خواتین

جسم فروش گھرانے کی داستان

منصور مہدی

sex workerپولیس نے گھر کو چاروں طرف سے گھیر رکھا تھا جبکہ کچھ سپاہی بانس کی سیڑھی لگا کر دیوار پر چڑھ چکے تھے۔پولیس کی تعداد اور ان کی پھرتیاں دیکھ کرایسا لگتا تھا کہ شاید اس گھر میں کوئی اشتہاری چھپا ہوا ہے۔محلے کے لوگوں کا تجسس بڑھتا جا رہا تھا اور جسے بھی خبر ملی وہ گاﺅں کے چوک میں پہنچ گیا۔
دیوار پر چڑھے ہوئے سپاہیوں میں سے ایک سپاہی نے نیچے کود کر دروازے کی کنڈی کھول دی۔ دروازہ کھلتے ہی کئی سپاہی گھر میں داخل ہو گئے۔ گاﺅں کے لوگوں میں تجسس بڑھ رہا تھا کیونکہ اس گھر میںابھی چند روز پہلے ہی ایک خاندان آ کر آباد ہوا تھا۔ جن کے بارے میں ابھی زیادہ لوگوں کو معلوم بھی نہیں تھا ۔ تھوڑی ہی دیر میں ایک عورت جس کے ساتھ ایک جوان لڑکی بھی تھی کو کچھ سپاہی دھکے دیتے ہوئے باہر لائے جبکہ ایک آدمی کو ہتھکڑی لگائی ہوئی تھی۔پولیس نے تینوں کو گاڑی میں بٹھا لیا اور تھانے لے گئے ۔
گاﺅں کے لوگوں میں چہ مگوئیاں ہونے لگی۔پتا چلا کہ تین بچے اور ایک بوڑھی خاتون بھی اس گھر میں رہتی ہے ۔ یہ لوگ چند دن پہلے ہی ایک اور گاﺅں سے یہاں آئے تھے۔ اس خاندان کا تعلق گاﺅں کے وڈیروں ، نمبرداروں اور دیگر بااثر خاندانوں کے اوباش لڑکوں کو لڑکیاں سپلائی کرنے والے ایک نیٹ ورک سے تھا۔ پہلا گاﺅں چھوڑنے کی وجہ بھی ایک لڑکی کی رقم کا تنازعہ تھا۔ گاﺅں کے وڈیرے کے بڑے بیٹے نے ایک لڑکی پسند آنے پر مستقل رکھ لی تھی ۔
یہ لڑکی بھی اگرچہ والدین کی مرضی سے اسی کام کی غرض سے آئی ہوئی تھی۔ مگر جب چند ماہ کے بعد لڑکی کے والدین کو نہ ہی رقم ملی اور نہ ہی لڑکی تو انھوں نے اس خاندان کے خلاف اپنی لڑکی کے اغوا کا مقدمہ درج کروا دیا۔جس پر یہ خاندان وہ گاﺅں چھوڑ کر یہاں آگیا مگر مخبری ہونے پر گرفتار ہو گیا۔ گرفتار ہونے والوں میں سلیم اس کی بیوی بشریٰ اوراس کی یتیم بھانجی شمائلہ تھی۔بشریٰ بھی اگرچہ خوبصورت عورت تھی مگر شمائلہ تقریباً 17برس کی ایک انتہائی خوبصورت اور بھرپور لڑکی تھی۔
اس واقعہ کے تقریباً 5سال بعد یہ خاندان لاہور کے علاقے سید پور میں آ کر آباد ہو گیا۔ جہاں قریب ہی فلم انڈسٹری کے معروف مراکز ہیں۔ اس آبادی میں رہنے والے کرایے داروں کی اکثریت کا تعلق بلاواسطہ یا بلواسطہ فلم اندسٹری سے تھا۔بشریٰ اور شمائلہ نے اپنی خوبصورتی اور گفتگو کے ذریعے تھانہ سبزہ راز لاہور کے مخبر خاص کو اپنا گرویدہ بنالیا۔ بس پھر کیا تھا ۔ ان کا یہ کاروبار خوب چمکا۔اس خاندان میں بشریٰ اور شمائلہ کے علاوہ اب پروین اور زرینہ کا بھی اضافہ ہو چکا تھا۔یہ بھی انھیں کے گاﺅں کی تھی ۔ پروین کا باپ فوت ہوچکا تھا جبکہ زرینہ کی ماں بھی نہیں تھی۔
دیکھتے ہی دیکھتے اس خاندان نے خوب ترقی کی اور تین سال بعد ہی یہ گھر انھیں چھوٹا لگنے لگا چنانچہ یہ اسے چھوڑ کر ایک دس مرلہ کی کوٹھی میں علامہ اقبال تاﺅن شفٹ ہوگئے۔ اقبال ٹاﺅن میں آباد ہوتے ہی ان کا سٹیٹس بڑھ گیا اور ان کی لڑکیوں کے دام بھی بڑھ گئے۔ خصوصاً شمائلہ کا شمار ایک مہنگی لڑکی میں ہونے لگا۔کہاں گاﺅں میں معمولی رقم یا گندم ،چاول کی چند ٹوپی معاوضہ اور کہاں اب صرف ایک رات کے ہی ہزاروں روپے۔
شمائلہ کی اس ترقی کو دیکھ کر ان کے ایک حریف کوٹھی خانے کی نائیکہ عذارا شمائلہ دشمن ہو گئی۔ یہ وہ دور تھا کہ جب لاہور پولیس میں نوید سعید، عابد باکسر جیسے کردار کے انسپکٹر تھے تو انڈر ورلڈ میں بھی ناجی بٹ، ہمایوں گجر، میاں داﺅد، ثنا ، حنیف عرف حنیفا، شفیق بابا ، مقصود کالی ، شہباز عرف شہبازا، وحید عرف وحیدیاںاور بھولا سنیارا جیسے لوگوں کا طوطی بولتا تھا۔ ایسے میں بشریٰ کے کوٹھی خانہ کا اپنا ہی ایک نام تھا۔ اقبال ٹاﺅن پولیس کا ہر بدکردار پولیس افسر ان کے کوٹھے پر ضرور حاضری دیتا تھا۔چنانچہ ان کی مخالف عذارا ان کے کوٹھی خانے کو زیادہ نقصان نہ پہنچا سکی۔
اسی دوران شمائلہ کے تعلقات انڈر ورلڈ کی دنیا سے ہوگئے اور اس نے انڈرورلڈ کی ضروریات کے مطابق لڑکیاں بھی سپلائی کرنی شروع کردیں۔ اس طرح شمائلہ کی دولت میں دن بدن اضافہ ہونے لگا۔شمائلہ کی ایک بڑی خامی تھی کہ اسے سونے کے زیوارات سے بہت محبت تھی۔ سونے کی محبت کے بارے میں وہ کہا کرتی تھی کہ جب ان کا خاندان گاﺅں میں ہی تھا تو وہ چند راتوں کے لیے ایک زمیندار کے ہاں گئی تھی وہاں اس نے بڑی زمیندارنی کو سب سونے زیوارات میں لدھا ہوا دیکھا تو اسے کے دل میں بھی سونے کے زیوارات کا شوق پیدا ہو گیا۔ اب شمائلہ کے پاس دولت کی تو کوئی کمی نہ تھی چنانچہ اس کے تعلقات سوہا بازار میں بھی قائم ہو گئے۔ وہ زیوارات کریدتی تھی جبکہ اسے تحائف بھی ملتے تھے مگر سونے کی لگن میں کمی نہ آ رہی تھی۔
ادھرپولیس لائن قلعہ گوجر سنگھ کاایک ایس پی انڈرورلڈ کے حنیف عرف حنیفا اور شفیق بابا کا مخالف ہو گیا۔یہ دونوں بھائی اندرون شہر لاہور کے رہنے والے تھے۔انھیں جرائم کی دنیا کا بے تاج بادشاہ کہا جاتا تھا۔بڑے بڑے مجرم ان کے نام سے گھبراتے تھے۔جب شہباز شریف اپنے پہلے دور میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے تو اندرون شہر لاہور کے بعض شہریوں نے ان سے شکایت کی کہ یہ دونوں ٹاپ ٹین بھائی یہاں کے لوگوں کو حراساں کرتے ہیںاور انسپکٹر نوید سعید ان کی پشت پناہی کرتا ہے۔ جس پر پنجاب کی ایک اعلیٰ شخصیت نے مبینہ طور پر نوید سعید کو بلا کر اسے سختی سے کہا کہ مجھے یہ دونوں بھائی حنیف عرف حنیفا اور شفیق بابا زندہ یا مردہ درکار ہیںجس پر نوید سعید نے ذاتی طور پر دونوں بھائیوں سے دوبئی میں رابطہ کیا اورپاکستان بلایا اور کراچی کے ایک ہوٹل میں ٹھہرنے کو کہا۔حنیف عرف حنیفا اپنے دیگر ساتھیوں داﺅد ،کالی اور ثناءکے ہمراہ جب ہوٹل میں موجود تھا توانسپکٹر نوید سعید نے ان سب کو گرفتار کر لیا اور لاہور لے آیا اور انھیں پولیس لائن قلعہ گوجر سنگھ میں ایک ایس پی کے پاس لے گیا جبکہ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نوید سعید انھیں تھانہ شاہدرہ کے ایس ایچ او رانا فاروق کے پاس لے گیا۔بہر حال اگلے روز ٹاپ ٹین اور ان کے ساتھی پولیس مقابلوں میں ہلاک ہو گئے۔
ان کی ہلاکت کے بعد شمائلہ گھبرا گئی۔ جبکہ دوسری طرف تھانہ اقبال ٹاﺅن میں ایک ایسا سب انسپکٹر آ کر تعینات ہو گیا جو عورتوں پر تشدد کرنے میں بہت مشہور تھا۔ کوئی بھی عورت اس کے ہاتھوں گرفتار ہوتی تو وہ انھیں ننگا کرکے ان پر تشدد کرتا تھا۔اس کے خلاف کئی مقدمات بھی درج ہوئے اور کئی بار وہ ملازمت سے بھی معطل کیا گیا مگر پیٹی بھائی ہونے کے ناطے پولیس افسران اسے جلد ہی بحال کردیا کرتے تھے۔ جب اس کے تعلقات عذرا کے کوٹھے سے ہوئے تو شمائلہ کاکوٹھی خانہ زیر عتاب آگیا۔ اب ہر ہفتے یا دوسرے تیسرے دن شمائلہ کے کوٹھی خانے پر پولیس کے چھاپے پڑنے شروع ہوجاتے ہیں۔
یہاں سے شمائلہ کی زندگی میں ایک نیا موڑ آتا ہے اور وہ تھانوں کے چکر سے نکل کر اب عدالتوں اور کچہریوں کے چکر میں داخل ہو گئی۔ اگرچہ یہاں بھی عورت کے جسم کے متلاشیوں کی کوئی کمی نہیں تھی مگر قانون جاننے والوں کی چھتری تلے آکر اسے قدرے پولیس سے سکون ملا اور شمائلہ کے کاروبار میں بھی ٹھہراﺅ آگیا۔
لیکن پولیس کے کچھ اعلیٰ افسران اور دیگر شخصیات لاہور سے انڈر ورلڈ کو ختم کرنے کے ایک مشن پر لگے ہوئے تھے اور آہستہ آہستہ ایک ایک کرنے انڈرورلڈ کے نامی گرامی افرادپولیس مقابلوں میں ہلاک ہو رہے تھے۔انہی دنوں لاہور میں ایک اور تاپ ٹین ملنگی نامی ڈکیت اور بدمعاش ہوا کرتا تھا جس سے نہ صرف شہری بلکہ پولیس والے خود بھی خوفزدہ رہتے اوراسے گرفتار کرنے سے ہچکچاتے تھے۔ تو ایسے میں ایک پولیس انسپکٹر نوید سعید نے اسے گرفتار کرنے کا بیڑا اٹھایا چنانچہ ایک دن انسپکٹر نوید سعید نے ایک پولیس مقابلے میں ملنگی کو ہلاک کر دیا۔
ملنگی کی ہلاکت سے اس کا پورا تالہ بکھر گیا اور شمائلہ بھی اس کی موت کو برداشت نہ کر سکی۔چنانچہ اس نے دوبئی جانے کا پروگرام بنا لیا۔ ایک دن شمائلہ اپنی دو لڑکیوں کو لیکر دوبئی چلی گئی۔ جہاں اس کا کاروبار خوب چمکا کیونکہ اب اسے معاوضہ روپے کی بجائے ریالوں میں ملنے لگا۔ پاکستان بھی اس کا آناجانا لگا رہتا۔ اب اس نے اقبال ٹاﺅن بھی چھوڑ دیا اور ایک نئے پوش علاقے میں ایک کنال کی کوٹھی تعمیر کروائی۔ دوبئی میں 7/8سال رہنے کے بعد وہ واپس لاہور آ گئی۔
چند ماہ پہلے کی بات ہے کہ میں لبرٹی میں ایک دکان میں کچھ خریداری کر رہا تھا تو دیکھا کہ بلیک کلر کی ایک بڑی ٹیوٹا کار دکان کے سامنے آ کر رکی۔جس سے ایک قدرے بڑی عمر کی ایک خاتون اتری۔ عورت زیوارات میں لدھی ہوئی تھی جو شکل و صورت اور اپنے لباس سے بڑی معزز نظر آ رہی تھی ۔ جس کے ساتھ دو جوان لڑکیاں اور ایک لڑکا بھی تھا۔ یہ چاروں بھی اسی دکان میں آ ئے۔ جب میں نے اسے دیکھا تو وہ شمائلہ تھی۔شمائلہ نے مجھے بھی پہچان لیا۔
سونے کے زیوارات کا شوق بھی اب پورا ہو چکا تھا۔ شمائلہ کا کہنا ہے کہ یہ تمام سونے کے زیورات اسے دوبئی کے شیوخ نے دلوائے ہیں۔ شمائلہ نے اپنے کاروبار کی نوعیت بھی تبدیل کر لی ہے۔ اب اس نے کوئی اپنا ذاتی کوٹھی خانہ نہیں بنایا کیونکہ اس میں بدنامی ہوتی ہے۔ شمائلہ کا کہنا ہے کہ اب شہر کے مضافات میں کئی فارم ہاﺅسز کھل چکے ہیں تو اب اپنا کوٹھی خانہ کھولنے کی ضرورت نہیں رہی۔

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s