خدیجہ مستور


خدیجہ مستور

منصور مہدی
اردو کی خواتین افسانہ نگاروں میں خدیجہ مستور کا نام بے حد اہمیت کا حامل ہے۔ ان کے ناولوں اور افسانوں کی مجموعوں کی تعداد سات ہے۔ مگر ان کا ناول ’ آنگن ایک ایسا ناول ثابت ہوا کہجو ہمیشہ اردو ادب میں زندہ رہے گا بلکہ اس کے خالق کی حیثیت سے خدیجہ مستور کا نام بھی اردو ادب میں زندہ رہے گا۔
خدیجہ مستور کی پیدائش1930ءکوبھارت کے شہر لکھنو کے ایک متوسط خاندان میں ہوئی ۔ انہوں نے ابتدائی اور اعلیٰ تعلیم لکھنو سے حاصل کی تھی۔ کچھ عرصہ ان کا قیام بمبئی میں بھی رہا لےکن تقسیم ملک کے بعد ان کا خاندان لاہور چلا آیا۔
انہوں نے کم عمری میں ہی کہانیاں لکھنی شروع کر دی تھی اور ممبئی میں قیام کے دوران ان کے فن کو بہت جلا حاصل ہوئی۔ لیکن ان کی اصل تخلیقات لاہور کے قیام کی دین ہیں۔ خدیجہ مستور اور ان کی افسانہ نگار بہن حاجرہ مسرور کو احمد ندیم قاسمی جیسی شخصیت کی سرپرستی حاصل ہوئی۔ اس کے بعد تو وہ مسلسل لکھتی رہیں اور ان کی کہانیاں بھارت اور پاکستان کے مقتدر ادبی رسائل میں شائع ہوئیں۔ انہوں نے بہت جلد نمایاں ادبی مقام حاصل کر لیا۔ ان کا افسانہ” محافظ الملک“ بے حد مشہور ہوا جو ایک خاص دور کی عکاسی کرتا ہے۔ ان کے مشہور افسانوں میں ’ تلاش گمشدہ ، درد ، کھیل ، بوچھار ، چند روز ‘ کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
برصغیر پاک وہند کی تقسیم پر متعدد اردو ناول نگاروں نے ناول لکھے۔ جن میں خدیجہ مستور کا “آنگن” بہت ہی اہمیت کا حامل ناول ہے۔ اس میں تقسیم ہند کی نہ صرف تاریخ لکھی بلکہ اس ناول میں اس دور کا جیتا جاگتا معاشرہ بھی نظر آتا ہے۔
ان کے ناول’ آنگن ‘ پر انہیں پاکستان کا سب سے بڑا ادبی انعام ’ آدم جی پرائز ‘ بھی ملا۔ اس ناول میں خدیجہ مستور کا فن اپنے عروج پرنظرآتا ہے۔ تاہم ان کے دیگر ناول تھکے ہارے ، چند روز، زمین ، کھیل ، ٹھنڈا میٹھا پانی اور بوچھا ڑ نے بھی ان کی مقبولیت میں چار چاند لگائے۔
انہوں نے اپنے ناولوں میں کئی سماجی ، تہذیبی ، معاشرتی ، سیاسی اور معاشی تحریکوں کاجائزہ لیا ہے اور ان کا ماہرانہ تجزیہ پیش کیا ہے۔ خدیجہ مستور کا شما رایک سنجیدہ اور گہری سوچ رکھنے والی تخلیق کار کی حیثیت سے ہوتا ہے ۔
اس ناول کی ہیروئن کا نام عالیہ ہے۔۔اور ساری کہانی عالیہ کے کردار کے گرد گھومتی ہوئی نظرا تی ہے۔ مصنفہ نے بڑ ے خوبصورت انداز میں اس کردار کو تراشا ہے۔ یہ ایک خوبصورت تعلیم یافتہ لڑکی ہے۔ بے سہار ا ہونے کے بعد اپنے بڑے چچا کے گھر میں آجاتی ہے اور آخر میں پاکستان آکر ایک کامیاب عورت بنتی ہے۔ اس کردار کی مکمل نفسیاتی کیفیات مصنفہ نے واضح کرتے ہوئے کردار کا نفسیاتی تجزیہ خوبصورتی سے کیا ہے۔۔ عالیہ دراصل ایک ذہنی کشمکش کا شکار نظرآتی ہے۔ تہمینہ باجی کی خودکشی کے واقعے کے بعد ا±سے ایک طرح مردوں سے نفرت ہو گئی ہے اور وہ مردوں سے دور رہتی ہے اس لئے بڑے چچا کے گھر میں آنے کے بعد جب جمیل بھیا ا±س کی طرف محبت کا ہاتھ بڑھاتے ہیں تو وہ ا±سے ٹھکرا دیتی ہے لیکن دوسری طرف ایک عورت ہونے کی وجہ سے ا±س کی خواہش ہے کے ا±سے چاہا جائے اور ایک مردکی محبت کو ٹھکرانے کے بعد بھی مکمل نظر انداز نہیں کر سکی۔ جب وہ پاکستان جانے کے لئے روانہ ہوتی ہے تو اس کی حالت سے ا±س کی کیفیت کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ وہ چاہتی ہے کہ کم از کم جمیل اس کی طرف دیکھ تو لے اس سے بات تو کرلے۔ اور اس ذہنی کشمکش کو بڑے خوبصورت اندا ز میں مصنفہ نے پیش کیا ہے۔اس کے وہ اپنی ماں کی بھر پور نفرت کے باوجود وہ بڑے چچا سے محبت رکھتی ہے۔ گھر میں اسرار میاں کے ساتھ ہونے والے ناروا سلوک پر ا±س کا دل کڑتا ہے۔ جو کہ ا±س کو ایک اچھے ذہن اور نرم دل کا کردار ثابت کرتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عالیہ کا کردار اردو ادب کا زندہ جاوید کردار ہے جس میں مصنفہ نے فن کردار نگاری کے تمام اصولوں کو برتا ہے۔
خدیجہ مستور کا یہ ناول جہاں کردار نگاری کا ایک مکمل باب ہے وہاں مکالمہ نگاری بھی کمال کی ہے۔ مکالمہ نگاری کرتے وقت خدیجہ مستور نے کردار وں کی ذہنی حیثیت و کیفیت کا خوب خیال رکھا ہے ان کے لکھے ہوئے سبھی مکالمے کرداروں کی شخصیت پسند و ناپسند اور محبت و نفرت کی بھر پور عکاسی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ مثا ل کے طو ر پر کسم دیدی کا خاوند وطن کی کی آزادی کے لئے لئے قربان ہو جاتا ہے۔ تو کسم دیدی عالیہ کی ماں سے کہتی ہے۔
” انھیں اگرمجھ سے محبت ہوتی تو کبھی نہ جاتے۔ انہیں توصرف اپنے دیش سے محبت تھی۔“
اس طرح مسز ہاروڈ کی گلابی اردو سے بھی انداز ہ ہوتا ہے کہ واقعی کوئی انگریز خاتون بول رہی ہے۔ یہی وہ مقام ہے کہ جہاں اس ناول کے مکالمے انتہائی فطری معلوم ہونے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر
”ہم آپ لوگوں سے مل کر بہت کھوش ہوا ہے۔“
”تم ہمارے پاس بیٹھنا مانگتا عالیہ“
اس کے علاوہ غصے کی وجہ سے فطری ضرورت کے تحت غصیلے کردار ایک دوسرے کے مقام کا پاس نہیں رکھتے مثلاً جب بڑی چچی کہتی ہے
” ارے اس کے بابا کو ہوش ہی کہاں ، جو اس کے دو بول پڑھا کر ٹھکانے لگا دے۔“
ناول کا پلاٹ اور منظر نگاری بھی خوب ہے۔
کسم دیدی کا خاوند جلیانوالہ باغ کے جلسے میں مارا جاتا ہے تواس کے بعد اپنے خاوند کی جدائی کے صدمے میں وہ جس طرح مبتلا رہتی ہے اس سے پتہ چلتا ہے کہ واقعی کسم دیدی محبت ، ایفا، اور وفا کی ایک عظیم دیوی ہے۔ اس کے یہ بول
”جو میں جانتی بچھڑت ہو پیا گونگھٹ میں آگ لگا دیتی “
مگر کسم دیدی کے حوالے سے ناول نگار نے انتہائی حقیقت نگاری اور نفسیات نگاری کا مظاہر ہ کرتے ہوئے۔ یہ تلخ حقیقت ظاہر کر دی ہے کہ وہی کسم دیدی جو اپنے خاوند کی یاد میں دن رات روتی تھی ،آخر ایک غیر مرد کے ساتھ گھر سے بھاگ جاتی ہے۔ اس مقام پر خدیجہ مستور نے یہ نفسیاتی حقیقت ظاہر کی ہے کہ محبت اور عورت و مرد کی قربت ایک فطری جذبہ ہے۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر نہیں رہ سکتے۔

ناول سے اقتباس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پاکستان بن گیا۔لیگی رہنما کراچی دارلحکومت جا چ±کے تھے۔مشرقی پنجاب میں خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی۔بڑے چچا اس صدمے میں جیسے نڈھال سے ہوگئے تھے۔بیٹھک میں بیماروں کی طرح وہ ہر ایک سے پوچھتے رہتے : یہ کیا ہورہا ہے ؟
یہ کیا ہوگیا ؟
جب وہ یہ سب کچھ عالیہ سے پوچھتے،تو وہ ا±ن کا سر سہلانے لگتی۔بڑے چچا آپ آرام کیجئے،آپ تھک گئے ہیں بڑے چچا، اور بڑے چچا اس طرح آنکھیں بند کرلیتے جیسے خون کی ندی اِن کی آنکھوں کے سامنے بہہ رہی ہو۔
کریمن بوا فساد کی خبریں س±ن س±ن کر ٹھنڈی آہیں بھرا کرتیں اپنے شہر میں فساد تو نہ ہوا تھا مگر سب کی جان پر بنی رہتی تھی کہ پتا نہیں کب کیا ہوجائے۔
کہاں ہوگا میرا شکیل ؟ بمبئی میں فساد کی خبر س±ن کر بڑی چچی بلکنے لگیں۔
تمہارا پاکستان بن گیا جمیل،تمہارے ابّا کا م±لک آزاد ہوگیا ،پر میرے شکیل کو اب کون لائے گا ؟
سب ٹھیک ہو جائے گا امّاں ،وہ خیریت سے ہوگا۔یہ فساد وساد تو چار دن میں ختم ہوجائیں گے،جمیل بھیا اِن کو سمجھاتے مگر اِن کا چہرہ فق رہتا۔
شام کو سب لوگ خاموش بیٹھے چائے پی رہے تھے کہ ماموں کا خط آ گیا۔ا±نہوں نے امّاں کو لکھا تھا کہ ا±نہوں نے اپنی خدمات پاکستان کے لئے وقف کردی ہیں اور وہ جلد ہی جا رہے ہیں۔اگر آپ لوگوں کو چلنا ہو تو فوراً جواب دیجئے اور تیار رہیئے۔
بس ابھی تار دے دو جمیل میاں،ہماری تیاری میں کیا لگے گا،ہم تو بس تیار بیٹھے ہیں،ہے ! اپنا بھائی ہے بھلا ہمیں اکیلا چھوڑ سکتا ہے ؟مارے خوشی کے امّاں کا منہ سرخ ہورہا تھا۔
جمیل بھیا نے اس طرح گھبرا کر سب کی طرف دیکھا جیسے فساد اِن کے دروازے پر پہنچ گئے ہوں،مگر آپ کیوں جائیں گی چھوٹی چچی ؟
آپ یہاں محفوظ ہیں۔۔میں آپ کے لئے اپنی جان دے دوں گا،انہوں نے آج بڑی مدّت بعد عالیہ کی طرف دیکھا،کیسی سفارشی نظریں تھیں ،مگر عالیہ نے اپنی نظریں جھکا لیں۔
میں نہ جاو¿ں تو کیا ہندوو¿ں کے نگر میں رہوں،پاکستان میں اپنوں کی حکومت تو ہوگی،پھر میں اپنے بھائی کو چھوڑ کر ایک منٹ زندہ نہیں رہ سکتی۔۔۔۔واہ،مارے خوشی کے امّاں سے نچلا نہ بیٹھا جارہا تھا۔
عالیہ جانے پر راضی نہیں ہوگی چھوٹی چچی،وہ نہیں جائے گی،وہ جا ہی نہیں سکتی،جمیل بھیا نے جیسے نیم دیوانگی کے عالم میں کہا۔
تم اچھے حقدار آگئے،کون نہیں جائے گا۔۔۔امّاں ایک دم بھپر اٹھیں۔
تم ہوتے کون ہو روکنے والے ؟
ضرور جائیے چھوٹی چچی،جمیل بھیا نے سر جھکا دیا ،اور عالیہ کو ایسا محسوس ہوا کہ وہ نہیں جاسکتی،صدیاں گزر جائیں گی مگر وہ یہاں سے ہِل بھی نہ سکے گی۔
میں ابھی تار کئیے دیتا ہوں کہ سب تیار ہیں،جمیل بھیّا ا±ٹھ کر باہر چلے گئے۔
عالیہ کا جی چاہا کہ وہ چیخ چیخ کر اعلان کرے کہ وہ نہیں جائے گی،وہ نہیں جا سکتی،ا±سے کوئی نہیں لے جا سکتا مگر ا±س کے گلے میں تو سینکڑوں کانٹے چبھ رہے تھے ،وہ ایک لفظ بھی نہ بول سکی ،اس نے ہر طرف دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں،مگر وہ کیوں رکے کس کے لئے؟؟؟اس نے سوچا اور پھر جیسے بڑی سکون سے چھالیہ کاٹنے لگی۔عالیہ بیگم اگر تم رہ گئیں تو ہمیشہ کے لئے دلدل میں پھنس جاو¿ گی۔

 

 

 

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s