نقاب پوش


منصور مہدی

کچھ ہی عرصے سے سڑکوں ، دفاتر، پارکوں اورسکول و کالج آتی جاتی لڑکیوں میں حجاب اوڑھے لڑکیوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔آپ نے بھی دیکھا ہوگا کہ ان میں سے بیشتر نے تو حجاب کو حجاب سمجھ کر لیا ہوتا ہے لیکن کچھ نے حجاب کو فیشن کے طور پر اپنایا ہے اور کچھ نے شاید اپنی پہچان کو چھپانے کے لیے چہرے کو ڈھانپ رکھا ہوتا ہے۔
گلوبل ولیج کا حصہ بننے کے بعد اگر دیکھا جائے تو ہر معاشرے میں جہاں بے پردگی،نیم برہنگی اور عریانیت کی وباءپھیل رہی ہو وہاں ہمارے ہاں لڑکیوں کا حجاب کی طرف راغب ہونا ایک اچھی بات ہے۔ ان حجاب یافتہ لڑکیوں کے اس عمل کو سراہا جانا چاہیے کیونکہ حجاب ہماری مسلم ثقافت کی ایک بڑی پہچان ہے۔
عالمی مذاہب کی تاریخ بتلاتی ہے کہ ہر مذہب اور معاشرے نے عورت کے حوالے سے حجاب اور عفاف (پاکدامنی) کی تاکید کی ہے۔ حجاب اور پاکدامنی انسانی تاریخ کے تمام مراحل اور تمام معاشروں کی اخلاقی خصوصیات کا اہم حصہ رہی ہیں۔حجاب میںنہ صرف لباس بلکہ کلام، روش اور کردار بھی اہم بتلایا گیا ہے۔
جبکہ دین اسلام نے حجاب کو انسان کی فطرت سے ہم آہنگ اقدار کا جز قرار دیا ہے۔مفکرین کا کہنا ہے کہ دونوں صنف مخالف کا حد سے زیادہ آمیزش کی سمت بڑھنا، بے پردگی اور ایک دوسرے کے سامنے عریانیت فطرت انسانی اور مزاج انسانی کے خلاف ایک عمل ہے۔ اللہ تعالی نے مرد اور عورت کی زندگی کو ایک دوسرے سے ہم آہنگ کرنے کی غرض سے اور فوائد کی بنیاد پر ایک فطری نظام قائم کیا ہوا ہے تاکہ وہ دونوں مل کر دنیا کا نظم و نسق چلائیں۔ کچھ فرائض عورتوں اور کچھ مردوں کے دوش پر رکھ دئے ہیں اور ساتھ ہی عورت اور مرد کے لئے کچھ حقوق کا بھی تعین کر دیا ہے۔ مثال کے طور پر عورت کے حجاب کے سلسلے میں مرد کے لباس سے زیادہ سخت گیری کی گئی ہے جبکہ کنبے کو پالنے کی ذمہ داری مرد کو سونپ دی گئی ہے۔
اسلام کی حجاب کے بارے میں تمام تعلیمات کی بنیاد اس چیز پر رکھی گئی ہے کہ اسلام چاہتا ہے کہ عورتوں کا فکری، علمی، سماجی، سیاسی اور سب سے بڑھ کر روحانی ارتقاءاپنی بلند ترین منزل تک پہنچے اور ان کا وجود معاشرے اور انسانی کنبے کے لئے زیادہ سے زیادہ اور بہترسے بہتر ثمرات و فوائد کا سرچشمہ قرار پائے۔
حجاب عورت کو معاشرے سے الگ کر دینے کے معنی میں نہیں ہے۔ اگر پردے کے سلسلے میں کسی کا تصور یہ ہے تو بالکل غلط ہے۔ حجاب معاشرے میں مرد اور عورت کی بے ضابطہ آمیزش کو روکنے کا ذریعہ ہے۔ یہ آمیزش معاشرے اور مرد و عورت دونوں کے بالخصوص عورت کے لیے نقصان دہ ہے۔
مفکرین کا کہنا ہے کہ حجاب کا تقاضہ اس لیے بھی ہے کہ عورت کے مزاج، خصوصیات اور نزاکت کو قدرت کی خوبصورتی و ظرافت کا مظہر قرار دیا گیا ہے لہذا معاشرہ کو کشیدگی، آلودگی اور انحراف سے محفوظ رکھنے اور اس میں گمراہی کو روکنے کے لیے اس صنف (نازک) کو حجاب میں رکھنا ضروری قرار دیا ہے۔
حجاب ایک بڑی سے سیاہ چادر نہیں بلکہ عورت اور مرد کے درمیان ایک حد بندی ہوتا ہے۔وہ آپس میں ایک دوسرے سے گفتگو کریں، لین دین رکھیں، بحث و تکرار کریں، دوستانہ انداز میں گفتگو کریں لیکن اس حد بندی اور حفاظتی فاصلے کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔ عورت اور مرد کے درمیان قائم سرحد سے تجاوز دراصل عورت کے انسانی وقار کو مجروح کرنے کے مترادف ہے۔حجاب سے عورت کو یہ آسانی ہوتی ہے کہ اپنے مطلوبہ معنوی و روحانی مقام پر پہنچ جائے اور اس کے سر راہ موجود لغزش کے اسباب و علل سے اس کے قدم نہ ڈگمگائیں۔
مفکرین کا کہنا ہے کہ اسلام عورت کو ایسا با شرف اور با وقار دیکھنا چاہتا ہے کہ وہ قطعا اس بات پر توجہ نہ دے کہ کوئی مرد اسے دیکھے۔ یعنی عورت ایسی با وقار رہے کہ اس پر اس کا کوئی فرق نہ پڑے کہ کوئی مرد اسے دیکھ رہا ہے یا نہیں۔
اسلام میں جمالیات کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ خوبصورتی، جمال پسندی اور خوبصورتی پیدا کرنا ایک فطری چیز ہے۔ البتہ یہ چیز جدیدیت سے کچھ مختلف ہے۔ جدیدیت اس سے زیادہ عام چیز ہے جبکہ آرائش اور پوشاک کا مسئلہ ایک خاص چیز ہے اور انسان بالخصوص نوجوان کو خوبصورتی پسند ہوتی ہے۔ اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ خود بھی خوبصورت لگے۔ ہم اکثر و بیشتر سنتے ہیں : ” ان اللہ جمیل و یحبّ الجمال” یعنی اللہ تعالی جمیل ہے اور خوبصورتی کو پسند کرتا ہے”۔ احادیث کی کتابوں میں انسانی وضع قطع درست رکھنے کے متعلق سے بہت سی روایات منقول ہیں۔
لیکن اسلام نے ہمیشہ عورت کے ایسے لباس، ایسے بناﺅ سنگھار، طرز گفتگو اور چلنے کے انداز کی ممانعت فرمائی کہ جس میںسارا زور اس بات پر ہو کہ مرد اسے دیکھیں۔خود نمائی اگرچہ انسانی تخلیق میں شامل ہے مگر اللہ تعالیٰ نے اس بات سے روکا ہے اور یہ بھی دیگر امتحانات میں سے ایک امتحان ہے کہ انسان خود نمائی سے بچے۔ مرد بھی اور خصوصی طور پر عورت۔
لیکن آجکل جو سڑکوں پر حجاب نظر آرہا ہے ان میں سے کچھ کوصرف اور صرف خود نمائی کہا جا سکتا ہے۔ اصل میں حجاب اب ایک فیشن کے طور پر ساری دنیا میں مقبول ہو رہا ہے۔ ایک تو یورپ کی طرف سے حجاب پر پابندی نے اسے خوب بڑھوا دیا ہے جبکہ ملبوسات کی فیشن انڈسٹری بھی حجاب کی طرف راغب ہو رہی ہے۔ دوبئی اور دیگر ممالک میں ایڈورٹائزنگ ایجنسیاں بے نقاب ماڈلز کی بجائے اب نقاب اوڑھنے والی ماڈلز کو ترجیح دے رہی ہیں۔وہاں پر اب ایسے فیشن شو منعقد ہوتے ہیں کہ جن میںسر پہ خوبصورت رنگ کا حجاب لیے، کالی عبائیں پہنے، ماڈلز فلم ’جیمز بانڈ‘ کی دھنوں پر ریمپ پر کیٹ واک کرتی ہیں۔ جنہیں وہاں کی خواتین بہت پسند کرتی ہیں۔ ایسے حجاب اور عبایا کو وہاںاسلای فیشن کا نام دیا گیا ہے اور یہ نہ صرف عرب ممالک بلکہ دیگر ممالک میں بہت مقبول ہو رہا ہے۔ بیشتر عرب ممالک میں حجاب اور عبایا کے نیچے جینز اور ٹی شرٹ بھی پہنی جاتی ہے۔ دراصل ملبوسات کی بیشتر ملٹی نیشنل کمپنیاںاب مسلمان خواتین کے لیے بھی مختلف انداز کے فیشن متعارف کروا رہی ہیں۔ مگر یہ اسلام کے نام کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے ایسے لباس متعارف کروا رہے کہ جس کی جمالیاتی حسن کے پیچھے مغربی حسن کا تصور کارفرماہے۔
مصر میں چند سال پہلے نوجوان خواتین پر مشتمل ایک گروپ نے ”حجاب فیشن” کے نام سے ایک تنظیم تشکیل دی تھی جس کا مقصد نقاب اوڑھنے والی خواتین کی تعداد میں اضافہ کرنا تھا۔اگرچہ یہ خواتین حجاب میں ہوتی تھی مگر ایسی ہی عبائیں لیے اور نیچے جینز اور ٹی شرٹ پہنی ہوتی ہے۔
حال ہی میں مراکش کی خواتین میں چست قسم کی عبایا اور حجاب کا ایک خاص انداز مقبول ہورہا ہے اور اسے ”شوفونی” کا نام دیا گیا ہے ۔عربی میں جس کا مطلب ”میری طرف دیکھیں” ہے۔
ہمارے معاشرے میں کیونکہ اندھا دھند تقلید کا رجحان رہا ہے اور ہم نفع نقصان سوچے بغیر ہر بات کو جلد ہی اپنا لیتے ہیں۔ چنانچہ سڑکوں پر نظر آنے والی بیشتر حجاب یافتہ لڑکیوں میں ایسی لڑکیاں ہیں جو حجاب بطور حجاب نہیں لیتی بلکہ حجاب کو بطور فیشن لیا ہوتا ہے۔ہمارے ہاں ایسے افراد کی کوئی کمی نہیں کہ جو کسی بھی نئی فیشن یا نئی چیز کو صرف اس لیے اپناتے ہیں کہ کہیں انھیں قدامت پرستی کا طعنہ نہ سننا پڑے۔
پھر ایک بات جو نہ صرف ہمارے معاشرے میں پائی جاتی ہے بلکہ ہر معاشرے میں ایسے افراد پائے جاتے ہیں کہ کسی بھی چیز کو منفی فائدے کے لیے اپنے استعمال میں لے لیتے ہیں۔ حجاب کا استعمال جہاں عورت کو مرد کی نظروں سے بچاتاہے تو وہاں حجاب سے عورت خود کو بھی دوسروں سے چھپا لیتی ہے۔ حجاب کے بغیر کسی بھی عورت کو آسانی سے پہچانا جا سکتا ہے جبکہ حجاب میں ملبوس عورت کو چہرے سے پہچاننا بہت مشکل ہوجاتا ہے تو ایسے میںوہ لڑکیاں جو اپنی پہچان نہیں چھوڑنا چاہتیں انھوں نے بھی حجاب کا سہارا لیا ہوا ہے۔
پہلے آپ نے اکثر دیکھا ہواگا کہ بس سٹاپ پر کھڑی لڑکی یا فٹ پاتھ پر جاتی ہوئی کوئی لڑکی کانوں سے موبائل فون لگائے کسی سے بات کرتی ہوئی جب نظر آتی تھی تو اس کی ٹیلی فونک گفتگو کے حوالے سے دیکھنے والوں میں اکثر شکوک و شبہات پیدا ہوجاتے تھے مگر اب حجاب میں لپٹی کوئی لڑکی حجاب کے نیچے فون پر گھنٹوں بھی باتیں کرتی رہے تو یہی سوچا جائے گا کہ بیچاری بس کے انتظار میں کتنی دیر سے کھڑی ہے۔ پتہ نہیں حکومت کو کیا ہوگیا کہ دھڑا دھڑ سڑکیں توڑ رہی ہے اور بنا رہی ہے مگر خواتین کے لیے علیحدہ سے ٹرانسپورٹ نہیں چلا رہی۔ لڑکیوں کو گھنٹہ گھنٹہ انتظار کرنا پڑتا ہے۔

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s