مدرز ڈے


منصور مہدی
آج میں بہت ذہنی خلفشار میں مبتلا ہوں۔ساری رات نیند ہی نہیں آئی۔میری ایڈیٹر نے مجھے ماﺅں کے عالمی دن” مدرز ڈے”کے حوالے سے سٹوری لکھنے کا ٹاسک دیا ہوا ہے۔ ماﺅں کا عالمی دن ہر سال مئی کی دوسری اتوار کو آتا ہے۔ جس روز مجھے یہ مضمون ملا اسی دن میں نے ماﺅں کے حوالے سے مختلف مضامین، مفکرین کے اقوال زریں، اسلام اور دیگر مذاہب میں ماں کے بارے فرمائے گئے ارشادات، شاعروں، افسانہ نگاروں اور لکھاریوں کی تحریریں سب پڑھیں ۔
ہر کسی نے ماں کے لئے عقیدت، شکرگزاری اور محبت کے جذبات کا اظہار کیا۔ہر جگہ یہی لکھا ہے کہ ماں وہ تحفہ ہے جو صرف ایک بار ہی ملتا ہے۔ہر مضمون میںماں کے رشتے کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔ ہر مذہب ،ملکوں اور قوموں میں بہت سے اختلافات کے باوجود ماں کی محبت اور ماں کا احترام ہر جگہ یکساں ملا۔ماں کے حوالے سے یہ بھی پڑھنے کو ملا کہ ماں کی عظمت کا ایک گوشہ یہ بھی ہے کہ ماں کی محبت سورج اور ہوا کی طرح غیر مشروط ہوتی ہے۔ جیسے سورج اپنی روشنی دیتے ہوئے یہ نہیں دیکھتا کہ کون اچھا ہے یا برا ہے؟ اسی طرح ہوا نیک و بد سب کے لیے چلتی ہے۔ درخت کی چھاﺅں میں کوئی بھی بیٹھا ہو درخت اسے چھاﺅں ہی دے گا۔ اسی طرح ماں کی محبت بھی اپنی اصل میں ایسی ہی خوبیاں رکھتی ہے۔
ایک مضمون میں درج تھا کہ اگر پوچھا جائے کہ ماں کی محبت غیر مشروط کیوں ہوتی ہے؟ تو اس کا سیدھا سادا جواب یہ ہے کہ ماں کی محبت اپنی ”فراوانی“ کی وجہ سے غیر مشروط ہوتی ہے۔ یہی فراوانی کالے بچے کو ماں کے لیے دنیا کا حسین ترین بچہ بناتی ہے۔ یہی فراوانی پیدا ہونے معذور بچے کو اپنا مستقبل کا اثاثہ قرار دیتی ہے۔ یہی فراوانی ایک ماں کو اس قابل بناتی ہے کہ وہ بچوں سے پہنچنے والی تکالیف کو ایک لمحے میں فراموش کر دیتی ہے۔ماں کی فطرت میں محبت کی فراوانی ہی دراصل ماں کی سب سے بڑی کمزوری بن جاتی ہے۔
ماں کی محبت کے ایک اور پہلو کے حوالے یہ لکھا گیاہے کہ ماں کی شخصیت ایثار و قربانی کی علامت ہے۔ ماں اپنے بچوں کے لیے اپنی نیند قربان کرتی ہے، آرام قربان کرتی ہے، اپنی خوشیاں قربان کرتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ماں ہونے کا مطلب ایک ایسے مستقل عمل میں داخل ہونا ہے جو ماں بننے سے شروع ہوتا ہے اور جس کی انتہا موت پر ہوتی ہے۔ ماں کی عظمت اس امر سے بھی واضح ہے کہ وہ ایک نئی زندگی تخلیق کرنے کے لیے ہر بار اپنی زندگی کو داﺅ پر لگاتی ہے۔
جب مفکرین کے اقوال پڑھنے شروع کیے تو ماں کے حوالے سے ایک سے بڑھ کر ایک نئی بات پڑھنے کو ملی۔دنیا کے سب سے بڑے دانشور حضور کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جنت ماں کے قدموں تلے ہے ۔ماں کی عظمت کا اندازہ لگائیں کہ جتنے بھی الہامی مذاہب آئے ہیں ان کے ماننے والوں کی آخری منزل جنت کا حصول ہی رہی ہے اور وہ اس کے لیے کیا کیا جتن نہیں کرتے ،ساری ساری رات عبادت، تمام دولت اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، حتیٰ کہ جنت لینے کے لیے جان دینے سے بھی دریغ نہیں کرتے تھے کہ کسی طرح جنت کا حصول ہو جائے۔ لیکن اسلام نے جنت کے حصول کا کتنا اچھا اور سستا طریقہ فراہم کر دیا ہے۔کہ جنت تمہاری ماں کے قدموں تلے ہے۔
شیخ سعدی کا کہنا ہے کہ جو جنت کا طالب ہو اسے چاہیے کہ ماں کی خدمت کرے۔ حکیم افلاطون کہتے ہیں کہ اس کائنات میں ماں وہ واحد ہستی ہے جس کی دعا اپنے بچوں کے حق میں جلد قبول ہوتی ہے۔ معروف مفکر خلیل جبران کا کہنا ہے کہ دنیا میں ماں سے زیادہ کوئی ہمدرد ہستی نہیں۔مغل بادشاہ بابر کہتا ہے کہ ماں کے بغیر گھر قبرستان کی طرح لگتا ہے۔نپولین بونا پارٹ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ماں کی محبت دکھاوے کی نہیں ہوتی۔
معروف مفکر بائرن کا کہنا ہے کہ جس کے دل میں ماں کے لیے محبت ہو وہ زندگی کے کسی موڑ پر شکست نہیں کھاتا۔علم ریاضی کے ماہر فیثا غورث کا کہنا ہے کہ ماں کو ستانا دنیا کا سب سے بڑا گناہ ہے۔گوئٹے کا کہنا ہے کہ سب سے مفلس شخص وہ ہے جس کی ماں حیات نہیں۔
برنارڈ شا کا قول ہے کہ جو ماں کی خدمت محبت سے کرے اسے یقین کرلینا چاہیے کہ اس کے سر پر ہر وقت ماں کی دعاﺅں کا سایہ موجود رہتا ہے۔کارلائل کا کہنا ہے کہ کتنا بدقسمت ہے وہ جو ماں کے ہوتے ہوئے اس کی محبت نہ حاصل کرسکے۔
شاعر مشرق علامہ اقبال کا ماں کی شان کے حوالے سے کہنا ہے کہ جس کی ماں نہ ہو اور فوت ہو جائے تو اپنی والدہ کی یاد میں بہائے جانے والے آنسوﺅں سے دل کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے، سارے دکھ درد اور زندگی کی آلائشیں آنسوﺅں میں تحلیل ہو کر آنکھوں کے راستے خارج ہوجاتی ہےں اور وہ شخص ہلکا پھلکا اور معصوم بچے کی مانند ہوجاتا ہے ۔
ماں کے حوالے سے سقراط کا کہنا ہے کہ اگر ایک پلڑے میں ساری دنیا رکھی جائے اور دوسرے میں ماں کی محبت تو ماں کی محبت والا پلڑا جھک جائے گا۔ ابراہام لنکن کا کہنا ہے کہ میری ماں کی دعاﺅں نے تمام عمر مجھے مضبوطی عطا کی۔ راج نیش کا کہنا ہے کہ ایک بچے کی ولادت کے ساتھ ہی ماں کی ولادت ہوتی ہے اگرچہ وہ پہلے ایک عورت ہوتی ہے۔ آسکر وائلڈ کا کہنا ہے کہ دنیا کی تمام عورتیں اپنی ماﺅں جیسی ہوتی ہیں مگر کوئی بھی مرد ماں جیسا نہیں ہوتا۔
ایک مضمون میں تو لکھاری نے ماں کی عظمت کے حوالے سے انتہا کر دی ۔ کہ ایک ماں سے کسی نے پوچھا کہ اگر آپ کے قدموں سے جنت واپس لے لی جائے اور کہا جائے کہ اپنے اللہ سے اس کے بدلے کچھ اور مانگ لو تو آپ کیا مانگو گی؟ ماں نے بہت خوبصورت جواب دیا کہ میں اپنی اولاد کا نصیب اپنے ہاتھ سے لکھنے کا حق مانگوں گی ۔
میرے ذہنی خلفشار کی وجہ اصل میں یہی مضمون اور آئے دن اخبارات کی وہ خبریں ہیں کہ جو ایک طرف ایک ماں جنت کے بدلے اپنی اولاد کا نصیب اپنے ہاتھ سے لکھنے کا حق مانگ رہی ہے تو دوسری طرف ایسی سینکڑوں مائیں ہیں کہ جو اپنے ننھے اور معصوم بچوں کو کتوں ، بلیوں، چیلوں اور گدھوں کی خوراک بننے کے لیے سڑکوں ، گٹروں، ندی نالوں اور کچرا دانوں میں پھینک جاتی ہیں۔ ایسی مائیں بھی ہیں کہ جو اپنے معصوم بچوں کو بے یارو مدگار چھوڑ کر اپنے چاہنے والے کے ساتھ بھاگ جاتی ہیں۔ یہ بھی مائیں ہیں؟ ان کے قدموں تلے بھی جنت ہے۔ لیکن شاید یہ وہی مائیں کہ جنہوں نے اپنی اولاد کا نصیب خود سے لکھنے کا حق حاصل کیا ہوا ہے اور وہ اپنے اس حق کو استعمال کرتے ہوئے اپنے بچوں کو سڑکوں پر رلنے کے لیے چھوڑ دیتی ہیں۔ ان کی بچیوں کو قحبہ خانے والے اپنا لیتے ہیں اور بچوں کو بھکاریوں کی مافیا لے اڑتی ہے ۔
اب پاکستان کا شمار بھی ایسے ممالک میں ہونے لگا ہے کہ جہاں بے یارومدگار بچوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ان کے والدین ان کی پرورش کرنے کی بجائے ان کو سڑکوں پر پھینک دیتے ہیں۔ پاکستان میں کوئی دن ایسا نہیں جاتا کہ جب 3سے 4بچوں کو مرنے کیلئے کوڑے دانوں، کھلے میدانوں اور ندی نالوں میں نہیںپھینک دیا جاتا لیکن زندہ بچ جانے والے بچوں کی تعداد ان کے علاوہ ہے۔
ایدھی فاو¿نڈیشن کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ برس1100 سے زائد نومولود بچوں کو یا تو قتل کر دیا گیا یا پھر انہیں کوڑے کرکٹ کے ڈھیروں پر پھینک دیا گیا۔ ان ہلاک ہونے والے بچوں میں زیادہ تر نومولود بچیاںں تھیں۔ ایدھی فاو¿نڈیشن کے مطابق یہ اعداد و شمار صرف پاکستان کے اہم شہروں سے جمع کیے گئے ہیں۔ حالانکہ دیہی علاقوں میں اس سے بھی زیادہ ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں، جن کے بارے میں معلومات حاصل کرنا بہت مشکل ہے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ روزانہ 20سے زائد بچوں کے والدین غربت اور افلاس کے ہاتھوں تنگ آکر اپنے بچوں کو چھوڑ رہے ہیں۔ جن میں سے 5سے7بچے ایسے ہوتے ہیں کہ جن کی مائیں انھیں چھوڑ کر اپنے چاہنے والوں کے ساتھ بھاگ جاتی ہیں۔
ایدھی فاو¿نڈیشن کے سیکرٹری انور کاظمی کا کہنا ہے کہ تنظیم کے مردہ خانوں میں ہر روزدرجنوں ایسے نومولود بچوں کو غسل دیا جاتا ہے جو پاکستان کے بڑے شہروں میں کوڑے دانوں یا دیگر مقامات سے مردہ حالت میں ملتے ہیں۔ ان میں بیشتر لڑکیاں ہوتی ہیں ۔انوار کاظمی کا کہنا ہے کہ اب تک ان کی تنظیم 20 ہزار سے زائد ایسے بچوں کو بے اولاد جوڑوں کو دے چکے ہیں۔
سوسائٹی فار دی پروٹیکشن آف دی رائٹس آف دی چائلڈپاکستان کا کہنا ہے کہ یہ بچے ضروری نہیں کہ شادی کیے بغیر ہی پیدا ہوئے ہوں بلکہ ان میں سے اکثر بچیوں کے ماں باپ کا تعلق قانونی اور مذہبی طور پر درست ہوتا ہے لیکن معاشی اور روایتی قدروں کے باعث وہ لڑکیوں کو نہیں اپناتے۔وہ بچیوں کو بوجھ سمجھتے ہیں اور بچپن میں ہی ان سے جان چھڑانے کی کوشش کی جاتی ہے۔
کراچی کے ریڈ لائٹ ایریاکی ایک خاتون کا کہنا ہے کہ بہت سی ایسی بچیاں ہمیں ملتی ہیں لیکن ہم ان میں سے چ±ن چ±ن کر اپنے پاس رکھ لیتے ہیں۔ اور باقی بھکاریوں کے حوالے کردی جاتی ہیں۔
کیا یہ بچیاں بن ماﺅں کے پیدا ہوئی؟ آخر ان ماﺅں کی محبت کیا ہوئی؟ ان کی ممتا ایسے فیصلے کرتے وقت کہاں چلی جاتی ہیں؟ان ماﺅں کے اندر بچوں کے لیے ایثار و قربانی کے جذبے کدھر سو جاتے ہیں؟ان ماﺅں کو آخر کیا ہوا ہے؟
کیا ماﺅں کی عظمت کے حوالے سے جو مضامین لکھے جا چکے ہیں کیا وہ پرانے زمانے کی ماﺅں کے لیے ہیں یا آج کی ماں کے لیے بھی ہیں۔ کیا ایسا تو نہیں ہے کہ جہاں اب پیار ،محبت ،خلوص،مروت ،ایثار اور قربانی کے جذبات رکھنے والا انسان وقت کے سفر کے ساتھ خود غرضی ،منافقت ،فریب اوردھوکہ دینے والی مشین کاایک ایسا کل پرزہ بن گیا کہ جس کے نزدیک اخلاقیات ،قانون ،اصول اور ضابطے اب کوئی اہمیت نہیں رہے کیا وہاں پر اب مائیں بھی ایسی ہو گئی ہیں کہ جو اپنے بچوں اپنے ہاتھ سے نصیب میںکچرادان لکھ کر انھیںپھینک دیتی ہیں۔ آخر آج کی ماﺅں کو کیا ہو گیا؟
ہے دل کیلئے موت مشینوں کی حکومت ،  احساس مروت کو کچل دیتے ہے الات

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s