہ ہے
آ تیرے بالوں سے شعاعوں کے الزام ا±ٹھا لوں
تم اپنی صورت پہاڑ کی کھوہ میں اشارہ کر آئے
ک±ند ہواو¿ں کا اعتراف ہے
سفر ایڑی پہ کھڑا ہوا
سمندر اور مٹی نے رونا شروع کر دیا ہے
بیلچے اور بازو کو دو بازو تصور کرنا
سورج آسمان کے کونے کے ساتھ لٹکا ہوا تھا
اور اپنی شعاعیں اپنے جسم کے گرد لپیٹ رکھی تھیں
میں نے خالی کمرے میں معافی رکھی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s