کیا عورتیں کم عقل ؟


کیا عورتیں کم عقل ؟
عورت نے نہ صرف خاندان بلکہ معاشرے کی تربیت کرنا ہوتی ہے جو مردوں کے بس کی بات نہیں
منصور مہدی
ہمارے معاشرے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ عورتیں مردوں سے کم عقل ہوتی ہیں۔ اگرچہ تخلیقی طور پر دونوں برابر ہیں ماسوائے جسمانی ساخت کے لیکن اس کے باوجود عورتوں کے حوالے سے کہا جاتا ہے کہ ان میں مردوں کی نسبت عقل زیادہ نہیں ہوتی۔اگرچہ کچھ لوگ انھیں بھی عقل و شعور میں مردوں کے ہم پلہ سمجھتے ہیں اور کچھ انہیں نہ صرف ناقص العقل سمجھتے ہے بلکہ ناقص دین بھی کہتے ہےں۔ اس میں کتنی حقیقت اور سچائی ہے یہ جاننے کے لیے نئی بات خواتین میگزین نے مختلف طبقہ فکر کے اصحاب سے رائے لی تو پتا چلا کہ عورتوں کو ناقص العقل کہنے والے اکثریت میں ہیں۔جن کی تعداد 65فیصد رہی جبکہ عورتوں کو عقل میں مردوں کے ہم مساوی جاننے والے 22فیصد اور 13فیصد کا کہنا ہے کہ جیسے سب مرد عقل میں ایک جیسے نہیں ہوتے ویسے ہی ساری عورتیں ناقص العقل نہیں ۔
جامع مسجدمدنی کالونی کے سابق خطیب مولانا اظہر صدیق کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ شریعت نے عورتوں کو مردوں سے کم عقل اور ناقص دین قرار دیا ہے تو ایسے میں ہم یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ عورتیں عقل میں مردوں کے ہم مساوی ہیں۔ انھوں نے ایک حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ”حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے عورتو، تم صدقہ کیا کرو اور بہت زیادہ استغفار کیا کرو۔ مجھے تم عورتوں کی زیادہ تعداد جہنم میں دکھائی گئی ہے۔ ان میں سے ایک سمجھ بوجھ والی عورت نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے پوچھا۔ ہمارے ساتھ کیا ہے کہ ہم زیادہ جہنمی ہوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم لعنت ملامت بہت کرتی ہو اور شوہر کی ناشکری ہوتی ہو۔ میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی تمھاری طرح عقل ودین میں کم ہونے کے باوجود عقل والے پر غالب آجائے۔ اس نے پوچھا: یارسول اللہ، یہ عقل ودین میں کمی کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: عقل کی کمی یہ ہے کہ دوعورتوں کی گواہی ایک مرد کے برابر ہے، یہ عقل کی کمی ہے۔ تم کئی دن نماز نہیں پڑھتی ہو اور رمضان میں روزے نہیں رکھتی ہو یہ دین میں کمی ہے”۔
انھوں نے کہا اس حدیث میں صرف وہ عورت ہی مخاطب نہیں تھی کہ جس کو کہا جا رہا تھا بلکہ اس میں تمام عورتیں مراد ہیں۔اس روایت کے مطابق عورت دین اور عقل دونوں میں مرد سے پیچھے ہے۔ انھوں نے حضرت علی ؑ کے ایک قول کا بھی حوالہ دیا کہ جس میں کہا گیا ہے کہ عقلی اور جذباتی دونوں اعتبار سے مرد عورتوں سے بالاتر ہیں۔
اسلامک لاءکے ماہر نوید عباس ایڈووکیٹ اس حوالے سے کہتے ہیں کہ درج بالا روایت میں عورت کے دین میں کمی کی جو وجہ بیان کی گئی ہے کہ عورت ایام کے دنوں میں نماز اور روزے نہیں رکھتی اس طرح اس کے دینی عمل میں کمی رہ جاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عورتوں کے کچھ دنوں کے لیے نماز نہ پڑھنے کا سبب واضح ہے کہ عورت کی قدرت نے ساخت ہی اسی طرح کی خلق کی ہے۔ لہذا کچھ دنوں کے لیے نماز کی ادائیگی نہ کرنا عورت کی طرف سے کسی کمی یا کمزوری کے اظہار کی وجہ سے نہیں ہے۔ اس طرح کے مسائل میں خدا کی طرف سے عورت کے اجر میں کمی نہیں کی جائے گی وہ خدا کی نیک بندیاں جو نماز کی پابند ہیں وہ بارگاہ ایزدی میں پابندی سے نماز پڑھنے والی ہی قرار پائیں گی اگرچہ اس سبب سے ان کی نمازوں کی تعداد کم ہو۔انھوں نے کہا کہ اس روایت کی بنا پر عورت کو ناقص العقل اور ناقص دین نہیں کہا جا سکتا۔
اور حضرت علی علیہ السلام کے قول کے حوالے سے ان کا کہنا ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے ایسی بات نہیں کہی ہے کہ مرد، عقل و احساس دونوں اعتبار سے عورتوں سے بالاتر ہیں۔عورتوں کے نقص عقل کے بارے میں حضرت علی علیہ السلام نے جو کہا ہے وہ ایک خاص واقعہ کے سلسلہ میں کہا گیا تھا اور یہ تمام خواتین کے بارے میں ایک عام حکم نہیں تھا۔ حضرت خدیجہ الکبری علیہ السلام اور حضرت فاطمہ علیہ السلام جیسی خواتین اپنے زمانے کے مردوں سے زیادہ عاقل اور نوبغہ روزگار شخصیتیں رہی ہیں۔
کچھ ایسے مواقع بھی آئے کہ جب حضرت علی علیہ السلام نے مردوںکو کم عقل کہا جیسے انھوں نے ایک جگہ پرکوفہ اور بصرہ کے لوگوں کی کم عقلی کا شکوہ کیا ہے اور ان کی مذمت و سرزنش فرمائی کہ تمہاری عقلیں ہلکی اور تمہاری سوچیں احمقانہ ہیں جبکہ ایک اور جگہ پر فرمایا کہ وہ لوگ جن کے بدن موجود اور عقلیں غائب ہیں۔ ان خطبات کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا کے سب مرد عقلوں سے غائب ہیں حالانکہ کوفہ اور بصرہ نے بہت سے علماء اور دانشمند دنیائے اسلام کو پیش کئے ہیں۔پھر ایک اور جگہ پر کہا کہ انسان کی خود پسندی اس کی کم عقلی پر دلیل ہے۔ لہذا بعید نہیں ہے کہ عورتوں کی طرف کم عقلی کی نسبت بھی اسی باب سے ہو اور اس سے مراد عارضی اسباب ہوں جو خاص طور سے اس زمانے میں موجود ہوں جس کے سبب ان کی عقلیں ناقص ہوئی ہیں۔ یہ اسباب و علل چونکہ عورت کی طینت اور سرشت میں داخل نہیں ہیں لہذا ان کو تربیت اور تہذیب نفس کے ذریعہ کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
پروفیسر خالد عثمان کا کہنا ہے کہ عقل دو قسم کی ہوتی ہے ۔ ایک تو عقل اجتماعی یا عقل محاسب ہے اور دوسری عقل اقداری ہوتی ہے۔ ان احادیث میں عقل اجتماعی مراد ہے نا کہ عقل اقداری جو کہ اللہ سے قربت اور معنوی مقامات کے حصول کا سبب بنتی ہے۔ اس عقل کے اعتبار سے مرد و زن میں کوئی فرق نہیں ہے۔پھر نفسیاتی اعتبار سے عورت کے جذبات اس کی عقل پر غالب رہتے ہیں کہ اگر یہ خصوصیت نہ ہوتی تو عورت ایک ماں کے اعتبار سے اپنا کردار نہ نبھا پاتی، اس اعتبار سے مرد، عورت کے برخلاف ہے یعنی اس کی عقل اس کے جذبات پر غالب رہتی ہے۔ اور فطرت کے کارخانے کا یہ فرق در اصل اللہ کی حکمت ہے اور ان فرقوں کا ہونا بھی ضروری ہے۔ لہذا حضرت علی  نے اپنے قول میں اقدار و معنویت کے اعتبارسے ایک کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیں بلکہ ایک تخلیقی اور قدرتی فرق کو بیان کیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ ایک جگہ پر حضرت علی نے کہا تھا کہ جذبات و احساسات کے اعتبار سے خواتین مردوں سے برتر ہیں۔
پروفیسر عبدالقدوس کا کہنا ہے کہ انسانی معاشرہ کی تربیت و ترقی میں ماں، زوجہ یا تلخ و شیریں زندگی کی شریک حیات کے طور پر خواتین کے اہم اور بے مثل کردار کا انکار نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں تک کہ قرآن نے والدین کی اطاعت کو اللہ کی اطاعت کے بعد قرار دیا ہے اور یہاں پر ماں باپ کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا ہے۔ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی حضرت خدیجہ ؑ اور حضرت فاطمہؑ کے لئے ایک خاص احترام کے قائل تھے۔ جس کا مقصد یہ بتانا تھا کہ معاشرے میں عورت ایک خاص مرتبہ رکھتی ہے اور اگر مرد سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ مرد و زن کے یکساں و برابر ہونے کا نظریہ قرآنی نظریہ ہے جو کہ قرآنی آیات سے بآسانی حاصل کیا جاسکتا ہے۔ قرآن کی نگاہ میں روحانی اور جسمانی اعتبار سے عورت اسی گوہر سے پیدا ہوئی ہے جس سے مرد پیدا ہوا ہے اور دونوں کی جنس حقیقت و ماہیت میں ایک ہیں۔قرآن کا فرمان ہے: انسانو! اس پروردگار سے ڈرو جس نے تم سب کو ایک نفس سے پیدا کیا ہے اور اس کا جوڑا بھی اسی کی جنس سے پیدا کیا ہے اور پھر دونوں سے بکثرت مرد و عورت دنیا میں پھیلا دئے ہیں۔ان آیات میں قرآن نے انسانی اقدار کے اعتبار سے عورت کو مرد کے برابر سمجھا ہے لہذا اس لحاظ سے مرد کو عورت پر کوئی برتری حاصل نہیں ہے۔
ماہر نفسیات فرح مجید کاکہنا ہے کہ ماسوائے تھوڑی سے جسمانی ساخت کے مرد اور عورت ایک ہی جیسے ہیں۔ دونوں میں دماغ اور اس کے کام کرنے کا طریقہ کار بھی ایک ہی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ جیسے خاندان یا ماحول کسی بھی انسان پر بلا تفریق مرد و عورت اثر انداز ہوتا ہے اور یہ اثرات نہ صرف جسمانی بلکہ دماغی بھی ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں جیسے ایک مرد کا آئی کیو دوسرے مرد سے مختلف ہو سکتا ہے ایسے ہی عورت کے آئی کیو میں فرق ہو سکتا ہے لیکن یہ کہنا کہ تخلیقی طور پر دونوں جنس عقل و شعور میں فرق رکھتی ہیں غلط ہے۔ انھوں نے کہا اب تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ عورتیں مردوں سے زیادہ ذہانت رکھتی ہیں اگر گذشتہ چند سالوں کے میڑک، یاایف اے، بی اے یا ایم اے کے رزلٹ دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ عورتیں مردوں سے زیادہ ذہین ہیں۔
ڈاکٹر غلام فرید کا کہنا ہے کہ سائنسی تحقیق بھی ذہانت اور عقل کے حوالے سے مرد و عورت میں کوئی خاص فرق نہیں بیان کرتی۔ البتہ تعلیم و تربیت اور ماحول کے انسانوں پر اثرات کا بتلاتی ہے اور اسی وجہ سے کسی کی ذہانت اور عقل میں فرق آسکتا ہے۔ انھوں نے کہا دراصل مردوں کے معاشرے نے جہاں متعدد مقامات پر عورتوں کو نیچا دکھانے کی کوشش کی ہے وہاں عورت کو ناقص العقل اور ناقص دین کہنا بھی اسی کوشش کا ایک حصہ ہے۔مغربی معاشرے میں عورت اور مرد کو ایک جیسے حقوق حاصل ہیں۔ اگرچہ جدید دور میں عورت کو ہر نسبت سے مرد کی برابری حاصل ہے اور اسے مردوں جتنا ہی عقلمند سمجھا جاتا ہے مگر مذہبی طور پر عیسائیت میں عورت کو مرد سے کمتر کہا گیا ہے۔
مرد اور عورتوں میں کوئی عقلی فرق ہو یا نہ ہو مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان دونوں جنسوں کے درمیان جسمانی اور روحانی دونوں ا عتبار سے فرق ضرور ہیں۔ کیونکہ عورت انسان کے وجود و ولادت کا مرکز ہے اور بچوں کی تربیت کا اہم کام اس کی آغوش میں انجام پاتا ہے، اس لئے جس طرح اس کا جسم ایسے بنا ہے کہ وہ بعد کی نسل کو اٹھا سکے اور اس کی پرورش کرسکے اسی طرح روحانی اعتبار سے بھی احساسات، جذبات اور ہمدردی میں اس کا حصہ زیادہ ہے۔لہذا ماں کی منزلت، تربیت اولاد، گھر میں مہر ومحبت کی تقسیم بھی عورت ہی کے سپرد کی گئی ہے۔ دوسرے لفظوں میں اگرچہ مرد و زن میں انسانی اقدار کے لحاظ سے کوئی فرق نہیں ہے لیکن اپنے صنفی تقاضوں کے اعتبار سے دونوں الگ الگ طرح سے عمل کرتے ہیں۔ گھر سے عورت کی محبت اور گھرانے سے اس کا لگاو¿ لاشعوری طور پر مرد سے زیادہ ہوتا ہے۔اس طرح عورت یقیناً مردوں سے زیادہ عقلمند اور ذہین ہوتی ہے کہ اس نے نہ صرف ایک خاندان بلکہ ایک معاشرے اور قوم کی تربیت کرنا ہوتی ہے جو یقیناً مردوں کے بس کی بات نہیں۔
ماسوائے جسمانی ساخت کے مرد اور عورت ایک ہی جیسے ہیں۔ دونوں میں دماغ اور اس کے کام کرنے کا طریقہ کار بھی ایک ہی ہے لیکن خاندان یا ماحول کسی بھی انسان پر بلا تفریق مرد و عورت اثر انداز ہوتا ہے اور یہ اثرات نہ صرف جسمانی بلکہ دماغی بھی ہوتے ہیں۔ جیسے ایک مرد کا آئی کیو دوسرے مرد سے مختلف ہو سکتا ہے ایسے ہی عورت کے آئی کیو میں فرق ہو سکتا ہے لیکن یہ کہنا کہ تخلیقی طور پر دونوں جنس عقل و شعور میں فرق رکھتی ہیں غلط ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s