جوڑے آسمان پر


شادی کے رسم و رواج کی اہمیت اور سچائی اپنی جگہ مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ ان سے شادی کے لمحات یادگار بن جاتے ہیں

منصور مہدی
شادی ایک ایسا بندھن ہے جس کی بنیاد پر خاندان پھلتے پھولتے ہیں۔ اگرچہ مسلم شادی میں نکاح، رخصتی اور ولیمہ بنیادی عوامل ہیں۔ لیکن شادی کے موقع پر ہر خاندان اپنے اپنے رواج کے مطابق مختلف رسومات ادا کرتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان رسموں کے انداز بھی بدلتے رہتے ہیں مگر اہمیت کسی بھی دور میں کم نہیں ہوتی۔
شادی کی تاریخ مقررکرتے ہوئے شگون و بدشگون کا خیال رکھا جاتا ہے اور خاص تاریخوں کو اہمیت دی جاتی ہے ۔جیسا کہ ہمارے ہاں محرم میں عموماً شادیاں نہیں کی جاتیں۔ زیادہ تر شعبان، شوال، ذیقعد اور ذالحج کے مہینوں میں شادیاں کرنے کو فوقیت دی جاتی ہے ۔ جبکہ شادی کی تاریخ مقرر کرتے ہوئے موسم کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔ سخت سردی اور سخت گرمی کے موسم میں بھی شادی کی تاریخ مقرر کرنے سے اجتناب کیا جاتا ہے اور کوشش کی جاتی ہے کہ شادی درمیانے موسم میں ہو تاکہ فنکشن کےلیے ملبوسات اور بناﺅ سنگار پر موسم کی شدت اثر انداز نہ ہو۔
شادی کی رسومات:
ہمارے ہاں شادی بیاہ کے حوالے سے تقریبآ ہر خاندان اور ہر قوم کی اپنی اپنی رسمیں ہیں۔نکاح اور ولیمہ کے علاوہ بیشتر رسومات کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں مگر ان کی ادائیگی مذہبی سنجیدگی کی طرح ہی کی جاتی ہے اور کسی بھی رسم کے چھوٹ جانے کو بد شگونی سمجھا جاتا ہے۔ان رسومات میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
ڈھولک بجانا :
ڈھولک بجانا ایک عام رسم ہے جو بلا امیتاز غریب و امیر سب کے ہاں ہوتی ہے۔ شادی سے کئی روز قبل ہی گھر کی خواتین خصوصاً بچیاں ڈھولک بجانا شروع کر دیتی ہیں اور ہر رات شادی سے متعلق گیت گاتی ہیں ۔
مائیوں بٹھانا:
لڑکی کی شادی کی ایک رسم مائیوں بٹھانا ہے ۔ جس کے لیے ایک دن مقرر کیا جاتا ہے اور لڑکی کی سہیلیاں اور دیگر عزیز اقارب ہوتے ہیں اور لڑکی کو ابٹن لگایا جاتا ہے۔ مائیوں کی رسم کا مذہب اسلام میں تو کوئی سراغ نہیں ملتا البتہ ہندووں کی روایت ہے کہ جب شیوا کی پاروتی سے شادی طے ہوئی تو اس وقت کے ویدوں کے کہنے پر پاروتی کی ماںنے اسے ابٹن سے غسل دیا۔ ابٹن ایک مادہ ہے جو ہلدی سے تیار کیا جاتا ہے۔ جس کے بارے میں آج کی یونانی طب کہتی ہے کہ اس سے رنگت اجلی ہوجاتی ہے۔ویسے بھی پاروتی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کا رنگ سانولا تھا۔
مہندی لگانایا تیل کی رسم:
مہندی لگانا بھی شادی کی ایک اہم رسم ہے جو علیحدہ علیحدہ بھی ادا کی جاتی ہے جبکہ آجکل دونوں گھرانے مل کر بھی یہ رسم ادا کرتے ہیں اور اخراجات بھی مل کر کرتے ہیں۔اس موقع پر ہرے اور پیلے رنگ کے لباس سلوائے جاتے ہیں جب کہ لڑکی کے لیے بھی پھولوں کا زیور تیار کیا جاتا ہے۔اس رسم کا بھی مذہب اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ کہا جاتا ہے کہ جب شیوا جی کی بھوانی دیوی سے شادی طے ہوئی تو انھیں دیگر دیویوں نے مہندی لگائی تھی۔
گھڑولی کی رسم
بعض گھرانوں میں مہندی کی رسم کو گڑھولی کی رسم کہا جاتا ہے۔ یہ رسم دولھا کے گھر ادا کی جاتی ہے اس میں دولھا کی بہنیں شریک ہوتی ہیں۔ ایک گھڑولی کو خوبصورتی سے سجایا جاتا ہے۔ اور اسکو کسی دوسرے عزیز یا محلہ کے گھر سے ہجوم کی صور ت میں اکھٹی ہو کر اٹھا کر لاتی ہیں ،گڑھولی عام طور پر باری باری دلھا کی بہنیں اور کزن اٹھاتی ہیں۔ اور باقی عورتیں گیت گاتی ہیں۔ ڈھولک بجاتی ہیں اور گانے گاتی ہوئی د ولھا کے گھر آتی ہیں۔
دودھ پلائی:
برات والے دن نکاح کے بعد دودھ پلائی کی رسم ہوتی ہے جس میں دولہن کی بہنیں اور دیگر کزن ایک سجے ہوئے گلاس میں دودھ لیکر آتی ہیں اور دولہا میاں کو پیش کرتی ہیںاور دولہاسے روپے دینے کامطالبہ کرتی ہیں۔
جوتا چھپائی:
برات والے دن ہی جب دولہا دلہن کے گھر جاتا ہے تو یہ رسم ادا کی جاتی ہے۔ دولھا کی سالیاں اسکا جوتا چھپاتی ہیں اور واپسی کے مطالبے پر اس سے رقم طلب کرتی ہیں یہ بڑی دلچسپ رسم ہے اور مقبول عام ہے۔ اسی طرح بعض گھرانوں میں شیشہ دکھائی کی رسم بھی ہوتی ہے جس میں دولہا اور دلہن شیشے میں ایک دوسرے کو دیکھتے ہیں۔
رخصتی کی رسمیں:
رخصتی کے وقت دلہن کو قرآن پاک کے سائے میں الوداع کیا جاتا ہے جس میںیہ تصور پایا جاتا ہے کہ اس سے اس کی آنے والی زندگی خوشگوار اور بابرکت گزرے گی ۔
دہلیز پرتیلڈالنے کی رسم:
جب دلہن اپنے سسرال پہنچتی ہے تو دولہا اور دلہن گھر میں داخل ہونے سے پہلے روک لیا جاتا ہے۔ پہلے تیل کو سر پر سے وارا جاتا ہے اور پھر وہ تیل دروازے کے دونوں کونوں میں ڈالا جاتا ہے۔اس سے یہ شگون لیا جاتا ہے کہ دلہن کے قدم خیر وبر کت کا سبب بنیں۔
انگوٹھی تلاش کرنا:
لڑکے کے گھر آنے کے بعد یہاں پھر مختلف رسمیں ادا کی جاتی ہیں ان میں کچھ بہت دلچسپ ہوتی ہیں۔ جیسے پانی کے برتن میں کوئی انگوٹھی پھینک کر دونوں اسے تلاش کرتے ہیں اور دوران تلاش لڑکا لڑکی کا بار بار ہاتھ پکڑ لیتا ہے جس پر دیگر گھر والے خوب تالیاں بجاتے ہیں اور خوشی کا اظہار کرتے ہیں۔
کھیر کھلائی:
پھر ایک رسم کھیر کھلائی کی ہوتی ہے جس میں دولہا لڑکی کو کھیر کھلاتا ہے اور دولہن لڑکے کو۔ اس رسم کی بھی مختلف صورتیں ہیں۔ جس میں دولہا دلہن ایک دوسرے کو کھیر کہلاتے ہیں۔
پھر اگلے دن ولیمہ کی رسم ادا کی جاتی ہے جس میں پھر ایک بار دونوں گھرانوں کے عزیز واقارب جمع ہوتے ہیں ۔ اس موقع پر شاندار کھانے تیار کیے جاتے ہیں۔ شادی کے وقت نکاح اور ولیمہ ایسی رسم ہے جس کو سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
ولیمہ کے اگلے روز مکلاوا کی رسم ہوتی ہے جو لڑکی والوں کے گھر ادا کی جاتی ہے جس میں لڑکے والے بن سنور کر دولہن کو لینے اس کے گھر جاتے ہیں۔
ہمارے ہاں شادی کی ان رسومات پر ہندو تہذیب و عقائد کے بہت اثرات ہیں۔ یہی وجہ ہے پاکستان میں بسنے والے والی مختلف قوموں کی رسموں میں گہری مماثلث پائی جاتی ہیں۔ لیکن جب سے ذرائع ابلاغ میں جدت آئی ہے اور دنیا ایک گلوبل ولیج بن گئی تو شادی کی رسومات میں دوسرے ممالک کے رسم ورواج بھی دیکھنے میں آ رہے ہیں۔ویسے بھی بیشتر گھرانے بیرون ملک میں آباد ہونے کی وجہ سے ان خاندانوں میں ان ممالک کی رسومات بھی دیکھنے کو ملتی ہیں۔ پہلے شادیاں عموماً گھروں میں یا گھر سے باہر سڑکوں یا پارکوں میں ہوتی تھی اور تمام انتظامات گھر والوں کو خود کرنے پڑتے تھے مگر اب شادی ہالوں کی تعمیر نے اس کوفت سے بچا دیا ہے۔ شادی ہال والے ہی شادی کے تمام معاملات سرانجام دیتے ہیں۔ اب تو شادیاں آگنائز کرنے کے لیے باقاعدہ کمپنیاں بن چکی ہیں جو شروع سے آخر تک کی تمام تیاری کی ذمہ داری لیتے ہیں ۔
شادیوں کی رسومات میں اضافہ سے اب شادیوں کے اخراجات بھی بہت بڑھ گئے ہیں۔پہلے منگنی کے بعد شادی نکاح ، رخصتی اور ولیمہ تک محدود تھی اور بڑی سادگی سے ہوتی تھی لیکن اب بڑے دھوم دھام سے کی جاتی ہے۔ کئی کئی روز تک گھروں پر چراغاں کیا جاتا ہے اور آتش بازی بھی کی جاتی ہے۔
شادی کی رسم و رواج کی اہمیت اور سچائی اپنی جگہ مگر اس میں کوئی شک نہیں ان رسومات سے شادی کے یہ لمحات یادگار بن جاتے ہیں۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s