خواتین کا حجاب


منصور مہدی

چودہ ملکوں کے دو سو سے زیادہ مندوب لندن میں مورخہ 11جولائی 2004کومنعقدہ ایک کانفرنس میں شریک ہوئے تھے جو اس بات کو تسلیم کرانے کے لیے منعقد کی گئی تھی کہ حجاب پہننامسلم خواتین کا حق ہے۔کیونکہ فرانس اور جرمنی نے حجاب پر پابندیاں لگا دی ہیں اور یہ کانفرنس اس لیے بلائی گئی ہے کہ اور ممالک خواتین کی اس آزادی کو سلب نہ کریں۔کانفرنس میں تقریر کرنے والوں میں سے کئی ایک نے کہا کہ فرانس اور جرمنی نے پابندیاں لگا کر مذہبی آزادی کی خلاف ورزی کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حجاب کسی جبر کی علامت نہیں ہے بلکہ آزادی اور عزت نفس کے اظہار کی علامت ہے۔ عالم دین یوسف القرضوی نے، جن کی برطانیہ میں آمد کو متنازعہ بنا دیا گیا تھا، کہا کہ فرانس کی حکومت کو چاہئیے کہ اپنا فیصلہ منسوخ کرے کیونکہ یہ ’یہودی باڑے‘ والی ذہنیت کی عکاس ہے۔ اسی طرح کے احتجاج جرمنی کے کئی صوبوں اور بیلجئیم کے بارے میں بھی کیے گئے۔ ایک خاتون مقرر نے کہا کہ میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ حجاب پہننے اور نہ پہننے میں کتنا فرق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’میں نے سولہ سال کی عمر سے حجاب پہننا شروع کیا ہے۔ اس سے پہلے میں ایک عام سی لڑکی تھی۔ گھر سے باہر نکلتی تو لوگ جیسے دوسری لڑکیوں سے برتاو¿ کرتے ویسے میرے ساتھ بھی۔ لیکن جب میں نے حجاب پہننا شروع کیا تو یکایک محسوس ہوا جیسے میرا درجہ بلند ہو گیا ہو۔ بہت لوگ میری عزت کرنے لگے۔ خاص طور سے اگر کوئی مسلمان مجھے بازار میں دیکھتا تو احترام کی نگاہیں ڈالتا‘۔برطانیہ میں آجکل نسلی تفریق کے خلاف رائج قوانین کے تحت مسلمان لڑکیوں کا یہ حق محفوظ ہے کہ وہ چاہیں تو حجاب پہن سکتی ہیں۔ لیکن اصل میں بحث کا موضوع یہ بات ہے کہ مسلمان مغربی معاشروں میں کس طرح گھل مل سکتے ہیں۔ اس کانفرنس کا اہتمام کرنے والو ں کا کہنا ہے کہ اس میں نہ صرف خواتین کے اس حق کو اجاگر کیا گیا بلکہ یہ دکھایا گیا کہ خواتین کیوں اس بات پر مصر ہیں کہ ان کو یہ حق استعمال کرنے کی آزادی ہونی چاہئیے۔
گذشتہ دنوں یورپ کے اخباروں میں فرانسیسی صدر ڑاک شیراک کا یہ بیان سرخیوں میں رہا کہ وہ فرانس میں حجاب پہننے کی ممانعت کی تجویز کی حمایت کرتے ہیں۔ کیونکہ فرانس کے عوام حجاب اور دیگر مذہبی علامات کو اپنی معاشرتی آزادی پر ایک ضرب تصور کرتے ہیں۔ جبکہ جرمنی کی ایک ریاست نے مسلمان خواتین کے سر ڈھکنے پر پابندی عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے میں قانونی کارروائی بھی کی جا رہی ہے۔ ریاستی حکومت کو صرف عدالتی فیصلے کا انتظار ہے جس کے بعد اس کا راستہ صاف ہو جائے گا۔ جرمنی کی دیگر ریاستیں بھی اسی طرز پر سوچ رہی ہیں۔اس سے قبل ستمبر میں جرمنی کے سپریم کورٹ نے ایک مسلمان خاتون استانی کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے انہیں سر پر سکارف لینے کی اجازت دی تھی۔توقع ہے کہ اب یہ نیا قانون اگلے سال کے آغاز پر منظور ہوجائے گا۔ یہ قانون مذہبی تعلیم کی کلاسوں کے دوران لاگو نہیں ہوگا تاہم اس کے علاوہ ریاست کے ہر ادارے میں مسلمان خواتین کو اس پر عملدرآمد کرتے ہوئے سکارف پہننا ترک کرنا ہوگا۔ جبکہ یہودی یا عیسائی علامات پر کوئی پابنددی نہیں لگائی جائے گی۔تاہم یہ مسئلہ صرف جرمنی تک محدود نہیں ہے بلکہ کئی یورپی ممالک بشمول فرانس، روس، ترکی وغیرہ بھی اس معاملے پر تنازعات کھڑے کر رہے ہیں۔فرانس حکومت، سکولوں میں مسلمان طالبات کے سر ڈھکنے سے ناخوش تھی۔ اور اسی ناخوشی کا اظہار پیرس میں ایک سکول سے دو مسلمان طالبات کو معطل کرکے کیا گیا۔ سنگاپور میں ایک سکول کی چار مسلمان طالبات کو اس لئے معطل کردیا گیا تھا کہ وہ سکارف پہنتی تھیں۔ یہاں نہ صرف مسلمان طالبات کے سکارف پہننے پر پابندی عائد کی گئی بلکہ وہ خاتون وکیل جو اس مقدمہ میں طالبات کا دفاع کررہی تھیں، ان پر بھی پابندی عائد کردی گئی۔ روس میں خواتین پر زور دیا گیا تھا کہ وہ پاسپورٹ کی تصاویر کے لئے اپنے سکارف اتار دیں۔ ترکی کا قانون بھی اجازت نہیں دیتا کہ خواتین سرکاری عمارتوں یا تقاریب میں سر پر سکارف پہنیں۔ کچھ عرصہ قبل برطانیہ میں ایک سکھ ایسے سرکاری ادارے میں بھرتی ہوا جہاں سر پر ٹوپی پہننا ادارے کی وردی میں شامل تھا لیکن مسئلہ یہ تھا کہ وہ سر پر اپنی روایتی پگڑی پہنتا تھا اور اس کے ساتھ ٹوپی پہننا ممکن نہ تھا۔ لیکن ادارے نے اس کا حل ایسے نکالا کہ اسے چھوٹے سائز کی پگڑی کا مشورہ دیا جس کے ساتھ وہ اپنی ٹوپی پہن سکتا تھا۔ یہ تجویز اسے قابلِ قبول لگی کیونکہ اسے اپنی روایات چھوڑنے پر مجبور نہیں کیا گیا۔یہاں ایسا اس لئے کیا گیا کیونکہ اس کا پگڑی پہننا عملی طور پر ادارے کے اصول و قوانین کی راہ میں حائل تھا۔ لیکن مسلمان خواتین کا معاملہ مختلف ہے۔ کئی مغربی ممالک میں کسی وجہ کے بغیر مسلمان خواتین کو حجاب ترک کرنے پر یہ کہہ کر مجبور کیا جارہا ہے کہ اس طرح وہ مسلمانوں اور دیگر افراد کے درمیان امتیاز ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن کسی کو اس کی مرضی کے خلاف ایک روایت یا اس کی مذہبی ضرورت ترک کرنے پر مجبور کرنا در اصل خود امتیازی سلوک کے زمرے میں آتا ہے۔ سکارف پہننا کسی کی مذہبی ضروریات سے زیادہ ایک سیاسی معاملہ سمجھا جانے لگا ہے۔ حجاب کو مغربی ممالک اسلام میں عورت پر پابندیوں اور ظلم و ستم کی علامت قرار دیتے ہیں یہ سمجھے بغیر کہ کوئی عورت بذاتِ خود اپنی مرضی سے ظلم و ستم کی علامت بننا پسند نہیں کرے گی۔ وہ بھی ایک مغربی ملک میں جہاں اسے ہر طرح کی آزادی حاصل ہے۔دنیا میں ہزاروں خواتین سکارف پہنتی ہیں۔ بلاشبہ کئی کو ایسا کرنے پر مجبور بھی کیا جاتا ہوگا تاہم بے شمار خواتین اپنی مرضی اور خوشی سے سر ڈھکتی ہیں۔اس بات میں بھی کوئی شک نہیں کہ دنیا بھر میں لاکھوں خواتین انسانی حقوق کے مسائل سے دوچار ہیں جن میں سے بیشتر مسلمان ہیں لیکن حجاب کو ان مسائل کی علامت سمجھنا درست نہیں ہے۔ یہ تو مرضی کا معاملہ ہونا چاہئے، خاص طور پر’ آزاد‘ مغربی ممالک میں۔ بظاہر یہ تنازعہ فریقین کے درمیان ایک چھوٹا سا اختلاف معلوم ہوتا ہے تاہم اس کے پیچھے مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے درمیان نظریاتی اختلاف کی عکاسی ہوتی ہے۔دونوں کے درمیان ایک دوسرے کو سمجھنے اور برداشت کرنے کی صلاحیت ختم ہوتی جارہی ہے۔ خاص کر گیارہ ستمبر کے بعد مسلمانوں اور دیگر دنیا کے درمیان فاصلے بڑھ رہے ہیں اور سر ڈھکنے یا نہ ڈھکنے کی بحث بھی شاید اسی کا حصہ ہے۔
فرانسیسی صدر ڑاک شیراک کو تعلیمی اداروں میں ایسے لباسوں کے استعمال پر پابندی لگانے کے مسئلے پر وسیع تر حمایت حاصل ہے جنہیں پہننے سے مذہبی شناخت ہوتی ہو، اگرچہ اس سلسلے میں دوسرے مذاہب کا بھی ذکر ہوتا ہے مثلاً یہودیوں کی مخصوص ٹوپی اور عیسائیوں کی صلیب کا، لیکن سبھی جانتے ہیں کہ اصل معاملہ مسلمان لڑکیوں کے حجاب اوڑھنے کا ہے۔
صحافی کیرولین وائٹ لکھتی ہیں کہ گزشتہ جون کی ایک خوشگوار شام میں جب وہ اپنے ایک دوست کے ساتھ مختلف موضوعات پر باتیں کرتی ہوئی آتے جاتے لوگوں کو دیکھ رہی تو اس کے دوست کے منہ سے اچانک نکلا ’یہ کیا بکواس ہے۔‘ ’میں چونک گئی اور میں نے ایک بار پھر آتے جاتے لوگوں پر نظر ڈالی۔ میں اس علاقے میں قیام پذیر تھی جہاں باہر سے آئے ہوئے سیاحوں اور ہم جنسوں کی اکثریت شام ہوتے ہی سمٹ آتی ہے تا کہ اپنی شام اور پھر رات کو زیادہ سے زیادہ خوشگوار بنا سکیں۔‘’میرے سامنے سے تنگ ٹی شرٹوں اور پتلونوں میں ملبوس دو نوجوان اپنے اعضاءکی نمائش کرتے ہوئے گزر رہے تھے وہ دو چار قدم چل کر رکتے اور پ±ر جذبات انداز میں ہم بوسہ ہوتے اور پھ ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے آگے چل پڑتے۔‘’کیا یہ دو نوجوان؟‘ میں نے ان کی طرف اشارہ کیے بغیر اپنے ادھیڑ عمر ساتھی سے پوچھا، جو ایک اعتدال پسند خیالات رکھنے والا فرانسیسی تاجر ہے۔ میرے لہجے میں حیرت تھی کیونکہ اب فرانس میں اور خاص طور پر اس علاقے میں جہاں ہم بیٹھے تھے اس طرح کی باتوں پر توجہ نہیں دی جاتی تھی۔’نہیں، نہیں، وہ نہیں، وہ ، ان کے پیچھے، وہ دولڑکیاں۔‘ اس نے بھی ان کی طرف اشارہ کیے بغیر کہا۔میں نے بھی ان کی طرف دیکھا لیکن میں کوئی غیر معمولی بات محسوس نہیں کر سکی، سوائے اس کے کہ دو لڑکیاں ہیں جو ایک دوسرے سے گفتگو میں منہمک گزر رہی ہیں۔’وہ دو لڑکیاں، جنہوں نے سر ڈھانپے ہوئے ہیں؟‘ میرے سوال سے بے یقینی صاف عیاں تھی۔’ہاں، وہ حجاب والیاں۔‘ انتونیو نے اس طرح کہا جیسے اس کے منہ میں اچانک کوئی بدمزہ چیز آ گئی ہو’ فرانس میں اس کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔‘میرے لیے انتونیو کی یہ بات حیران کن تھی۔اس کے بعد انتونیو نے آدھے گھنٹے تک مسلسل مجھے یہ سمجھانے کی کوشش کی کہ وہ اور اس کے دوست فرانس میں سر اوڑھنے کے بڑھتے ہوئے رحجان یا حجاب لینے والیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد سے خوفزدہ ہیں۔ انتونیو کا موقف تھا ’عورتوں کے لیے توہین آمیز ہے ہر چند کہ کچھ عورتیں انہیں اپنی مرضی سے بھی پہنتی ہیں۔ لیکن اکثر کے ساتھ زبردستی کی جاتی ہے، ان کے گھر والے اور ان کے علاقے کے امام یہ حجاب ان پر مسلط کر دیتے ہیں اور اس طرح فرانسیسی مسلمان برادری میں شدت پسندی کو رحجان دیا جا رہا ہے۔‘ میں سن رہی تھی اور انتونیو کی خود کلامی جاری تھی’یہ فرانس آنے والے پہلی نسل کے ان مسلمانوں کا مسئلہ نہیں تھا جو ساٹھ اور ستر کی دہائی میں الجزائراور مراکش سےآئے اور جو فرانسیسی معاشرے کا حصہ بننا چاہتے تھے۔’یہ دوسری اور اس تیسری نسل کا مسئلہ ہے جو یہیں پیدا ہوئی ہے اور اب بڑے شہروں کے اندر تنگ و تاریک بڑی عمارتوں یا نواحی علاقوں میں رہتی ہے اور جن میں بقول انتونیو، غیر فرانسیسی پن بڑھ رہا ہے‘ اس کا کہنا تھا کہ وہ فرانسیسی اقدار اور ثقافت کو مسترد کر رہے ہیں اور اپنی شناخت کے لیے مذہبی اقدار اور دوسرے ملکوں کا ہونے کو، یہاں تک کہ تعلیمی اداروں میں حجاب جیسی چیزوں کے استعمال کو بنا رہے ہیں۔’اس حجاب کے ذریعے ان مسلمان لڑکیوں کی شخصیتوں کو کچلا جا رہا ہے اور یہ انتہائی خطرناک رحجان ہے، اس سے کسی کا کوئی بھلا نہیں ہو گا‘ انتونیو کی آخری دلائل تھے۔
کم و بیش یہی دلائل فرانسیسی صدر ڑاک شیراک نے بھی فرانسیسی ایوان صدر میں مذہبی شناختوں کو اجاگر کرنے والے لباسوں اور نشانیوں پر پابندی کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے استعمال کیے ان کے الفاظ اگرچہ اس طرح دو ٹوک نہیں تھے۔انہوں نے برابری، آزادی، تنوع، فرانس کے غیر مذہبی ریاست ہونے کی بات کی تاہم ان کا مطلب بھی ایسے تمام پہناووں پر اسکولوں میں پابندی تھا جن سے طالب علموں اور طالبات کے مذاہب کی سناخت ہوتی ہو۔لیکن ان تمام الفاظ کے باوجود سبھی کو علم تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں اور اس پابندی سے ان کا مطلب ہرگز گلے میں زنجیر سے لٹکی ہوئی چھوٹی سی صلیب یا سر کے چھوٹے سے حصے کو ڈھانپنے والی ننھی سی وہ ٹوپی جو یہودی استعمال کرتے ہیں۔تو یہ کیا ہے؟ کیا نسل پرستی یا یہ کسی ایسی بات کا خوف جو فرانس کے کثیرالثقافتی معاشرے میں بتدریج اپنی جگہ بنا رہی ہے؟میرا دماغ کوئی فیصلہ نہیں کر پاتا کیونکہ میں نے اس سلسلے میں جتنی بھی مسلمان لڑکیوں سے بات کی وہ اس بارے میں انتہائی مختلف خیالات رکھتی ہیں۔
ان میں تیس سالہ سمیرا بلالی بھی ہے جو الجیریا میں پیدا ہونے والی ایک فرانسیسی ہے اور حجاب کی اتنی ہی مخالف ہے جتنا کہ انتونیو۔وہ مسلمان عورتوں کی اس تحریک میں بھی شامل ہے جو اسکولوں میں حجاب لینے پر پابندی کی تحریک چلا رہی ہیں۔ اس کا کہنا ہے کہ لڑکیوں پر حجاب کے لیے دباو¿ ڈالا جاتا ہے۔ ان کے گھر والے اور ان کے علاقوں کے مذہبی لوگ انہیں بتاتے ہیں کہ اگر انہیں خود اپنی ہی عمارتوں میں رونما ہونے والے تشدد کے واقعات سے بچنا ہے تو حجاب اوڑھیں۔بیس سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے سمیرا پر پیرس کے نواح میں دوبار جنسی زیادتی ہو چکی ہے اور اس پر یہ جنسی حملے کرنے والے کوئی اور نہیں مسلمان ہی تھے۔ان واقعات کے بعد اس کے ساتھ پڑھنے والی ایک لڑکی نے اسے بتایا کہ اگر اس نے اپنے بال کھلے چھوڑنے کی بجائے حجاب لیا ہوتا تو شاید اسے نشانہ نہ بنایا جاتا۔سمیرا کا کہنا ہے کہ وہ اس رحجان کے خلاف مہم چلا رہی ہے کہ مرد عورتوں کو بتائیں کہ انہیں کیا پہننا چاہیے اور کیا نہیں۔ اس کے مطابق حجاب اسی رحجان کا نتیجہ ہے۔ وہ صدر ڑاک شیراک کی تقریر سے خوش تھی جب کہ میری ایک ایرانی دوست شیراک کی تقریر پر ہنس رہی تھی۔میری اس ایرانی دوست کا کہنا تھا کہ ’ایران میں مردوں کو یہ جنون ہے کہ وہ عورتوں کو یہ بتائیں کہ وہ کیا کیا پہنیں اور فرانس میں ان کا جنون یہ ہے کہ عورتیں کیا نہ پہنیں۔‘ اس کے بعد میری سترہ سالہ تشیر بن نصر سے ملاقات ہوئی۔ وہ اسکول کی طالبہ ہے اور حجاب کے حق میں انتہائی سرگرم ہے۔اس کا کہنا ہے ’آزادی کی اس سر زمین پر کیسے فرانس میرا یہ حق چھین سکتا ہے کہ میں جو عقائد رکھتی ہوں ان کا اظہار نہ کروں؟ اس کا فیصلہ تو میں کروں گی کہ اپنے بال ڈھانپوں یا نہ ڈھانپوں؟‘ اس بحث نے مجھے الجھا کر رکھ دیا ہے۔ میں کوئی فیصلہ نہیں کر پاتی اور سوچتی ہوں کہ یہ فیصلہ فرانس ہی کو کرنا ہے کہ بطور ایک قوم اس کے مستقبل کے لیے کیا بہتر ہے۔
ایک اور اہم بات یہ ہے کہ ’فرانس چاہے اسے پسند کرے یا نہ کرے، وہ ابھی کثیرالثقافتی ملک بنا ہو یا نہ بنا ہو اب وہ ایک کثیر المذاہب ملک بن چکا ہے اور حجاب کی بحث کچھ اور بتاتی ہو یا نہ بتاتی ہو یہ ضرور منکشف کرتی ہے کہ بطور ایک ملک فرانس تارکین وطن کی ایک بڑی برادری کو اپنی ثقافتی اور تہزیبی روایت میں جذب اور ہم آہنگ کرنے میں ناکام رہا ہے۔اور اس بات کو کیسے فراموش کیا جا سکتا ہے کہ گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد اچانک آنکھیں وہ سب کیوں دیکھنے لگیں ہیں جو انہیں پہلے دکھائی نہیں دیتا تھا۔پچھلے چالیس سال سے فرانس ان تارکینِ وطن اور ان کے خاندانوں کو ان تنگ و تاریک اور بلند و بالا عمارتوں میں دھکیلتا اور فراموش کرتا رہا جہاں وہ افلاس، بے روزگاری، مایوسی اور اپنی تنہائی میں ابلتے رہے۔ اب ان لوگوں کی ایک نئی نسل ہے، ایک پوری نئی نسل، جو اس ابال ہی میں پیدا ہوئی ہے، فرانسیسی ہے اور فرانس کو اسی طرح مسترد کر رہی ہے جیسے فرانس نے اس کے آباءکو مسترد کیا تھا۔ شاید سیاست دانوں نے یہ سوال اٹھانے میں بہت دیر کر دی ہے کہ غلطی کب اور کہاں ہوئی؟ اس پوری نسل کو اب فرانس وہ برابری عملاً کیسے دے سکتا ہے جسے الفاظ میں بڑی آسانی، روانی اور تواتر سے دہرایا جا سکتا ہے۔
فرانس کی کابینہ نے اس قانون کو منظور کر لیا ہے جس کے تحت سرکاری سکولوں میں حجاب سمیت دیگر مذہبی علامات نمائش پر پابندی ہوگی۔کابینہ کا یہ فیصلہ تجویز شدہ قانون پر منگل کو پارلیمان میں ہونے والی بحث سے چند روز پہلے کیا گیا ہے۔ اس مجوزہ قانون کے تحت سرکاری سکولوں میں حجاب کے علاوہ بڑی صلیبیں اور مذہبی علامات پر پابندی ہوگی۔ امکان ہے کہ سکھوں کے سکولوں میں پگڑی پہننے پر بھی یہ پابندی عائد ہو جائے گی۔مجوزہ قانون کے خلاف فرانس اور دنیا بھر میں مسلمانوں نے احتجاج کیا۔فرانس میں پچاس لاکھ مسلمان آباد ہیں۔ ان کی اکثریت اس قانون کو اپنے انسانی اور مذہبی حقوق پر حملہ سمجھتی ہے۔تاہم ملک کی ستّر فی صد آبادی صدر ڑاک شیراک کی اس رائے کی حامی ہے کہ سرکاری سکولوں میں مذہبی علامات پہننے یا لگانے پر پابندی ہونی چاہئے۔تاہم فرانس میں سوشیالسٹ حزب اختلاف نے اس تجویز کو مبہم اور گمراہ کن قرار دیا تھا۔
ایک سابق وزیر تعلیم کا کہنا تھا کہ وہ اس قانون کی مخالفت کریں گے کیونکہ اس سے شدت پسند مسلمانوں کو مغرب کی مخالفت کا ایک سنہرہ موقعہ ہاتھ آجائے گا۔فرانس میں حجاب پہننے کا قانون جمعرات سے لاگو ہونے کے بعد اگرچہ اس کے حق اور مخالفت میں دلائل سامنے آ رہے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایسی اطلاع نہیں ملی کہ بہت زیادہ تعداد میں لڑکیوں نے قانون کی خلاف ورزی کی ہو۔اب تک ستر ایسے واقعات کا پتہ چلا ہے جن میں لڑکیوں نے حجاب کے قانون کو ماننے سے انکار کیا لیکن یہ تعداد حکام کی توقعات سے بہت کم ہے۔ عراق میں دو فرانسیسیوں کو موت کی دھمکیان ملنے کے بعد فرانس میں مسلمانوں نے بھی یرغمالیوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ فرانس کے ٹیلی وڑن پر جمعرات کی شام یہ خبر بھی نشر کی گئی کہ مسلمانوں کے رویے سے یرغمال بنائے جانے والوں کو فائدہ پہنچے گا۔فرانس کا وہ قانون جس کے تحت حجاب اور دیگر مذہبی علامتوں پر سکولوں میں پابندی عائد کردی گئی ہے، جمعرات سے لاگو ہوگیا۔
جمعرات کو سکولوں میں تعلیمی سیشن کے آغاز کا پہلا دن تھا۔اس قانون کی وجہ سے بارہ ملین سکول جانے والے بچے متاثر ہونگے اور نامہ نگاروں کے مطابق کچھ طالب علم سیاسی وجوہات سے اس قانون کی جان بوجھ کر خلاف ورزی بھی کرسکتے ہیں۔اس قانون کی وجہ سے دنیا کی نظر عراق میں یرغمال بنائے جانیوالے دو فرانسیسی صحافیوں پر ہوگی جن کے اغواکاروں نے ان کی رہائی کے لیے اس قانون کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔فرانس کی حکومت نے اغواکاروں کے مطالبے کو ماننے سے انکار کردیا ہے اور اغواکاروں نے دونوں صحافیوں کے قتل کی دھمکی دی ہے۔ تاہم فرانسیسی قائدان کی رہائی کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔نئے فرانسیسی قانون کے تحت مسلم لڑکیاں سکولوں میں حجاب نہیں پہن سکیں گی، یہودی بچے مذہبی ٹوپی یعنی کِپا نہیں پہن سکیں گے، اور نہ ہی سکھ مذہب کے ماننے والے طالب علم پگڑی۔
عرب لیگ نے کہا ہے کہ عراق میں ان کے رابطہ کاروں کو یقین ہے کہ اغواکاروں نے قانون کے خاتمے کے لیے اپنی ڈیڈلائن بڑھا دی ہے جو آغاز میں پیر تھی۔ تین فرانسیسی مسلم رہنما بغداد پہنچے ہیں جو یرغمالیوں کی رہائی کی کوشش کرینگے۔منگل کے روز عراق میں سنی مسلمانوں کی تنظیم ’کمیٹی آف علمائ‘ نے کہا تھا کہ وہ اغواکاروں سے رابطہ قائم کرنے میں ناکام رہی ہے۔ عراق میں الجیش اسلامی نامی ایک تنظیم نے دونوں فرانسیسی صحافیوں جارج میلبرنو اور کریسچین چیزناو کا اغوا کیا ہے۔فرانس میں کام کرنے والی ’فرنچ کونسل آف مسلم فیتھ‘ کے نمائندے دلیل ابوبکر نے کہا ہے کہ فرانسیسی صحافیوں کا اغوا بلیک میل کرنے کی مکروہ سازش ہے اور فرانس میں بسنے والے مسلمان اس کی حمایت نہیں کرتے۔دلیل ابوبکر نے کہا کہ وہ صحافیوں کے اغوا پر مایوس ہوئے ہیں لیکن وہ یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ فرانسیسی مسلمان اس کارروائی کی حمایت نہیں کرتے۔
انسانی حقوق کے لیے یورپی عدالت نے ترکی کی یونیورسٹیوں میں اسلامی طریقے سے سر ڈھانپنے پر لگائی جانے والی پابندی کی تائید کی ہے۔عدالت نے ایک خاتون کی جانب سے اسلامی طریق? حجاب پر اس پابندی کے خلاف کی جانے والی یہ اپیل مسترد کر دی کہ اس پابندی سے اس کا تعلیم حاصل کرنے کا حق متاثر ہوتا ہے اور وہ امتیاز کا نشانہ بنتی ہے۔لیلیٰ ساہن نے یہ اپیل 1998 میں سکارف لینے کی بنا پر کلاس سے نکالے جانے کے بعد کی تھی۔ وہ استنبول یونیورسٹی کی طالبہ تھیں۔ لیکن عدالت نےاس بارے میں اپنی رولنگ میں کہا ہے کہ سکارف لینے پر لگائی جانے والی پابندی بجا ہے کیونکہ یہ امن اور کسی ایک مذہب کو ترجیح دینے سے بچنے کیلیے نا گزیر ہے۔
ترکی اگرچہ مسلم اکثریت کا ملک ہے لیکن سرکاری طور پر سیکولر ہے اور اس کی تمام یونیورسٹیوں اور سرکاری عمارتوں میں سکارف لینے پر پابندی ہے۔ اس فیصلے کے دور رس اثرات ہونگے اور اس کا ترکی کی ان ایک ہزار سے زائد خواتین پر بھی اثر پڑے گا جنہوں نے اس طرح کی درخواستیں دائر کی ہوئی ہیں۔
سابق برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا کی طرف سے مسلمان عورتوں کے چہرے کو نقاب سے چھپانے پر تبصرے پر ملا جلا ردعمل سامنے آ رہا ہے۔برطانیہ میں بسنے والی بہت سی مسلمان خواتین نے جیک اسٹرا کے تبصرے پر غم اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ کچھ برطانوی سیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے اس پر اعتراض کیا ہے جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ اس طرح کے حساس معاملات پر بات کی جانی چاہیے۔لیبر پارٹی کے چیئرمین ہیزل بلی آئیر نے جیک اسٹرا کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیک اسٹرا کا یہ کہنا درست ہے کہ اس طرح کے معاملات کوصرف یہ کہہ کر چھوڑ دینا کافی نہیں کہ یہ حساس نوعیت کہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حساس نوعیت کے معاملات پر احتیاط کے ساتھ بات ہونی چاہیے۔ڈیوزبری کے علاقے سے لیبر پارٹی کے نمائندے شاہد ملک نے کہا کہ ہمیں کسی کی دیانت دارنہ رائے کو یکسر رد نہیں کر دینا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ جس حلقے سے ان کا تعلق ہے وہاں انتہاہ پسند بی این پی کے سب سے زیادہ ووٹ ہیں اور وہاں مسلمان اور غیر مسلمانوں میں شدید تفریق ہے۔انہوں نے کہا کہ معاشرے میں پائے جانے والے تنوع پر ہم خوش ہوتے ہیں لیکن اس طرح کے تضادات آسانی سے ہضم نہیں ہو سکتے۔ مسلم پبلک افیر کمیٹی کی حلیمہ حسین نے کہا ایک ریڈیو انٹرویو میں کہا کہ جیک اسٹرا کا تبصرہ مضحکہ خیز ہے۔ انہوں نے کہا کہ جیک اسٹرا کو اس طرح کے معاملات پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں یہ مسلمانوں کا معاملہ ہے۔مشرقی لندن کے علاقے وال تھم فارسٹ کے علاقے کی ایک باپردہ نوجوان مسلمان خاتون سائمہ راجہ نے کہا کہ جیک اسٹرا کےاس تبصرے پر وہ تشویش کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ معلوم نہیں کہ اس طرح کی باتیں کہاں جا کر رکیں گی۔
حجاب کا دفاع کرنے والی تنظیم کی ایک رکن راجنارا اختر نے اس پر اپنے رد عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ جیک اسٹرا کا تبصرے قابل تضہیک ہے۔انہوں نے کہا جیک اسٹرا کے تبصرے سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس مذہبی تقاضے کو بالکل نہیں سمجھتے۔انہوں نے کہا کہ جیک اسٹرا ایک حکومتی اہلکار ہیں اور انہیں یہ زیب نہیں دیتا کہ کہ وہ لوگوں کو ان کے لباس کے بارے میں مشورے دیں۔
برطانیہ کے نائب وزیرِ اعظم جان پریسکاٹ نے مسلم خواتین کے نقاب پہننے کے حق کا دفاع کیا ہے۔جمعرات کو برطانیہ کے ہاو¿س آف کامنز کے لیڈر اور سابق خارجہ سیکرٹری جیک سٹرا نے یہ کہا تھا کہ انہیں اپنے حلقے کی ان مسلم خواتین سے بات کرتے ہوئے دشواری ہوتی ہے جو نقاب پہن کر ان کے دفتر آتی ہیں۔ اسی لئے وہ نقاب پوش خواتین سے، نقاب ہٹانے کی درخواست کرتے ہیں۔نائب وزیرِ اعظم جان پریسکاٹ نے کہا ہے کہ وہ نقاب پوش خاتون سے نقاب ہٹانے کا نہیں کہہ سکتے۔ انہوں نے مزید کہا ’اگرایک خاتون نقاب پہننا چاہتی ہے تو اسے کیوں نہیں پہننا چاہیئے؟ یہ اس کا اپنا انتخاب ہے۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے ساتھی جیک سٹرا سے بہتر، اس مباحثے کا آغاز کوئی نہیں کر سکتا تھا کیونکہ ان کے حلقے، بلیک برن میں مسلمانوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔جان پریسکاٹ کے بقول وہ سابق خارجہ سیکرٹری کی طرف سے اٹھائے گئے علیحدگی کے مسئلے کو بخوبی سمجھتے ہیں۔ لیکن انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’میں علیحدگی کے موضوع پر زور ڈالنے سے اس لیئے ڈرتا ہوں کہ اس سے عوام میں خوف پھیلے گا۔‘انہوں نے کہا کہ ’ نقاب ایک ثقافتی فرق ہے اور اگر میرے حلقے میں کوئی پگڑی پہن کر یا پھر گہرے سیاہ چشمے لگا کر آئے گا تو میں اسے اتارنے کا نہیں کہوں گا۔‘’میرے خیال میں تو آپ ان سے پھر بھی بات کر سکتے ہیں۔‘سنڈے مرر اخبار میں ایک تحریر میں انہوں نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مسلموں کی سوچ سے باخبر رہیں۔فِل وولس نے کہا ’اس بات کا تعین کرنا مشکل ہو سکتا ہے، آیا کہ خواتین اپنے مذہبی عقائد کی بنائ پر نقاب پہنتی ہیں یا پھر انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔‘’ برطانیہ میں پیدا ہونے والی مسلم خواتین کی اکثریت، اپنی مذہبی پہچان کے لیئے سے نقاب پہنتی ہیں۔ اس سے غیر مسلموں میں خوف اور تضحیک کی فضا پھیل سکتی ہے اور نسلی امتیاز کو فروغ مل سکتا ہے۔‘برطانوی وزیر فِل وولس نے مزید کہا کہ ’ایسی صورتحال میں مسلمان اپنی روایات کا دفاع کرتے ہیں اور پھر معاشرے میں برائی در برائی کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے، جس سے محض بی این پی جیسی نسل پرست جماعتوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔‘چند مسلم خواتین نے جیک سٹرا کے بیان کو ہتک آمیز قرار دیا تھا جبکہ بیشتر مسلمانوں نے کہا تھا کہ وہ جیک سٹرا کی تشویش کو سمجھ سکتے ہیں۔دریں اثناءچرچ آف انگلینڈ کی طرف سے ایک دستاویز کے ذریعے حکومت کو متنبہ کیا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے مختلف عقائد کی اقلیتوں کا کردار بڑھانے کی کوششوں سے برطانوی معاشرہ پہلے سے کہیں زیادہ تفریق کا شکار ہو گیا ہے۔لِیک ہو کر سنڈے ٹیلی گراف اخبار میں چھپنے والی یہ دستاویز آرچ بِشپ آف کینٹر بری کے مشیر کی جانب سے لکھی گئی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ سات جولائی دو ہزار پانچ کے بم دھماکوں کے بعد سے، برطانیہ میں مسلمانوں کے ساتھ الگ سلوک کیا جا رہا ہے۔

اسلام میں چونکہ عورت کو مغربی معاشرے کی نسبت ایک بلند مقام حاصل ہے لہذا اسکی حفاظت کی بھی خاص تاکید ہے اس کے شرم وحیا اور عزت کو دوسروں سے محفوظ رکھنے کی ہدایت ہے۔عیسایت میں چونکہ عورت کو گناہ کی علامت سمجھا جاتا ہے لہذا وہاں کے معاشرے میں آج بھی عورت گناہ کی علامت سمجھی جاتی ہے اور اسے صرف اور صرف مردوں کی آسائش سمجھا جاتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ مغربی معاشرے میں مرد حضرات تو مکمل لباس پہنتے ہیں جبکہ عورتوں کو آدھا ننگا رکھا جاتاجبکہ مخصوص مقامات ہوٹل ،کلب وغیرہ میں بالکل ننگا رکھا جاتا ہے۔چنانچہ ایسے میں جب یورپ میں کوئی مسلمان یا کوئی بھی عورت مکمل لباس میں باہر نکلتی ہے تو وہاں کا مردوں کا معاشرہ اسے اچھا نہیں سمجھتا۔آجکل حجاب کے بارے میں یورپ میں جتنی بھی مخالفت ہورہی ہے ان میں مرد سب سے آگے ہیں ۔

خواتین کا حجاب” پر 2 خیالات

  1. پنگ بیک: دنیا کی کہانی میری زبانی

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s