رکن یمانی


 خدا کے گھر میں پیدائش کا شرف صرف مولود کعبہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو ہی حاصل ہے۔

منصور مہدی
1996میں جب سعودی کنگ شاہ فہد کے دور میں خانہ کعبہ کی تعمیر نو ہوئی تومیڈیا پر نہ صرف خبریں شائع ہوئی بلکہ الیکٹرونکس میڈیا پر دستاویزی فلمیں بھی چلائی گئی جن میں خانہ کعبہ کی تعمیر کے مختلف مرحلہ وار مناظر دکھائے گئے۔ یہ فلمیں یو ٹیوب کے علاوہ دیگر سائٹوں پر اب بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
خانہ کعبہ کی معلوم تاریخ چار سے پانچ ہزار برس پرانی ہے۔ جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا۔ جسے بیت اللہ کا نام دیا گیا۔ یہ ایک مستطیل نما ایک کمرے پر مشتمل بغیر چھت کے عمارت تھی جس کے دونوں طرف دروازے کھلے تھے جو سطح زمین کے برابر تھے جن سے ہر خاص و عام کو گذرنے کی اجازت تھی۔ اس کی تعمیر میں 5 پہاڑوں کے پتھر استعمال ہوئے تھے جبکہ اس کی بنیادوں میں آج بھی وہی پتھر ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رکھے تھے۔ خدا کے گھر کا یہ انداز صدیوں تک رہا۔
خانہ کعبہ کی تعمیر و مرمت اکثر اداوار میں ہوئی اسلامی تاریخ میں پہلی بڑی تعمیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں اعلان رسالت سے قبل قریش نے 604ءمیں کی۔جس میں بیت اللہ کو مستطیل کی بجائے مکعب نما کر دیا۔ مغربی دروازہ بند کر دیا گیا اور مشرقی دروازے کو سطح زمین سے اونچا کر دیا۔ جبکہ دروازے کو تالہ بھی لگادیا گیا۔
دوسری بار685ءمیںحضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ والیٰ مکہ جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھےنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے بیت اللہ کو دوبارہ ابرہیمی طرز پر تعمیر کروایا۔ مگر عبدالملک بن مروان کے دور میںجب حجاج بن یوسف نے693ءمیں انہیں شکست دی اور مکہ پر قابض ہوا تو بیت اللہ کو دوبارہ قریشی طرز پر تعمیر کروا دیا اور اس پر غلاف چڑھانے کی روایت کا آغاز کیا ۔ جو اب تک چلا آ رہا ہے۔
خانہ کعبہ کے اندر تین ستون اور دو چھتیں ہیں۔ باب کعبہ کے متوازی ایک اور دروازہ تھا دیوار میں نشان نظر آتا ہے یہاں نبی پاک صلی اللہ وسلم نماز ادا کیا کرتے تھے۔ کعبہ کے اندر رکن عراقی کے پاس باب توبہ ہے جو المونیم کی 50 سیڑھیاں ہیں جو کعبہ کی چھت تک جاتی ہیں۔ چھت پر سوا میٹر کا شیشے کا ایک حصہ ہے جو قدرتی روشنی اندر پہنچاتا ہے۔ کعبہ کے اندر سنگ مرمر کے پتھروں سے تعمیر ہوئی ہے اور قیمتی پردے لٹکے ہوئے ہیں جبکہ قدیم ہدایات پر مبنی ایک صندوق بھی اندر رکھا ہوا ہے۔
1039ھ میں بارشوں اور سیلابی پانی سے جب خانہ کعبہ کی دیواریں گر گئی تو سلطان مراد خان نے خانہ کعبہ کی ازسرنو تعمیر کروائی۔
کعبہ کی موجودہ عمارت کی آخری بار 1996ءمیں تعمیر کی گئی تھی اور اس کی بنیادوں کو نئے سرے سے بھرا گیا تھا۔ کعبہ کی سطح مطاف سے تقریبا ً دو میٹر بلند ہے جبکہ یہ عمارت 14 میٹر اونچی ہے۔ کعبہ کی دیواریں ایک میٹر سے زیادہ چوڑی ہیں جبکہ اس کی شمال کی طرف نصف دائرے میں جوجگہ ہے اسے حطیم کہتے ہیں اس میں تعمیری ابراہیمی کی تین میٹر جگہ کے علاوہ وہ مقام بھی شامل ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے رہنے کےلئے بنایا تھا جسے باب اسماعیل کہا جاتا ہے۔
جبکہ اس عمارت پر ایک غلاف بھی چھڑایا جاتا ہے جسے غلاف کعبہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ہر 9 ذی الحجہ کو نیا غلاف چڑھایا جا تا ہے۔ پردوں کو رسوں سے باندھ کر اوپر اٹھا دیتے ہیں اور نیچے سے بیت اللہ شریف کے بڑے بڑے کالے رنگ کے پتھر دکھائی دیتے ہیں۔ غلاف کی سلائی اس طرح کی جاتی ہے کہ باب کعبہ حجراسود اور رکن یمانی کی جگی کھلی رہتی ہے۔ جبکہ حج کے ایام میں غلافِ کعبہ کو آدھا اوپر اٹھا دیا جاتا ہے۔
رکن یمانی خانہ کعبہ کا جنوبی کونہ ہے۔ایک کونہ رکن شامی، ایک رکن عراقی اور ایک رکن حجر اسود ہے۔
حجر اسود کی طرح رکن یمانی کا استلام مستحبات طواف میں سے ہے۔ تاہم رکن یمانی کی حد تک استلام سے مراد یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے یا صرف دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے رکن یمانی کو مس کرے۔ اور جب ہجوم کی وجہ سے اس کو مس کرنے سے عاجز ہو تو اشارہ سے اس کا استلام کیا جائے۔
جب 1996میں خانہ کعبہ کی جب آخری بار جدید مشینری اور آلات سے تعمیر ہوئی ۔تو اس کی تعمیر میں اچھا پتھر اور اعلیٰ میٹریل استعمال ہوا۔ 1996کی تعمیر کے تقریباً چار سال بعد لاہور کے رہائشی ایک شخص کا حج پر جانے کا اتفاق ہوا تو واپسی پر اس نے خانہ کعبہ کی خوبصور ت تعمیر اور اس میں استعمال ہونے والی اشیاءکے بارے بتلایا تو مجھے بہت حیرانگی ہوئی ۔ لیکن اس کی ایک بات نے مجھے حیرت زدہ کردیا کہ خانہ کعبہ کے جنوبی کونے کی دیوار جسے رکن یمانی کہا جاتا ہے میں ایک خاصا بڑا کریک ہے۔ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ کونہ ٹوٹ گیا ہے اور اس کی مرمت کی گئی ہے۔ اس کی مرمت میں دیوار کے میٹریل سے ہٹ کر دیگر میٹریل استعمال کیا گیا ہے اور اسے سٹیل کی بڑی بڑی کیلوں سے چوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔
میری حیرت میں کوئی کمی نہیں ہو رہی تھی کہ آخر کیا یہ کعبہ کا "نظر وٹو "ہے۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی خانہ کعبہ کا کونہ ٹوٹ گیا اور اس کی درست انداز میں مرمت بھی نہیں ہو سکی۔ میں نے بعد میں غور کیا تو سوچا کہ اس نے کچھ مبالغہ آمیزی سے شاید کام لیا ہے۔
مگر میری حیرت اس وقت دو چند ہوگئی جب یو ٹیوب پر میں نے خانہ کعبہ کی وڈیوز دیکھی جن میں رکن یمانی کی بھی وڈیوز شامل ہیں اور حقیقت میں رکن یمانی میں کریک ہیں۔ دیوار وہاں سے ٹوٹی ہوئی ہے جسے بڑی بڑی کیلوں سے آپس میں کونے کو جوڑا ہے ۔ اور ایسا لگتا ہے کہ دیوار کا یہ جوڑ کچھ ہی عرصے بعد جوڑنے کے بعد پھر ٹوٹ جاتا ہے جس کی پھر مرمت کر دی جاتی ہے۔
رکن یمانی کی مرمت کا کام ایک عرصے سے جاری ہے اور اب بھی ہوتا رہتا ہے۔ خدا کے گھر کے اس کونے میں آخر کیا ایسی بات پوشیدہ ہے کہ ” لاکھ بار چھپانے سے بھی نہیں چھپتی”
میں نے تاریخ کا مطالعہ جاری رکھا تو پتا چلا کہ رکن یمانی سے متعلق تواریخ میں اور بھی بہت سی باتیں درج ہیں۔
رکن یمانی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ یہ جنت کا دروازہ ہے ( رکن یمانی اور حجر اسود دونوں جنت کے دروازے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رکن یمانی پر دو فرشتے ہیں جو وہاں سے گذرنے والے کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔( حالانکہ بظاہر خانہ کعبہ کے اس کونے پر کسی بھی دور میں کوئی دروازہ نہیں رہا)۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کے مطابق اگر رکن یمانی جنت کا دروازہ ہے تو پھر یہ بات ٹھیک ہے کہ دروازے کو کون بند کر سکتا ہے؟ رکن کمانی کی جب بھی (بند) مرمت کی گئی تو اس میں کریک آ جاتا ہے۔
رکن یمانی سے متعلق ایک اور اہم واقعہ ہجرت نبوی سے 23برس قبل کا ہے۔
عباس بن عبدالمطلب کا کہنا ہے کہ بروز جمعہ بمطابق13 رجب، 30عام الفیل کو ” میں اور بریدہ بن قعنب بنی ہاشم و بنی عبد العزی کے دیگر افراد کے ساتھ خانہ کعبہ کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک فاطمہ بنت اسد خانہ کعبہ کے( رکن یمانی) کی طرف آئیں۔ وہ نو مہینے کی حاملہ تھیں اور انھیں درد زہ اٹھ رہا تھا۔ وہ خانہ کعبہ کے برابر میں کھڑی ہوئیں اور آسمان کی طرف رخ کرکے کہاکہ” اے اللہ! میں تجھ پر، تیرے نبیوں پر اور تیری طرف سے نازل ہونے والی تمام کتابوں پر ایمان رکھتی ہوں۔ میں اپنے جد ابراہیم علیہ السلام کے کلام کی اور اس بات کی تصدیق کرتی ہوں کہ اس گھر کی بنیاد انھوں نے رکھی۔ بس اس گھر، اس کے معمار اور اس بچے کے واسطے سے جو میرے شکم میں ہے اور مجھ سے باتیں کرتا ہے، جو کلام کے ذریعے میرا انیس ہے اور جس کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ یہ تیری نشانیوں میں سے ایک ہے، اس کی پیدائش کو میرے لےے آسان فرما”۔
عباس بن عبد المطلب اور بریدہ بن قعنب کہتے ہیں کہ” جب فاطمہ بنت اسد نے یہ دعا کی تو خانہ کعبہ کی پشت کی دیوار پھٹی اور فاطمہ بنت اسد اندر داخل ہوکر ہماری نظروں سے غائب ہوگئیں اور دیوار پھر سے آپس میں مل گئی۔ ہم نے کعبہ کے دروازے کو کھولنے کی کوشش کی تاکہ ہماری کچھ عورتیں ان کے پاس جاسکیں، لیکن در کعبہ نہ کھل سکا۔ اس وقت ہم نے سمجھ لیا کہ یہ امر الہی ہے۔ فاطمہ تین دن تک خانہ کعبہ میں رہیں۔ یہ بات اتنی مشہور ہوئی کہ مکہ کے تمام مرد و زن کئی دنوں تک گلی کوچوں میں ہر جگہ اسی بارے میں بات چیت کرتے نظر آتے تھے۔( کتابوں میں یہ صراحت کے ساتھ ملتا ہے کہ پشت کعبہ وہ مقام ہے جو رکن یمانی کہلاتا ہے)

پانچویں صدی کے سنّی عالم ابن مغازلی اپنی کتاب میں زیدہ بنت قریبہ بن عجلان قبیلہ بنی ساعدہ سے روایت کرتے ہیں کہ 13 رجب، 30عام الفیل کو میری ماں امّ عمارہ بنت عبادہ بن نضلہ بن مالک بن العجلان صحنکعبہ میں کچھ عرب عورتوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی کہ ابوطالب غمگین حالت میں ان کے پاس سے گزرے تو میری ماں نے ان سے پوچھا کہ اے ابوطالب! آپ کے کیا حال ہیں؟ ابو طالب نے مجھ سے کہا کہ فاطمہ بنت اسد درد زہ سے تڑپ رہی ہیں۔ یہ کہہ کر انھوں نے اپنا ہاتھ ماتھے پر رکھا ہی تھا کہ اچانک محمد ( صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم ) وہاں پر تشریف لائے اور پوچھا کہ چچا آپ کے کیا حال ہیں؟ ابوطالب نے جواب دیا کہ فاطمہ بنت اسد درد زہ سے پریشان ہیں۔ پیغمبر نے ابوطالب کا ہاتھ پکڑا اور فاطمہ بنت اسد کی طرف گئے اور پھر دونوں کا ہاتھ پکڑ کر کعبہ میں چلے گئے اور ایک کونے میں لیجا کر فاطمہ بنت اسد کو بٹھا دیا۔
امّ عمارہ کہتی ہے کہ تھوڑی دیر بعد فاطمہ بنت اسد نے ا یک ناف بریدہ بچے کو جنم دیا۔ اس جیسا خوبصورت بچہ پورے مکہ میںکبھی نہیں دیکھاگیا۔ بعد میں ابوطالب نے اس بچے کا نام علی رکھا اور پیغمبر اسلام انھیں گھر لے کر آئے”۔
تواریخ میں صراحت کے ساتھ یہ درج ہے کہ کعبہ کی یہ جائے پیدائش رکن یمانی کا اندرونی حصہ تھا کہ جہاں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ بنت اسد کو لیجا کر بٹھایا تھا۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب ” ازال الخفائ“ حافظ گنجی شافعی اپنی کتاب ” کفای الطالب“ علامہ امینی اپنی کتاب ” الغدیر“ ابن مغازلی نے اپنی کتاب مناقب اور ابن صباغ ، حاکم نیشابوری، حافظ گنجی شافعی،
علامہ ابن صبّاغ مالکی، احمد بن عبد الرحیم دہلوی، علامہ ابن جوزی جنفی، ابن مغازلی شافعی ، علامہ سکتواری بسنوی، علامہ محمد مبین انصاری حنفی لکھنوی، صفی الدین حضرمی شافعی، حافظ شمس الدین ذہبی، آلوسی بغدادی، عبد الحق بن سیف الدین دہلوی اپنی کتاب ” مدارج النبوہ“موفق بن احمد جو اخطب خوارزمی اپنی کتاب ” مناقب“، شیخ مومن بن حسن شبلنجی ، عباس محمود عقاد، علامہ صفوری، علامہ برہان الدین حلبی شافعی،
باکثیر حضرمی،، مولوی اشرف، علّامہ سعید گجراتی نے واضح طور پر اپنی اپنی کتابوں میں تحریرکیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام بروز جمعہ تیرہ رجب تیس عام الفیل کو وسط کعبہ میں فاطمہ بنت اسد کے بطن سے پیدا ہوئے اور آپ کے علاوہ نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کوئی خانہ کعبہ میں پیدا ہوا“ یہ شرف صرف مولود کعبہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو ہی حاصل ہے۔

رکن یمانی” پر 3 خیالات

  1. وليدِکعبہ کون ؟ سيدنا علی یا حکیم بن حزام ؓ
    سیدناعلی ؓکے امتیازات اور افتخارات میں غلو کرتے اہل تشیع یہ دعوی کرتے ہیں کہ آپ دنیا کے مقدس ترین مقام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے اور یہ چیز شیعہ اور سنی دونوں طرح سے ثابت اوریقینی ہے،حضرت علی رضی اللہ عنہ کو مولود کعبہ ثابت کرنے کے لئے شیعوں کی طرف سے یا ان کے ہم خیالوں کی طرف سےجوروایات یا اقوال پیش کیے جاتے ہیں ، ان کا حقیقت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے ان تمام اقوال و دلائل کو محدثین اور مورخین نے رد کیا ہے ، بلکہ متعدد شیعہ علماء اور موررخین نے بھی سیدنا علی ؓ کے مولود کعبہ ہونے کو غیر مستند قرار دیا ہے شیعہ حضرات کے دلائل اور ان کا رد درج ذیل ہے :
    اہل تشیع کے دلائل:
    اہل تشیع کی سب سے پہلی اور بنیادی دلیل وہ ہے جسے امام حاکم نے حکیم بن حزامؓ کے حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے : ” وقد تواترت الاخبار ان فاطمه بن اسد ولدت امیر المؤمنین علی بن طالب کرم الله وجه فی جوف الکعبه
    ” یعنی یہ تواتر سے ثابت ہے کہ فاطمہ بنت اسد نے حضرت علیؓ کو کعبہ کے اندر جناـ
    (مستدرك حاكم: 483/3
    اس میں امام حاکم نے تواتر کا دعوٰی کیا ہے ، حالانکہ قابل اعتبار و قابل اعتماد مؤرخین میں سے کسی نے بھی اس بات کا یقین کے ساتھ تذکرہ نہیں کیا کہ حضرت علیؓ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے تھے ، امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ متواتر روایات سے سیدنا علی کامولود کعبہ ہونا ثابت ہے۔یادرہے کہ یہ امام حاکم رحمہ اللہ کی خطا ہے ،کیونکہ اس پر کوئی دلیل نہیں ہے،امام حاکم کہتے ہیں:
    و هم مصعب فی الحرف الاخیرفقد تواترت الاخبار ان فاطمة بنت اسد ولدت امیر المومنین علی بن ابی طالب کرم الله وجهه الکریم فی جوف الکعبة (مستدرک :ج۳ ص۵۵۰
    یعنی امام مصعب کو وہم ہوا ،کیونکہ تواتر اخبار سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت علی جوف کعبہ میں پیدا ہوئے۔
    امام حاکم کا تسامح:
    امام حاکم نے جس راوی کے بارے میں فرمایا کہ ان کو وہم ہو گیا تھا تو یہ مصعب بن عبد اللہ نسب کے بہت بڑے عالم تھے انہوں نے دیگر علماء کے علاوہ امام مالک بن انس جیسے محدثین سے استفادہ حاصل کیا اور محدثین نے بھی ان کو ثقہ، ثبت اور صدوق جیسے الفاظ سے یاد کیا ۔ تو اکیلے امام حاکم کا ایسے جلیل القدر امام کی ایسی بات جس کی تائید تمام محدثین بھی کرتے ہیں اور بلا کسی دلیل کے امام حاکم کا انکی بات کو وہم قرار دینا بذات خود ایک بہت بڑا وہم اور تسامح ہے۔
    امام حاکم کا یہ کہنا کہ متواتر اخبار سےحضرت علی کا مولود کعبہ ہونا بھی ثابت ہے ،یہ ان کے عجائبات و تفردات میں سے ہے ،کیونکہ اگر حضرت علی کا مولود کعبہ ہونا متواتر روایات سے ثابت ہوتا تو حاکم کو چاہیے تھا کہ ان متواتر روایات کو نقل کرتے مگر انہوں نے ایک بھی روایت درج نہیں کی،امام سیوطی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:
    و ما وقع فی مستدرک الحاکم من ان علیا ولد فيها ضعیف (تدریب الراوی: ص۳۵٦
    کہ امام حاکم کی یہ بات ضعیف ہےكہ حضرت علی کعبہ میں پیدا ہوئے ہیں۔
    امام حاکم نے صرف اسی کمزور اور بلا ثبوت بات کو صحیح و متواتر نہیں کہا بلکہ اپنی اس کتاب ميں اس کے علاوہ بھی بہت سی موضوع اور باطل روایات کو صحیح قرار دے چکے ہیں اور انہوں نے اتنے بڑے بڑے تسامحا ت کیوں کءے علماء نے اس کی وجوہات بھی تحریر کی ہیں،فتح المغیث میں امام سخاوی لکھتے ہیں:
    حاکم نے غفلت کی وجہ سے کئی موضوع احادیث کو بھی صحیح قرار دے دیا ہے ۔ ہو سکتا ہے ایسا انہوں نے تعصب کی وجہ سے کیا ہو کیونکہ ان پر تشیع کا الزام تھا لیکن اس کی وجہ یہ تھی کہ مستدرک ان کی آخری عمر کی تنصیف ہے اور اس وقت ان کے حافظے پر بھی کافی فرق پڑ چکا تھا اور ان پر غفلت طاری تھی اس لیے تنقیح و تصحیح نہیں کر سکے۔ (ج١ ص۴۹
    امام سیوطی فرماتے ہیں:
    حاکم کی غفلت کا سبب یہ ہے کہ انہوں نے کتاب کا مسود تیار کیا اور نظر ثانی سے پہلے انکا انتقال ہو گیا ۔ یعنی اسے دوبارہ پڑھ کر اغلاط کا سد باب نہ کر سکے۔ایک اور وجہ امام حاکم کا تاہل بھی ہے ۔ یونی وہ روایات پر حکم صحت نافذ کرنے میں تساہل سے کام لیا کرتے تھے یعنی جو روایت صحیح نہ ہوتی اس کو بھی صحیح قرار دے دیتے تھے۔ (التقریب: ص ۲٦
    امام ذھبی نے مستدرک کی تلخیص میں امام حاکم کی ہی عبارت کو لکھا ہے اس کی تصحیح نہیں فرماءی جس سے یہ کہا جا سکے کہ امام ذہبی کے نزدیک امام علی المرتضیٰ مولود کعبہ ہیں۔کیونکہ آپ نے سیر اعلام النبلاء اور تاریخ اسلام میں واضح لکھا ہے : حضرت حکیم بن حزام ہی مولود کعبہ ہیں۔
    ملا علی قاری نے شرح شفا میں امام حاکم کا ہی قول نقل کیا ہے اور ساتھ وضاحت بھی فرما دی کہ حضرت حکیم بن حزام ہی مولود کعبہ ہیں اور کوءی نہیں جانتا کہ ان کے علاوہ بھی کوءی مولود کعبہ ہے اور یہی مشہور ترین ہے:
    حکیم بن حزام ولد فی الکعبة ولا یعرف احد ولد فی الکعبة غیره علی الاشهر (شرح الشفاء : ١۵۹/١
    اسی طرح شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے بھی امام حاکم کا ہی قول نقل کیا ہے (ازالة الخفاء :ج۴ ص ۴۰٦
    اور امام حاکم مستدرک میں لکھتے ہیں:
    اخبرنا ابو بکر محمد بن احمد بن بالويه ثنا ابراهيم بن اسحاق الحربی ثنا مصعب بن عبد الله فذکر نسب حکیم بن حزام و ذاد فيه:و امه فاختة بنت ذهير بن اسد بن عبد العزٰی و کانت ولدت حکیماً فی الکعبة و هيحامل فضربها المخا ض و هي فی جوف الکعبة فولدت فيها فحملت فی نطع و غسل ما کان تحتها من الثیاب عند حوض زمزم ،ولم یولد قبله و لا بعده فی الکعبة احد۔
    یعنی حکیم بن حزام ہی وہ پہلے اور آخری ہیں جن کی ولادت کعبہ میں ہوئی
    علامہ ابن ظہیرہ نے اپنی کتاب ” الجامع اللطیف ” بصیغہ مجہول یہ قول نقل کیا ہے کہ حضرت علی ؓ کعبہ کے اندر پیدا ہوئے
    ابن ظہیر نے بصیغہ مجہول یہ بیان یا : قیل : انه ولد بالکعبة ” یعنی یہ کہ علیؓ کعبہ میں پیدا ہوئے اور اس مجہول کے مقابل میں ایک معروف قول بھی نقل کیا اور اس میں علیؓ کی جائے پیدائش وہ جگہ بتلائی گئی جو شعب علی سے مشہور ہے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے پیدائش سے قریب واقع ہے ۔
    الجماع اللطیف : 338 ، بحواله اخبار المکرم بآخبار المسجد الحرام : 194
    دوسرا قول :
    سیدناعلیؓ کو مولود کعبہ ثابت کرنے کے لیے ایک من گھڑت قصہ بیان کیا جاتا ہے جس کا حقیقت سے دور کا واسطہ نہیں ہے چناچہ شاہ عبد العزیز لکھتے ہیں :
    ” حلمیہ بنت ابی ذوہیب عبداللہ بن الحارث سعدیہ ایک مرتبہ حجاج بن یوسف کے دور خلافت میں ان سے ملنے کے لیے گئیں ـ حجاج نے کہا : ائے حلمیہ ! اللہ تجھے میرے پاس لایا ، میں چاہتا ہوں کہ تجھے بلاؤں اور تم سے انتقام لوں ، حلمیہ نے کہا: اس سورش و غصہ کا کیا سبب ہے ؟ حجاجج نے جواب دیا : میں نے سنا ہے کہ تم علی ؓ کو ابوبکرؓ اور عمرؓ فضیلت دیتی ہو ، حلمیہ نے کہا : حجاج ! خدا کی قسم میں اپنے امام کو اکیلی حضرت عمرؓ و ابوبکرؓ پر فضلیت نہیں دیتی ہوں ، ابوبکرؓ و عمرؓ میں کیا لیاقت ہے کہ حضرت علیؓ سے ان کا موازنہ کیا جائے ، میں تو اپنے امام کو آدم ، نوح ، ابراہیم ، سلمیان ، موسی اور عیسی پر بھی فضیلت دیتی ہو، حجاج نے برآشفتہ ہو کر کہا میں تجھ سے دل برداشتہ ہوں ، میرے بدن میں آگ لگ گئی ہے ، اگر تو نے اس دعوٰی کو ثابت کردیا تو ٹھیک ورنہ میں تجھے ٹکڑے ٹکڑے کردوں گا ، تاکہ تم دوسروں کے لئے عبرت حاصل کرنے کا ذریعہ بن جائے ، پھر حلمیہ نے ایک ایک کر کے دلائل کے ساتھ علیؓ کی برتری ثابت کردی ـ یہاں تک کہ جب حجاج نے کہا تو کس دلیل سے علیؓ کو عیسی علیہ السلام پر ترجیح دیتی ہے ؟ حليمہ نے کہا :اے حجاج سنو ! جب مریم بن عمران بچہ جننے کے قریب ہوئی جب کہ وہ بیت المقدس میں ٹھہری تھی ، حکم الہی آیا کہ بیت المقدس سے باہر نکل جاؤ اور جنگل کی طرف رخ کرو تاکہ بت المقدس تیرے نفاس سے ناپاک نہ ہوجائے ، اور جب حضرت علیؓ کی ماں فاطمہ بن اسد وضع حمل کے قریب ہوئیں تو وحی آئی کہ کعبہ میں داخل ہو جاؤ اور میرے گھر کو اس مولود کی پیدائش سے مشرف کر، پھر حلمیہ کہنے لگی ائے حجاج اب تم ہی انصاف کروکہ دونوں بچوں میں کون شریف ہو گا ؟ حجاج یہ سن کر راضی ہو گیا اور حلمیہ کا وظیفہ مقرر کردیا ۔
    (آئینہ مذاہب امامیہ از شاہ عبدالعزیز صاحب محد دہلوی :ص 111-113
    اس روایت میں جو واقعہ بنان کیا گیا ہے وہ سر تا پا جھوٹ و کذب او ربہتان سے لبریز ہے ، کیونکہ تراجم کی کتاب میں کہیں یہ مذکور نہیں کہ حلمیہ بنت ابی ذویب السعدیہ حجاج بن یوسف کے عہد تک زندہ تھیں اور نہ ہی کہیں کسی نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے ـ
    (سیرت ابن ہشام 1/160 ، اسد العابہ 76/8
    آئینہ مذاہب امامیہ کے مصنف علامہ شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی فرماتے ہیں کہ ” حلیمہ بن ابی ذویب مورخین کے اتفاق رائے سے حجاج بن یوسف کے زمانے تک زندہ نہیں رہی ـ
    (تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز صاحب محد دہلوی ص 111-113
    اس روایت کو صحیح ماننے سے اہل السنہ و الجماعہ کے اصولوں کی مخالفت لازم آئے گی کیونکہ اس روایت میں علیؓ کو عمرین یعنی ابوبکر وعمرؓ پر فوقیت دینے کی کوشش کی گئی ، جبکہ اہل النسہ والجماعہ کا متفقہ فیصلہ ہے کہ تمام صحابہ کرام میں سب سے زیادہ افضل ابوبکرؓ پھر عمرؓ پھر عثمانؓ پھر علیؓ اور ان کے بعد عشرہ مبشرہ ؓ ہیں ـ
    خود حلمیہ سعدیہ کے ایمان لانے اور نہ لانے کے سلسلے میں مؤرخین کا اختلاف ہے ـ
    (مجموعہ فتوٰی ابن تیمیہ رحمہ اللہ 152/2
    تیسرا قول :
    ایک اور روایت امام زین العابدین کی طرف یون منسوب کی جاتی ہے کہ انہوں نے فرمایا :
    ام عمارہ بن عباد الساعدیہ کی طرف سے زہد بنت عجلان الساعدیہ نے مجھے خبردی ، کہا کہ میں ایک دن عرب کی چند عورتوں میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اچانک ابوطالب غمگین ہو کر آیا ، میں نے کہا : کیا حال ہے ؟ تو ابوطالب نے کہا : فاطمہ بنت اسد دردزہ میں مبتلا ہے اور وقت ہو جانے کے باوجود بچہ پیدا نہیں ہو رہا ، پھر ابوطالب اپنی بیوی فاطمہ کو خانہ کعبہ کے اندر لے آیاـ اور کہا کہ اللہ کے نام پر بیٹھ جاؤ ، بیٹھ گئی اور پھر دردزہ شروع ہو گیا ، اور ایک پاکیزہ بچہ پیدا ہوا جس کا نام ابوطالب نے علی رکھاـ
    ‏( تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز صاحب محد دہلوی ص 111-113
    سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جائے پیدائش:
    خلیفہ بن خیاط (متوفی ۲۴۰ ھ ) لکھتے ہیں:
    ولد علی بمکة فی شعب بنی هاشم (تاریخ خلیفہ بن خیاط :ص١۹۹
    یعنی حضرت علی کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی۔
    ابن عساکر لکھتے ہیں:ولد علی بمکة فی شعب بنی هاشم (تاریخ دمشق کبیر :ج۴۵ ص ۴۴۸
    حضرت علی کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی۔
    ابن منظور الافریقی لکھتے ہیں:ولد علی بمکة فی شعب بنی هاشم (مختصر تاریخ دمشق :ج١۸ ص۹۷
    حضرت علی کی ولادت مکہ میں شعب بنی ہاشم میں ہوئی۔
    آزاد خیال مورخ ابن عبدربہ نے لکھا :حضرت علی مکہ میں شعب بنی ہاشم میں پیدا ہوے۔
    (العقد الفرید :ج۴ص۲۹۷
    سیرت نگار محمد بن محمد حسن نے لکھا ہے کہ حضرت علی کی جاے ولادت شعب بنی ہاشم میں ہے۔ (المعالم ۔ ج١ ص١۵۰
    فی رجاب البیت العتیق ج١ ص ۷۹ پر محی الدین احمد امام لکھتے ہیں:
    امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ جس مکان میں پیدا ہوءے وہ شعب بنی ہاشم المعروف شعب علی میں ہے۔
    ابو الحسن الکنانی الاندلسی لکھتے ہیں :
    حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت گاہ ابو طالب کا گھر ہےاور یہ شعب بنی ہاشم میں تھا،لہذا مولود کعبہ ہونے کی روایت مرجوح ہے ـ
    * گیارہویں صدی ہجری کے نامور مصنف احمد بن محمد الاسد المکی نے بن ظہیرہ کے بصیغہ مجہول نقل کردہ قول ” انه ولد بالکعبة ” کو امام نوری کے قول کے ذریعہ ضعیف قرار دیا ہے (الجماع اللطیف : 338 ، بحواله اخبار المکرم بآخبار المسجد الحرام : 194
    تیسری روایت :
    * اس اختلاف سے عیاں ہوتاہے کہ حضرت سعدیہ بعثت نبوی کے آخر دور سے پہلے ہی وفات پا گئی تھیں ، اگر اس زمانے تک باحیات ہوتیں تو ان کے ایمان سے اختلاف منقول نہیں ہوتا ـ
    * عیسی علیہ السلام کی ولادت سے متعلق جو بات اس روایت میں کہی گئی ہے وہ محض بکواس ہے اور تاریخ کے خلاف ہے کسی مؤرخنے اس کا تذکرہ نہیں کیا ہے ، اس کے برخلاف نص قرآن اس بات پر واضح دلالت کرتی کہ مریم علیہ السلام دردزہ سے پریشان ہو کر اس بات پر آمادہ ہوئیں کہ وہ کسی چیز پر تکیہ کریں اور جب اس حالت میں جنگل میں جانا اور کسی کی مدد کے بغیر وضع حمل ہونا دشوار محسوس کیا تو انہوں نےاختیار موت کی خواہش کی :باخذها المخاص الی جذع النخلة، قالت یا لیتنی مت قبل هذا او کنت نسیا منسیا ـ سورہ مریم
    * اور یہ جو بیان کیا گیا ہے کہ فاطمہ بن اسد کو بھی وحی ہوئی کہ خانہ کعبہ میں جاکر وضع حمل کرے ـ یہ بلکل جھوٹ ہے ، کیونکہ اسلامی ور غیر اسلامی فرقوں میں سے کوئی بھی فاطمہ بن اسد کی نبوت کا قائل نہیں ہے ، جبکہ یہاں وحی جو لفظ ہے وہ انبیاٰء کے لئے خاص ہے ـ
    چوتھی روایت میں : امام زین العابدین کی طرف منسوب روایت پر جرح کرتے ہوئے شاہ عبد العزیز دہلوری فرماتے ہیں کہ صحیح اسلام تاریخ کے خلاف یہ محض بکواس ہے ۔
    (تحفہ اثنا عشریہ از شاہ عبدالعزیز صاحب محد دہلوی ص 111-113
    * میں کہتا ہوں کہ شیعت کے پیروکار جس قدر علیؓ کو مولود کعبہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے دلائل اتنے ہی بے وقعت اور کمزور ہیں اور سادہ لوح عوام کو گمراہ کرنے کے لئے ایک اختراع ہے ـ کیونکہ:
    * خانہ کعبہ جیسے معزر گھرمیں کسی کی بھی ولادت ہو وہ ایک عظیم شہرت کی بات ہے ، مؤرخین اس کا تذکرہ ہرگز ترک نہیں کر سکتے لیکن ہم دیکھتے ہیں ،امام سیوطی نے اپنی کتاب ” تاریخ الخلفاء ” میں تقریبا 22 صفحات پر علیؓ کے فضائل کو بیان کیا ہے اس میں مولود کعبہ ہونے کا ذکرنہیں ـ (تاریخ الخلفاءللسیوطی185/207
    امام ذہبی رحمہ اللہ نے اپنی کتاب ” تاریخ اسلام و وفیات الاعلان ”میں تقریبا 32 صفحات پر علیؓ کی ولادت سے لیکر وفات تک زندگی کے مختلف گوشوں پر بحث کی ہے اور بے شمار خصوصیات کا ذکر کیا ہے لیکن اس میں مولود کعبہ ہونے کا ذکرنہیں ہے ـ (تاریخ الاسلام للذھبی : 641/652
    ابن عبدالبر نے 40 سے زائد صفحات پر خصائص علیؓ کا اور دیگر کامفصل تذکرہ کیا ہے ، لیکن مولود کعبہ ہونے کی بات نہیں لکھی ہے ـ ) الاستيعاب :11٫4- 1089 /3
    ان کے علاوہ قابل ذکر و معتبر مؤرخین و محدثین میں سے ابن الاثیر نے اپنی کتاب اسد الغابہ 134-100/4 ،ابونعیم اصفہانی نے معرفتہ الصحابہ 1970-1986 اور امام مزی نے تہذیب الکمال 472/20 ،امام مسلم نے ” باب ” من فضائل علی ابن ابی طالب ” میں اورامام المحدثین محمد بن عبداللہ بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ نے ” باب مناقب علی بن ابی طالب ”میں حضرت علی کے بے شمار فضائل ذکر کیا ہے ، لیکن کہیں بھی کسی نے مولود کعبہ ہونے کی بات نہیں لکھی ـ
    سیدنا حکیم بن حزام ؓ ہی ولید کعبہ ہیں:
    سیدناحکیم بن حزام کے بارے میں جس نے بھی قلم اٹھایا تقریبا سبھی لوگوں نے ان کو مولود کعبہ کی بات کی ہے ،مثلا:
    اسد الغابہ: 58/2 میں ,تہذیب الکمال: 173/7 ,تاریخ اسلام: 277/2 ، الاصابہ: (رقم : 1800 ) ,تہذیب التہذیب: 447/2 ,البدایہ واالنہایہ: 68/8, الاستیعاب :362/1′ جمہرۃ انساب العرب: 121
    مذکورہ تمام کتابوں کے مصنفین نے حکیم بن حزامؓ کے بارے میں مولود کعبہ ہونے کی بات کہی ہے ـ
    امام مسلم (متوفی ۲٦١ ھ) فرماتے ہیں:
    ولد حکیم بن حزام فی جوف الکعبة و عاش ماءة و عشرین سنة
    حضرت حکیم بن حزام کعبہ میں پیدا ہوءے اور آپ ایک سو بیس سال تک زندہ رہے۔
    ۲۔علامہ ابو جعفر محمد بن حبیب بغدادی (متوفی ۲۴۵ ھ) لکھتے ہیں :و حکیم هذا ولد فی الکعبة (کتاب المحبر :ص ١۷٦
    امام ازرقی (متوفی ۲۵۰ ھ )لکھتے ہیں:
    فولدت حکیما فی الکعبة (اخبار مکہ: ج١ ص ١۷۴
    اما م زبیر بن بکار (متوفی ۲۵٦ ھ) لکھتے ہیںفولدت حکیم بن حزام فی الکعبة
    (جمھرة نسب قریش و اخبارھا : ج١ ص ۳٦٦
    بلازری (متوفی ۲۹۷ ھ) لکھتے ہیں:
    حکیم بن حزام و امه ابنت زهير بن الحارث بن اسد بن عبد العزیٰ واسمها فا ختة و ولدته فی جوف الکعبة (جمل من انساب الاشراف :ج۹ ص۴۳۵
    امام ابو حاتم محمد بن حبان البسیتی لکھتے ہیں: فولدت حکیم بن حزام فی جوف الکعبة ۔ (تاریخ الصحابة:ص ٦۸
    امام خطابی فرماتے ہیں: فولدت حکیماً فی الکعبة (غریب الحدیث :ج۲ص ۵۵۷
    حافظ ابن منجویہ لکھتے ہیں: حکیم بن حزام ولد فی الکعبة (رجال صحیح مسلم :ج١ ص١۴۲
    الثعالبی لکھتے ہیں:حکیم بن حزام و کان ولد فی الکعبة (ثمار القلوب :ص ۵١۸
    حافظ ابو نعیم الاصبھانی لکھتے ہیں: حکیم بن حزام ولد فی الکعبة۔ (معرفة الصحابہ: ج۲ ص ۷۰١
    ابن عبد البر لکھتے ہیں:حکیم بن حزام بن خویلد ولد فی الکعبة۔ (الاستیعاب:ج١ ص۴١۷
    علی بن غنام العامری کہتے ہیں کہ صحابی رسول سیدنا حکیم بن حزام مولود کعبہ ہیں۔(المستدرک للحاکم جلد3،ص 383، سندہ صحیح
    علامہ،نسابہ، اخباری، مصعب بن عبداللہ سیدنا حکیم بن حزام کو مولود کعبہ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
    ولم يولد قبله ولا بعده في الكعبة احد (المستدرک للحاکم: ج 3، ص 236، وسندہ صحیح
    ”اورنہ آپ سے پہلے کوئی کعبہ میں پیدا ہوا اور نہ ہی بعد میں”
    حافظ نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
    قالوا ولد حكيم في جوف الكعبة ولا يعرف احد ولد فيه غيره واما ماروي ان علي بن ابي طالب رضي الله عنه ولد فيها فضعيف عند العلماء۔ (تهذیب الاسماء واللغات للنووی:ج1 ص149
    حافظ ابن حجر عسقلانی سیدناحکیم بن حزام ؓ کی جائے پیدائش کے بارے رقم طراز ہیں:
    أن حكيما ولد في جوف الكعبة قال وكان من سادات قريش وكان صديق النبي صلى الله عليه وسلم قبل المبعث وكان يوده ويحبه بعد البعثة
    سیدنا حکیم بن حزام کی جائے ولادت کعبہ ہے ، آپ کا شمار قریش کر سرداروں میں ہوتا تھا ، بعثت سے قبل حکیم بن حزام نبی اکرم ﷺ کے دوست تھے اور بعثت کے بعدبھی وہ آپ ﷺ سے مَحبت کرتے تھے ( الاصابة في تميز صحابة لابن حجر عسقلاني:٢/٩٧’ دار الكتب العلميه لبنان
    شیعہ مورخ میرزا تقی نے لکھا ہے:در کعبہ مادرش را در دذ اند بگرفت نطعی حاضر کردند تا حکیم را بزاد۔ (ناسخ التواریخ :ج۳ ص ۳۲۲﴾
    شارح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید لکھتا ہے:
    و المحدثون لا یعترفون بذلک و یزعمون ان المولود فی الکعبة حکیم بن حزام بن خویلد بن اسد بن عبد العزیٰ بن قصی (ج١ ص١۴
    ”علمائے کرام کا کہنا ہے کہ سیدنا حکیم بن حزام کعبہ میں پیدا ہوئے، کسی اور کا کعبہ میں پیدا ہونا معلوم نہیں ہوا۔جہاں تک سیدنا علی بن ابی طالب کے متعلق کعبہ میں پیدا ہونے کی بات ہے تو وہ علمائے کرام کے نزدیک ضعیف ہے”
    امام مسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا حکیم بن حزام مولود کعبہ ہیں۔ (صحیح مسلم: حدیث 1532
    امام زبیر بن بکار رحمہ اللہ (تدریب الراوی:ج2، ص359) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (الثقات:ج3،ص71) وغیرہم نے بھی سیدنا حکیم بن حزام کو مولود کعبہ قرار دیا ہے۔
    امام علامہ امینی ،صاحب الغدیر نے اپنی کتاب کی چھٹی جلد میں اس بات کو اہل سنت کی ۱۹ معتبر کتابوں سے نقل کیا ہے۔بعض شیعہ حضرات یہ مغالطہ دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ بعض اہلسنت کی کتب میں بھی یہ لکھا ہوا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کعبہ میں پیدا ہوئے۔
    ١۔ مدارج النبوت میں ہے : گفتہ اند کہ بود ولادت وی در جوف کعبہ۔
    کہتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی ولادت کعبہ میں ہوئی۔ (مدارج النبوت :ج۲ ص۵۳١
    سفینة الاولیاء میں ہے۔: و بعضے گفتہ اند کہ ولادت ایشاں در خانہ کعبہ بودہ۔
    بعض کہتے ہیں کہ خانہ کعبہ میں ولادت ہوئی۔ (ص۲۲
    شواھد النبوة میں ہے۔ و بعضے گفتہ اند ولادت وے در خانہ کعبہ بودہ است۔
    بعض کا خیال ہے کہ آپ کی ولادت کعبہ میں ہوئی۔ (شواہد النبوة :ص ١٦۰
    بعض کہتے ہیں: کون کہتے ہیں ؟ اس میں تصریح نہیں ہے اور صیغہ تمریض سے ان روایات کو ذکر کیا گیا ہے اور اہل علم جانتے ہیں کہ ان الفاظ سے شروع ہونے والی روایت کی کوءی اہمیت نہیں ہوتی۔ جبکہ ہم پہلے ثابت کر آءے ہیں کہ حضرت حکیم بن حزام ہی خانہ کعبہ میں پیدا ہوءے ہیں۔
    بعض علماء ایسے ہیں جنہوں نے ماخذ بیان کیا ہے مگر وہ ماخذ یا تو شیعہ کتب ہیں یا ایسے ماءل بہ تشیع حضرات کی جنہوں نے ساری شیعوں کی روایات نقل کیں اور ان کو بنا کسی تحقیق و تنقیح کے اپنی کتب میں نقل کر دیا۔ جیسے امام حاکم وغیرہ۔ اور ان کے حوالے سے امام ذہبی اور شاہ ولی اللہ و ملا علی قاری وغیرھم عبارت اپنی کتب میں نقل کر دی اور بعض نے مروج الذھب اور فصول المھمہ کے حوالے سے نقل کیا ہے۔
    اور آخر میں رہ گیا مسعودی کا حوالہ تو وہ بھی بلا سند ہے ابن العربی الاندلسی لکھتے ہیں:
    اس بدعتی و حیلہ ساز کی باتوں سے الحاد کی بو آتی ہے۔ (العواصم: ص١٦۷
    شیعہ علماء کی گواہی:
    رافضی ہشام کلبی (متوفی ۲۰۴ ھ) نے لکھا ہے:
    و حکیم ابن حزام بن خویلد عاش عشرین و ماءة سنة و کانت امه ولدته فی الکعبة
    (جمهرة النسب وهولا ء بنو عبد العزیٰ بن قصی: ص۷۲
    نہج البلاغہ کے شارح علامہ بن ابی الحدید اس روایت کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں کہ سیدنا علی علیہ السلام کی جائے پیدائش کے بارے میں اختلاف ہے ، تاہم محدثین کرام نے علی ؓ کے مولود کعبہ کو تسلیم نہیں کیا ہے اور اس روایت کو محض جھوٹ و اختراع قرار دیا ہے ، ان کا خیال ہے کہ کعبہ میں جن کی ولادت ہوئی وہ حکیم بن حزام بن خولد ہیں (شرح نہج البلاغہ لابن الحدید 14/1 لابی الحسن الندوی ص 49
    مسعودی امامی شیعہ تھا جس کا اعتراف خود شیعہ علماء نے بھی کیا ہے’بعض نے اس روایت کو فصول المھمہ کے حوالے سے بیان کیا ہے، جیسے نزھة المجالس میں ہے۔فصول المھمہ کی اس عبارت کے بارے میں علامہ شمس الدین السفیری لکھتے ہیں کہ علماء کے نزدیک یہ بات کمزور ہے کہ حضرت علی مولود کعبہ ہین بلکہ مولود کعبہ صرف حضرت حکیم بن حزام ہیں ان کے علاوہ کوئی مولود کعبہ نہیں ہے۔
    (المجالس الوعظیة فی شرح احادیث خیر البریة من صحیح الامام البخاری: ج۲ ص١٦١
    فصول المھمہ ایسی کتاب بھی نہیں کہ اس کی ہر بات اہلسنت پر حجت ہو کیونکہ اس کتاب کی ابتدا ہی ایسے کلمات سے ہوتی ہے جو رافضیت کے ایک مخصوص عقیدے کی غماز ہے، اور اس کے مصنف کو رافضیت کی طرف منسوب کیا گیا ہے ۔ (کشف الظنون عن اسامی الکتب و الفنون: ج۲ ص۵۰۹
    اگر بالفرض اس کتاب کا مصنف رافضی نہ بھی ہو تو پھر بھی مذکورہ واقعہ میں ایسی خلاف حقیقت باتیں ہیں جو اس کے پایہ اعتبار کو ساقط کر دیتی ہیں مثلاً اس میں یہ جملہ بھی ہے :و هي فضیلة خصه الله تعالیٰ مگر ہم پہلے مستند حوالہ جات سے یہ بات ثابت کر چکے ہیں کہ حضرت حکیم بن حزام ہی مولود کعبہ ہیں۔دوسری بات جو صاحب فصول المھمہ نے خلاف حقیقت لکھی ہے کہ فادخلھا ابو طالب کہ جناب ابو طالب نے انکو اند ر داخل کیا۔
    حالان کہ بوقت ولادت ابو طلاب کعبہ میں نہیں تھے کہیں گئے ہوئے تھے۔ ابن عساکر ، سہیلی، ابن منظور، طحطاوی وغیرہم نے اس کا تذکرہ کیا ہے۔
    خلاصہ کلام
    یہ مذکورہ حقائق اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ علیؓ کو مولود کعبہ بتانا ایک اختراع باطل ہے ـ اس کی کوئی حقیقت نہیں ، صحیح تاریخ جو ثابت ہے وہ یہی ہے کہ حکیم بن حزامؓ ہی کعبہ میں پیدا ہوئے ، تاہم علیؓ کی ولادت کہاں ہوئی ؟ اس میں سب سے زیادہ صحیح اور راجح قول یہی ہے کہ ان کی پیدائش نبی اکرم ﷺ کی جائے پیدائش سے قریب ایک گھاٹی میں ہوئی جو کہ شعب علی سے معروف ہے ـ لہذا بے اصل روایتوں کو سہار بنا کر علیؓ کو مولود کعبہ بتانے کی کوئی ضرورت نہیں ، اس لیے علیؓ کی ذات میں کوئی کمی نہیں آتی بلکہ علیؓ کی ذات عبقری ہے ، اور بے شمار فضائل کا مالک ہے ، جھوٹے واقعات و قصص سے بالکل بے نیاز ہے ـ

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s