رکن یمانی


 خدا کے گھر میں پیدائش کا شرف صرف مولود کعبہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو ہی حاصل ہے۔

منصور مہدی
1996میں جب سعودی کنگ شاہ فہد کے دور میں خانہ کعبہ کی تعمیر نو ہوئی تومیڈیا پر نہ صرف خبریں شائع ہوئی بلکہ الیکٹرونکس میڈیا پر دستاویزی فلمیں بھی چلائی گئی جن میں خانہ کعبہ کی تعمیر کے مختلف مرحلہ وار مناظر دکھائے گئے۔ یہ فلمیں یو ٹیوب کے علاوہ دیگر سائٹوں پر اب بھی دیکھی جا سکتی ہیں۔
خانہ کعبہ کی معلوم تاریخ چار سے پانچ ہزار برس پرانی ہے۔ جسے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے تعمیر کیا۔ جسے بیت اللہ کا نام دیا گیا۔ یہ ایک مستطیل نما ایک کمرے پر مشتمل بغیر چھت کے عمارت تھی جس کے دونوں طرف دروازے کھلے تھے جو سطح زمین کے برابر تھے جن سے ہر خاص و عام کو گذرنے کی اجازت تھی۔ اس کی تعمیر میں 5 پہاڑوں کے پتھر استعمال ہوئے تھے جبکہ اس کی بنیادوں میں آج بھی وہی پتھر ہیں جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رکھے تھے۔ خدا کے گھر کا یہ انداز صدیوں تک رہا۔
خانہ کعبہ کی تعمیر و مرمت اکثر اداوار میں ہوئی اسلامی تاریخ میں پہلی بڑی تعمیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں اعلان رسالت سے قبل قریش نے 604ءمیں کی۔جس میں بیت اللہ کو مستطیل کی بجائے مکعب نما کر دیا۔ مغربی دروازہ بند کر دیا گیا اور مشرقی دروازے کو سطح زمین سے اونچا کر دیا۔ جبکہ دروازے کو تالہ بھی لگادیا گیا۔
دوسری بار685ءمیںحضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ والیٰ مکہ جو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے بھانجے تھےنے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے بیت اللہ کو دوبارہ ابرہیمی طرز پر تعمیر کروایا۔ مگر عبدالملک بن مروان کے دور میںجب حجاج بن یوسف نے693ءمیں انہیں شکست دی اور مکہ پر قابض ہوا تو بیت اللہ کو دوبارہ قریشی طرز پر تعمیر کروا دیا اور اس پر غلاف چڑھانے کی روایت کا آغاز کیا ۔ جو اب تک چلا آ رہا ہے۔
خانہ کعبہ کے اندر تین ستون اور دو چھتیں ہیں۔ باب کعبہ کے متوازی ایک اور دروازہ تھا دیوار میں نشان نظر آتا ہے یہاں نبی پاک صلی اللہ وسلم نماز ادا کیا کرتے تھے۔ کعبہ کے اندر رکن عراقی کے پاس باب توبہ ہے جو المونیم کی 50 سیڑھیاں ہیں جو کعبہ کی چھت تک جاتی ہیں۔ چھت پر سوا میٹر کا شیشے کا ایک حصہ ہے جو قدرتی روشنی اندر پہنچاتا ہے۔ کعبہ کے اندر سنگ مرمر کے پتھروں سے تعمیر ہوئی ہے اور قیمتی پردے لٹکے ہوئے ہیں جبکہ قدیم ہدایات پر مبنی ایک صندوق بھی اندر رکھا ہوا ہے۔
1039ھ میں بارشوں اور سیلابی پانی سے جب خانہ کعبہ کی دیواریں گر گئی تو سلطان مراد خان نے خانہ کعبہ کی ازسرنو تعمیر کروائی۔
کعبہ کی موجودہ عمارت کی آخری بار 1996ءمیں تعمیر کی گئی تھی اور اس کی بنیادوں کو نئے سرے سے بھرا گیا تھا۔ کعبہ کی سطح مطاف سے تقریبا ً دو میٹر بلند ہے جبکہ یہ عمارت 14 میٹر اونچی ہے۔ کعبہ کی دیواریں ایک میٹر سے زیادہ چوڑی ہیں جبکہ اس کی شمال کی طرف نصف دائرے میں جوجگہ ہے اسے حطیم کہتے ہیں اس میں تعمیری ابراہیمی کی تین میٹر جگہ کے علاوہ وہ مقام بھی شامل ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کے رہنے کےلئے بنایا تھا جسے باب اسماعیل کہا جاتا ہے۔
جبکہ اس عمارت پر ایک غلاف بھی چھڑایا جاتا ہے جسے غلاف کعبہ بھی کہا جاتا ہے ۔ ہر 9 ذی الحجہ کو نیا غلاف چڑھایا جا تا ہے۔ پردوں کو رسوں سے باندھ کر اوپر اٹھا دیتے ہیں اور نیچے سے بیت اللہ شریف کے بڑے بڑے کالے رنگ کے پتھر دکھائی دیتے ہیں۔ غلاف کی سلائی اس طرح کی جاتی ہے کہ باب کعبہ حجراسود اور رکن یمانی کی جگی کھلی رہتی ہے۔ جبکہ حج کے ایام میں غلافِ کعبہ کو آدھا اوپر اٹھا دیا جاتا ہے۔
رکن یمانی خانہ کعبہ کا جنوبی کونہ ہے۔ایک کونہ رکن شامی، ایک رکن عراقی اور ایک رکن حجر اسود ہے۔
حجر اسود کی طرح رکن یمانی کا استلام مستحبات طواف میں سے ہے۔ تاہم رکن یمانی کی حد تک استلام سے مراد یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیوں سے یا صرف دائیں ہاتھ کی ہتھیلی سے رکن یمانی کو مس کرے۔ اور جب ہجوم کی وجہ سے اس کو مس کرنے سے عاجز ہو تو اشارہ سے اس کا استلام کیا جائے۔
جب 1996میں خانہ کعبہ کی جب آخری بار جدید مشینری اور آلات سے تعمیر ہوئی ۔تو اس کی تعمیر میں اچھا پتھر اور اعلیٰ میٹریل استعمال ہوا۔ 1996کی تعمیر کے تقریباً چار سال بعد لاہور کے رہائشی ایک شخص کا حج پر جانے کا اتفاق ہوا تو واپسی پر اس نے خانہ کعبہ کی خوبصور ت تعمیر اور اس میں استعمال ہونے والی اشیاءکے بارے بتلایا تو مجھے بہت حیرانگی ہوئی ۔ لیکن اس کی ایک بات نے مجھے حیرت زدہ کردیا کہ خانہ کعبہ کے جنوبی کونے کی دیوار جسے رکن یمانی کہا جاتا ہے میں ایک خاصا بڑا کریک ہے۔ایسا لگتا ہے کہ جیسے یہ کونہ ٹوٹ گیا ہے اور اس کی مرمت کی گئی ہے۔ اس کی مرمت میں دیوار کے میٹریل سے ہٹ کر دیگر میٹریل استعمال کیا گیا ہے اور اسے سٹیل کی بڑی بڑی کیلوں سے چوڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔
میری حیرت میں کوئی کمی نہیں ہو رہی تھی کہ آخر کیا یہ کعبہ کا “نظر وٹو “ہے۔ جدید سائنس اور ٹیکنالوجی کے دور میں بھی خانہ کعبہ کا کونہ ٹوٹ گیا اور اس کی درست انداز میں مرمت بھی نہیں ہو سکی۔ میں نے بعد میں غور کیا تو سوچا کہ اس نے کچھ مبالغہ آمیزی سے شاید کام لیا ہے۔
مگر میری حیرت اس وقت دو چند ہوگئی جب یو ٹیوب پر میں نے خانہ کعبہ کی وڈیوز دیکھی جن میں رکن یمانی کی بھی وڈیوز شامل ہیں اور حقیقت میں رکن یمانی میں کریک ہیں۔ دیوار وہاں سے ٹوٹی ہوئی ہے جسے بڑی بڑی کیلوں سے آپس میں کونے کو جوڑا ہے ۔ اور ایسا لگتا ہے کہ دیوار کا یہ جوڑ کچھ ہی عرصے بعد جوڑنے کے بعد پھر ٹوٹ جاتا ہے جس کی پھر مرمت کر دی جاتی ہے۔
رکن یمانی کی مرمت کا کام ایک عرصے سے جاری ہے اور اب بھی ہوتا رہتا ہے۔ خدا کے گھر کے اس کونے میں آخر کیا ایسی بات پوشیدہ ہے کہ ” لاکھ بار چھپانے سے بھی نہیں چھپتی”
میں نے تاریخ کا مطالعہ جاری رکھا تو پتا چلا کہ رکن یمانی سے متعلق تواریخ میں اور بھی بہت سی باتیں درج ہیں۔
رکن یمانی کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان ہے کہ یہ جنت کا دروازہ ہے ( رکن یمانی اور حجر اسود دونوں جنت کے دروازے ہیں۔حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رکن یمانی پر دو فرشتے ہیں جو وہاں سے گذرنے والے کی دعا پر آمین کہتے ہیں۔( حالانکہ بظاہر خانہ کعبہ کے اس کونے پر کسی بھی دور میں کوئی دروازہ نہیں رہا)۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قول کے مطابق اگر رکن یمانی جنت کا دروازہ ہے تو پھر یہ بات ٹھیک ہے کہ دروازے کو کون بند کر سکتا ہے؟ رکن کمانی کی جب بھی (بند) مرمت کی گئی تو اس میں کریک آ جاتا ہے۔
رکن یمانی سے متعلق ایک اور اہم واقعہ ہجرت نبوی سے 23برس قبل کا ہے۔
عباس بن عبدالمطلب کا کہنا ہے کہ بروز جمعہ بمطابق13 رجب، 30عام الفیل کو ” میں اور بریدہ بن قعنب بنی ہاشم و بنی عبد العزی کے دیگر افراد کے ساتھ خانہ کعبہ کے پاس بیٹھے تھے کہ اچانک فاطمہ بنت اسد خانہ کعبہ کے( رکن یمانی) کی طرف آئیں۔ وہ نو مہینے کی حاملہ تھیں اور انھیں درد زہ اٹھ رہا تھا۔ وہ خانہ کعبہ کے برابر میں کھڑی ہوئیں اور آسمان کی طرف رخ کرکے کہاکہ” اے اللہ! میں تجھ پر، تیرے نبیوں پر اور تیری طرف سے نازل ہونے والی تمام کتابوں پر ایمان رکھتی ہوں۔ میں اپنے جد ابراہیم علیہ السلام کے کلام کی اور اس بات کی تصدیق کرتی ہوں کہ اس گھر کی بنیاد انھوں نے رکھی۔ بس اس گھر، اس کے معمار اور اس بچے کے واسطے سے جو میرے شکم میں ہے اور مجھ سے باتیں کرتا ہے، جو کلام کے ذریعے میرا انیس ہے اور جس کے بارے میں مجھے یقین ہے کہ یہ تیری نشانیوں میں سے ایک ہے، اس کی پیدائش کو میرے لےے آسان فرما”۔
عباس بن عبد المطلب اور بریدہ بن قعنب کہتے ہیں کہ” جب فاطمہ بنت اسد نے یہ دعا کی تو خانہ کعبہ کی پشت کی دیوار پھٹی اور فاطمہ بنت اسد اندر داخل ہوکر ہماری نظروں سے غائب ہوگئیں اور دیوار پھر سے آپس میں مل گئی۔ ہم نے کعبہ کے دروازے کو کھولنے کی کوشش کی تاکہ ہماری کچھ عورتیں ان کے پاس جاسکیں، لیکن در کعبہ نہ کھل سکا۔ اس وقت ہم نے سمجھ لیا کہ یہ امر الہی ہے۔ فاطمہ تین دن تک خانہ کعبہ میں رہیں۔ یہ بات اتنی مشہور ہوئی کہ مکہ کے تمام مرد و زن کئی دنوں تک گلی کوچوں میں ہر جگہ اسی بارے میں بات چیت کرتے نظر آتے تھے۔( کتابوں میں یہ صراحت کے ساتھ ملتا ہے کہ پشت کعبہ وہ مقام ہے جو رکن یمانی کہلاتا ہے)

پانچویں صدی کے سنّی عالم ابن مغازلی اپنی کتاب میں زیدہ بنت قریبہ بن عجلان قبیلہ بنی ساعدہ سے روایت کرتے ہیں کہ 13 رجب، 30عام الفیل کو میری ماں امّ عمارہ بنت عبادہ بن نضلہ بن مالک بن العجلان صحنکعبہ میں کچھ عرب عورتوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی کہ ابوطالب غمگین حالت میں ان کے پاس سے گزرے تو میری ماں نے ان سے پوچھا کہ اے ابوطالب! آپ کے کیا حال ہیں؟ ابو طالب نے مجھ سے کہا کہ فاطمہ بنت اسد درد زہ سے تڑپ رہی ہیں۔ یہ کہہ کر انھوں نے اپنا ہاتھ ماتھے پر رکھا ہی تھا کہ اچانک محمد ( صلی اللہ وعلیہ وآلہ وسلم ) وہاں پر تشریف لائے اور پوچھا کہ چچا آپ کے کیا حال ہیں؟ ابوطالب نے جواب دیا کہ فاطمہ بنت اسد درد زہ سے پریشان ہیں۔ پیغمبر نے ابوطالب کا ہاتھ پکڑا اور فاطمہ بنت اسد کی طرف گئے اور پھر دونوں کا ہاتھ پکڑ کر کعبہ میں چلے گئے اور ایک کونے میں لیجا کر فاطمہ بنت اسد کو بٹھا دیا۔
امّ عمارہ کہتی ہے کہ تھوڑی دیر بعد فاطمہ بنت اسد نے ا یک ناف بریدہ بچے کو جنم دیا۔ اس جیسا خوبصورت بچہ پورے مکہ میںکبھی نہیں دیکھاگیا۔ بعد میں ابوطالب نے اس بچے کا نام علی رکھا اور پیغمبر اسلام انھیں گھر لے کر آئے”۔
تواریخ میں صراحت کے ساتھ یہ درج ہے کہ کعبہ کی یہ جائے پیدائش رکن یمانی کا اندرونی حصہ تھا کہ جہاں رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فاطمہ بنت اسد کو لیجا کر بٹھایا تھا۔

شاہ ولی اللہ محدث دہلوی نے اپنی کتاب ” ازال الخفائ“ حافظ گنجی شافعی اپنی کتاب ” کفای الطالب“ علامہ امینی اپنی کتاب ” الغدیر“ ابن مغازلی نے اپنی کتاب مناقب اور ابن صباغ ، حاکم نیشابوری، حافظ گنجی شافعی،
علامہ ابن صبّاغ مالکی، احمد بن عبد الرحیم دہلوی، علامہ ابن جوزی جنفی، ابن مغازلی شافعی ، علامہ سکتواری بسنوی، علامہ محمد مبین انصاری حنفی لکھنوی، صفی الدین حضرمی شافعی، حافظ شمس الدین ذہبی، آلوسی بغدادی، عبد الحق بن سیف الدین دہلوی اپنی کتاب ” مدارج النبوہ“موفق بن احمد جو اخطب خوارزمی اپنی کتاب ” مناقب“، شیخ مومن بن حسن شبلنجی ، عباس محمود عقاد، علامہ صفوری، علامہ برہان الدین حلبی شافعی،
باکثیر حضرمی،، مولوی اشرف، علّامہ سعید گجراتی نے واضح طور پر اپنی اپنی کتابوں میں تحریرکیا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام بروز جمعہ تیرہ رجب تیس عام الفیل کو وسط کعبہ میں فاطمہ بنت اسد کے بطن سے پیدا ہوئے اور آپ کے علاوہ نہ آپ سے پہلے اور نہ آپ کے بعد کوئی خانہ کعبہ میں پیدا ہوا“ یہ شرف صرف مولود کعبہ علی ابن ابی طالب علیہ السلام کو ہی حاصل ہے۔

رکن یمانی” پر ایک خیال

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s