خاتون ڈرائیور


منصور مہدی
ارے یہ کون ہارن پرہارن بجائے چلاجا رہا ہے۔ اسے نہیں پتہ کے میرے آگے بھی گاڑی ہے ۔شاید یہ ویگن ڈرائیور ہوگایا پھر کوئی خاتون ڈرائیور؟ میرے آگے ٹریفک ہی اتنی تھی کہ مجھے بیک مرر سے بھی پیچھے دیکھنے کی فرصت نہیں تھی۔ پیچھے سے ہارن کی آواز مسلسل آرہی تھی۔ بڑی مشکل سے جب اس رش سے باہر نکلا تو سکون آیا کہ یک دم ایک زوں کرتی گاڑی تیزی سے میرے قریب سے آگے نکل گئی۔ اوں شاید یہی گاڑی تھی جو ہارن دیے جا رہی تھی۔ اسے کوئی جلدی تھی ۔
ویسے تو ہمارے ہاںیہی کہا جاتا ہے کہ ویگن ڈرائیور اور خواتین ڈرائیور دونوں گاڑی کم چلاتے ہیں اور ہارن زیادہ بجاتے ہیں۔ مگر یہ اتنی درست بات نہیں ہے۔ ویگن ڈرائیور کی حد تک تو درست ہے لیکن خواتین ڈرائیورز کے بارے میں اتنا درست نہیں کہ جتنا کہا جاتا ہے۔ بلکہ خواتین تو ڈرائیورنگ کرتے ہوئے لین اور لائن کی اتنی سختی سے پابندی کرتی ہیں اور اپنی لین کسی بھی صورت نہیں چھوڑتی کہ چاہے ان کے پیچھے آنے والی ٹریفک ان کے دائیں اور بائیں سے پریشانی کے عالم میںانھیں دیکھتی ہوئی گزرتی جاتی ہے مگر یہ اپنی دھن میں مگن اپنی لین چلی جاتی ہیں۔ اسی طرح یہ سپیڈ کا بھی اتنا ہی خیال رکھتی ہیں کہ پیچھے سے آنے والی گاڑیوں کے ڈرائیور ایک کوفت میں مبتلا ہوجاتے ہیں کہ نہ تو ان کی گاڑی تیز چلتی ہے اور نہ ہی انھیں آگے جانے کا موقع ملتا ہے ۔ لیکن خواتین ڈرائیور ز بھی کیا کریں ، یہاں تو ٹریفک کے بہاﺅ میں ہی اتنی بے ضابطگی پائی جاتی ہیں کہ مرد ڈرائیور بیچارے بھی اپ سٹ ہو جاتے ہیں۔
پھر ہمارے ہاںاشارے توڑنے کا اتنا شوق ہے کہ جیسے یہ کوئی بہادری کی علامت ہے یا کوئی ایسا کام ہے کہ جسے سراہا جائے۔ مردوں کو تو بس موقع ملنا چاہیے۔ بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ اگر کسی چوک میں آپ سرخ اشارے پر سب سے آگے کھڑے ہیں او ر دائیں یا بائیں سے کوئی گاڑی نہیں آ رہی یا آ رہی ہے اور ابھی دور ہے تو پیچھے والے آپ کو کبھی ہارن دیکر یا کبھی آہستہ آہستہ اپنی گاڑی آگے کر کے آپ کو مجبور کر دیں گے کہ آپ اشارہ توڑ کر نکل جائیں تا کہ پیچھے والے نکل سکیں۔ لیکن ایسا خاتون ڈرائیور مردوں کے مقابلے میں بہت کم کرتی ہیں۔ کوئی ایمرجنسی میں ہو تو شاید ورنہ نہیں۔
ابھی ہم خواتین ڈرائیورز کے بارے میں یہ باتیں کر رہے تھے کہ سڑک کے بیچوں بیچ ایک گاڑی کھڑی تھی ۔ جو چلتے چلتے رک گئی تھی اور اب اس کا ڈرائیور اسے سٹارٹ کرنے کی کوشش میں تھا لیکن گاڑی نہیں چل رہی تھی۔ جب ہم قریب پہنچے تو دیکھا کہ یہ بھی خاتون ڈرائیور ہیں۔ ان کی گاڑی تو قدرے نئی تھی اور خود بھی بہت سمارٹ تھی مگر گاڑی سٹارٹ نہیں ہو رہی تھی۔ بس خواتین ڈرائیورز میں ایک بہت کمی ہے اور وہ ہے ان کا صنعف نازک ہونا۔ گاڑی خراب ہونے پر بیچاری اسے دھکا دیکر نہ تو سڑک کے سائیڈ پر کر سکتی ہیں اور نہ اسے کسی ورکشاپ پر لے جا سکتی ہیں۔ مرد ڈرائیور تو گاڑی خراب ہونے پر دھکا دیکر سائیڈ پر کھڑا کر دیتے ہیں تاکہ پیچھے سے آنے والی ٹریفک کی روانی میں کوئی فرق نہ آئے بلکہ کئی مرتبہ ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ اکیلا مرد ڈرائیور گاڑی کو خود ہی دھکا دیکر ورکشاپ لے جاتے ہیں مگر عورت ڈرائیور کے لیے ایسا کرناممکن نہیں۔ اسی طرح اگر گاڑی پنکچر ہوجائے تو خواتین گاڑی کو اسی جگہ کھڑی کر دیں گی جہاں وہ پنکچر ہوئی، آگے پیچھے کرنا اب ویسے بھی ان کے بس کی بات نہیں ۔ کئی مرتبہ دیکھنے میں آیا کہ میم صاحبہ گاڑی کے پاس کھڑی ہیں اور گاڑی پنکچر ہوگئی ہے اور وہ خود سے ٹائر تبدیل ہی نہیں کر سکتی، اب کھڑی ہیں کسی نیک خدا ترس کے انتظار میںیا پھر ۔۔۔۔ کوئی آئے اور ٹائر تبدیل کر دے۔اس دوران اگر ساری ٹریفک ڈسٹرب ہوتی ہے تو ہوتی رہی۔
میرا ہم سفر کہنے لگا کہ ایک اور بڑی کمی ہے خاتون ڈرائیورز میں ، وہ یہ کہ ان میں زیادہ تر نان ٹیکنیکل خواتین ہوتی ہیں۔گاڑی میں کوئی معمولی سا بھی ٹیکنیکل فالٹ آ جائے تو ان کی سمجھ میں وہ نہیں آتا۔ کیوں ایسا اکثر ہوتا ہے کہ بیٹری سے منسلک تار لوز ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے انجن سٹارٹ نہیں ہوتا۔ مرد تو بونٹ کھول کر دیکھ لیتا ہے اور اِدھر ُادھر ہاتھ مار کر سمجھ جاتا ہے کہ ۔۔اوں ۔۔بیٹری کی تار لوز ہے، اب وہ یا تو گاڑی کے کٹ باکس سے پلاس یا رینچ نکال کر اسے ٹائیٹ کر لیتا ہے یا پھر کوئی اوزار نہیں بھی ہے تو تار کو ہاتھ سے ہلا جلا کر اور دبا کر اسے سٹارٹ کر لے گا کہ لیکن خواتین کے بس میں یہ نہیں، انھیں پھر مستری کو ہی کال کرنا پڑتا ہے۔
ہاں ایک بات ہے کہ خواتین ڈرائیورز ٹریفک رولزکی اتنی زیادہ خلاف ورزی نہیں کرتی کہ جتنا مرد ڈرائیور کرتے ہیں۔ میرا ہمسفر کہنے لگا کہ اس نے ایک امریکی ادارے جو گاڑیوں کی انشورس کا کام کرتا ہے کی مرتب کردہ ایک سروے رپورٹ میں پڑھا تھا کہ جس میں اس سوال کا جواب دینے کی کوشش کی گئی تھی کہ مرد ڈرائیور اچھی گاڑی چلاتا ہے یا خاتون ڈرائیور ؟ اس سوال کے حوالے سے انشورس ڈاٹ کام نامی ادارے کا کہنا ہے کہ اگرچہ مرد ہی خود کو ایک اچھا ڈرائیور بتلاتے ہیں اور بہت ہی کم ایسا اتفاق ہوا کہ کسی مرد نے کہا ہو کہ اس کی بیوی یااس کی دوست اس سے بہتر ڈرائیورنگ کرتی ہے۔
لیکن ٹریفک رولز کی زیادہ خلاف ورزی کون کرتا ہے یا حادثات کس سے زیادہ سرزد ہوتے ہیں؟ اس حوالے سے انشورس ڈاٹ کام کے نائب صدرسام بیلڈن کا کہنا ہے کہ امریکہ اور یورپ کی حد تک جمع کیے گئے اب تک کے اعداد و شمار کے مطابق خواتین ڈرائیورز کے مقابلے میں نوجوان مرد ڈرائیور زیادہ خطرناک ڈرائیورہوتے ہیں ۔ ادارے کے اعداد و شمار کے مطابق 16سے25سال کی عمر کے نوجوان مرد ڈرائیور ٹریفک رولز کی زیادہ خلاف ورزی کرتے ہیں اور ان سے سرزد ہونے والے حادثات کی تعداد بھی زیادہ ہوتی ہے خواتین ڈرائیورکی نسبت، گذشتہ پانچ برسوں کے اعداد وشمار کے مطابق 175094حادثات مرد ڈرائیورز کی وجہ سے ہوئے اور 82371حادثات خواتین ڈرائیورز نے کیے۔
اسی طرح ایک اور امریکی ادارے نیشنل ہاﺅس ہولڈ ٹریول سروے کی رپورٹ کے مطابق گاڑیوں کے ایسے حادثات کہ جن میں اموات واقع ہوتی ہیں ان میں20سے24سال کی عمر کے مرد ڈرائیور زیادہ ملوث ہوتے ہیں لیکن خونی حادثوں میں 16سے19برس کی خاتون ڈرائیورز کی نسبت 20سے30برس کی خاتون ڈرائیورز بہت کم ملوث ہوتی ہیں۔
میں نے اپنے ہمسفر سے پوچھا کہ یہاں کی خواتین ڈرائیورز کے بارے میں کیا رپورٹ ہے تو وہ کہنے لگا کہ یہاں تو ایسے کوئی ادارے ہی موجود نہیں کہ جو اس قسم کے اعداد وشمار جمع کریں۔ میں نے کہا کہ یہاں بھی توانشورنس کمپنیاں ہیں کیا وہ اس قسم کے اعداد و شمار اکٹھے نہیں کرتی۔ نہیں یہاں کے اداروں کو ایسے کام کرنے کی فرصت نہیں ہوتی کیوں کہ انھوں نے اور بہت سے کام کرنے ہوتے ہیں کہ کیسے اس کام میں بھی رقم کمائی جائے۔ کہنے لگا کہ یہاں تو آپ اپنی گاڑی خود چوری کروا کر کلیم لے سکتے ہیں۔ گاڑی حادثے کا شکار نہیں بھی ہوئی تو پھر بھی آپ کسی ورکشاپ سے رسیدیں بنوا کر انشورنس کمپنی سے رقم اینٹھ سکتے ہیں ، ہاں اس رقم میں سے ایک معقول حصہ آپ کو کمپنی والوں کو بھی دینا پڑے گا۔
بہرحال بات ہو رہی تھی خواتین ڈرائیورز کے حوالے سے تو میرے ہمسفر نے مجھے بتایا کہ یورپ کے آٹو انڈسٹری سے متعلق کوالٹی پلاننگ نامی ادارے کا کہنا ہے کہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ نوجوان مرد ڈرائیورز کی نسبت خواتین محتاط ڈرائیونگ کرتی ہیں۔ مرد نہ صرف ٹریفک رولز کو زیادہ توڑتے ہیں اور سڑکوں پر ہونے والے حادثات میں بھی زیادہ حصہ انہی کا ہوتا ہے۔ اس ادارے کی ایک رپورٹ کے مطابق20 سے 24 سال کی عمر کے مرد بہت جارحانہ انداز میں ڈرائیونگ کرتے ہیں جب کہ اس عمر کی صرف 6فیصد عورتیں جارحانہ ڈرائیور ہوتی ہیں۔ لیکن ہمارے ہاں ایسا شاید ایک فیصد بھی نہ ہو۔ ہمارے ہاں کی خواتین میں جارحانہ پن تو دور کی بعد یہ تو گاڑی بڑے بڑے ڈرتے ڈرتے چلاتی ہیں۔ یا ڈرنے کا لفظ استعمال نہ کیاجائے تو ایسا کہنا درست ہوگا کہ وہ اتنا محتاط ہو کر گاڑی چلاتی ہیں کہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ ڈری ڈری سی ہیں ۔
خواتین ڈرائیونگ کے دوران حادثے کا امکان نہ ہونے کے باوجود مردوں کے مقابلے میں زیادہ متفکر ہوتی ہیں۔ سروے رپورٹ کے مطابق 69 فیصد خواتین ڈرائیور جبکہ 64 فیصد مردوں نے یہ اعتراف کیا کہ وہ ڈرائیونگ کے دوران پریشانی محسوس کرتے ہیں، آٹو گلاس کمپنی کے سروے کے دوران 39 فیصد خواتین اور 28 فیصد مردوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ ڈرائیونگ سے قبل اہل خانہ اور دوستوں سے تکرار یا جھگڑا بھی ڈرائیونگ کے دوران ان کے موڈ کوخراب کرنے کاسبب بنتا ہے، خواتین کی پریشانی کاسب سے بڑا سبب دوسروں کی خراب ڈرائیونگ ہوتی ہے، سروے سے یہ بھی سامنے آیا ہے کہ منزل پر پہنچنے میں تاخیر پر 47 فیصد خواتین جبکہ 34 فیصد مرد اور موسم کی خرابی پر 28 فیصد خواتین اور 23 فیصد مرد فکر مند ہوتے ہیں جبکہ لمبی ڈرائیونگ پر 50 فیصد خواتین اور 38 فیصد مرد تھکن محسوس کرتے ہیں۔
ہم خواتین ڈرائیورز کے حوالے سے باتیں کرتے ہوئے آخر کار ٹریفک کے سمندر سے نکلنے میں کامیاب ہوگئے اور اپنی منزل پر پہنچ گئے۔ اس سفر کی گفتگو سے جو نتیجہ نکلا وہ یہی تھا کہ خاتون ڈرائیور مرد ڈرائیور کی نسبت زیادہ محتاط ہو کر ڈرائیونگ کرتی ہیں۔ آپ کے خیال میں کون بہتر ڈرائیور ہے، اس بارے میں ہمیں ضرور لکھیے گا۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s