عورت کے لیے پردہ


کیا عورت کے لیے پردہ ضروری ہے ؟

منصور مہدی
دنیائے اسلام میں عورتوں کے پردے کے بارے میں مختلف معاشروں کا رویہ مختلف رہا ہے۔ کچھ ایسے معاشرے ہیں کہ جہاں عورت کے لیے پردہ لازمی ہے اور کچھ ایسے ہیں کہ جہاں پردہ کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ جیسے ایران اور سعودی عرب میں تمام عورتوں کے لئے پردہ لازمی ہے لیکن ترکی میں سرکاری اداروں میں عورت کے پردہ کرنے پر پابندی ہے اسی طرح کئی دوسرے مسلمان اکثریت ممالک میں بھی پردہ کرنے کا کوئی رواج موجود نہیں یا پھر ایسے ممالک بھی ہیں کہ جہاں پردہ کرنے یا نہ کرنے پر کوئی اعتراض نہیں کیا جاتا۔لیکن ان معاشروںمیں بیشتر میں پردے یا حجاب کے حوالے سے اختلاف بھی پایا جاتا ہے کہ کیا صرف سر کا ڈھانپنا ہی کافی ہے یا چہرے پر نقاب ڈالنا بھی ضروری ہے۔
پاکستان ان ممالک میں شامل ہے کہ جہاں بہت سی عورتیں برقعہ اور حجاب اوڑھتی ہیں لیکن شہروں اور دیہات میں ایک بڑی تعداد نہ تو پردہ کرتی ہے اور نہ ہی حجاب اوڑھتی ہے۔آپ کے خیال میں کیا پردہ یا حجاب اوڑھنا ضروری ہے؟ نئی بات خواتین میگزین نے اس بار اس سوال کو مختلف طبقہ فکر کے احباب کے سامنے پیش کیا تو معلوم ہوا کہ پاکستان میں 60فیصد ایسے افراد موجود ہیں جو عورتوں کے لیے پردہ یا حجاب ضروری سمجھتے ہیں جبکہ 30فیصد افراد عورتوں کے لیے پردہ ضروری نہیں سمجھتے اور ان کا کہنا ہے کہ یہ ایک غیر ضروری چیز ہے جو عورتوں پر مسلط کر دی جاتی ہے اور 10 فیصدافراد نے پردے کے بارے میں ملی جلی رائے کا اظہار کیا۔
پروفیسر احمد دانیال نے اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ عورت اور پردہ ایک لازم وملزم چیز ہے۔ اگر ہم عورت کے لغوی معنی دیکھیں تو وہ بھی پردہ کے ہی معانی میں آتا ہے جبکہ اصل معانی ایسی چیز کہ جسے دیکھنے یا دکھانے میں شرم آتی ہو۔ عورت عربی زبان کا لفظ ہے جو اردو میں غالباً 1503میں پہلی بار استعمال ہوا۔ جبکہ حجاب یا پردہ کے بھی لغوی معنی کسی چیز کو چھپانا ہے یا آڑ لینا ہے۔قرآن مجید میں پردے سے متعلق دو آیتیں بطور خاص آئی ہیں۔ پہلی آیت” سورہ نور کی ہے۔جس کا ترجمہ یہ ہے کہ "اور عورتیں اپنی زینت ظاہر نہ ہونے دیں مگر بجز اسکے جو ظاہر ہو جائے ” آیت کے آخری حصے کی مفسرین نے مختلف تعریف کی ہے ۔کچھ کا کہنا ہے کہ اس سے مراد چہرہ اور ہتھیلی ہے جبکہ کچھ چہرہ اور ہتھیلی کو خارج حجاب نہیں بلکہ داخل حجاب سمجھتے ہےں۔ لیکن سب اس بات پر متفق ہیں کہ عورتوں کو پردہ کرنا ضروری ہے۔
پروفیسر مجید احمد سیالوی کا کہنا ہے کہ انسان کی معاشرتی زندگی میں ستر اور پردہ دونوں خاص اہمیت کے حامل ہیں، انسان کو اگر اسلامی تعلیمات کی روشنی میں دیکھا جائے تو فطرت انسانی اور اسلامی تعلیمات دونوں یکساں نظر آتی ہیں۔پردے یا حجاب کا تعلق دراصل دو چیزوں سے ہے ، ایک شرم و حیا کا فطری جذبہ اور دوسری انسانی زندگی ( مرد وعورت دونوں کی) کی گناہوں سے حفاظت سے۔ حیا اور شرم چوں کہ فطری تقاضا ہے ، اس لیے اسلامی تعلیمات میں بھی اس کی اہمیت بنیادی اور اساسی نوعیت کی ہے۔شرم وحیا ایک بنیادی اور فطری وصف ہے جو آدمی کو بہت سے برے کاموں اورمنکرات سے روکتی ہے او راچھے اور پسندیدہ کاموں پر آمادہ کرتی ہے۔ اسی لیے اسلام نے عورتوں پر پردہ واجب قرار دیا کہ وہ پہلے ہی شرم و حیا کا پیکر ہوتی ہیں اس سے انھیں خود اور اپنے جسم کو غیروں سے چھپانا ضروری ہوتا ہے۔
پروفیسر عظمیٰ نجیب کا کہنا ہے کہ اگرچہ پردہ تمام امتوں میں فرض نہیں رہا اور اسلام میں بھی ابتدا میں فرض نہیں تھا۔ مگر 5 ہجری میں جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حضرت زینب بنت حجش سے نکاح کیا تو ولیمے کے موقع پر پردے کا حکم نازل ہوا۔ لیکن بطور رواج اس کا ثبوت اسلام سے قبل بھی ملتا ہے۔ پردہ صرف عورت پر فرض ہے اور صرف نامحرموں سے ہوتاہے۔ اسلام سے بہت پہلے عربوں میںبھی پردہ رائج تھا۔اسی طرح اگر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو نہ صرف عرب بلکہ یونان او رایران وغیرہ میں بھی قبل از اسلام پردے کا رواج تھا اور ایرانی حرم میں تو پردہ اس قدر شدت کے ساتھ رائج تھا کہ نرگس کے پھول بھی محل کے اندر نہیں جاسکتے تھے، کیوں کہ نرگس کی آنکھ مشہور ہے۔یہی نہیں بلکہ اسلام کی آمد کے بعد مسلم معاشرت اور اسلامی حکومت کے اثرات کے تحت شمالی ہندوستان میں بھی کئی غیر مسلم خاندانوں میں پردے کا رواج ہو گیا تھا، جو ایک عرصے تک قائم رہا۔عربوں کے ہاں نہ صرف پردہ ( اور چہرے کا پردہ) رائج تھا، بلکہ یہ پردہ آزاد اور شریف عورتوں او رباندیوں میں وجہ امتیاز بھی تھا، آزاد اور شرفا کے خاندانوں سے تعلق رکھنے والی خواتین باپردہ ہوتی تھیں اور زر خرید باندیاں اور لونڈیاں چہرے کھول کر مردوں کے سامنے آتی جاتی تھیں ، یہ اس دور کی عام معاشرت تھی ، جو اسلام کے بعد بھی رائج رہی اور اسلام نے اس پردے کو قانونی شکل دے دی گئی۔
فرخندہ نیاز احمد جو نجی ادارے میں کام کرتی ہیں کا کہنا ہے کہ حجاب عورت پر لازم ہے۔ اور انہیں اپنے ہاتھوں، پیروں اور چہرے کے علاوہ پورے جسم کو ڈھانپنا چاہئے۔ہم مسلمانوں کو اپنی اقدار پر فخر ہے اور ہمیں اس پر کسی رائے شماری کی ضرورت نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ پردے اور حجاب کے معاملے میں اگرچہ مختلف مکاتبِ فکر کی مختلف آراءہیں۔جن میں جدت پسند کہلانے والے افراد حجاب کو آنکھوں اور دل کا پردہ کہتے ہیں لیکن کیا صرف ان چیزوں کا نام پردہ ہے۔ جو جسم کا پردہ نہ کرسکے وہ آنکھوں اور دل کا پردہ کیا کرے گا۔ انھوں نے کہا کہ عورت ایک چھپی ہوئی خوبصورتی ہے جو کہ حجاب میں ہی اچھی لگتی ہے۔ اس سے نہ صرف عورت کے وقار میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ عورتیں جب پردے میں گھر سے باہر نکلتی ہیں تو بری نگاہوں سے بھی محفوظ رہتی ہیں۔
ماہر نفسیات وقاص احمد کا کہنا ہے کہ خواتین کے لیے اللہ کا جو حکم ہے کہ وہ اپنے سروں کو ڈھانپ کر رکھیں جس سے واضح ہے کہ انہیں اپنے چہروں اور سروں کو ڈھانپ کر رکھنا چاہیے۔ اس کے باعث موجودہ زمانے میں بہت سی برائیوں سے بچنا ممکن ہو جاتا ہے اور اس میں اللہ کی حکمت ہے۔ اللہ نے جو عورت کو اپنے ہاتھ ، چہرے اور جسم کے دوسرے حصوں کو چھپانے کا جو ھکم دے رکھا ہے اس کی وجہ اب جدید میڈیکل سائنس بھی بتلا رہی ہے کہ عورت کے برہنہ حصوں سے ایسی ریز برآمد ہوتی رہتی ہے جو جنس مخالف میں کشش پیدا کرنے کا باعث بنتی ہےں اور یہی وجہ ہے مغرب کا مادر پدر آزاد معاشرے میں ایسی خواتین کی کمی نہیں جو عورتوں کی برہنگی کے خلاف ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ یورپ کے وہ ممالک کہ جہاں سخت سردی ہوتی ہے اور خواتین نے مکمل لباس پہنا ہوتا ہے ، سر اور چہرے کو بھی چھپایا ہوتا ہے کی نسبت وہ ممالک جہان سردی زیادہ نہیں پڑتی یا سردی کا موسم زیادہ سخت نہیں ہوتا اور جب خواتین سکرٹ وغیرہ میں ملبوس ہوتی ہیں میں خواتین کے خلاف جرائم کی شرح بڑھ جاتی ہے۔
حبیب احمد جوایک بنک میں کام کرتے ہیں کا کہنا ہے کہ میرے خیال میں سب کو اپنی مرضی کرنے کا حق ہے اور وہ حجاب اوڑھنے یا نہ اوڑھنے میں خود مختار ہے۔ ویسے بھی اسلام میں کسی قسم کا جبر کرنے کی تلقین نہیں کی گئی ہے۔ اس لیے اسلامی احکامات کسی پر زبردستی لاگو نہیں کیے جا سکتے۔ مسلمان خواتین کے لیے حجاب اوڑھنا کوئی بری بات نہیں لیکن کسی خاتون کو حجاب اوڑھے پر مجبور کرنا قطعاً درست نہیں اور یہ انسانی آزادی کے صریحاً خلاف ہے۔ ذاتی طور پر میرا خیال ہے کہ حجاب لازمی نہیں ہونا چاہئے۔کیونکہ اگر آپ کو کسی چیز سے تکلیف ہوتی ہے تو وہ آپ پر جبراً نہیں ٹھونسی جانی چاہئے۔ اس صورت میں آپ کا اپنا ایمان اس پر کمزور ہوگا اور آپ اسے دل سے نہیں کریں گے۔
فرحیہ جبیں کا کہنا ہے کہ پردے کے حوالے سے ہم فوری شریعت اور اسلام کی بات کرنے لگتے ہیں لیکن اسلام کی وہ باتیں جو ہمارے دل کو بھاتی ہین ان پر عمل کرنا شروع کر دیتے ہیں اور جو نہین بھاتی انھیں چھوڑ دیتے ہیں ۔ شرم و حیا اور پردے کے حوالے سے قرآن میں صرف عورتوں کے لیے ہی احکامات نہیں بلکہ مردوں کے لیے بھی حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں۔ اس کے بعد خواتین کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنے سینے کو ڈھانپے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ ان تمام تعلیمات کا بنیادی مقصد ان اعلیٰ اقدار کو معاشرے کا اہم حصہ بنانا ہے۔ میرے خیال میں مرد و عورت کے مخصوص جسمانی خدوخال کو چھپانا حجاب کے زمرے میں آتا ہے اور لمبا کوٹ یا قمیض، برقعہ اور نقاب اس مقصد کی تکمیل کر سکتے ہیں۔ لیکن مرد خود ان باتون پر عمل نہیں کرتے اور عورتوں کو ہر بات کا دوش دیتے ہیں۔
ناصرہ حبیب کا کہنا ہے کہ شرم وحیا کوقائم رکھنا صرف عورت کا کام ہی نہیں بلکہ مردوں کو بھی شرم کرنا چاہیے ۔ ہم جس معاشرے کا حصہ ہیں وہاں خواتین سے تو امید کی جاتی ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات کے مطابق لباس پہنیں لیکن اس بات کو بھلا دیا جاتا ہے جس میں مردوں سے نظریں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ خواتین کو محض کمزور جنس ہونے کے باعث استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے جو سراسر بے جا ہے۔ آج کے دور میں جب عورتیں بھی مردوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہیں اور انہیں مردوں کے برابر حقوق حاصل ہیں۔ بنیادی بات یہ ہے کہ عورت کا کردار پختہ ہونا چاہئے۔
شاہد حسن کا کہنا ہے کہ اسے انفرادی مرضی پر چھوڑنا چاہئے کہ کوئی پردہ یا حجاب پہننا چاہتا ہے یا نہیں۔ کسی بھی حکومت یا افراد کو حجاب اوڑھنے یا نہ اوڑھنے کو لوگوں پر مسلط کرنے کا کوئی آختیار نہیں ہونا چاہئے۔اگر کوئی پردہ یا حجاب لینا چاہتی ہے تو اسے بھی نہ لینے پر مجبور نہیں کرنا چاہیے اور ایسے ہی جو عورت پردہ نہیں لینا چاہتی اسے بھی مجبور نہ کیا جائے وہ پردہ لے۔انھوں نے کہا کہ انسان کے ذاتی معاملات ہیں جن مین کسی دوسرے کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔
فیاض احمد کا کہنا ہے کہ میری رائے میں ہمیں اپنے رویے میں میانہ روی اختیار کرنی چاہیے۔ میں اس نظریے سے پوری طرح اتفاق کرتا ہوں کہ شرم اور حجاب انسان کی نگاہ میں ہوتا ہے۔ بھلا وہ بھی کیا حجاب ہوا جو دوسروں کو دکھانے کے لیے اوڑھا جائے۔
عورت کے لیے پردہ ضروری ہے یا نہیں ضروری ، اس بات کا فیصلہ تو قارئین ہی اپنے طور پر بہتر کر سکتے ہیں لیکن اسلام نے کبھی کسی چیز پر جبر نہیں کیا بلکہ دینِ فطرت ہونے کی بدولت یہ معاشرے میں اخلاقی توازن قائم کرنے میں بھرپور کردار ادا کرتا ہے۔ حجاب پاکیزگی اور اخلاقیات کی علامت ہے اور اس کا ثبوت دوسرے مذاہب مثلاً عیسائیت میں بھی ملتا ہے۔ حجاب ام المومنین کی سنت ہے اس لئے اس کا اوڑھنا بہت افضل ہے لیکن اسلام نے ظاہری عبادات کے علاوہ باطنی عبادات جیسا کہ تقویٰ پر بھی زور دیا ہے اس لئے صرف پہننا ہی افضل نہیں اس کی پاسداری بھی ضروری ہے۔ اسلام کسی اختیاری چیز پر پابندی عائد نہیں کرتا البتہ اچھے اور برے کی تمیز ضرور سکھاتا ہے۔ اسی طرح حجاب اوڑھنے اور نہ اوڑھنے پر پابندی نہیں ہونی چاہئے بلک ہ اسے ایک اختیاری عمل کے طور پر معاشروں میں رائج کرنا چاہئے۔

Advertisements

عورت کے لیے پردہ” پر ایک خیال

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s