دیہاتی عورت


منصور مہدی

پاکستان کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے، پاکستان کے بیشتر دیہی علاقوں میں خواتین کی بڑی تعداد گھر کے کاموں سمیت دیگر کاموں میں اپنے خاندان کا ہاتھ بٹاتی ہیں۔ بطور کھیت مزدوراس کے کردار اور فلاح کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔کوئی ایسا قانون نہیں کہ جس سے ان کی مشکلات اور ان کے استحصال کا خاتمہ ہو سکے۔

ترقی پذیر ممالک میں کھیت مزدور عورتیں کل مزدور عورتوں کا 63 فیصد ہیں اور ایشیائ میں آج بھی زرعی شعبوں میں خواہ وہ شہری ہوں یا دیہی ، عورتوں کا حصہ زیادہ ہے۔ زراعت اور اس سے جڑے دوسرے غیر رسمی شعبے کم آ ّمدنی والے ملکوں کی80فیصد عورتوں کو روزی روٹی کی ضمانت دیتے ہیں جبکہ متوسط آمدنی والے ملکوں میں یہ شرح 40 فیصد ہے۔ یہ ممالک دنیا کی کل آبادی کے 85 فیصد پر مشتمل ہیں۔

پاکستان میں ا س وقت کم و بیش 43فیصددیہی عورتیں زرعی کاموں سے منسلک ہیں۔ کھیت میں ہونے والی بیشتر سرگرمیاں انہی کی وجہ سے پایہ تکمیل کو پہنچتی ہیں۔ جنوبی پنجاب کے صرف 9اضلاع میں تقریباً12 لاکھ عورتیں کام کرتی ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق 25فیصد عورتیں کھیتوں میں فیملی ورکرز کے طور پر کام کرتی ہیں اور75فیصد عورتیں جز وقتی کھیتوں میں کام کرتی ہیں۔ جبکہ ان کو معاوضہ بھی نہیں دیا جاتا۔

دن بھر کے سارے کاموں اور مناسب دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے عورتیں مختلف بیماریوں کا شکار ہو جاتی ہیں۔ایک سروے کے مطابق ان عورتوں میں 85%عورتیں عام الرجی کا شکار ہوتی ہیں۔45% ڈسٹ الرجی،35% نے قے آنے کی شکایت میں مبتلا،14% اعصابی دبا? کا شکار3%عورتوں کے بچے نومولود ہی مر جاتے ہیںاور2%عورتوں کے مردہ بچے پیدا ہوتے ہیں۔

پاکستان کی دیہی آبادی میںعورتوں اور مردوں کی تعلیمی حیثیت میں بھی بہت فرق ہے۔ 70 فیصد مرد ناخواندہ ہیں جبکہ باقی 30فیصد نے بھی رسمی سی تعلیم حاصل کی ہوتی ہے۔ دوسری طرف 13فیصد خواتین ایسی ہیں جنہیں رسمی تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ 87فیصد خواتین ناخواندہ ہوتی ہیں۔ اکثر دیہاتی خاندان عورت کی تعلیم کے ہی مخالف ہیں اور رہی سہی کسر حکومت کی نام نہاد تعلیمی پالیسیاں پورا کر دیتی ہیں جس سے دیہاتوں کی اکثر خواتین تعلیم کے زیور سے محروم رہتی ہیں۔

عورت بحیثیت مجموعی انسانیت کا نصف اور معاشرے کا وہ ناگزیر عنصر ہے جس کی گود قوموں کی پرورش کرتی ہے۔

لیکن پاکستانی معاشرے میں عورت کی مظلومیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ایک شہر کی تعلیم یافتہ عورت کے مقابلے میں ایک دیہات میں بسنے والی عورت کو قانونی، معاشی و معاشرتی سہولیات میسر نہیں۔ اکثر دیہاتوں اور قبیلوں میں بسنے والی عورت پر آج بھی دور جاہلیت کے رسم و رواج کا اطلاق کیا جاتا ہے۔

آج جبکہ عالمی زرعی ایجنڈا اپنی تمام تر خرابیوں سمیت جنوبی ایشیائ کے ممالک کی زراعت کو اپنی لپیٹ میں لینے کے لئے پر تول رہا ہے اور آزاد تجارت کی وجہ سے مقامی منڈیوں کی تباہی کی پیشین گوئیاں کی جا رہی ہیں۔ ان حالات میں پاکستانی کھیت مزدور عورتیں مزید مشکلات کا شکار ہو جائیں گی جو پہلے ہی مصائب میں گھری ہوئی ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s