کیا مردوں میں تخلیقی قوت زیادہ ہیں؟


منصور مہدی
جب سے ان کی شادی ہوئی تب سے ہی ان میں تو تو میں میں چل رہی تھی۔ اس لڑائی کی وجہ کوئی معاشی مسائل نہیں تھے بلکہ دونوں ہی اعلیٰ سرکاری عہدوں پر فائز تھے۔ ایک نے اگر سوشل سائینس میں ایم فل کیا ہوا تھا تو دوسرے نے سپیس سائینس میں پی ایچ ڈی کیا ہوا تھا۔مگر دونوں ہی بڑے گھمنڈی تھے۔ شبانہ سوشل ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ میں18ویں گریڈ میں ملازم ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شاعرہ بھی تھی جس کی شاعری کی تین کتب چھپ چکی تھی اور شکیل ائرو ناٹیکل سائینس اینڈ ٹیکنالوجی ڈیپارٹمنٹ میں چیف انجینئر تھااور اس کا اپنے شعبے میں ایک بڑا نام تھا اور وہ اپنے محکمے میں ایک ذہین شخص کے طور پر پہنچانا جاتا تھا۔
مگر دونوں کو اپنے علم اور ذہانت پر بہت غرور تھا۔ دونوں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کے لیے اپنی اپنی صلاحیتیوں اور تخلیقی قوت کی متعدد کہانیاں ایک دوسرے کو بڑھ چڑھ کر سناتے۔ مگر کوئی بھی دوسرے سے مرعوب نہ ہوتا بلکہ دوسرے کو مرعوب کرنے کے لیے اپنی ہی داستان سنانے لگتا ۔یہ بحث اکثر طول پکڑتی اور اختتام دونوں کی لڑائی پر ہوتا۔
شبانہ زیادہ ذہین، فطین اور تخلیق کار تھی یا شکیل، دونوں ہی ایک دوسرے کے دلائل سے مطمئن نہ ہوتے۔ اب تو ان کے بچے بھی بڑے ہو گئے مگر دونوں کے دلائل جاری رہتے شاید اب دونوں کی یہ عادت بن چکی تھی۔ بچے بھی ان کی لڑائی سے پریشان ہونے کی بجائے ان کی نوک جھوک میں دلچسپی لینے لگے۔
مرد اور عورت کے درمیان ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کا جذبہ شاید شروع دن سے ہی ان کی سرشت میں رہا ہے۔ کون ذہین؟، کون فطین؟ یہ بحث شروع دن سے ہی مرد و عورت میں چلی آ رہی ہے مگر کوئی بھی ایک دوسرے کو اب تک مطمئن نہیں کر سکا۔
مفکرین کا کہنا ہے کہ “نظام آفرینش پر اگر نگاہ ڈالیں تو مخلوقات عالم کے درمیان قوتوں، صلاحیتوں، وسیلوں، واسطوں، ذوق اور سلیقوں، مزاج اور کیفیتوں، نسلوں اور رنگوں، صورتوں اور سیرتوں کے اعتبار سے طرح طرح کے فرق اور امتیازات پائے جاتے ہیں خود انسانوں میں بھی ذہنی صلاحتیں اور جسمانی قوتیں مادی اور معنوی تحصیلات و اکتسابات کے میدانوں میں مختلف نظر آتی ہیں۔ اللہ نے بعض کو جمادات کی شکل میں بعض کو نباتات کی صورت میں اور بعض کو حیوانات کے پیکر میں خلق کیا ہے کچھ کو مادہ اور کچھ کو نر بنایا ہے۔ عورتوں کے درمیان تمام عورتیں شکل و صورت، مزاج و طبیعت، رنگ و نزاکت اور اخلاق و رفتار کے لحاظ سے یکساں نہیں ہیں۔ اسی طرح مردوں کے درمیان بھی سب ایک ہی جسم و جسامت، قوت و توانائی اور گفتار و کردار کے حامل نہیں ہیں۔
مسلم مفکرین کا کہنا ہے کہ قرآن پاک کی سورہ نحل اور سورہ فتح کے مطابق مردوں اور عورتوں کے درمیان اگرچہ انسانی امور میں فرق نہیں ہے۔ پھر بھی ہمہ جہت یک رنگی بھی نہیں پائی جاتی ۔عملی میدان میں اس طرح کے بہت سے عقلی فرق و امتیازات ان دونوں صنفوںکے درمیان پائے جاتے ہیں جو حکیمانہ بنیادوں پر استوار ہیں۔ نظام خلقت میں صلاحیتوں کا مختلف ہونا انسانوں کی مختلف ضرورتوں کی تکمیل کا باعث بنتا ہے اور دوسری طرف اپنی محنت و کوشش اور صلاحیتوں کے صحیح استعمال کے ذریعے ہر انسان اپنی حالت کو بہتر سے بہتر صورت میں تبدیل کر سکتا ہے۔ بہر صورت الٰہی نعمتوں اور برکتوں سے چونکہ تمام لوگ یکساں طور پر فائدے نہیں اٹھاتے اور یہ ایک فطری امر ہے اس لئے اس کی کوششوں کے نتائج بھی چاہے وہ ان کے اپنے عمل کی جزا ہو یا بزرگوں کی چھوڑی ہوئی میراث ہر ایک کے لئے یکساں اور یک رنگ نہیں ہوتے۔ تاہم کچھ ایسے امور ہیں کہ جہاں مرد زیادہ بہتر انداز میں کام کر سکتا ہے اور وہاں اس کی ذہنی صلاحیتیں زیادہ پروان چڑھتی ہیں اور کچھ ایسے ہیں جہاں عورتوں کی صلاحیتیں زیادہ ابھر کر سامنے آتی ہیں۔
ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ انسان اللہ کی ایک ایسی مخلوق ہے جو ایک دوسرے سے منفرد اور مختلف ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مکمل تخلیق ہے۔ اگرچہ ان دونوں کے درمیان بہت زیادہ اور اہم اختلافات موجود ہیں مگر کسی کو بھی تخلیقی اعتبار سے ناقص قرار نہیں دیا جا سکتا۔
کیلی فورنیا یونیورسٹی کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر لیری جو ایک ٹیم کے ساتھ گذشتہ 10سالوں سے انسانی ( مرد و عورت) دماغ کی حیاتیاتی ساخت، اس کی کیمسٹری اور اس کے کام کرنے کی صلاحیتوں کو جانچ رہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ مختلف حالتوں میںمرد و عورت کے دماغ کے کام کرنے کا نہ صرف طریقہ کار مختلف ہے بلکہ اس کے نتائج بھی مختلف برآمد ہوتے ہیں۔
لیری کا کہنا ہے کہ جب کوئی اجنبی مرد اور عورت پہلی بار ایک دوسرے کو ملتے ہیں تو ایک دوسرے سے بات چیت کے لیے دونوں کے دماغ اپنا اپنا کام شروع کر دیتے ہیںمگر نہ تو دونوں کا اظہار ایک جیسا ہوتا ہے اور نہ ہی دونوں کا رویہ ایک دوسرے سے مطابقت کرتا ہے اور نہ ہی کسی ایک بات پر دونوں کا ردعمل ایک جیسا ہوتا ہے۔ اس اختلاف کی وضاحت لیری نے کچھ اس طرح کی ہے کہ ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہونے کی وجہ سے اگرچہ دونوں کی سوچ ایک سطح پر کام کر رہی ہے مگر مرد کا دماغ اجنبی ماحول میں زیادہ فعالیت کا مظاہرہ کرتا ہے جبکہ عورت کے دماغ کی حیاتیاتی ساخت کچھ ایسی ہے کہ وہ شناسا ماحول میں بہتر کام کرتا ہے۔
فنون لطیفہ کے شعبے کو اگر دیکھے تو اگرچہ یہاں خواتین کی ایک بہت بڑی تعداد پائی جاتی ہے ۔جن میں بڑی نامور خواتین بھی شامل ہیں ۔ مجسمہ سازی اور پینٹنگ کو اگر دیکھیں تو پتا چلتا ہے کہ اس میدان میں مرد ہی عورتوں سے آگے ہیں۔ ماضی کو دیکھیں تو مائیکل اینجلو اور لیوناڈو ڈاونسی جیسے فنکار دوبارہ پیدا نہیں ہوئے جو مرد تھے۔کوئی بھی عورت ان کے مقام کو نہیں پہنچی ۔ اس کی وجہ یقینا یہی ہے کہ عورت ہمیشہ سے مرد کی حکمرانی میں رہی ہے اور اس کے اس طرح کے میدان میں قابلیت کیے جوہر دکھانے کا موقع نہیں ملا ۔ اگر جدید دور کو دیکھا جائے تو Andy Warhol، Keith Haring، Shepard Fairey اور Banksy جیسے فنکار آسمان کی بلندیوں کو چھو رہے ہیں جو تمام مرد ہیں۔ عورتیں بھی کسی طرح جذباتی اظہار میں مردوں سے پییچھے نہیں رہی مگر مردوں کے اظہار میں ہمیشہ ایک انفرادیت پائی گئی۔
فن تعمیرات کو اگر دیکھا جائے جس میں ماضی اور حال کے دنیا کے نامور معماروں کا ذکر ملتا ہے۔اس شعبے میں مردوں کا ہی غلبہ ہے ۔
اداکاری اور تھیٹر کی دنیامیں ٹاپ 10فنکاروں میں ولیم سمتھ، جونی ڈیپ، ایڈی مارفی، مائک مئیر،مائک مئیر، لیونارڈو ڈی کیپریو، بروس ویلی، ایڈم سینڈلر، نکولس کیج، بن سیٹلر، ول فیرل سب کے سب مرد ہیں۔ اسی طرح ٹاپ پروڈیوسر،ڈائریکٹر،رائٹرز بھی سب کے سب مرد ہیں۔ ان کی تخلیقی صلاحیتیوں کی ایک دنیا معترف ہے۔ اسی طرح معروف ٹی وی شو اور دیگر پروگراموں کے پیچھے بھی مردوں کی صلاحیتیں ہی کارفرما ہیں۔ کوئی بھی عورت ان کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکی۔
فیشن انڈسٹری جس کا زیادہ تر تعلق عورتوں سے ہی ہے اور جس میں عورتوں ہی کی بنیادی ضرورتوں کو مد نظر رکھ کر تخلیقات پیش کی جاتی ہیں۔ اس انڈسٹری کے پیچھے بھی مرد ہی ہیں۔ فیشن انڈسٹری میں ٹاپ ڈیزائنرز سب کے سب مرد ہیں۔خواتین کے لباس میں سب سے زیادہ جدت اور انفرادیت مردوں نے پیش کیں۔ ٹاپ فیشن ڈیزائنرز میں یس سیٹ، لیورینٹ، مارک جیکب، ٹومی ہل فیگر، پیری ایلیس، کیولین کلین، عسل سایمن، مارک ایکو، جمی چوں، لوئیس ویٹن،جارجیو آرمانی، گنی ورساک، سین کومب، ہوگو باس، ڈومینکو ڈولس، سٹیفن گابانا، فیری گامو، ڈیو چینری شامل ہیں جو تمام مرد ہیں۔
موسیقی کے شعبے میں ہمیشہ ہی مردوں کا غلبہ رہا۔ کلاسیک میوزک میںBach, اورMozart، راک میوزک بیڈمیںAerosmith، ہپ ہیپ میوزک میں Jay-Z, Ludacris, LL Cool J, Run-DMC, 2Pac, & KRS-Oneجیسے مرد موسیقار ہیں۔ پاپ میوزک میں مائیکل جیکسن جیسا فنکار دوبارہ پیدا نہیں ہوا اگرچہ اس کی بہن جینٹ جیکسن بھی کچھ کم نہیں مگر جو عروج مائیکل جیکسن کو ملا وہ جینٹ کے حصے نہیں آیا۔ بھارت میں ٹاپ موسیقار سب کے سب مرد ہیں۔ اسی طرح آلات موسیقی کے موجد بھی سب کے سب مرد ہیں۔ ایشیاءمیںراگ اور راگنیوں کے خالق امیر خسرو بھی مرد تھے۔ حتیٰ کہ ڈانس اور گانے میں کچھ خواتین نے بڑا نام پیدا کیا مگر ان کے پیچھے بھی مردوں کی صلاحیتیں کام کرتی رہی۔ بھارتی خاتون گلوکارہ لتا منگیشکر کا کوئی ثانی نہیں مگر وہ بھی مہدی حسن کے بارے میں کہتی تھی کہ ان کے گلے میں بھگوان بولتا ہے۔
اس ساری بحث سے کیا یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ عورت کی تخلیقی صلاحیتیں ، مرد سے کم تر ہیں ؟ یہ ایک مشکل سوال ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ عورت کا میدان کار ہی مرد سے مختلف ہے۔ مثلا کوئی مرد اگر بطور باپ اپنی اولاد کی بہتر دیکھ بھال کر لیتا ہے تو یہ نہیں مانا جائے گا کہ مرد عورتوں سے بہتر بچوں کی نگہداشت کر سکتے ہیں ۔ اسی طرح اس سوال کیا کیا جواب دیا جائے گا کہ ایک ہاتھی طاقت ور ہے یا انسان ۔ ہر ایک کا جواب ہو گا کہ انسان زیادہ طاقت ور ہے لیکن اگر ایک انسان اور ہاتھی کو اکھاڑے میں ڈال کر مقابلہ کرا یا جائے تو کیا نتیجہ نکلاے گا؟ ہمارے خیال میں تخلیقی صلاحیتوں کے حوالے سے مرد اور عورت کا موازنہ بھی اسی طرح کا ہے ۔ مرد یقینی طور پر جسمانی اعتبار سے عورت سے زیادہ مضبوط ہے لیکن صرف اسی وقت تک جب ان کو کسی اکھاڑے میں اتار دیا جائے ۔ لیکن بات اگر میدان زندگی کی ہو تو چھ فٹ کا پہلوان بھی اپنی کمزور والدہ کا تھپڑ کھاکر اس کے آگے ہاتھ جوڑتا نظر آئے گا اور ملکوں کو فتح کرنے والا سپہ سالار اپنی محبوبہ کے بھیگی بلی بنا نظر آتا ہے۔
قرآن نے بھی یہی بات کہی ہے کہ ” ہم نے انسان کو نفسِ واحدیہ سے پیدا کیا اور پھر اس سے اس کا جوڑا بنایا۔ ” مگر یہ بات واضح ہے کہ اپنی طبیعت ، مزاج ، جسمانی ساخت وغیرہ میں عورت مرد سے مختلف ہے۔ اسی فرق کی وجہ سے ہر دو صنفوں کے نظریات اور سوچ میں بھی فرق ہے۔بلکہ جبلی کیفیتوں میں بھی فرق موجود ہے۔ جنسی اور نفسیاتی بنیادوں میں بھی فرق موجود ہے۔یہی فرق ایک جنس کو دوسری جنس سے ممتاز کرتا ہے۔
ڈاکٹر لیری کا کہنا ہے کہ مردوں کے دماغ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ مرد کے دماغ میں الگ الگ کمپارٹمنٹ بنے ہوتے جہاں معلومات، محرک، جذبات، تعلقات، وغیرہ وغیرہ علیحدہ علیحدہ پڑے ہوتے ہیں جبکہ عورتوں کے دماغ میں یہ سب چیزیں ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہوتی ہیں۔
ماہرین کا کہنا کہ انسانی دماغی صلاحیتوں پر کام کرنے والے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر دماغ کی ساخت کا بغور مطالعہ کیا جائے تو عورتوں کا دماغ ایک متوازن دماغ ہوتا ہے جبکہ مردوں کا دماغ ایک خصوصی دماغ ہوتا ہے۔تاہم اب کچھ ایسے شعبے ہیں کہ جن میں خالصتاً دماغی اور تخلیقی امور سر انجام پاتے ہیں وہاں اب خواتین کی بھی ایک معقول تعداد کام کر رہی ہے جو کسی بھی طرح مردوں سے کم نہیں ۔ تاہم ان سب باتوں کے یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مرد جب بچہ ہوتا ہے تو اس پر ماں کا رعب چلتا ہے اور جب جوان ہوتا ہے تو اس کی محبوبہ اس پر حکم چلاتی ہے اور جب شادی ہوتی ہے تو بیوی آقا بن کر حکمرانی شروع کر دیتی ہے اور جب بوڑھا ہوتا ہے تو بیٹیاں اپنا حکم چلانا شروع کر دیتی ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s