بیٹوں کو فوقیت کیوں؟


منصور مہدی
ہمارے معاشرے میں یہ بات عام ہے کہ بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دی جاتی ہے۔ بیٹا ہونے پر خوشی منائی جاتی ہے اور بیٹی پر منہ بنایا جاتا ہے۔ بیٹے کو بیٹیوں سے زیادہ محبت، اہمیت اور توجہ کا حقدار سمجھا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ انہیں بیٹیوں کی نسبت اچھی خوراک دی جاتی ہے۔ بیٹیوں کی نسبت بہتر اور معیاری اسکولوں میں پڑھایا جاتا ہے۔ ان کی ہر فرمائش پوری کی جاتی ہے اور ان کی ہر غلطی معاف کردی جاتی ہیں۔ ان کی شادی کی خوشی بیٹیوں کی شادی سے زیادہ کی جاتی ہے۔
روزنامہ نئی بات کے خواتین میگزین نے مختلف طبقہ فکر سے تعلق رکھنے والے عمرانیات، نفسیات، دینی اموراور قانون سے تعلق رکھنے والے ماہرین کے علاوہ عام شہریوں سے پوچھا کہ ہمارے ہاں بیٹوں کو بیٹیوں پر کیوںفوقیت دی جاتی ہے؟ ان میں سے 75فیصد افراد نے اسے جاہلانہ اور فرسودہ رویہ قرار دیا۔ جبکہ 10فیصد نے اسے درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ چونکہ مرد ہمیشہ سے ہی برتر رہے ہیں اور انھیں ہر دور میں فوقیت حاصل رہی ہے ۔15فیصد نے اسے مذہبی اور دینی تعلیم سے تعبیر کیا۔
ماہر عمرانیات ڈاکٹر سدرا کاظمی کا کہنا ہے کہ ان فرسودہ خیالات کی کہانی بہت پرانی ہے۔ زمانہ قدیم ہی سے بیٹوں کو فوقیت دی جاتی رہی ہے۔ اس ترجیح کی کچھ معاشی، سماجی اور نفسیاتی بنیادیں ہیں۔ انسان کا ابتدائی دور قبائلی اور زرعئی نظاموں پر مشتمل تھا۔ غذا کا حصول یا تو شکار کرنے پر منحصر تھا یا پھر کھیتی باڑی کے ذریعے غلہ اگانے پر۔ دونوں ہی صورتوں میں بڑی تعداد میں کام کرنے والی لیبر فورس یعنی مزدوروں کی ضرورت ہوتی تھی۔ بیٹا ہونے کی صورت میں ایک فرد کو مفت کے مزدور ہاتھ آجاتے اور بیٹی ہونے کی صورت میں وہ ان مزدوروں سے محروم رہ جاتا تھا۔یہ بات واضح رہے کہ قدیم زمانے میں باپ کو اپنے بیٹوں پر تشدد، انہیں خاندان سے خارج کردینے، یہاں تک کہ انہیں قتل تک کرنے کے اختیارات بھی بعض صورتوں میں حاصل تھے۔ چنانچہ بیٹے اپنی معاشی اور سماجی بقا کے لئے باپ کا حکم ماننے اور مشترکہ جائیداد سے جڑے رہنے پر مجبور تھے۔
سدرا کا کہنا ہے کہ پھر بیٹے کو ترجیح دینے کی ایک سماجی وجہ یہ بھی تھی کہ بیٹوں اور پوتوں کی کثرت سماج میں ایک احساس تحفظ فراہم کرتی اور مبینہ دشمنوں سے دفاع میں معاون ثابت ہوتی تھی۔اس کے برعکس بیٹی کی صورت میں ایک طرف تو محافظوں کی نفری میں کمی واقع ہوجاتی اور دوسری جانب لڑکی کی بلوغت اور شادی تک حفاظت کا بوجھ بھی بڑھ جاتا تھا۔
اس کے نفسیاتی پہلو کے حوالے سے سدرا کا کہنا ہے کہ جب لڑکے کے اس قدر دنیاوی فائدے نظر آنے لگے تو لوگ مرد کو برتر اور عورت کو کمتر مخلوق سمجھنے لگے۔ اسی طرح نسل کے تسلسل کا سلسلہ بیٹے سے جوڑ دیا گیااور ایک غلط تصور پیدا ہوگیا کہ اگر بیٹا نہ ہو ا تو نسل ختم ہوجائے گی۔ ان سب باتوں کا لازمی نتیجہ یہ نکلا کہ بیٹی کی ولادت نفسیاتی طور پر ناپسند کی جانے لگی۔ پھر بعد میں پیدا ہونے والی نسلوں نے اس ناپسندیدگی کو ایک روایت کے طور پر قبول کرلیا۔ وگرنہ سائینس تو مرد اور عورت میں موجود صلاحیتوں کو یکساں قرار دیتی ہے بلکہ جہاں کچھ معاملات میں مرد میں کوئی خوبی زیادہ ہے تو وہاں عورت میں بھی کئی خوبیاں مردوں سے زیادہ ہے۔ جیسے مرد میں جسمانی برتری تو عورت میں قوت برداشت زیادہ ہوتی ہے۔
لاہور ہائی کورٹ کے سینئر وکیل نوید عباس کا کہنا ہے کہ اگر عقل و فطرت اور اسلام کے لحاظ سے لڑکا لڑکی سے بہتر ہے تو اس روئیے میں کوئی قباحت نہیں ہونی چاہیے۔ لیکن اگر ایسا نہیں تو پھر اس کی اصلاح ضروری ہے۔ نوید کا کہنا ہے کہ عورت کے بار ے میں دنیا کی ہر قوم کے عمومی خیالات کم و بیش ایک ہی جیسے فرسودہ ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ باقی قومیں وہ کہتی ہیں جو انکے صحیفوں میں لکھا ہے جبکہ ہم وہ نہیں کہتے جو قرآن میں لکھا ہے۔توریت میں لکھا ہے کہ ”آدم اپنی تنہائی سے اداس رہنے لگا تھا لہذا خدا نے اس کی پسلی سے حوا ( یہ لفظ اور پہلی عورت کے پیداہونے کا یہ نظریہ قرآن میں نہیں ہے) کو پیدا کیا تاکہ وہ اس کا دل بہلاتی رہے (پیدائش 2/21-25) عورت ابلیس کا پیکر ہے کیونکہ اسی نے آدم کو جنت سے نکلوایا (پیدائش3/8-13)۔ انجیل میں بھی یہی کچھ لکھا ہے لیکن قرآن اس کی تردید کرتے ہوئے ایک طرف تو یہ بتاتا ہے کہ جس طرح عورت کو پیدا کیا گیا بالکل اسی طرح مرد کو بھی پیدا کیا گیا(1/النسائ)اور دوسری طرف جنت سے نکالے جانے کے لیے عورت اور مرد (دونوں) کو برابر کا قصور وار ٹھہراتا ہے(36!البقرہ)۔قرآن کے مطابق سیرت و کردار کا کوئی ایک گوشہ بھی ایسا نہیں جس میں عورت اور مرد ہم مقام و ہم قدم نہ ہوں (35 !الاحزاب)اسی لیے حضور نبی اکرم مرد اورعورت کی مساوات کے قائل تھے۔قرآن تو کہتاہے کہ ”مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے رفیق ہیں“ (71التوبہ) ۔
نوید عباس کا کہنا ہے کہ قرآن کہیں نہیں یہ کہتا کہ مرد عورت کا حاکم ہے اور لڑکے کو لڑکی پر فوقیت حاصل ہے۔ بلکہ قرآن نے انسان پر یہ بات واضح کردی کہ مرد اور عورت ایک ہی درجے کی مخلوق ہے۔ کتابِ ہدایت میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ”اے لوگو! ڈرو اپنے رب سے جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور اس جوڑے سے دنیا میں بہت سے مرد اور عورتیں پھیلائے” (سورہ النسائ)۔ اس آیت کریمہ سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ا للہ تعالیٰ کے آگے مرد اور عورت ایک ہی درجے کی مخلوق ہے۔
معاشرے میں پائے جانے والے سماجی مسائل کے حوالے سے کام کرنے والے غیر سرکاری ادارے SUNEHA کے صدر ادریس علی کا کہنا ہے کہ بیٹی قدرت کا انمول تحفہ ہوتی ہے۔ جن گھروں میں بیٹیاں ہوتی ہیں وہاں کے ماحول میں ایک انوکھی رونق اور چہل پہل رہتی ہے۔ ہر طرف خوشی کا دور دورہ نظر آتا ہے۔ بیٹی، بیٹے کی نسبت زیادہ حساس ہوتی ہے۔ اس لیے وہ گھر والوں کا زیادہ خیال رکھتی ہے۔ ان کی ذرا سی پریشانی پر پریشان ہوجاتی ہے۔ افسوس کی بات تو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آج بھی دورِ جاہلیت کی جھلک نظر آتی ہے جس کی بنا پر خدا کی رحمت بیٹی کو زحمت سمجھا جاتا ہے۔ والدین سمجھ بھی نہیں پاتے اور چھوٹی چھوٹی ناانصافیوں کے مرتکب ہوجاتے ہیں جو بیٹیوں کو تنہا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔ہمارے معاشرے میں پایا جانے والا یہ رویہ غلط ہے۔ اس سے معاشرے میں کوئی نکھار نہیں آتا بلکہ معاشرے کی نا انصافی میں اضافہ ہوتا ہے۔
ادریس علی کا کہنا ہے کہ حضرت آدم کو دنیا میں بحیثیت پیغمبر مبعوث فرمانے کے ساتھ ہی رب کائنات نے آپ کو دنیا کی ہر ایک چیز کا علم عطا کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت حوا کے حقوق کی علمیت بھی عطا فرمائی۔ اس طرح جب دنیا میں مرد و زن کی آبادی بڑھتی گئی تو مرد اورعورت ایک دوسرے کی عزت کرنے لگے اور ایک دوسرے کو توقیر کی نگاہوں سے دیکھا جانے لگا لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ انسان (مرد) کے رویے میں تبدیلی آنے لگی اور عورت کو نچلے درجے کی مخلوق تصور کیا جانے لگا۔
محمد اکرم جو ماسٹر ڈگری ہولڈر ہے نے نئی بات کے سروے کے حوالے سے کہا کہ بیٹوں کو ہمیشہ بیٹیوں پر فوقیت حاصل رہی ہے اور رہے گی کیونکہ مرد کو عورت سے افضل بنایا گیا ہے۔ عورت کو مرد کی پسلی سے پیدا کیا ہے اس لئے وہ مرد سے کمتر ہے۔عورتوں کی پڑھائی کے حوالے سے کہتے ہیں کہ قرآن میں کہیں بھی ذکر نہیں ہے کہ عورتوں کو تعلیم دی جائے۔ اور جہاں احادیث میں تعلیم حاصل کرنے کا ذکر ہے وہاں صرف اور صرف دینی تعلیم مقصود ہے۔ ویسے بھی مرد کو عورت پہ فضیلت دی گئی ہے تو ہم کیسے اپنی بیٹیوں کو اپنے بیٹے پر ترجیح دے سکتے ہیں۔
انھوں نے اپنے موقف کی دلیل میںقرآن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ” مرد عورتوں پر محافظ و منتظم ہیں اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس وجہ سے (بھی) کہ مرد (ان پر) اپنے مال خرچ کرتے ہیں، پس نیک بیویاں اطاعت شعار ہوتی ہیں شوہروں کی عدم موجودگی میں اللہ کی حفاظت کے ساتھ (اپنی عزت کی) حفاظت کرنے والی ہوتی ہیں، اور تمہیں جن عورتوں کی نافرمانی و سرکشی کا اندیشہ ہو تو انہیں نصیحت کرو اور (اگر نہ سمجھیں تو) انہیں خواب گاہوں میں (خود سے) علیحدہ کر دو اور (اگر پھر بھی اصلاح پذیر نہ ہوں تو) انہیں (تادیباً ہلکا سا) مارو، پھر اگر وہ تمہاری فرمانبردار ہو جائیں تو ان پر (ظلم کا) کوئی راستہ تلاش نہ کرو، بیشک اللہ سب سے بلند سب سے بڑا ہے۔
پروفیسر اور محقق محمد امین گوندل کا کہنا ہے کہ قدیم معاشرے میںعورت کو دوسرے درجے کی مخلوق مانا جاتا تھا۔ قدیم چین میں عورت کو نہایت ہی حقارت کی نظر سے دیکھا جاتا تھا جبکہ ہندوستان میں عورت کو گندگی کی پوٹلی سے تعبیر کیا جاتا تھا۔ قدیم یونان میں عورت سماج سے بالکل الگ تھلگ ہو کر رہ گئی تھی اور رومی تہذیب میں عورت کو فقط بچہ جننے والی ایک مشین تصور کیا جاتا تھا۔ عورت کی تذلیل اس وقت اپنی انتہا کو پہنچی جب زمانہ جاہلیت میں عرب کے لوگ عورت کو باعث نحوست سمجھنے لگے۔ یہ وہ زمانہ تھا جب عرب میں جاہلیت اپنے عروج پر تھی اور لوگ لڑکی کی پیدائش پر اپنا منہ چھپائے پھرتے تھے۔ اس دور میں عرب میں عورتوں کے ساتھ نہایت ہی نازیبا سلوک کیا جاتا تھا۔ عورتوں کی سر عام تذلیل کرنا مردانہ شان سمجھی جاتی تھی اور ظلم کی انتہا یہ تھی کہ لڑکیوں کو پیدائش کے وقت ہی زندہ دفن کیا جاتا تھا۔
یہی وہ دور تھا جب عرب کے جاہل لوگ عورت کے مقام کو مکمل طور فراموش کرچکے تھے اور انہیں اِس بات کو ذرا بھی احساس نہیں تھا کہ کاروان زندگی کو آگے بڑھانے میں عورت کا اہم مقام ہے۔ دور جاہلیت میں عرب کے لوگ گمراہی میں مبتلا تھے۔ ہر طرف تاریکی اور جہالت کا دوردورہ تھا کہ عرب کے خار زاروں اور ریگزاروں میں نور کا ظہور ہوا۔ پیغمبر آخر الزمان حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جہالت کے سمندر میں ڈوبی انسانیت کو تاریکیوں سے نکال کر دینِ حق و مبین کے نور سے منور کرکے صراط المستقیم پر لا کھڑا کردیا۔ امین گوندل کا کہنا ہے کہ ابھی بھی دنیا جاہلیت اور فرسودگی سے بھری پڑی ہے اور ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو بیٹیوں کو بیٹوں سے کمتر سمجھتے ہیں۔
کشور جہاں گھریلو خاتون کا کہنا ہے کہ والدین یہ سوچتے ہیں کہ بیٹیوں کو تو شادی کے بعد اپنے گھروں کو چلے جانا ہے تو بیٹے ہی ان کے بڑھاپے کا سہارا بنیں گے۔ یہ سوچ کر وہ اپنے بیٹوں کو بیٹیوں پر فوقیت دیتے ہیں اور ان کی غلطیوں کو نظرانداز کرکے غلط کاموں پر بھی انہیں کچھ نہیں کہتے۔ حالانکہ ایسا کر کے وہ بہت بڑی غلطی کرتے ہیں کیونکہ اس سے نہ صرف ان میں برتری اور حاکمیت کا جذبہ پیدا ہوتا ہے بلکہ شخصیت میں بھی بگاڑ پیدا ہوتا ہے۔ بیٹوں سے زیادہ بیٹیوں کو توجہ کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ بیٹیاں جذباتی طبیعت کی مالک ہوتی ہیں۔ خوشی پر وہ کھل کھلا اٹھتی ہیں تو دکھ پر چور چور ہوجاتی ہیں۔ افسوس کہ اکثر ماوں کو بیٹیوں کی اس کیفیت کا اندازہ نہیں ہوتا۔ جن بیٹیوں کو اپنے مسائل ماں کو بتانے کا موقع نہیں ملتا وہ یا تو تنہائی کا شکار رہتی ہیں یا پھر گھر سے باہر سہارے تلاش کرتی ہیں اور احساس محرومی میں رہ کر اپنی شخصیت کا وقار کھو دیتی ہیں۔ بیٹی کو یوں گمراہ ہونے کا موقع بھی والدین ہی دیتے ہیں جو ان کی غفلت کا نتیجہ ہے۔
ہمارے ہاں ایسے خاندانوں کی کمی نہیں جو اعلیٰ تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بھی اسی سوچ کے حامل ہےں اور وہ بیٹوں کو بیٹیوں پر ترجیح دیتے ہیں۔ بسا وقات بیٹے کے لالچ میں بیٹیاں ہی پیدا کرتے چلے جاتے ہیں اور ایسے افراد کی بھی کمی نہیں کہ جو صرف بیٹیوں پر ہی قناعت کر لیتے ہیں۔ دوسری طرف ایسے افراد کی بھی کمی نہیں کہ جو بیٹی کی پیدائش پر بیوی کو قتل کرنے سے بھی نہیں چونکتے۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ انسان تو اس کائنات میں ایک حقیر سا کل پرزہ ہے ۔ پیدائش اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ لڑکی یا لڑکا پیدا کرنا انسان کے بس میں نہیں چہ جائے کہ ایسا کرنا صرف عورت کے اختیار میں ہو۔ لہذا بیٹیاں بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہوتی ہیں کہ جتنا کہ بیٹا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s