موٹی لڑکیاں


اب موٹی لڑکیوں کا بھی مقابلہ حسن منعقد ہوتا ہے

منصور مہدی
برطانوی غیر سرکاری ادارے بی بی ڈبلیوکے ایک سروے کے مطابق خواتین ، مردوں سے اپنے بارے میں جوخصوصی سوالات پوچھتی ہیں ، وہ کم و بیش دنیا بھر میں یکساں نوعیت کے ہوتے ہیں۔ ان سوالات کی تعداد پانچ ہے اور وہ کچھ اس طرح ہیں۔ تم اس وقت کیا سوچ رہے ہو ؟ کیا تمہیں مجھ سے محبت ہے ؟ کیا میں موٹی لگتی ہوں؟ کیا تمہارے خیال میں وہ مجھ سے زیادہ خوب صورت ہے ؟ اگر میں مر گئی تو تم کیا کرو گے ؟
بی بی ڈبلیو نے اس سروے میں برطانیہ میں بسنے والی مختلف ملکوں اور قوموں کی عورتوں کو شامل کیا تھا۔ ان پانچ سوالات کے مرد کیا جواب دیتے ہیں، ان پر بحث پھر آئندہ کسی شمارے میں ہوگی لیکن اس بار ہم تیسرے سوال کے حوالے سے بات کریں گے
تیسرا سوال ” کیا میں موٹی لگتی ہوں؟“ اپنے اندر سوالات کا ایک جہان لیے ہوئے ہے۔ یہ دراصل ایک سوال نہیں، بلکہ مختلف سوالات اور خدشات کا اظہار ہوتا ہے۔کچھ ناعاقبت اندیش مرد اس سوال کے جواب میں خاتون کا موازنہ کسی فربہ اندام عورت کے ساتھ شروع کر دیتے ہیں اور پھر اپنے تئیں تعریفی انداز میں اسے یہ کہہ کرمطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ”اس کے مقابلے میں تو تم کافی حد تک اسمارٹ ہو۔“ معلوم نہیں آپ کے نزدیک اس سوال کا کیا جواب ہو ؟ کیونکہ موٹی عورتوں کے بہت سے مسائل ہوتے ہیں لیکن ان میں سب سے زیادہ مسئلہ کپڑوں کا اور فیشن کا ہوتا ہے کہ آخر موٹی عورتیں کیسا لباس پہنیں کہ جس میں وہ خوبصورت نظر آئیں، کیسا میک اپ کریں ؟ کیسے دیگر بناﺅ سنگھار کے لوازمات استعمال کریں کہ جس سے وہ پر کشش نظر آئیں۔
لیکن اب موٹی عورتوں کو کم از کم کپڑوں کے فیشن کے حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اب دنیا کے بیشتر ممالک میں ملبوسات تیار کرنے والے ادارے جہاں سمارٹ اور دبلی پتلی خواتین کے کپڑوں کے نت نئے ڈئزائن تیار کرتے ہیں وہاں اب موٹی عورتوں کے لیے بھی دیدہ زیب لباس تیار ہو رہے ہیں۔ جنہیں پہن کر موٹی عورتیں زیادہ پر کشش نظر آتی ہیں۔
آسٹریلیا کا شہر سڈنی خواتین کے فیشن فیسٹیول کے حوالے سے ایک خاص مقام رکھتا ہے ۔ اگرچہ یہاں بھی سمارٹ اور دبلی پتلی کے فیشن فیسٹیول زیادہ ہوتے ہیں مگر ابھی حال ہی میں فیشن کا ایک منفرد مقابلہ حسن ہوا جس میں موٹی خواتین نے شرکت کی۔ آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں ہونیوالے اس دلچسپ فیشن فیسٹیول میں حصہ لینے والی موٹی ماڈلز نے ریمپ پر واک کی۔ دیدہ زیب لباسوں میں ملبوس ریمپ سے گزرتی موٹی عورتیں دیکھنے میں دلکش تھیں۔ان کے پہناﺅں کو لوگوں نے خوب سراہا۔ اس تقریب کی ایک اور اہم بات یہ تھی کہ اس فیسٹیول کو دیکھنے کے لیے جہاں دبلی اور سمارٹ لڑکیوں کی اکثریت تھی وہاں موٹی لڑکیوں کی بھی ایک معقول تعداد نے شرکت کی۔
اسی طرح ارجنٹائن کے شہر بیونس آئرس میں اسی نوعیت کا فیشن شو ہوا جس میں نازک اندام حسیناو¿ں کے بجائے موٹی خواتین نے ریمپ پر واک کی۔ فیشن شو میں موٹی لڑکیوں کو ریمپ پر اٹھلا اٹھلا کر چلتے ہوئے دیکھ کر حاظرین محظوظ ہوئے تاہم اس شو کی ایک اہم بات یہ تھی کہ دبلی پتلی خواتین کے بجائے بھاری بھرکم خواتین کو ریمپ پر واک کرتے ہوئے دیکھ کر اس بات کا ضرور احساس ہو رہا تھا کہ شو میں حصہ لینے والی یہ موٹی خواتین ضرور خوش تھیں کیونکہ خوبصورت نظر آنا سبھی کا حق ہے اور یہی شو کا مقصد بھی تھا۔
گذشتہ برس تھائی لینڈ میں ایک مقابلہ حسن منعقد ہوا جس میں بھاری بھرکم خواتین نے حصہ لیا۔اس منفرد مقابلہ حسن کی بنیادی شرط یہ تھی کہ حصہ لینے والی خواتین کا کم سے کم وزن80 کلو گرام ہو۔ مس جمبو کوئن 2011 کے اس مقابلے میں 31 خواتین نے حصہ لیا۔مقابلے میں شریک ایک 143 کلو گرام وزن رکھنے والی خاتون کا کہنا تھا کہ وہ اپنے چھپے ٹیلنٹ کو اسی طرح دنیا کے سامنے لا سکتی ہیں جس طرح ایک کم وزن لڑکی،اس کا کہنا تھا کہ وہ اس مقابلے میں شریک ہو کر بہت خوش ہے۔
بیوٹیشنز کا کہنا ہے کہ عورت کی خوبصورتی اگرچہ اس کے جسمانی خدو خال میں پنہاں ہوتی ہیں مگر چہرے پر پڑنے والی پہلی نظر کسی عورت کے پر کشش ہونے کا پتا چلا لیتی ہے۔ بیو ٹیشنز کہتے ہیں کہ چہرے کی خوبصورتی عورت کی آنکھوں ، اس کی پلکوں، بھنوﺅں ، اس کے ہونٹوں اور رخساروں میں پوشیدہ ہوتی ہیں اگر موٹی لڑکی اپنے چہرے کی ان چیزوں کی حفاظت کرے اور چہرے کا بہتر انداز میں میک اپ کرے تو وہ زیادہ خوبصورت نظر آئے گی۔
مغربی ممالک میں پلکیں اور آئی برو رنگنے کا رواج بہت عرصہ سے عام ہے لیکن اب موٹی لڑکیاں ان کی بناوٹ پر خصوصی توجہ دیتی ہیں۔اگرچہ ہمارے ہاں بھی سمارٹ خواتین میںپلکوں اور بھنوﺅیں بنانے کا فیشن عام ہو رہاہے لیکن موٹی لڑکیاں ابھی اس طرف مائل نہیں ہوئی۔ بیوٹیشنز کا کہنا ہے کہ بیشتر خواتین کے سر کے بال سیاہ یا سرخ ہوں گے تو ان کی بھنویں براﺅن رنگ کی ہوں گی ،جو درست نہیں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک رنگ کے بال اور بھنویں زیادہ اچھی لگتی ہیں ۔ بھنویں اور پلکیں رنگنے کا عمل خاصا مشکل اور اختیاط طلب بھی ہوتا ہے اور پھر ان کو رنگنے کا جو آمیز استعمال میں آتا ہے وہ بھی خاص قسم کا ہوتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات ذہن نشین رہے کہ سر کے بالوں رنگنے والے کیمیکل پلکوں اور بھنوﺅں کو رنگنے والے کیمیکل سے قطعی مختلف ہوتے ہیں۔
آنکھوں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ آنکھیں دل کا دروازہ ہوتی ہیں، چاہے وہ سمارٹ لڑکی کی ہوں یا موٹی کی۔ جو کچھ دل میں ہوتا ہے آنکھوں سے عیاں ہو جاتا ہے۔ آنکھیں زندگی کو روشن ہی نہیں رکھتیں بلکہ شخصیت کا آئینہ بھی ہوتی ہیں اور چہرے کی خوبصورتی کا ایک اہم سمبل بھی ہیں۔آنکھوں کی خوبصورتی کسی بھی لڑکی کی خوبصورتی میں اہم رول ادا کرتی ہیں لہذا ان کے لیے اچھے مسکارا اور آئی شیڈوز آنکھوں کو مزید خوبصورت بنا دیتے ہےں۔ ماہرین حسن کا کہنا ہے کہ آنکھوں کے بعدہونٹوں کی بناوٹ بھی خوبصورتی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ لہذا ان پر خصوصی توجہ دی جانی چاہیے۔ اچھی لپ سٹک اور لپ لائنرز کا انتخاب ہونٹوں کو مزید خوبصورت بنا دیتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ہونٹ ہمارے چہرے کا سب سے بڑا حساس، خوبصورت اور پر کشش حصہ ہیں اور چہرے کی خوبصورتی اور بشاشت اور تازگی میں جو کردار ہونٹ ادا کرتے ہیں وہ چہرے کا کوئی اور عضو نہیں کر سکتا۔
عورت کی خوبصورتی میں اس کے ناخن بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عورت کے چہرے پر نظر ڈلنے بعد اس کے ہاتھوں پر نظر پڑتی ہے اور اگر ہاتھ اور ناخن خوبصورتی سے تراشے ہوئے ہوں اور ان پر لپ سٹک کے کلر سے ملتی جلتی نیل پالش لگائی ہوئی ہو تو ہاتھ زیادہ خوبصورت نظر آئیں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ ہاتھوں کو جاذب نظر بنانے کیلئے لمبے ناخن رکھے جائیں نفاست سےتراشے ہوئے صاف ستھرے ناخن آپ کے ہاتھوں کو بہت سنوارا ہوا انداز عطا کرتے ہیں۔ کیونکہ ناخن آپ کی شخصیت کا اظہار ہوتے ہیں۔
ماہرین حسن خواتین کی خوبصورتی کو برقرار رکھنے میں خوراک کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کرتے۔ ان کا کہنا ہے کہ صحت مند اور خوبصورت رہنے کیلئے متوازی غذا اور ورزش کا استعمال نہایت ضروری ہے۔ خصوصا موٹی لڑکیوں کے لیے۔ ماہرین خوراک گریب فروٹ کو خوبصورتی کے لیے اہم قرار دیتے ہیں۔ اس پھل میں کیلشیم، فاسفورس ، آئرن اور وٹامن بی کمپلیکس اور وٹامن سی کی بڑی مقدار پائی جاتی ہے۔ یہ کولیسٹرول کو کم کرتا ہے لہذا اسے موٹاپا دور کرنے کے حوالے سے بھی انتہائی مفید سمجھا جاتا ہے۔
ماہرین بیوٹیشن کے مطابق زیورات بھی کسی عورت کے حسن میں اہم ہوتے ہیں۔زیورات کا تصور انسانی زندگی کے ہر دور میں رہا ہے آج جبکہ زیورات نے جدید ترین شکل اختیار کرلی ہے تو یہ لکڑی پتھر، رنگوں اورہر قسم کی دھاتوں میں دستیاب ہیں۔ زیورات کا چناﺅ بھی چہرے کی رنگت اور بناوٹ کے حوالے سے اہمیت رکھتا ہے۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s