میں نے کانوں میں پہن لی ہے تمہاری آواز


میں نے کانوں میںپہن لی ہے تمہاری آواز
اب مرے واسطے بیکار ہیں چاندی سونا

منصور مہدی
برطانیہ میں شاعری کے آسمان پر چمکنے والے ستاروں میں ایک درخشاں ستارہ فرزانہ نیناں ہیں۔ جو اردو شاعری میں ایک معتبر نام سے پہچانا جاتا ہے۔ متنوع صلاحیتوں کی مالک فرزانہ خان نیناں کا تعلق پاکستان کے صوبہ سندھ کے ایک معروف خاندان سے ہے۔
رشتہءازدواج میں منسلک ہونے کے بعد یہ برطانیہ کے شہر نوٹنگھم میں آباد ہوئیں۔جہاں پہلے انھوں نے شعبہ ٹیلی کمیونیکیشن میں بطور انسپکٹر ملازمت کی،پھر ٹیچرز ٹریننگ اور بیوٹی کنسلٹنٹ کی تعلیم حاصل کی اور مقامی کالج میں ٹیچنگ کے شعبے سے وابستہ ہوگئیں ساتھ ہی میڈیا اور جرنلزم کے کورسز میں ڈپلوما بھی کیے یوں مقامی ریڈیو اور ٹیلی ویڑن سے بھی وابستگی ہوئی، ان کے پیش کردہ پروگرام خصوصی خوبیوں کی بنا پر دلچسپ اور معلوماتی ہوتے ہیں اور اپنے انداز کی وجہ سے یورپ بھر میں بیحد مقبول ہیں۔
فرزانہ نیناں اپنی گھریلو مصروفیات کے علاوہ مجلسی اور معاشرتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں اور اپنی ادبی تنظیم نوٹنگھم آرٹس اینڈ لٹریری سوسائٹی کے تحت کئی برس سے مشاعرے و دیگر تقریبات بخوبی منعقد کرواتی رہتی ہیں جو کہ ان کی خوش سلیقگی و خوب ادائیگی کی بھرپور آئینہ دار ہیں۔
شاعری کا رجحان انھیں اپنے چچا سے ملا۔ ان کے چچا محمد سارنگ لطیفی سندھی زبان کے مشہور شاعر، صحافی اور ڈرامہ نویس تھے۔ابتدا میں انھوں نے نثری کہانیاں لکھیں اور نظم سے شاعری کا آغاز کیا۔ فرزانہ نیناں اپنی اسی نثری خصوصیات کی بدولت کتابوں پر تبصرہ جات اور کالم بھی ایسے دلچسپ لکھتی ہیں کہ پڑھنے والے مزید کا تقاضہ کرتے ہیں۔ نیناں نے اپنے خاص نسائی لہجے و منفرد انداز شعرگوئی کی بدولت اہلِ ذوق کو اپنی جانب متوجہ کر کے برطانیہ کی مسلمہ شاعرات کے طبقے میں اپنا معتبر مقام بنا یا ہوا ہے۔
ان کے ہم عصر شاعروں کا کہنا ہے کہ ان کا پہلا شعری مجموعہ”درد کی نیلی رگیں“ جب سے منظرعام پر آیا ہے نے تخلیقی چشمے میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا ہے۔ منفرد نام کی طرح مجموعے کی کتابی شکل و صورت میں بھی انفرادیت ہے۔ ایک ہی رنگ کا استعمال شاعری میں جس انداز سے منفرد ہوا ہے وہ اب سے پہلے کسی نے نہیں پیش کیا۔ پوری شاعری میں محسوسات کو تمثیلوں کے ذریعے تصویروں کی طرح اجاگر کیا گیا ہے۔ اشعار میں جذبوں سے پیدا ہونے والی تازگی بدرجہ اتم جھلکتی ہے۔ ہر مصرعے اور ہر شعر پر ان کے رنگ کی خاص نسائی چھاپ موجود ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔

آخری خواہش

ندی کنارے خواب پڑا تھا،
ٹوٹا پھوٹا، بے سد ھ ، بیکل
لہریں مچل کراس کو تکتیں،
سانجھ سویرے، آ کر پل پل
سیپی چنتے چنتے میں بھی جانے کیوں چھو بیٹھی اس کو
یہ احساس ہوا کہ ا±س میں، روح ابھی تک جاگ رہی ہے
ہاتھ کو میرے اس کی حرارت دھیرے دھیرے تاپ رہی ہے
تب آغوش میں اس کو ا±ٹھایا،
اک اوندھی کشتی کے نیچے ، تھوڑا سا رکھا تھا سایہ
نرم سی گیلی ریت کا میں نے بستر ایک بچھایا
سانس دیا ہونٹوں سے اس کو
تب کچھ ہوش میں آیا
پھر اکھڑے اکھڑے جملوں میں اس نے یہ بتلایا
پھینک گئے ہیں اس کو اپنے ، سنگی ساتھی بھائی،
سن کر اس کی پوری کہانی،دیر تک مجھ کو سانس نہ آئی
آخری خواہش مجھ کو دے کر،
نیناں میں چاہت کو سمو کر
نیند ہمیشہ کی جا سویا،
اپنے دکھ کو مجھ میں بویا
پلک پلک، موتی بنتی ہوں،
سارے بدن کو پھونک چکی ہوں
لیکن میری ،روح بچی ہے
دور اسی ندیا کے کنارے ، آج بھی بیٹھی سوچ رہی ہے
شاید سیپیاں چنتے چنتے ، کوئی مجھے چن کر لے جائے
ٹھنڈی ریت پہ خواب بچھائے
میرے بند پپوٹے چھوکر،
شاید وہ،اوجھل ہو جائے
گہری گہری جھیل کی تہہ سے ،
کبھی نہ باہر آ نے پائے۔۔۔!!!

٭٭٭٭٭

پتھر کی لڑکی

اگر میں پتھر کی لڑکی ہوتی
تو اپنے پیکر کی سبز رت پر ،بہت سی کائی اگایا کرتی
بہت سے تاریک خواب بنتی
تو میں اذیت کی ملگجی انگنت اداسی کے رنگ چنتی
اگر میں پتھر کی لڑکی ہوتی

میں اپنے پلو میں سوگ باندھے ، کسی کو ان کا پتہ نہ دیتی
اجالے کو ٹھوکروں میں رکھتی، خموشیوں کے ببول چنتی
سماعتوں کے تمام افسون، پاش کرتی، میں کچھ نہ سنتی
دہکتی کرنوں کا جھرنا ہوتی
سفر کے ہر ایک مرحلے پر، میں رہزنوں کی طرح مکرتی
وہم اگاتی،گمان رکھتی
تمہاری ساری وجاہتوں کو میں سو طرح، پارہ پارہ کرتی
نہ تم کو یوں آئینہ بناتی

اگر میں پتھر کی لڑکی ہو تی۔۔ !!۔

٭٭٭٭٭

میں چھوٹی سی لڑکی بہت ہی بڑی ہوں

میں چھوٹی سی لڑکی بہت ہی بڑی ہوں
کہ ہر جنگ اپنی ا کیلی لڑی ہوں

بدن کی چٹانوں پہ کائی جمی ہے
کہ صدیوں سے ساحل پہ تنہا کھڑی ہوں

ہوا کے ورق پر لکھی اک غزل تھی
خزاں آئی تو شاخ سے گر پڑی ہوں

ملی ہیں مجھے لحظہ لحظہ کی خبریں
کسی کی کلا ئی کی شاید گھڑی ہوں

ہے لبریز دل انتظاروں سے میرا
میں کتبے کی صورت گلی میں گڑی ہوں

خلا سے مجھے آ رہی ہیں صدائیں
مگر میں تو پچھلی صدی میں جڑی ہوں

میں اک گوشہ عافیت سے نکل کر
وہ پگلی ہوں، دنیا سے پھر لڑ پڑی ہوں

وہ کرتا ہے نیناں میں بسنے کی باتیں
مگر میں تو اپنی ہی ضد میں پڑی ہوں

٭٭٭٭٭

بس اداس رہتے ہو

ہر گھڑی نجانے کیوں آس پاس رہتے ہو
تم عجیب موسم ہو بس اداس رہتے ہو
کچھ بھرم تو رکھنا ہے اپنے دل کی دھڑکن کا
تم مرے نہیں لیکن میرے پاس رہتے ہو
میں تو ایک لڑکی ہوں قید میں محبت کی
تم کو کیا ہوا صاحب کیوں نراس رہتے ہو
ایک دن بچھڑنا ہے جانتی ہوں میں لیکن
تم ابھی سے کیوں آخر بد حواس رہتے ہو
کیا کوئی نئی لڑکی آگئی ہے دفتر میں
آج کل زیادہ ہی خوش لباس رہتے ہو
حوصلہ نہیں مجھ کو تم کو یہ بتانے کا
جھیل جیسے نیناں میں مثل پیاس رہتے ہو

٭٭٭٭٭

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s