آدھی عورت؟


منصور مہدی
عائشہ ایک مذہبی رجحان رکھنے والی لڑکی تھی اگرچہ وہ ایم اے اردو ادب کی طالبہ تھی۔اس کو پڑھنے سے بہت لگاﺅ تھا اور ہر وقت کوئی نہ کوئی کتاب اس کے زیر معالعہ رہتی۔ اس کی ہم جماعت دوست جمیلہ بھی بہت لائق تھی ۔ وہ بھی ہر وقت کچھ نہ کچھ پڑھتی رہتی مگر اس کا مذہب سے اتنا لگاﺅ نہیں تھا۔وہ مغربی لکھاریوں کی کتابیں اکثر پڑھتی اور اگر ان میں کوئی اسلامی مذہب کے حوالے سے کوئی بات لکھی ہوتی تو وہ عائشہ سے ضرور ڈسکس کرتی۔
ایک دن جمیلہ http://www.answering-islam.orgکا مطالعہ کر رہی تھی۔ یہ ویب سائٹ برطانوی مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان ڈائیلاگ کے لیے بنائی گئی ہے مگر اب اس پر دنیا بھر کے غیر مسلم اور مسلمان آپس میں مختلف امور پر بحث و مباحثہ کرتے رہتے ہیں۔ جب جمیلہ نے دیکھا کہ دنیا بھر کے غیر مسلم اسلام کے بارے میںجو سوال کرتے ہیں ۔ ان میں کچھ سوال بیشتر علاقوں سے اور کثیر تعداد میں کیے گئے ہیں۔ ان سوالوں میں ایک سوال عورت کی گواہی کے حوالے سے ہے ۔ کہ اسلام نے عورت کو گواہی میں کیوں آدھا قرار دیا ہے؟۔ کیا قرآن کے بطابق مسلمان عورت کچھ امور میںآدھی ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔
جمیلہ نے اپنے طور پر ان سوالوں کا جواب جاننے کی کوشش کی مگر وہ مطمئین نہ ہو سکی۔ چنانچہ اس نے اگلے روز عائشہ سے یہی سوال کیا اور بتلایا کے غیر مسلم دنیا مسلمان عورت کے حوالے یہ لکھتی ہے۔ اس نے دو مغربی لکھاریوں James M. Arlandson اور David Wood کے مضامین کا حوالہ بھی دیا۔ تو عائشہ مسکرائے بنا نہ رہ سکی۔ اس نے حسب عادت مسکراتے ہوئے کہا کہ غیر مسلم کو ایسی باتیںکرنے کا موقع اصل میں کم فہم مسلمانوں کی وجہ سے ہوا ہے جو گواہی کے معاملے میں عورت کو آدھا تصور کرتے ہیں۔
عائشہ نے کہا کہ درحقیقت مرد کے مقابلے میں عورت کی نصف گواہی کا یہ تصور سورة بقرہ کی آیت 282 سے اخذ کیا جاتا ہے۔ اس آیت میں کہا گیا ہے کہ جب دو یا دو سے زیادہ افراد کسی معین مدت کے لیے ادھار کا لین دین کریں، تو مستقبل میں کسی نزاع سے بچنے کے لیے انھیں چاہیے کہ وہ اس معابدے کو لکھ لیں۔ مزید احتیاط کے لیے انھیں اس تحریری معاہدے میں، اپنے مردوں میں سے، اعتماد کے دو مردوں کو گواہ بنا لینا چاہیے۔ اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوں کو گواہ بنا لیا جائے تاکہ اگر ایک بھول جائے تو ان عورتوں میں سے دوسری یاد دلا دے۔
عائشہ نے بتلایا کہ اس آیت کا ترجمہ تو کم پیش تمام مروجہ تراجم میں یہی ہے مگر اس کی تفسیر اور مفہوم پر مختلف آئمہ کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔
ایک قسم کے آئمہ نے اس آیت کا مفہوم یہ بتلاتے ہےں کہ عورت کی گواہی تمام معاملات میںمرد سے آدھی ہے۔
مگر دوسری قسم کے آئمہ کا کہنا ہے کہ اس آیت میں کسی گواہی کے لیے اکٹھی دو عورتوں کا مقرر کرنا عورت کی آدھی گواہی کے حوالے سے یا اس کی تحقیر کے پہلو سے نہیں ہے بلکہ اس کے حالات، مصروفیات ا ور اسکے مشاغل کی وجہ سے ہے۔ قانونی اور عدالتی کارروائیوں میں عورتوں کا دخل بالعموم بہت کم ہوتا ہے اس لیے ایسی صورت میں اگر اس کی سہیلی یا کوئی قریبی رشتہ دار اس کے ساتھ گواہ ہو تو دونوں کو ایک دوسری کا سہارا حاصل رہے گا اور وہ زیادہ اعتماد سے گواہی دے سکے گی۔ عائشہ نے کہا کہ اس آیت سے یہ بھی واضح ہے کہ اس میں خطاب عدالت سے نہیں بلکہ عام انسان سے کیا گیا ہے۔ اور اپنی نوعیت میں ایک طرح کا مشورہ ہے۔ اس لیے اگر گواہی کے لیے ایک ہی عورت ہو اور اس پر اعتماد ہو کہ وہ عدالتی کارروائی کا آسانی سے سامنا کر لے گی تو اسے گواہ بنایا جا سکتا ہے، اور عدالت اس ایک عورت کے بیان کو تسلی بخش سمجھتے ہوئے مقدمے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ممکن ہے کہ مطمئن نہ ہونے پر عدالت دس مردوں کی گواہی کو بھی رد کر دے۔
عائشہ نے کہا اس آیت میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ آیت صرف تحریری معاہدات میں گواہ بنانے سے متعلق ہے۔ جرائم یا حادثات پر گواہی کا معاملہ اس آیت میں سرے سے زیر بحث ہی نہیں ہے۔ اس بات کو بھی مدنظر رکھا جائے کہ کسی بھی قسم کے تحریری معاہدات کی صورت میں گواہ بنانے کا اختیار صرف اور صرف دونوں فریقوں کے ذاتی انتخاب پر منحصر ہوتا ہے۔ جبکہ کسی جرم یا حادثے کا معاملہ ایسا نہیں ہوتا کہ اس میں اپنی مرضی سے گواہ بنائے جا سکیں۔ اس وقت جو کوئی بھی موقع پر موجود ہو گا۔ خواہ وہ مرد ہو عورت ہو یا کوئی بچہ، اسی کو گواہ مانا جائے گا۔ اس سے ظاہر ہوا کہ گواہی کی ان دونوں قسموں میں سرے سے کوئی مناسبت نہیں ہے۔ پہلی صورت میں گواہ خود منتخب کیا جاتا ہے جبکہ دوسری صورت میں ایسا نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ سورة بقرہ کی یہ آیت تحریری معاہدات کے علاوہ دوسرے کسی معاملے میں، عورت کی گواہی پر کسی بھی پہلو سے اثر انداز نہیں ہوتی۔
عائشہ نے اس آیت کے لفظی معانی بتلاتے ہوئے کہا کہ اس آیت پر مزید غور کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ آیت میں” تضل” کا ترجمہ “بھول جائے” کیا جاتا ہے ۔ حالانکہ عربی زبان میں” ضل” کے معنی ہوتے ہیں گم ہونا۔ اس لیے ا س آیت میں لفظ ” ضل” کا ترجمہ” بھول” جاناکرنا غلط ہے۔ بھول کے لیے عربی میں “ن س ی”استعمال ہوتا ہے جوقرآن میں متعدد جگہوں پر بیان ہوا ہے۔ لفظ ” نسیان “اردو میں بھی “بھول” کے لیے معروف ہے۔ جیسا کہ بیان ہوا ہے کہ” ضل” کے معانی ہے “گم ہوجانا “ہیں۔ جیسے جب کوئی راہ حق سے گم ہوتا ہے تو اسے گمراہ کہتے ہیں۔ یا جیسے سورة الانعام کی آیت نمبر 24میں ارشاد ہوتا ہے کہ”اور ان کے سارے بناوٹی خدا گم ہو گئے”یہاں بڑے صاف انداز میں “ضل” کے معنی گم ہوجانے کے واضع ہیں۔ جس کامطلب ہے کہ گواہی کے موقع پر اگر ایک عورت گم ہوجائے تو دوسری اس کی جگہ گواہی دے سکے۔ کیونکہ یہ بھی ممکن ہے کہ گواہی کے وقت عورت کی شادی ہوجائے اور وہ کسی دورے علاقے میں جا بسے، یا ان دنوں عورت زچگی کی حالت میں ہو۔اور وہ اس قابل نہ ہو کہ وہ گواہی دے سکے۔ ویسے بھی ہر زمانے میں عورت کے لیے زیادہ امکانات ہوتے ہیں کہ وہ کسی وجہ سے گواہی کے لیے پیش نہ ہو سکے۔
اور اگر بفرض محال” ضل” کا معانی” بھولنا” بھی ہوتے تو بھی عورت کی گواہی تو ایک ہی ہوئی۔ کیونکہ جو عورت بھول گئی تو وہ تو کسی گواہی کے لائق نہیں رہی۔ گواہی تو صرف اسی کی قابل قبول ہوگی جس نے یاد رکھا۔ چنانچہ گواہی میں دو عورتوں کی بات محض ایک حجت قائم کرنے کے لیے ہے ورنہ لکھی ہوئی گواہی پر کون اپنے دستخط سے مکر سکتا ہے۔ اور آج کے دور میں جب عورت ہر شعبہ میں اپنے علم کا جھنڈا گاڑ رہی ہے اور ایسے شعبوں سے منسلک ہے جہاں یادداشت انتہائی ضروری ہوتی ہے۔ جس میں قانون، انجینیئرنگ، طب اور فلکیات وغیرہ شامل ہیں۔اس لیے اس آیت سے عورت کی گواہی کو آدھا ثابت کرنا عورت کے ساتھ زیادتی ہے۔
عائشہ نے مزیدمسلم آئمہ کا حوالہ دیتے ہوئے بتلایا کہ کچھ آئمہ نے لفظ ” ضل” کا معانی ” بھولنے” کے بجاے بات بیان کرتے ہوئے “الجھنے” اور” چوک جانے” کے مفہوم میں لیا ہے ۔ جیسا کہ قرآن پاک میں ہے کہ “میرا رب نہ چوکتا ہے اور نہ بھولتا ہے” اس آیت میں لفظ “ضل” کو لفظ “نسی©© ” کے مقابلے میں استعمال کر کے اس کے اس مفہوم کو مزیدواضح کیا گیا ہے۔
کسی بات کو بھول جانا ایک اور چیز ہے اور اس کو بیان کرتے ہوئے الجھ جانا اور ٹھیک ٹھیک طریقے سے بیان نہ کر پانا ایک دوسری چیز ہے۔ خواتین کے معاملے میں دوسری چیز کا پایا جانا تو قابل فہم ہے کہ وہ مردوں کی مجالس اور بالخصوص عدالت میں گھبراہٹ یا دباو¿ کا شکار ہو کر ٹھیک ٹھیک گواہی ادا نہ کر سکیں اور اس کے لیے انھیں کسی دوسری خاتون کے سہارے کی ضرورت محسوس ہو، لیکن یہ بات کہ خواتین میں نسیان کا مادہ غالب ہوتا ہے،تاہم یہ بات مشاہدہ اور تجربہ کے خلاف ہے۔
عائشہ نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ خبر اور روایت کے دائرے میں خواتین کی بات بھی اسی اعتماد کے ساتھ قبول کی جاتی ہے جس طرح مردوں کی قبول کی جاتی ہے۔اب چونکہ خبر اور شہادت، دونوں کا مدارکسی امر کا مشاہدہ کرنے اور پھر اس کو حفظ وضبط کے ساتھ آگے بیان کرنے کی صلاحیت پر ہے، اس لیے خبر کے دائرے میں عورت کو مرد کے مساوی تسلیم کرنے کا منطقی تقاضا یہ ہے کہ اس کی گواہی کا حکم بھی یہی ہو۔ اور اگر عورت کی یادداشت کے خلقی طور پر ناقص ہونے کی بات کو درست تسلیم کیا جائے تو پھر ضروری ہوگا کہ صرف گواہی میں نہیں، بلکہ خبر اور روایت میں بھی خواتین کی یادداشت پر بھروسا نہ کیا جائے اور اس دائرے میں بھی دو عورتوں کو ایک مرد کے مساوی قراردیا جائے۔ لہذا اس آیت میں قرآن نے اس فرق کی حکمت صریحاً یہ بیان کی ہے کہ ایک کے ‘ضلال’ کی صورت میں دوسری اس کو یاد دہانی کرا سکے۔قرآن پاک نے یہ نہایت مبنی برحکمت ہدایت کی ہے کہ اول تو انھیں کسی ایسے معاملے میں گواہ بنایا ہی نہ جائے جس میں بعد میں تنازع پیدا ہونے کا خدشہ ہو ، اور اگر ایسا کیا جائے تو ایک کے بجاے دو عورتوں کو گواہ بنایا جائے تاکہ وہ قاضی کے روبرو ایک دوسرے کی موجودگی سے نفسیاتی سہارا محسوس کریں اور ضرورت پڑے تو گواہی کی ادائیگی میں ایک دوسرے کی مدد کریں۔ چنانچہ یہ ایک عورت کی گواہی میں پائے جانے والے نقص کی تلافی دوسری عورت کی گواہی کے ذریعے سے کرنے کا بیان نہیں ہے، جیسا کہ عام طور پر سمجھا گیا ہے، بلکہ عدالت میں واضح اور منضبط گواہی دینے کے لیے ایک خاتون کو سہولت فراہم کرنے کی تدبیر ہے۔
عائشہ نے کہا کہ ایسے بہت سے امور ہیں کہ جس میں مردوں کے ساتھ عورتوں کو بھی گواہی دینے کا کہا گیا ہے۔قرآن پاک میںارشادِ ربانی ہے۔ کہ ”اور گواہی کو مت چھپاو¿، جو اسے چھپائے گا اس کا دل گناہ گار ہے۔“(سورة البقرہ)۔اس طرح ارشادِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ ”سب سے اچھے گواہ وہ ہیں جو سوال کئے جانے سے بھی پہلے گواہی دے دیں“(ابن ماجہ )۔ اسی طرح قرآن مجید میں متعدد مقامات پر مختلف معاشرتی معاملات میں، مثلاً یتیموں کو ان کا مال سپرد کرتے وقت، وصیت کرتے ہوئے اور طلاق دیتے وقت گواہ مقرر کرنے کی ہدایتکی ہے۔ قرآن میں سے کسی بھی مقام پر گواہوں کی جنس زیر بحث نہیں آئی اور سورہ بقرہ کی آیت282 وہ واحد مقام ہے جہاں اس تفریق کو موضوع بنایا گیا ہے۔
پھر بیشتر ایسے بھی مسائل ہیں کہ جن میں صرف اور صرف عورت ہی کی گواہی معتبر ہے۔ وہ مسائل کہ جن سے مرد آگاہ نہیں ہو سکتے ان میں صرف عورت ہی کی گواہی معتبر ہوگی چاہے گواہی دینے والی ایک ہی عورت ہو۔ اسی طرح بچے کی رضاعت میں ایک عورت کی گواہی بھی معتبر ہے۔“ ولادت اور بچے کے رونے پر گواہی۔اگر بچہ کی ولادت اور بچے کے رونے کے مسئلے میں کوئی نزاع واقع ہو جائے تو یہاں صرف عورت کی گواہی معتبر ہو گی مرد کی نہیں۔ اس معاملے میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دائی کی تنہا گواہی جائز قرار دیا ہے۔ رضاعت کے مسائل، اسی طرح اگر رضاعت کے معاملے پر اختلاف ہو جائے اور معاملہ قاضی تک پہنچ جائے تو عورت کو یہ حق ہے کہ وہ گواہی دے کیونکہ یہ وہ مسئلہ ہے جو عورت کے ساتھ خاص ہے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا کہنا ہے کہ دودھ پلانے والی عورت کی تنہا گواہی قبول کی جائے گی۔ حیض کے کسی بھی اختلاف پر بھی گواہی صرف عورت ہی دے سکتی ہے۔پھر سورة البقرہ میں ہی عورتوں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ اگر وہ اللہ اور روزآخرت پر ایمان رکھتی ہیں تو ان کے لیے جائز نہیں کہ اللہ نے ان کے رحموں میں جو کچھ خلق کیا ہے اسے چھپائیں گویا بتانا ضروری ہے اور یہی عورتوں کی گواہی ہے۔
جمیلہ کو عائشہ کی یہ باتیں سن کر بہت حیرت ہوئی کہ اسلام نے چودہ سو پہلے عورت کی سہولت کے لیے ایسا اچھا انتظام کیا۔ حیرت ہے کہ کچھ مسلمان اس تدبیر الہی پر غور نہیں کرتے۔

آدھی عورت؟” پر ایک خیال

  1. ماشآءاللہ مطالعہ کرکے چمن حیات کی خوابیدہ کلیاں مشکبار ہوگئیں آپکی فکر لا جواب ہے اللہ تعالی اجر عظیم عطا فرمائے..
    آمین یا رب العلمین

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s