اکیلی عورت


منصور مہدی
آج وہ بہت خوش تھی کیونکہ کتنے دنوں کے بعد اس کے شوہر کو ملازمت ملی تھی۔بلقیس اپنے شوہر کے ساتھ لاہور کی ایک نواحی آبادی میں ایک کمرے کے کرایہ کے مکان میں اپنی تین بچیوں کےساتھ رہتی تھی۔
بلقیس کو یہ معلوم نہیں تھا کہ مصیبیتوں کا ایک پہاڑ اس کے سر پر گرنے والا ہے اور اسکے شوہر کی زندگی کا آج آخری دن ہے ۔
بلقیس نے جلدی جلدی اکرم کی سائیکل صاف کی اور ایک کپڑے میں روٹی باندھ کر ہینڈل سے لٹکا دی۔ اکرم ابھی کمرے میں اپنی بیٹیوں کے ساتھ باتیں کر رہا تھا اور ان کی چھوٹی چھوٹی خواہشات کی تکمیل کا وعدہ کر رہا تھا۔ بلقیس نے اسے آواز دی کہ جلدی کرو تم لیٹ ہو جاﺅ گے۔ اکرم بولا پتا نہیں کیوں آج میرا کام پر جانے کو دل نہیں کر رہا۔ بلقیس نے کہا چلو جاﺅ پہلے ہی کتنے دنوں بعد نوکری ملی۔
اکرم نے سائیکل نکالی اور شہر کی طرف چل پڑا۔کیونکہ اسے معلوم تھا کہ وہی ہی اپنی بیوی اور بچوں کا واحد کفیل ہے۔ غربت کی وجہ سے اس کا خاندان یا اس کی بیوی کا خاندان اس قابل نہیں تھے کہ وہ ان کی چند دن کی روٹی کے اخراجات ہی برداشت کر لیں چنانچہ جو کچھ کرنا تھا وہ اکرم نے ہی کرنا تھا۔
کام سے فارغ ہو کر جب اسے ایک ہفتے کی اکٹھی مزدوری ملی تو وہ خوشی سے دیوانہ ہوگیا اور گھر کی ضروری اشیاءخرید کر اس نے بیٹیوں کے لیے کھلونے خریدے اور” جگنی "گاتا ہوا گھر کی طرف چل پڑا۔جب اکرم گھر سے چند کلومیٹر دور نہر کے پل پر پہنچا تو دوسری طرف سے آنے والی ایک تیز رفتار کار نے اسے اس زور کی ٹکر ماری کے وہ سائیکل سمیت اڑتا ہوا کافی دور جا کر گرا۔ چوٹ اتنی شدید تھی کہ وہ گرتے ہی ہلاک ہو گیا اوراس کا تمام سامان بھی بکھر کر دور دور گر گیا۔
اکرم جب کافی دیر تک گھر نہ پہنچا تو بلقیس پریشان ہوگئی اور دروازے کی اوٹ سے اکرم کہ راہ تکنے لگی مگر اب اکرم نے کہاں آنا تھا۔ مگر وہ اپنی بیٹیوں کو تسلیاں دیتی رہی کہ آج تمہارے ابا ضرور تمہارے لیے گڑیاں اور کھلونے لائیں گے۔ جوں جوں رات گہری ہونے لگی ان کی بے چینی میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔وہ آسمان کی طرف دیکھ کراکرم کی خیریت کی دعائیں کرنے لگی۔لیکن اسے کیا معلوم کہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ جب دعائیں بھی کام نہیں کرتیں۔
دروازے کی اوٹ سے اس نے گلی میں کافی لوگوں کو آتے دیکھا تو انجانے خیال سے اس کا دل ڈوبنے لگا۔ وہ لوگ اس کے دروازے پر آکر کھڑے ہوگئے اور ابھی دروازہ کھٹکھٹانے ہی والے تھے کہ اس نے اندر سے پوچھا کون ہےں اور کیا بات ہے؟
بس اس کے بعد اسے نہیں پتا کہ ان لوگوں نے پوچھنے پر اسے کیا جواب دیا۔ جب اسے ہوش آیا تو دیکھا کہ محلے کی عورتیں اس کے گھر پر ہیں اور اکرم ایک سفید لباس میں ملبوس چارپائی پر پڑا ہے جبکہ چارپائی کے پاﺅں سے لپٹی اس کی بیٹیاں رو رہی ہیں۔ اس کی آنکھوں سے نہ ختم ہونے والی برسات چل نکلی۔۔۔۔۔۔۔۔
اکرم کو فوت ہوئے آج ایک ماہ گزر گیا تھا۔ قریبی رشتہ دار تو پہلے ہی جا چکے تھے ۔ وہ اور اس کی بیٹیاں ہی اب گھر میں تھیں۔ اسے اکرم کی باتیں یاد آئیں ” کہ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو تو نے بڑی ہمت سے کام لینا ہو گا کیونکہ ان بچیوں کو تیرے سہارے کی ضرورت ہوگی ، تو نے ہی ماں کے ساتھ باپ بھی بن کر جینا ہوگا۔
گھر میں کھانے پینے والی چیزیں آہستہ آہستہ ختم ہو رہی تھیں اور بلقیس کی بے چینی بڑھ رہی تھی۔اس نے میٹرک کیا ہوا تھا چنانچہ اس نے سوچا کہ ساتھ والی آبادی میں ایک سکول ہے اگر اسے وہاں نوکری مل جائے تو کتنا اچھا ہے۔
یہ سوچ کراگلے روز جب وہ سکول جانے کے لیے نکلی تو محلے کے مولوی نے اسے دیکھتے ہی برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ بے شرم ، بے حیا ابھی شوہر کو فوت ہوئے جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے، عدت بھی پوری نہیں ہوئی اور بن سنور کر گھر سے باہر نکل کھڑی ہوئی۔
بلقیس یہ باتیں سن کر سکتے میں آگئی۔ اسے کیا معلوم تھا کہ بھوکی بچیوں کا پیٹ بھرنے کے لیے گھر سے نکلنا بھی منع ہے۔ مولوی کی آواز سن کر محلے کے دیگر لوگ اکٹھے ہو گئے جبکہ عورتیں بھی دروازوں پر آن کھڑی ہوئیں۔
بلقیس تو واپس گھر آ گئی مگر باہر محلے کے افراد دو گرہوں میں بٹ گئے۔ ایک تو مولوی کی ہاں میں ہاں ملا رہا تھا اور دوسرا کہہ رہا تھا کہ عدت اپنی جگہ مگر اب وہ تین مہنیوں تک بھوکی بچیوں کے ساتھ کیسے گھر میں رہ سکتی ہے۔
ہمارے معاشرہ ویسے تو بہت سے مسائل کا شکارہے لیکن کچھ ایسے سماجی مسائل بھی ہیں کہ جن سے فرار ممکن نہیں۔لیکن مشکل یہ ہے کہ وہ باشعور افراد جو اس معاملہ میںکچھ شعور رکھتے ہیںاس حوالے سے وہ بھی کچھ کرنے کے متحمل نہیں ہیں۔
ہمارے ہاں ایسی بہت سی لڑکیاں ہیں جو شادی کے ابتدائی دنوں میں یا ایک دو بچوں کی پیدائش کے بعدقدرت کے امتحان کے تحت بیوہ، یا خلع یافتہ یا طلاق یافتہ ہو کر گھروںمیںبیٹھ جاتی ہیں۔یا پھر ایسی لڑکیاں ہیں جو شادیاں نہیں کرتی یا رشتے نہیں آتے اور عمر زیادہ ہوجاتی ہے۔
حالانکہ بیوہ ہونا کسی کے اپنے اختیار میں نہیں اور اسی طرح خلع لینا یا طلاق یافتہ ہونے میں بھی ضروری نہیں کہ عورت ہی ذمہ دار ہو ۔ ان باتوں کو جانتے بوجھتے ہوئے بھی ایسی عورتوں سے شادی کرنا گویا کوئی گناہ، عیب یا بری بات سمجھا جاتا ہے۔ تاہم ایسی خواتین پر خیر خواہی کے نام پر کیسی نظر رکھی جاتی ہے اور ایسے کتنے امیدوار نکل آتے ہیں ۔ یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ مگر شادی کے لیے کوئی تیار نہیں ہوتا۔ خصوصاً ایسی عورتیں کہ جن کے والدین نہ ہوں اور وہ تنہا اپنے بچوں کے ساتھ رہتی ہوں تو ان کے لیے گھروں سے باہر نکلنا بھی باعث ملامت بن جاتا ہے۔
بلقیس بھی ایسی ہی عورت تھی۔ تین بچیاں اور جوان ۔ ایک دن بلقیس سے بچیوں کا رونا نہیں دیکھا گیا اور اس نے سکول جانے کی ٹھان لی۔
اگلے روز وہ جب سکول جا رہی تھی توآبادی کی گلیوں اور سڑکوں پر کھڑے لوگ جن میں جوان بھی تھے اور بوڑھے بھی اسے عجیب سے نظروں سے دیکھ رہے تھے۔لیکن وہ ان سب سے بے پروا ہو کر سکول پہنچ گئی اور اسے وہاں پر چھ ہزار روپے ماہوار پر نوکری بھی مل گئی۔
اب بلقیس کے گھر کے اخراجات تو چلنے لگے مگر وہ بہت پریشان اور بے چین رہنے لگی۔ ایک تو روزانہ آوارہ لڑکوں کی نظریں اس کا پیچھا کرتی اور دوسرے سکول کا مالک بھی جو پہلے اسے بیٹی کہہ کر پکارتا تھا نے اب اسے بیٹی کہنا چھوڑ دیا تھا۔
پھر بلقیس کو ایک دھچکا یہ بھی لگا کہ جب گاﺅں کے لوگوں کی نظروں میں بے حیائی زیادہ بڑھنی شروع ہوئی تو اس نے سکول والی آبادی میں ہی گھر لینے کا فیصلہ کیا مگر وہاں اسے گھر اس لیے نہیں ملا کہ وہ اکیلی ہے اور اکیلے رہنے والی عورت کو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔
حتیٰ کہ کوئی ان سے شادی کرنے کو بھی تیار نہیں ہوتا۔ ویسے بھی ہمارے ہاں جہاں جوان اور کنواری لڑکیوں کی شادیوںکے لئے جو معیارات قائم ہیں وہاں بیوہ، خلع یا طلاق یافتہ کے ساتھ شادی بڑا ہی پیچیدہ معاملہ نظر آتا ہے۔
اور اگر کوئی شخص یہ قربانی دینے کو بھی تیار ہوجائے تو اسے اپنےگھر ، خاندان اورمعاشرے کی جانب سے مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جیسے اس نے کوئی گناہ کبیرہ کر لیا ہو۔
ایسی عورتیں نہ تو اپنے کسی عزیز کے ساتھ سفر کر سکتی ہیں اور نہ ہی کسی عزیز کو اپنے ہاں بلا سکتی ہیں، لوگ ان کے بارے میں بھی شکوک و شبہات کا اظہار کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
یونیسف کی رپورٹ کے مطابق اس وقت پاکستان میں ایک کڑور سے زائد لڑکیاں شادی کے انتظار میں بیٹھی ہیں( 20سے 35 سال کی لڑکیاں )۔ جبکہ ان میں سے دس لاکھ سے زائد لڑکیوں کی شادی کی عمر گزر چکی ہے ( 30سے35سال)۔یونیسف پاکستان میں لڑکیوں کی شادیوں میں تاخیر کی وجہ جہاں معاشی اور سماجی ناہمواریوں کو بتلاتا ہے وہاں اہم وجہ لڑکیوں کا لڑکوں کی نسبت زیادہ تعلیم یافتہ ہونا بتلاتا ہے۔جبکہ 30سے45سال کی 60لاکھ سے زائد بیوائیںہیں۔ دوسری طرف گیلپ سروے آف پاکستان کی 2010کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں طلاق کی شرح 48فیصد ہوگئی ہے ۔ اس طرح روزانہ کی بنیاد پر پاکستان میں بیواﺅں اور طلاق یافتہ عورتوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
لیکن ہماری حکومت نے کوئی فلاحی حکومت نہیں کہ جہاں ایسی خواتین کے لیے کوئی فنڈ قائم ہو کہ جہاں سے ان کا اور ان کے بچوں کی گزر بسر ہو سکے اور نہ ہی مذہبی طور پر علماءنے ( ہمارے معاشرے کے معیارات کو مد نظر رکھتے ہوئے)ایسے مسائل کا کوئی حل بتایا گیا ہے۔
بیوہ ہونے بعد شوہر کی جائیداد میں سے سسرال والے اکثر حصہ نہیں دیتے اور اگر بیوہ عدالت سے رجوع کرے تو وہاں پر بھی اسے اتنے مسائل پیش آتے ہیں کہ جن کا مقابلہ کرنا اکیلی عورت کے بس کی بات نہیں ہوتا۔
ہمارے معاشرے میں جہاں مسلمانوں کی تعداد تو زیادہ ہے مگر اسلامی روایات پر عمل کرنے والے بہت کم ہیں۔ شادی بیاہ کے معاملے میں سراسر ہندووں کی روایات پر عمل پیرا ہیں۔حالانکہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شادی سے بڑھ کر اور کیا سنت سامنے ہوگی ۔
اسی طرح اسلام میں تو بیان ہے کہ عورت اور مرد کی ایک ہی اصل ہے اور انھیں ایک ہی نفس سے پیدا کیا گیا ہے مگر یقین بائبل پر رکھتے ہیں کہ عورت مرد کی پسلی سے پیدا ہوئی لہذا اس کی پیدائش نامکمل ہے چنانچہ یہ محکوم مخلوق شمار ہوتی ہے۔اسے ازلی گناہگار سمجھا جاتا ہے۔
حالانکہ عورت کے بارے میں ان حقارت آمیز نظریات کو ختم کر کے اور عورت کی پست حیثیت کو اسلام نے ایک باوقار بنایا ہے۔ ہمارے معاشرے کے افراد بھی یہ سمجھتے ہیں مگر عملاً زیرو ہیں۔
پھر ایک روز جب محلے کے کچھ لڑکوں نے باقاعدہ طور پر بلقیس کا پیچھا کرنا شروع کر دیاتو اس نے علاقے کے کونسلر سے شکایت کرنے کا سوچا جو اکرم کا جاننے والا تھا۔ بلقیس کا خیال تھا کہ اکرم کی وجہ سے اسے یہاں ضرور پریرائی ملے گی اور وہ ضرور اس کا حل نکالے گا۔ مگر بلقیس بہت مایوس ہوئی جب وہ کونسلر کے پاس گئی جو اس وقت نشے میں دھت نظر آ رہا تھا جو بلقیس کو تسلیاں دینے کے ساتھ اس کے جسم کو گھور رہا تھا۔ وہ مایوس ہو کر آگئی۔
دوسری طرف آورہ لڑکوں کی حرکتیں بڑھ رہی تھی اور سکول کا مالک بھی تنگ کر رہاتھا۔ عزیز و اقارب اس قابل نہیں تھے کہ ان چاروں کے مالی اخرجات برداشت کر سکیں ۔
ایک رات کو وہ لیٹی یہ سوچتی رہی کہ آخر وہ کیا کرے اور کہاں جائے۔ کیا وہ ان لوگوں کی ہوجائے جو اس کے جسم کے متلاشی تھے یا پھر موت کو گلے لگا لے۔ لیکن بچیوں کا کیا بنے گا؟
آخر سوچتے سوچتے اس نے ایک فیصلہ کیا اور مطمین ہو کر اپنی بچیوں کے ساتھ لپٹ کر سو گئی ۔ اگلے دن سکول بھی نہیں گئی۔ گلیوں اور سڑکوں پر آورہ لڑکے اس کی راہ تکتے رہے۔
جب رات ہوئی تو وہ مطمیئن تھی ۔ اس نے ایک فیصلہ کر لیا اور وہ اپنی بچیوں کو لیکر اسی نہر پر چلی گئی جہاں اکرم کو حادثہ پیش آیا تھا۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s