کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے


منصور مہدی
فہمیدہ ریاض بھی کیا خوب شاعرہ اور نثر نگارہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی ساتھ کیا خوب شخصیت کی مالک ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فنکار کو ہر حوالے سے آزاد ہونا چاہےے۔ اس لیے اپنی نظموں میں وہ کبھی حقوق نسوں کی تحریک کی لیڈر نظرآتی ہے اور کبھی جنسی محبت کرنے والی ایک بے باک لڑکی۔ دراصل جو وہ سوچتی ہیں اسے بیان کر دیتی ہیں خصوصاً اس معاشرے میں عورت کا جیسا جنسی استحصال ہوتا ہے وہ سب بیان کردیتی ہیں۔ انھیں کسی مشرقیت اوراس کے نظام سے کوئی سروکار نہیں۔ وہ اس سسٹم کے خلاف ہیں اور اسے ختم کرکے ایک نئے نظام کی بات کرتی ہےں اسی لیے انھیں پرانی کہانیاں بہت فرسودہ نظرآتی ہیں۔
فہمیدہ ریاض 28جولائی1945ءکو بھارتی شہر میرٹھ میں پیدا ہوئیں۔ان کے والدین14اگست1947سے پہلے ہی سندھ میں آ کر آباد ہوگئے تھے چنانچہ فہمیدہ نے کالج تک کی تعلیم حیدرآباد میں حاصل کی پھر 1967میںانگلینڈ چلی گئی۔ وہاں کچھ عرصہ انھوں نے بی بی سی میں کام کیا ۔” لندن سکول آف فلم ٹیکنیک” سے بھی تعلیم حاصل کی اور 1973ءمیں واپس وطن آگئیں۔پاکستان آکر ” آواز” نامی رسالہ نکالا۔ جنرل ضیاالحق کے زمانے میں اس میگزین پربہت سے مقدمات قائم ہوئے۔چنانچہ 1981میں یہ بھارت چلی گئیں جہاں ” آل انڈیا انسٹیٹیوٹ آف ہسٹوریکل ریسرچ” میں سینئر ریسرچ فیلو کے طور پر کام کرتی رہیں۔بھارت سے 1987میں واپس آگئیں اور اسلام آباد میں نیشنل بک کونسل آف پاکستان کی چیئرپرسن منتخب ہوئیں۔ منسٹری آف کلچرمیں بطور کنسلٹنٹ بھی کام کیا۔پھر1997میں ویمن اینڈ ڈیویلپمنٹ ایسوسی ایشن کے نام سے اپنی ایک این جی او بنا لی۔
فہمیدہ ریاض بچپن ہی سے تنہائی پسند تھیں اور کتابیں پڑھتی رہتی تھیں جبکہ اکیلے ہی کھیلنے کا شوق تھا ۔ ان کے والد کیونکہ محکمہ تعلیم میں تھے چنانچہ انہوں نے بڑی توجہ سے انھیں اردو پڑھنا سکھائی تھی۔ جب وہ پانچ سال کی تھی تو ان کے والدکا انتقال ہو گیا تھا لیکن تب تک وہ اردو پڑھنا سیکھ چکی تھیں۔
فہمیدہ ریاض نے سکول کے زمانے سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا۔ جبکہ1964میں کالج کے زمانے سے باقاعدہ شاعری شروع کی۔احمد ندیم قاسمی کے میگزین “فنون” میں ان کی ابتدائی نظمیں شائع ہوئیں جبکہ فہمیدہ اس میگزین میں کافی عرصہ لکھتی رہیں۔ فہمیدہ کا پہلا مجموعہ 1967میں”پتھر کی زباں”شائع ہوا۔ایوب خان کے دور میں جب “سٹوڈنٹ موومنٹ” شروع ہوئی تب انھوں نے بہت سی سیاسی نظمیں بھی تحریر کیں۔وہ نظمیں طالب علموں میں بہت مقبول ہوئی۔یہ دور ایک جدوجہد کا دور تھا ۔ نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں نظام تبدیل ہو رہے تھے چنانچہ ان کی نظموں میں بھی جدوجہد اور ولولہ تھا۔سماجی ناہمواری کو ختم کرنے کی خواہش تھی۔
فہمیدہ خود فیض احمد فیض ، احمد ندیم قاسمی ، مجروح سلطان پوری ، ساحر لدھیانوی کی شاعری سے بھی متاثر تھیں۔
اگر کیا کہا جائے کہ فہمیدہ ریاض ایک انقلابی شاعرہ تھیں تو غلط نہیں ہوگا۔ بھٹو صاحب کے دور میں بلوچستان میں ہونے والے فوجی آپریشن کے بارے میں انھوں نے ایک نظم لکھی جو بہت مقبول ہوئی۔
فہمیدہ ایک عرصہ تک لندن میں رہی تو ان کی نظموں میں وہاں کے ماحول کا اثر بھی پایا جاتا ہے جیسے ان کا مجموعہ ’بدن دریدہ‘ کو پڑھ کر تاثر ملتا ہے۔
فہمیدہ ریاض ریوڈیو پاکستان پر بھی پروگرام پیش کرتی رہیں ، ان کا پہلا پروگرام حیدر آباد ریوڈیو سے فوجی بھائیوں کے لیے پروگرام تھا۔جبکہ ریڈیو کے لیے بھی لکھتی رہیں۔
جبکہ فہمیدہ ریاض نے بچوں کے لیے بھی لکھا ہے۔ ان کی سندھ کی تاریخ کے حوالے سے بچوں کے لیے بھی کتاب لکھی ہے۔
فہمیدہ نے شاعری اور نثر نگاری کے علاوہ فارسی سے اردو زبان میں بھی کتابیں ترجمہ کی ہیں۔ جلال الدین رومی کی مثنوی کا اردو ترجمہ کیا جبکہ شاہ عبدالطیف بھٹائی اورشیخ ایاز کی سندھی کتابوں کا اردو میں ترجمہ کیا۔
فہمیدہ کی کتابیں۔۔
پتھر کی زبان، خطا مرمز، گوداوری، کیا تم پورا چاند نہ دیکھو گے، کراچی، گلابی کبوتر، بدن دریدہ، دھوپ، آدمی زندگی، کھلے دریچے سے، حلقہ میری زنجیر کا، ادھورا آدمی، پاکستان لٹریچر اور سوسائٹی، قافلے پرندوں کے، یہ کہنا آب و گل۔
ایوارڈ۔۔
ہیومن رائٹ واچ کی طرف سے ہیمٹ ہیلمین ایوارڈ برائے ادب
المفتہ ایواڈ برائے شاعری و ادب
شیخ ایاز ایوارڈ برائے ادب
صدارتی ایوارڈ برائے حسن کارکردگی برائے ادب و شاعری
ستارہ امتیاز

شاعری۔۔
شہر والو سنو ۔۔

اس بریدہ زباں شہر میں قصہ گو خوش بیاںآئے ہیں
شہر والو سنو! اس سرائے میں ہم قصہ خواں آئے ہیں

شہرِ معصوم کے ساکنو! کچھ فسانے ہمارے سنو
د±ور دیسوں میں ہوتا ہے کیا،ماجرے آج سارے سنو
وہ سیہ چشم،پستہ دہن،سیم تن، نازنیں عورتیں

وہ کشیدہ بدن، سبز خط ، خوش قطع، ماہ ر±و نوجواں
اور وہ جادوگری ان کی تقدیر کی
وہ طلسمات، سرکار کی نوکری

اک انوکھا محل
جس گزرا تو ہر شاہزادے کا سر، خوک کا بن گیا
درس گاہوں میں وہ جوق در جوق جاتے ہوئے نوجواں
وہ تبسم فشاں ان کی پیشانیاں، ہائے کھوئی کہاں
آن کی آن میں پِیر اتنے ہوئے
ضعف سے ان کی مژگاں تلک جھڑگئیں
جسم کی روح پر جھریاں پڑ گئیں
اور وہ شہزادیاں
کچی عمروں میں جو سیر کرنے گئیں
باغ کا وہ سماں
عشق کے پھول کھلتے ہوئے د±ور تک ریشمی گھاس میں
وہ فسوں ساز خوشبو، بھٹکتی ہوئی ان کے انفاس میں
افسروں اور شاہوں کی آغوش میں
ان کے نچلے بدن کیسے پتھرا گئے

وہ عجب مملکت
جانور جس پہ مدت سے تھے حکمراں
گو رعایا کو اس کا پتہ تک نہ تھا
اور تھا بھی تو بے بس تھے ، لاچار تھے
ان میں جو اہل ِ دانش تھے، مدت ہوئی مر چکے تھے
جو زندہ تھے، بیمار تھے

کچھ عجب اہل ِ فن بھی تو تھے اس جگہ
سامری سِحر کے روگ میں مبتلا
خلعتِ شاہ تھی ان کی واحد دوا
بیشتر قابِ سلطان کے خوشہ چیں
گیت لکھتے رہے، گیت گاتے رہے
عہدِ زرّیں کے ڈنکے بجاتے رہے

کن وزیروں سے ان کی رقابت رہی
اور کام آئی کس کس کے جادو گری
شاہ کا جب کھٹولا اڑایا تو پھر
کیا ہوئی وہ پری

جمع کرتے تھے ہم
ایک رنگیں فسانہ، عجب داستاں
آستینوں میں دفتر نہاں لائے ہیں
شہر والو سنو

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s