دنیا کے زندہ مذاہب


منصور مہدی

انسانی تاریخ میں لاتعداد مذاہب گزر چکے ہیں اور ہر دور میں انسان کسی نہ کسی مذہب کا پیروکار رہا ہے۔بے شمار مذاہب اب ناپید ہو چکے ہیں جبکہ اس وقت دنیا میں گیارہ مذاہب زندہ ہے جن کو ماننے والے لوگ اب بھی موجود ہیں۔یہ مذاہب کون کون سے ہیں اور ان میں بنیادی طور پر کیا اختلاف پائے جاتے ہیں اور ان میں کیا باتیں مشترک ہیں۔لیکن یہ بات سب مذاہب میں مشترک ہے کہ ایک اللہ ہی اس کائنات کا مالک ہے ۔

اسلام

مذہب اسلام کے بانی اللہ کے آخری رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جو پانچ سو اکہترعیسوی میں سعودی عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔جو بچپن سے ہی اپنے خدا سے محبت کرتے تھے ۔ہمیشہ سچ بولتے اور دوسرے کے حقوق کا خیال رکھتے تھے ۔عہد جدیدمیں اسلام دنیا کا دوسرا بڑا مذہب ہے اور اس کے ماننے والے دنیا کے ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔اس کی مقدس کتاب قرآن ہے۔اسلام کے دو بڑے فرقے شیعہ اور سنی ہیں جبکہ دیگر بھی پائے جاتے ہیں۔اسلام میں رنگ، نسل اور زبان کی کوئی تفریق نہیں اس لئے موجودہ دور کا انسان اس مذہب کو قبول کرنے میں کافی دلچسپی رکھتاہے اور یہ دنیا میں دیگر مذاہب کی نسبت سب سے زیادہ تیزی سے پھیلنے والا مذہب ہے۔

عیسائیت

عیسائیت کے بانی اللہ کے رسول حضرت عیسیٰ علیہ السلام تھے جو دوہزارچھ سال قبل بیت المقدس میں پیدا ہوئے۔یہ بچپن سے ہی عام لوگوں سے مختلف تھے ،نیک اور با عمل تھے ۔ان کی ذات سے بہت سے معجزے منسوب تھے۔اُس دور کے مذہبی پیشواﺅں نے ان کی شدیدمخالفت کی اور شہر کی عدالت میں ان پر مقدمہ دائر کر دیاجس کے نتیجے میں انہیں سزائے موت سنائی گئی اور مصلوب کر دیا گیا ۔مگر خدا نے انھیں صلیب سے ہی زندہ آسمانوں پراٹھا لیا ۔بعد میں ان کے ماننے والوں نے مذہب کی تبلیغ کی۔اس کی مقدس کتاب انجیل (بائبل) ہے۔ عیسائیت کے دو بڑے فرقے کیتھولک اور پروٹسٹنٹ ہیں جبکہ دیگر فرقے بھی ہیں۔اس مذہب کے ماننے والے بھی دنیا کے ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔

یہودیت

یہودیت بھی اللہ کا مذہب ہے اس کے بانی اللہ کے رسول حضرت یعقوب علیہ السلام تھے جبکہ حضرت یوسف علیہ السلام اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے علاوہ اللہ کے دیگر پیامبر یہودی قوم کو ہدائت دینے کیلئے آتے رہے۔اس کی مقدس کتاب توریت ہے جو کئی صحیفوں پر مشتمل ہے۔اسلام اور عیسائیت کی نسبت قدیم مذہب ہونے کے باوجود اس کے ماننے والے بہت کم ہیں کیونکہ ان کے ہاں مذہب کی تبلیغ نہیں کی جاتی اور یہ اپنے مذہب میں ضرورت کے تحت بہت کم لوگوں کو داخل ہونے کی اجازت دیتے ہیں۔یہودیت کے دوبڑے فرقے آرتھوڈکس اور کنزرویٹو ہیں جبکہ دیگر بھی پائے جاتے ہیں۔یہودی اسرائیل کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی موجود ہیں۔

ہندومت

ہندو مت کا آغاز تقریباً تین ہزارسال قبل مسیح میں ہوا۔یہ اپنے ابتدائی دور میں زیادہ تر جادو ٹونے کی رسوم پر مشتمل تھا۔برصغیر میں آریاﺅں نے اسے مربوط مذہب کی شکل دی۔اس میں دیوی دیوتاﺅں کی پوجا کی جاتی ہے ۔اس کی مقدس کتاب وید ہے جو بہت سے پرانوں پر مشتمل ہے۔رامائن ، گیتا اور مہا بھارت بھی مذہبی کتابیں ہیں۔ دوہزار سال قبل مسیح ان کے لکھے جانے کا آغاز ہوا اور یہ عمل صدیوں میں جا کر مکمل ہوا۔اس کا کوئی ایک بانی نہیں ہے بلکہ بہت سے اصحاب کا حصہ ہے۔اہم اصحاب میں رام کا بہت مقام ہے۔ اس مذہب میں انسانی تقسیم پائی جاتی ہے سب سے اعلی لوگ برہمن کہلاتے ہیں ۔ ان کے بعد کھشتری اور ویش ہیں جبکہ شودر سب سے گھٹیا لوگ ہوتے ہیں ۔ہندو مت بھارت کا سب سے بڑا مذہب ہے۔

سکھ مت

سکھ مت دنیا کے نئے مذاہب میں سے ایک ہے اس کا آغاز سولہویں صدی ہوا۔سکھ مت کے بانی بابا گرونانک جی چودہ سو انہتر میں پنجاب (پاکستان) کے شہر ننکانہ صاحب میں ایک ہندو گھرانے میں پیدا ہوئے جبکہ تعلیم مسلمان استاد سے حاصل کی۔یہ بچپن سے ہی خدا سے لگاﺅ رکھتے تھے اور ابتدائی عمر میں ہی بھجن لکھنے شروع کر دیے۔ سکھ مت میں ہندو مت کے ساتھ ساتھ اسلام کی تعلیمات بھی ملتی ہیں۔یہ بتوں کو نہیں پوجتے بلکہ ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں۔ان کی مقدس کتاب گرنتھ صاحب ہے جس میں زیادہ ترمسلمان صوفی شاعربابا فرید اور دیگر مسلمان صوفی شعرا کی کافیاں بھی شامل ہیں۔ ہندوستان کے پنجاب میںان کی اکثریت ہے جبکہ دیگر ممالک میں بھی آباد ہیں۔

بدھ مت

بدھ مت چھٹی صدی قبل مسیح میں ہندوستان میں پیدا ہونے والا مذہب ہے جس کے بانی مہاتما بدھ تھے۔یہ راجہ کے بیٹے تھے اور اپنی ابتدائی عمر سے ہی حقیقت کی تلاش میں سرکرداں ہو گئے تھے۔ ان کا نام سدھارتھ تھا اور گیان ملنے کے بعد بدھ کا لقب ملا اور تعلیمات کا پرچار کیا۔بدھ مت کے آٹھ بنیادی اصول ہیںجن میں سچا یقین ، سچا مقصد ، سچا بیان ، سچا کام ، سچی زندگی ، سچی محنت ، سچی من کی حالت ، سچا دھیان شامل ہیں۔بدھ مت ایک فلسفیانہ مذہب ہے اس میں انسان کو خود اپنی اصلاح کرنے کو کہا گیا ہے۔ مہاتما بدھ کے بعد ان کے شاگرد آنند نے پانچ سو اہم بھکشوﺅں کے ساتھ مل کر ان کی تعلیمات کو مرتب کیا۔ بدھ مت دنیا کے تین بڑے مذاہب میں سے ایک ہے ۔ہندوستان کے بعد چین اور جاپان کے لوگ بدھ مت سے زیادہ متاثرہیں۔اب دنیا کے تمام ممالک میں یہ آباد ہیں۔

جین مت

جین مت بھی بدھ مت کا ہم عصر مذہب ہے۔یہ ہندو مت میں پائی جانے والی ذات پات کے نظام کے خلاف ہے۔مہا ویر اس مذہب کے بانیوں میں اہم مقام رکھتا ہے۔مہاویر کا والد بھارت کی ریاست بہار میں واقع ایک چھوٹی سی ریاست کا حکمران تھا اور والد کی وفات کے بعد حکمرانی چھوڑ کر گیان کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا۔یہ ہندوستان کا سب سے طاقتور اور قدیم مذہب ہے۔مہاویر کے زمانے سے ہی اس میں دو فرقے بن گئے تھے۔بھارت کے صوبے گجرات میں ان کی اکثریت ہے جبکہ ممبیٰ میں ان کی تعداد بیس لاکھ سے زائد ہے۔جین مت میں راست عقیدہ ، راست علم اور راست رویہ پر خصوصی زور دیا جاتا ہے ۔جین مت میں سچ بولنے والے کا بہت احترام ہے۔

زرتشت

زرتشت ایران کا قدیم مذہب ہے جس کے ماننے والے پارسی کہلاتے ہیںاور کم و بیش دنیا کے تمام علاقوں میں پائے جاتے ہیں۔زرتشت تین سے چار ہزار سال پرانا مذہب ہے۔اس کا بانی زرتشت تھا۔اس کی تعلیمات میں ایک خدا کی پرستش کی تلقین ملتی ہے۔زرتشت بھی اپنی ابتدائی زندگی سے ہی علم وفکر میں دلچسپی رکھتا تھااوربیس برس کی عمر میں ہدایت کی تلاش میں نکل کھڑا ہوا ۔ابتدا میں اس کی تعلیمات پر لوگوں نے توجہ نہیں دی اور ان کی شدید مخالفت کی اور انھیں زندہ آگ میں ڈال دیا گیا مگر وہ صحیح سلامت آگ سے نکل آئے۔زرتشت سے بہت سے معجزے منسوب ہیں۔زرتشت مذہب کی کتاب کا نام اوستا ہے۔

کنفیوشس مت

چین کا سب سے با اثر مذہب کنفیوشس مت ہے۔کنفیوشس مت کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ ابتداءمیں یہ کوئی باقاعدہ مذہب نہیں تھا بلکہ اخلاقیات کا ایک ضابطہ تھا جس نے رفتہ رفتہ مذہب کی صو رت اختیار کر لی۔کنفیوشس نے کبھی بھی اپنی خود کو اللہ کا نبی یا اوتار ہونے کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔جس شخص نے کنفیوشس کی وفات کے بعد کنفیوشس مت کا پرچار کیا اس کا نام کنگ تھااور جب اس نے شہرت حاصل کی تو اسے کنگ گرو کا خطاب دیا گیا جسے کنگ قونسو بھی کہا جاتا تھا۔یہی لفظ جب لاطینی زبان میں تبدیل ہوا تو کنفیوشس میں ڈھل گیا۔کنفیوشس چھٹی صدی قبل مسیح میں پیداہوئے تھے ۔ان کی تحریری تعلیمات کا نام گلدستہ تحریر کہلاتی ہیں۔کنفیوشس چین کے ایک ایسے شاہی خاندان کے فرد تھے جو اپنی شان و شوکت کھو چکا تھا اور ان کے والدہ ماجدہ نے انتہائی تنگ دستی میں کنفیوشس کا اعلیٰ تعلیم دلوائی تھی۔کنفیوشس نے اپنی ابتدائی زندگی میں ہی اپنے نظریات کا پرچار شروع کر دیا تھا۔34برس کی عمر میں ان کے ماننے والوں کی تعداد چار ہزار کے قریب پہنچ گئی تھی جو چینی معاشرے میں ایک حیرت انگیز بات تھی کیونکہ چینی معاشرے میں دانائی اور عقل کو بڑھاپے میں خصوصیت سمجھا جاتا ہے۔کنفیوشس مذہب اور سیاست کو علیحدہ نہیں سمجھتے تھے بلکہ انھوں نے اپنی زندگی میں اہم حکومتی عہدوں پر کام کیا اور اسے اپنے اثرورسوخ اور تصوارات کو پھیلانے میں استعمال کیا۔کنفیوشس انسان کے اندر کی نیکی اور بھلائی کو زیادہ اہمیت دیتے تھے ان کا خیال تھا کہ اصل سچائی انسان کے دل کے اندر ہوتی ہے۔کنفیوشس کے مطابق نیک آدمی تین طرح کے خوف میں مبتلا ہو سکتا ہے۔ایک آسمانی فیصلوں کا خوف ، دوسرے عظیم انسانوں کا خوف اور تیسرے روحانی لوگوں کا خوف۔کنفیوشس کی تعلیمات کے مطابق دنیا میں واحد خدائی قانون سچ ہے اور سچ تک رسائی صرف اور صرف خدا کے ذریعے ہو سکتی ہے۔

تاﺅ مت

تاﺅ مت بھی چین کا مذہب ہے۔اس کی ہیت بھی مذہب سے زیادہ اخلاقی فلسفہ کی ہے۔چین کے حوالے سے دوسرے ممالک کے لوگوں کو یہ بات عجیب لگتی ہے کہ چین کے رہنے والے ایک ہی وقت میں بدھ مت ، تاﺅ مت اور کنفیوشس ازم کو اپنا مذہب قرار دیتے ہیں جبکہ دنیا کے باقی لوگ ایک وقت میں ایک ہی مذہب کو اپنا مذہب قرار دیتے ہیں۔قدیم چین کے لوگ کثرت پسند تھے اور اپنے اجداد کی ارواح کی پرستش کرتے تھے ۔کائنات کے بنایدی اصول کی وضاحت کےلئے قدیم چینی مفکرین نے ین اور یانگ کے تصورات کا استعمال کیا۔ین فطرت کی منفی قوت اور یانگ فطرت کی مثبت قوت کا کہا جاتا ہے۔ین میں تاریکی ،ٹھنڈک ، نسوانیت ،نمی ،زمین ،چاند اور سایہ شامل ہیں جبکہ یانگ میں روشنی ، نور ، گرمائش ، مردانگی ، خشکی اور سورج شامل ہیں۔قدیم چین میں بزرگوں کا غیر معمولی احترام کیا جاتا تھا۔تاﺅ مت کے بانی کا اصل نام لی پوہ تانگ تھالیکن وہ لاﺅتزو کے نام سے مشہور ہوئے جس کے معنی بوڑھا استاد کے ہیںکیونکہ چین میں بڑھاپے کو ہی زندگی کا اصل آغاز سمجھا جاتا ہے۔اس مذہب کی کتاب کا نام تاوتی چنگ ہے جس کا معنی فطرت کا راستہ ہے۔ تاﺅ مت کے بانی چھ سو چار قبل مسیح میں پیدا ہوئے اور ایک عرصے تک شاہی کتب خانے کے انچارج کے طور پر کام کیا اور بعد ازاں ملازمت ترک کردی اور ایک لمبی سیاحت کو نکل گئے اور بعد میں گوشہ نشینی اختیار کر لی۔تاﺅ انسانی زندگی کو ایک عظیم اثاثہ قرار دیتے ہیں۔انھوں نے تعلیم،دولت،طاقت ،خاندان اور شہرت وغیرہ کو زندگی کےلئے بیکار بوجھ قرار دیا جس سے چھٹکارا پانا ضروری ہے۔

شنتو مت

شنتو مت جاپان کا ایک اہم ترین مذہب ہے ۔شنتو چینی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی خدائی راستہ کے ہے۔شنتو مت قدرتی مظاہر کی پرستش کا نام ہے۔شنتو مذہب کا باقاعدہ آغاز تین سو سال قبل مسیح میں ہوا۔اس کی بنیادی تعلیمات کے مطابق انسان خدا کی مرضی سے فرار حاصل نہیں کر سکتا ، آباﺅ اجداد اور بزرگوں کی خدمت کرنا لازمی فرض ہے ، حکومت اور ریاست سے وفاداری کرنا ضروری ہے ،دیوتاﺅں کی اچھائی پر نظر رکھو، اپنے غصے پر قابو پاﺅ اور اپنی حدود کو فراموش نہ کرو، بیرونی تعلیمات کی اندھا دھند تقلید مت کرو ، اپنا کام دل جمعی اور لگن کرو۔ شنتو مت میں دوسری جنگ عظیم کے بعد بہت سے تبدیلیاں ہوئی اور اس پر بیرونی مذاہب کے بھی اثرات مرتب ہوئے ۔اس مذہب میں تیرہ فرقے ہیںاور جاپان کے سرکاری مذہب کی حیثیت حاصل ہے۔

Published

12-11-2006

دنیا کے زندہ مذاہب” پر 4 خیالات

  1. پنگ بیک: دنیا کی کہانی میری زبانی

  2. میں نے دنیا کے مذاہب پر 2005میں ایک مقالہ لکھا تھا جس کو مختصر کر کے نومبر2006میں اپنی اس ویب سائٹ پر شائع کیا تھا۔ اب آپ 2009میں ایک ویب سائٹ http://pak.net/%D8%A7%D8%B3%D9%84%D8%A7%D9%85%DB%8C-%D8%B9%D9%82%DB%8C%D8%AF%DB%81/%D8%AF%D9%86%DB%8C%D8%A7-%DA%A9%DB%92-%D9%85%D8%B4%DB%81%D9%88%D8%B1-%D9%85%D8%B0%D8%A7%DB%81%D8%A8-28400/#post283989 شائع ہونے والی تحریر کے بارے میں کہتے ہیں کہ اسے کاپی کیا ہوا ہے۔ اور اگر آپ نے یہ مضمون انہی الفاظ کے ساتھ کہی اور پڑھا ہے تو مہربانی فرما کر اس کا لنک روانہ کریں

    شکریہ
    منصور مہدی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s