” فلرٹ” ایک دھوکہ


منصور مہدی
” فلرٹ” ایک خوبصورت دھوکہ کے زمرے میں آتا ہے کہ جیسے کوئی لڑکا یا لڑکی دوسرے کو جانتے ہوئے بھی پیار سے دھوکہ دے ۔ اسے خفیہ معاشقہ بھی کہا جا سکتا ہے۔ اس کا لغوی معنی کسی کو پرچانا، کسی سے دل لگی کرنا، کسی کو چمکارنا اور کسی کی جھوٹی تعریف کرنا،چاپلوسی کرنا یا مطلب برداری کے لیے کسی کو بے وقوف بناناہے۔ فلرٹ کوجذبات کی زبان بھی کہا جاتا ہے۔
فلرٹ عملی طور پر کسی اقدام کا نام نہیں بلکہ یہ کیفیت کا نام ہے جو شاید بنی نوع انسان کی فطرت میں شامل ہے۔ کیونکہ ہر شخص ہی فلرٹ کرتا ہے۔ حقیقت میں فلرٹ ایک وسیع احاطہ لفظ ہے۔ ایک باپ اپنے بچے سے کوئی کام کروانے کے لیے اس کی ویسے ہی کوئی تعریف کرتا ہے تو یہ فلرٹ کہلائے گا۔ اسی طرح کوئی ملازم اپنی ملازمت کو قائم رکھنے کے لیے اپنے باس کی جھوٹی خوشامند کرتا ہے تو یہ بھی فلرٹ کہلاتا ہے۔یا کوئی لڑکا یا لڑکی دوسرے سے کسی مطلب یا غرض سے اس کی جھوٹی تعریف کرتے ہیں تو یہ بھی فلرٹ کہلائے گا لیکن یہ رومانوی فلرٹ ہوگا۔
لڑکے اور لڑکی میںفلرٹ اشاروں کناﺅں سے شروع ہوتا ہے اوراکثر اخلاقی حدود بھی پھلانگ جاتا ہے۔ پہلے دور میں تو اشارے کنائے ہی اہم کردار ادا کرتے تھے مگر پھر انٹر نیٹ ، موبائل فون اور میسجینگ نے فلرٹ کو آسان بنا یا اور اب سوشل میڈیا نے تو اس کی انتہا کر دی ہے۔
برطانیہ میں ڈاکٹروں کی ایک تنظیم نے ڈاکڑوں کو متنبہ کیا ہے کہ فیس بک جیسی سوشل نیٹ ورک سائٹوں پر فلرٹ کرنے سے ہوشیار رہیں۔یہ تنبیہ برطانیہ میں ڈاکٹروں کی تنظیم میڈیکل ڈیفنس یونین نے جاری کی ہے۔ اس تنظیم نے کہا ہے کہ فیس بک جیسی سوشل نیٹ ورک سائٹوں پر فلرٹ کرنے سے وہ اخلاقی ذمہ داری کی خلاف ورزی کے مرتکب ہو سکتے ہیں۔اس تنظیم نے یہ تنبیہ ان متعدد واقعات کے بعد جاری کی ہے جس میں مریضوں نے ڈاکٹروں سے اور ڈاکٹروں نے اپنے مریضوں سے فیس بک پر فلرٹ شروع کیا۔
ایک امریکی تنظیم جو انسانی رویوں پر تحقیق کا کام کرتی ہے کے ایک سروے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ امریکہ میں ہر 100 میں سے 60 عورتیں دفاتر یا کام پر کسی نہ کسی ساتھی کے ساتھ خفیہ معاشقہ کرتی ہیں جن میں سے 53 کا کہنا ہے کہ وہ اس معاشقہ پر نادم نہیں۔ اس سروے سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ اب باس کے ساتھ معاشقہ بھی قابل قبول ہو رہا ہے اور 75 فیصد عورتیں ایسا کرنا چاہتی ہیں۔ اسی طرح ہر 100میں سے 68مرد اپنے دفتر کی ساتھی خواتین یا کسی اور کے ساتھ معاشقہ کرتے ہیں ۔
اسی تنظیم کا یورپ کے بارے میں کیے گئے سروے کے مطابق اب یورپ میں بھی خواتین کی دفتروں میں روٹین ورک سے زیادہ اوور ٹائم کام کرنے کی وجہ سے دفتروں میں رومانی تعلقات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ جس وجہ سے 64 فیصد ملازمت پیشہ یورپی خواتی کا کہنا ہے کہ وہ کام پر مرد ساتھیوں سے فلرٹ کرتی ہیں۔ جبکہ 80 فیصد کو اپنے کام پر کسی نہ کسی سے دلکشی رہی ہے۔جن خواتین کا ہدف اعلیٰ عہدوں پر معمور مرد ہوتے ہیں ان کی تعداد 61 فیصد ہے۔ 70 فیصد کے نزدیک فلرٹ کرنا کام کو دلچسپ بناتا ہے۔ دفتروں میں فلرٹ کرنے کا عام طریقہ ای میل یا چائے کے وقفہ میں ہوتا ہے۔
یورپ کے حوالے سے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ فلرٹ ملازمت میں ترقی کا کوئی ذریعہ یا راستہ نہیں ہے لیکن برطانوی سرے یونیورسٹی کے ریسرچرز نے اس تھیوری کے تحت یہ تحقیق کی کہ فلرٹ کی وجہ سے لوگوں کی جائے کار پر ترقی کے امکانات بہت بہتر ہوجاتے ہیں۔ اگر یہ فلرٹ اپنے باس یا میم کے ساتھ ہے تو اس کے 99فیصد مثبت نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے لڑکوں کی نسبت لڑکیان زیادہ خود اعتماد ہوتی ہیں۔
ابھی حال ہی میںامریکی ری پبلکن پارٹی کے رکن کرس لی جو کانگریس کے ممبر بھی ہیں نے فلرٹ ای میل سکینڈل کے باعث رکنیت سے استعفیٰ دیا ہے۔46 سالہ کرس لی 2008 میں امریکی ایوان نمائندگان کا رکن منتخب ہوا تھا۔ اس نے ایک خاتون کے ساتھ آن لائن فلرٹ کیا تھا اور بعد میں اسے تحائف بھی بھیجے جن میں اس نے اپنی تصاویر بھی بھیجی تھیں لیکن ابھی ان کے تعلقات نے کوئی عملی صورت اختیار نہیں کی تھی کہ یہ بات کسی طرح سے میڈیا پر آگئی ۔خبریں آنے پرکرس لی نے عوام اوراپنے خاندان سے معافی مانگتے ہوئے ایوان نمائندگان کی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا ہے۔
برطانوی سپرماڈل نومی کیمبل کی سابقہ ایجنٹ کیرول وائٹ اپنی میم نومی کے حوالے سے کہتی ہے کہ نومی لائبیریا کے سابق صدر چارلس ٹیلر سے فلرٹ کرتی رہی اور اس کے عوض کئی بار ان سے قیمتی تحائف بھی حاصل کیے جن میں انتہائی قیمتی ہیرے بھی شامل ہیں۔ کیرول کا کہنا ہے کہ چارلس یہی سمجھتے رہے کہ نومی ان سے ٹوٹ کر پیار کرتی ہے۔
یاد رہے کہ ہیگ میں قائم جنگی جرائم کی عدالت میں آجکل لائبیریا کے سابق صدر چارلس ٹیلرکے خلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چل رہا ہے ۔جن میں استغاثہ کی طرف سے سابق صدر پر یہ بھی الزام ہے کہ کہ مسٹر ٹیلر سیرالیون کے باغیوں کے ساتھ تجارت کرتے تھے اور انھیں ہیروں کے بدلے ہتھیار فراہم کرتے تھے۔ جن میں سے کئی ہیرے انھوں نے نومی کو بھی دیے۔ 1980 اور 1990 کی دہائیوں کے دوران سیرا لیون اور لائبیریا میں بحرانی صورتحال کے باعث ہزاروں شہری مارے گئے تھے۔ میڈیا کا کہنا ہے کہ نومی کی ایجنٹ کیرول کے اس بیان نے ہیروں کے تنازعے کو دلچسپ بنا دیا ہے۔
فلرٹ کا لفظ اب امریکہ اور یورپ میں خاص طور پر جبکہ کچھ ایشیائی ممالک میں اب ان کے کلچر کا حصہ بن چکا ہے۔ عام گفتگو میں کسی کے لالچی رویے پر بھی اس کا استعمال ہوتا ہے جبکہ ممالک بھی ایک دوسرے سے فلرٹ کرتے ہیں جیسا کہ گذشتہ سال کے آخر میں یورپی پارلیمنٹ کی رکن نے امریکہ پالیسی سازوں کو ایک خط لکھا تھا جس میں انھون نے امریکہ سے کہا کہ افغانستان میں امریکہ کی فلرٹ پالیسی پریشان کن ہے۔ کیونکہ بقول ان کے امریکہ افغانستان کے حوالے سے یورپی ممالک سے جو وعدے کرتا ہے وہ پورے نہیں کرتا بلکہ اپنے مفادات کو مدنظر رکھتا ہے۔
برصغیر میں ابھی بھی فلرٹ کرنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ بلکہ لڑکے اور لڑکی کے معاملے میں اسے بے وفائی سے تعبیر کیا جاتا ہے اور ایک دوسرے سے فلرٹ کرنے کو دھوکہ کہا جاتا ہے۔ اگرچہ یورپ میں بھی ابھی ایسی خواتین کی کمی نہیں جو مرد سے فلرٹ کرنا اچھا نہیں سمجھتیں تاہم پھر بھی یہاں کی خواتین اس فلرٹ کا زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ سرے یونیورسٹی کے سروے کے مطابق جب کوئی عورت جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہے تو وہ عورت خود اس کے لئے ذمہ دار ہوتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگرچہ یہ نتائج عجیب ضرور لگتے ہیں لیکن سروے کے مطابق آدھی سے زیادہ برطانوی عورتوں کایہی خیال ہے۔اس سروے کے مطابق اگر جنسی زیادتی کی شکار عورت نے مندرجہ ذیل میں سے کوئی کام کیا ہے تو ایک عام عورت اس جنسی زیادتی کی شکار عورت کو مجرم سمجھتی ہے۔
وہ چیزیں جن کی بنیاد پر عورت کو ذمہ دار سمجھا جاتا ہے یہ ہیں۔ایک منی سکرٹ پہن کے باہر نکلنا، دوسرے کسی اجنبی سے گھل مل کر بے تکلفانہ انداز میں بات کرنا، تیسرے کسی کی پینے پلانے کی دعوت قبول کرنا، چوتھے جنس مخالف کو اکسانے والے اندازمیں ڈانس کرنا، پانچویں نیم عریاں لباس پہننا اور آخر میں سب سے اہم کسی سے فلرٹ کرنا شامل ہیں۔ سروے کے مطابق زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین میں سے 78فیصد فلرٹ کی مرتکب ہوئیں جس کے نتیجے میں انھیں زیادتی سے گزرنا پڑا۔
پاکستان کی قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ایک رپورٹ کے مطابق ملک میں ہر گھنٹے میں دو خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہوتی ہیں۔ ان کے حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان میں 80فیصد ایسی خواتین ہوتی ہیں کہ جن کے کسی نہ کسی انداز میں غیر مرد سے تعلقات ہوتے ہیں ۔ جبکہ پنجاب پولیس کی ایک رپورٹ کے مطابق یکم جنوری 2012سے31مارچ 2012تک 566خواتین کے ساتھ زیادتی کے مقدمات درج ہوئے ہیں۔ پولیس انوسٹی گیشن برانچ کے مطابق ان خواتین میں سے 457عورتوں کے حوالے سے مبینہ طور پر کہا گیا کہ ان کے پہلے سے ہی زیادتی کرنے والے مردوں سے کوئی نہ کوئی تعلق موجود تھا۔
فلرٹ کرنے کو اگرچہ کوئی مہذب معاشرہ اچھا نہیں سمجھتا لیکن اس کے باوجود اس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور اس کی سب سے اہم وجہ مخلوط تعلیم اور مخلوط ملازمت ہے جو لڑکوں کو لڑکیوں سے اور لڑکیوں کو لڑکوں سے فلرٹ کرنے کے مواقع مہیا کرتے ہیں۔
اسلامی معاشرے میں اس فعل کو بہت قبیح سمجھا جاتا ہے ۔ اسلام کے مطابق کسی بھی انسان کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اجنبی عورت یا اجنبی مرد سے بلا وجہ خط کتابت کرے یا کوئی اور رابطہ کرے کیونکہ اس میں فتنہ ہے ، اور ہوسکتا ہے کہ یہ عمل کرنے والا یہ سوچے کہ اس میں کوئی فتنہ نہیں ، لیکن شیطان ہر وقت اس سے چمٹا رہے گا اوردونوں کو ایک دوسرے کی رغبت دلائے گا۔
اسلام نے جو یہ پابندیاں عائد کی ہیں وہ صرف پابندی کے لئے نہیں ہوتی بلکہ اس کے پیچھے ایک مقصدہوتا ہے۔ دل میں جو آئے کرگزرنے کا جو نظریہ مغرب نے پیش کیا ہے آج وہ اسی کو بھگت رہا ہے۔ آج مغرب کی عورت دوسروں کو جنسی طور پر بھڑکانے کے لئے خود اپنے آپ کو قابل ملامت سمجھتی ہے۔ مرد اور عورت کے جنسی رویے میں فرق کو سمجھنے کے لئے کسی کیمیائی لیباریٹری کی ضرورت نہیں ہے بلکہ معاشرے میں وقوع مذیر ہونے والے اس طرح کے واقعات پر نظر ہونی چاہیئے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s