تاریخ روضہ امام حسین علیہ السلام


منصور مہدی

کربلا کا واقعہ تاریخ اسلام کا بڑا افسوسناک حادثہ تھا۔ اس واقعہ کی خبر اللہ نے حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو کر دی تھی۔ چنانچہ روایات میں آتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنی زوجہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو ایک شیشی میں کچھ مٹی دے کر فرمایا تھا کہ یہ اس جگہ کی مٹی ہے جہاں میرے نواسے کو شہید کیا جائے گا۔ جب وہ شہید ہوگا تو یہ مٹی خون کی طرح سرخ ہو جائے گی۔ کربلا کے واقعے کے وقت حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا زندہ تھیں اور جس وقت امام حسین علیہ السلام شہید ہوئے یہ مٹی خون کی طرح سرخ اور مائع ہو گئی تھی۔ اسلامی تاریخ کو کسی اور واقعہ نے اس قدر اور اس طرح متاثر نہیں کیا کہ جتنا سانحہ کربلا نے کیا۔حضرت امام حسین علیہ السلام محض اسلامی اصولوں اور قدروں کی بقا و بحالی کے لیے میدان عمل میں اترے ، راہ حق پر چلنے والوں پر جو کچھ میدان کربلا میں گزری وہ جور جفا ، بے رحمی اور استبداد کی بدترین مثال ہے۔ یہ تصور ہی کہ اسلام کے نام لیواو¿ں پر یہ ظلم خود ان لوگوں نے کیا جو خود کو مسلمان کہتے تھے بڑا روح فرسا ہے مزید براں امام حسین کا جو تعلق آنحضور سے تھا اسے بھی ظالموں نے نگاہ میں نہ رکھا۔ نواسہ رسول کو میدان کربلا میں بھوکا پیاسا رکھ کر جس بے دردی سے قتل کرکے ان کے جسم اورسر کی بے حرمتی کی گئی اخلاقی لحاظ سے بھی تاریخ اسلام میں اولین اور بدترین مثال ہے۔

حضرت امام حسین کا مزار مبارک عراق کے شہر کربلا میں ہے۔ کربلا جانے کے دو راستے ہیں ایک تو بغداد سے براستہ موصل اور دوسرے نجف سے کربلا کیلئے سڑک آتی ہے۔ جونہی کربلا شہر کے قریب پہنچتے ہیں تو دور سے ہی مزار کے مینار نظر آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ موجودہ مزار کی بلندی 27میٹر ہے جبکہ 1.25میٹر کے فاصلے پر نیچے سے اوپر تک12کھڑکیاں ہیں۔ یہ دیواریں مکمل سونے اور اس کے 10 دروازے ہیں۔ جبکہ مزار کے اندر جہاں پر تابوت ہے وہ جگہ75میٹر طویل اور59میٹر چوڑی ہے اور اس کے10دروازے ہیں۔ بیرونی دیوار میں دو مرکزی دروازے ہیں جن کے اندر65کمرے بنے ہوئے ہیں۔

واقعہ کربلا کے بعد حضرت امام حسین علیہ السلام کے مزار مبارک کی تاریخ بھی نشیب و فراز سے بھری پڑی ہے۔ حسین علیہ السلام سے محبت و عقیدت رکھنے والوں نے آپ کے مزار کو کب اور کن حالات میں تعمیر کروایا اور اس کی تزئین و آرائش کی جبکہ حسین علیہ السلام کے مخالفوں کو بھی جب موقع ملا تو انھوں نے اسے نقصان پہنچانے اور گرانے سے اجتناب نہ کیا۔اس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔

سن 61ہجری بمطابق10اکتوبر680عیسوی کو شہادت حضرت امام حسین علیہ السلام کے بعد حضرت عباس علمدار کی والدہ ماجدہ کے خاندان بنو اسد نے مزار حسین علیہ السلام بنانے کی ابتدا کی۔ انھوں نے قبر مبارک بنا کر اس پر ایک شامیانہ لگوایا جبکہ بنو اسد ہی کہ ایک شیخ نے وہاں شمع روشن کی اور کچھ فاصلے پر ایک بیری کا درخت لگوایا۔ سن 65ہجری بمطابق684 عیسوی میں مختار ثقفی نے قبر مبارک پر ایک چھوٹا سا مزار تعمیر کروایا جس پر سبز رنگ کا علم بھی لگایا جبکہ ایک مسجد بھی تعمیر کروائی۔ مزار میں داخلے کے دو راستے رکھے گئے اور قریب ہی کچھ مکانات بنوائے گئے اور کچھ خاندانوں کو وہاں آباد کیا۔ سن132ہجری بمطابق 749عیسوی میںعباسی خلافت کے زمانے میں ابو عباس عبداللہ بن محمد اسفاح نے داخلے راستوں پر دو گیٹ تعمیر کرائے۔ سن 140ہجری بمطابق763میں بنو عباس کے خلیفہ ال منصور کے دور میں مزار کی چھت اور دیگر حصہ گروا دیا گیا۔ سن158ہجری مبطابق774عیسوی میں خلیفہ ال مہدی نے دوبارہ مزار تعمیر کروایا۔ سن 171ہجری بمطابق787عیسوی میں بنو عباس کے خلیفہ ہارون الرشید نے مزار مبارک کو گروا دیا اور تمام زمین ہموار کروادی تاکہ مزار کا نام و نشان بھی نہ رہے۔ کچھ عرصہ حکومت کی طرف سے زائرین کے اس علاقے میں آنے پر پابندی لگوا دی گئی مگر مزار سے ملحق بیری کے درخت سے زائرین مزار کا اندازہ کر لیا کرتے اور حاضری کے لیے آتے رہے ۔ جب ہارون الرشید کو اس کی اطلاع ملی تو اس نے بیری کا درخت بھی کٹوا دیا۔ سن 193ہجری بمطابق 808عیسوی کو خلیفہ ال امین نے مزار مبارک کو پھر سے تعمیر کروایا۔ سن236ہجری بمطابق850عیسوی میں خلیفہ ال متوکل نے مزار کو پھر سے گروا دیا اور وہاں پر ہل چلوا دیے۔ سن 247ہجری بمطابق861عیسوی میں خلیفہ المنتصیر کے حکم پر مزار کو پھر سے تعمیر کروایا گیا اور قبر مبارک کے گرد لوہے کے ستون تعمیر کروا کر چھت ڈلوائی گئی اور مزار سے ملحقہ مکانات بھی تعمیر کروائے۔ سن273ہجری بمطابق 886عیسوی میں ایک مرتبہ پھر مزار مبارک کو گروا دیا گیا۔ سن280ہجری بمطابق893عیسوی میں وہاں کے لوگوں پر مشتمل ایک مشترکہ کونسل نے مزار کو پھر سے تعمیر کروایا۔ سن307ہجری بمطابق977میں عباسی خلافت کے کمزور ہونے کے بعد فارس کے ایک حکمران خاندان بنی بویہ کے حکمران عضا الدولہ نے مزار کو پھر سے تعمیر کروایا۔مزار کے گرد بالکونیاں تعمیر کروائی اور کربلا شہر تعمیر کروایا اور شہر کی فصیل بھی تعمیر کروائی۔ جبکہ اسی خاندان کے عمران ابن شاہین نے مزار سے ملحقہ مسجد تعمیر کروائی۔ سن407ہجری بمطابق1016عیسوی میں کسی نے آگ لگا کر مزار کو تباہ کر دیا جس پر پھر سے مزار کی تعمیر ہوئی۔ سن620ہجری بمطابق1223عیسوی میں خلیفہ الناصر الدین اللہ نے مزار کی تزہین اور آرائش کروائی۔ سن757ہجری بمطابق1365عیسوی میں عراقی حکمران سلطان اویس نے مزار اور اس کی دیواریں ازسرنو تعمیر کروائے۔ جبکہ احاطہ کے گرد بھی دیوار تعمیر کروائی۔ 780ہحری بمطابق 1384عیسوی میں سلطان احمد بن اویس نے مزار کے دو مینار تعمیر کروائے اور مزار کے صحن میں بھی اضافہ کروایا۔ 920ہجری بمطابق1514عیسوی میں ایران کے بادشاہ شاہ اسماعیل اول نے لحد پر تابوت بنوایا۔1032ہحری بمطابق1622عیسوی میں عباس شاہ صفوی نے مزار کے تابوت کو کانسی اور تابنے کی ترئین و آرائش کراوئی اور گنبد پر ٹائلیں نصب کراوئیں۔ 1048ہحری بمطابق1638عیسوی میں سلطان مراد چہارم نے گنبد پر سفیدی کروا دی۔ 1155ہحری بمطابق1742عیسوی میں نادر شاہ افشار نے از سر نو مزار کی تزئین کروائی ۔ 1211ہجری بمطابق1796عیسوی میں آغا محمد شاہ قاجر نے گنبد پر سونے کی ملمعہ کاری کروائی۔ 1216ہجری بمطابق1801میں وہابی مکتبہ فکر کے لوگوں نے مزار پر حملہ کر دیا اور نہ صرف مزار کو نقصان پہنچایا بلکہ بے شمار سامان لوٹ لیا۔ 1232ہحری بمطابق1817عیسوی میںفتح علی شاہ قاجر نے مزار کو ازسرنو تعمیر کروایا۔ گنبد پر سونا کا کام کروایا اور جو وہابیوں کے حملے سے مزار کو نقصان پہنچا تھا اسے ٹھیک کروایا۔ 1283ہحری بمطابق1866میں ناصر الدین شاہ قاجر نے مزار کے صحن کو مزید وسعت دی۔ 1358ہجری بمطابق1939میںبوہرہ داﺅدی خاندان کی طرف سے مزار کی دیواروں پر چاندی کی ملمعہ کاری کروائی گئی جس پر سونے کا کام کیا ہوا تھا۔ 1360ہجری بمطابق1941میں بوہرہ داﺅدی خاندان کے طاہر صفی الدین نے مغربی میناروں پرنیچے سے اوپر تک خالص سونے کی ملمعہ کاری کروائی گئی۔ 1367ہجری بمطابق1948کو کربلا شہر کے ایڈمنسٹریٹر سید عبدالرسول الخالص نے مزار کے گرد پختہ سڑک تعمیر کروائی جبکہ صحن کو بھی مزید وسعت دی گئی۔ 1411ہجری بمطابق 1991عیسوی میں پرشین گلف وار کے بعد صدام حکومت کے خلاف ایک پر تشدد تحریک میں مزار کو نقصان پہنچا جس کا ازالہ1415ہجری بمطابق1994کو کیا گیا اور مزار کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کی گئی۔ 1425ہجری بمطابق2مارچ2004کوعاشورہ محرم کے دن مزار کے مرکزی دورازے کے قریب چھ بم دھماکے ہوئے جس میں 85زائرین جان بحق اور 230سے زائد زخمی ہوئے اورمزار کو نقصان پہنچا۔ پھر اسی سال یعنی2004کی15دسمبر کو مزار کے دروازے کے پاس ایک اور بم دھماکہ ہوا جس سے 7افراد جان بحق اوردروازے کو نقصان پہنچا۔ 1426ہجری بمطابق 5جنوری2006 کو حضرت عباس عملدار علیہ السلام اور حضرت امام حسین علیہ السلام کے مزارات کے درمیان ایک خود کش دھماکہ ہوا جس میں60زائرین جان بحق اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔ 1428ہجری بمطابق14اپریل2007کومزار سے تقریباً چھ سو فٹ کے فاصلے پر ایک خود کش حملہ ہوا جس کے نتیجے میں 36زائرین جاں بحق اور 160سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ دسمبر2007میں مزار کے صحن پر چھت تعمیر کیے جانے کا کام شروع ہوا۔1429ہجری بمطابق17مارچ2008کومزار کے قریبی بازار میں ایک خاتون خود کش بمبار نے حملہ کیا جس میں42زائرین جاں بحق اور 58سے زائد زخمی ہوئے۔ پھر11ستمبر2008میں مزار سے800فٹ کے فاصلے پر ایک خود کش حملہ ہوا جس میں متعدد زائرین جاں بحق اور زخمی ہوئے۔ 1430ہجری بمطابق12فروری2009کو حضرت امام حسین علیہ السلام کے چہلم کے موقع پر ایک بم دھماکہ ہوا جس میں 8زائرین جاں بحق اور 50سے زائد زخمی ہوئے۔ 1فروری 2010کو چہلم کے موقع پر مزار کے قریب ایک خاتون خود کش حملہ آور نے بم دھماکہ کیا جس میں 54زائرین جاں بحق اور سو سے زائد افراد زخمی ہو گئے۔ 3فروری2010کو پھر مزار کے قریب ایک بم دھماکہ ہوا جس میں 23زائرین جان بحق اور 147سے زائد زخمی ہوئے۔ پھر5فروری2010کو دو بم دھماکوں اور مارٹر اٹیک میں 42زائرین جاں بحق اور 150سے زائد زخمی ہوئے۔

Published

15-06-2010

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s