میں اب اس حرف سے کترا رہی ہوں


منصور مہدی

یاسمین حمید نئے اور منفرد لہجے کی شاعرہ ہیں۔ان کی شاعری ان کے شعری افق کو وسیع کرتی ہے۔ آپ زندگی کی عام جہتوں کو خصوصی نظر سے دیکھتی ہیں اور پھر اسے پوری شعری قوت کے ساتھ بیان کرتی ہیں۔انھوں نے جدید شاعری کو ایک نیا وقار بخشا ہے۔ آپ شاعرہ کے ساتھ ساتھ ترجمہ نگار بھی ہیں۔ آپ کا تعلق لاہور سے ہے۔ آپ تعلیم ، ادب اور آرٹ کے شعبوں میں گذشتہ 25سال سے زائد عرصے سے منسلک ہیں۔ آپ نے 1970میںلاہور کالج آف ہوم اکنامکس سے گریجویشن کیا اور 1972میں پنجاب یونیورسٹی سے نیوٹریشن میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔آپ کی اب تک 5کتابیں شائع ہوچکی ہیں جن میں شاعری کی پہلی کتاب 1988میں شائع ہوئی ۔ انگریزی زبان میں بھی کتب لکھی جو زیادہ تر اردو شاعری کا انگریزی میں ترجمہ ہیں۔ ان کا انگریزی کا کام پاکستان اکیڈمی آف لیٹر اور آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کے زیر اہتمام شائع ہوا۔ 1995میں لندن میں حکومت پاکستان کے زیر اہتمام ہونے والے ثقافتی فیش شو کے سکرپٹ انگریزی زبان میں تحریر کیے۔ جبکہ 1996میں واشنگٹن میں ہونے والے ثقافتی فیشن شو کا سکرپٹ بھی آپ نے لکھا۔ 1996میں ورلڈ کپ فیسٹیول کا سکرپٹ بھی یاسمین نے تحریر کیا ۔ جبکہ ڈیلی ڈان میں بھی کالم نگاری کرتی رہی۔ پاکستان ٹیلی ویژن سے بھی کافی عرصہ منسلک رہی اور وہاں بیسیوں دانشوروں اور مصنفین کے انٹرویو کیے۔ آپ نے ڈیفنس کے علاقے میں بچوں کا سکول بھی قائم کیا۔ آپ آجکل لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائینسز کے شعبہ Humanities and Social Sciences سے منسلک ہیں۔معروف استاد شاعر شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں کہ” جب یاسمین حمید کی کتاب ‘” پس آئینہ” کی نظموں اور غزلوں کے ذریعے یاسمین حمید کے کلام سے ملاقات ہوئی تو ایک خوشگوار تعجب کا احساس ہواتھا۔ ہمارے زمانے میں عورت شعرا کے ساتھ ایک نئی مشکل یہ ہے کہ پڑھنے والے، بلکہ نقاد بار بار پوچھتے ہیں کہ عورت کی حیثیت سے وہ دنیا کو کیسا دیکھتی ہے اور دنیا کے بارے مین کیا سوچتی ہے؟ کوئی شک نہیں کہ یہ سوال غلط ہے۔لیکن کسی شاعر کے بارے میں پہلا سوال یہ ہونا چاہیے کہ وہ شاعر کیسا ہے اور یہ سوال بلا لحاظ مذہب و جنس پوچھا جاتا ہے۔ آج کی بہت سے عورت شاعروں کو میں اس کشمکش میں غیر شعوری طور پر مبتلا دیکھتا ہوں کہ وہ اپنا پیغام اپنے کلام میں ضرور داخل کر دیں، تاکہ کسی کو شک نہ ہو کہ انھوں نے اپنے تانیثی تشخص کے ساتھ بے انصافی تو نہیں کی ہے۔ یاسمین حمید کا جو مجموعہ میرے ہاتھ لگا اس نے مجھے کسی شک میں نہ رکھا تھا کہ یہ حسیت، یہ خاموش، متین لیکن درد میں رچا ہوا لہجہ عورت ہی کا ہوسکتا ہے۔ لیکن ذرا زیادہ غور کیا تو محسوس ہوا کہ اس شاعر کا اصل کمال یہ ہے کہ وہ تانیثی حسیت کو بے پردہ نہیں کرتی۔ اس کی شاعری پر عورت پن کا خود کار ٹھپہ نہیں ہے۔وہ عورت بھی ہے اور دکھ اٹھاتے ہوئے ، امید و بیم سے لڑتے ہوئے، خوف اور دہشت اور عالم گیر تاجرانہ سماج کے دباﺅ میں جینے کی کوشش کرتے ہوئے جدید انسان کی بھی ترجمان ہے ۔وقت کے ساتھ ساتھ یاسمین حمید کے کلام میں بعض نئی جہتیں پیدا ہوئی ہے، مثلاً سیاست ان کے لیے ایسی حقیقت کا روپ اختیار کر چکی ہے جو گندے دھوئیں کی طرح عالم انسانی پر محیط ہے۔ لیکن سیاست ان کے یہاں موضوع سخن نہیں، بہانہ سخن ہے اور یہی بات ان کی شاعرہ مہارت اور استعاراتی نگاہ کی دلیل ہے”

آپ کی شاعری کی کتب درج ذیل ہے۔

پس آئینہ ۔۔۔۔ 1988
حصار بے در ودیوار ۔۔۔۔۔1991
آدھا دن اور آدھی رات ۔۔۔۔۔1996
فنا بھی ایک سراب ۔۔۔۔۔2001
دوسری زندگی ۔۔۔۔۔2007

آپ کو شاعری اور ادب میںملنے والے ایوارڈز کی تفصیل
2008میں آپ صدر مملکت کی جانب سے ادب میں خدمات سرانجام دینے پر” ستارہ امتیاز” عطا کیا گیا۔
2006میںپنجاب حکومت کی جانب سے ادب میں فاطمہ جناح میڈل دیا گیا۔
2001میں ” فنا بھی ایک سراب” شائع ہونے “احمد ندیم واسمی ایوارڈ “ملا۔
1997میں ہجرہ ایوارڈ ملا۔
1996میں” آدھا دن اور آدھی رات “شائع ہونے پر” ڈاکٹر علامہ اقبال ایوارڈ “ملا۔

منتخب شاعری

شام سے پہلے بجھایا مرا سورج تم نے

تھا جو یادوں کا خزانہ مرے گھر پر رکھا
اس کی خاطر نہ کبھی پاو¿ں سفر پر رکھا

پوچھتا ہے یہ ترے شام و سحر کی بابت
یاد کا لمحہ جو ہے دیدہء ِ تر پر رکھا

ایک پل ہوگا فقط دید کا’ جسکی خاطر
میں نے صدیوں کو تری راہگزر پر رکھا

توڑ دے یا اسے خورشید کا ہمسر کر دے
ایک شیشہ ہوں ترے دستِ ہنر پر رکھا

شام سے پہلے بجھایا مرا سورج تم نے
اور الزام یہ آئینِ سحر پر رکھا

٭٭٭٭٭

بس ذرا ان سے دوستی کم ہے

آج اندر بھی روشنی کم ہے
اور دریچے کا پاٹ بھی کم ہے

کس لیے ہاتھ باندھ دوں اس کے
کیا مجھے اپنی بے بسی کم ہے

وقت کٹتا نہیں کسی صورت
لوگ کہتے ہیں زندگی کم ہے

اس کی چاہت کا روپ تھا شاید
آج چہرے پہ تازگی کم ہے

دشمنی تو نہیں ہے لوگوں سے
بس ذرا ان سے دوستی کم ہے

٭٭٭٭٭
اب کوئی مجھ کو ڈھونڈتا بھی نہیں

کیا ہوا کوئی سوچتا بھی نہیں
اور کہنے کو کچھ ہوا بھی نہیں

جیسے گم ہو گئی شناخت میری
اب کوئی مجھ کو ڈھونڈتا بھی نہیں

ایساخاموش بھی نہیں لگتا
اور کچھ منہ سے بولتا بھی نہیں

چاہتا ہے جواب بھی سارے
اور کچھ مجھ سے پوچھتا بھی نہیں

داد دیتا ہے جیتنے پہ مجھے
اور کبھی مجھ سے ہارتا بھی نہیں

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s